متفرقات

مرنے کے بعدکیا ہوتا ہے؟

شادیوں کے موسم میں مرگ پر کالم لکھنا ایسے ہی ہے جیسے کسی'کن ٹُٹے ینگ ڈاکٹر' کو کہا جائے کہ وہ اخلاقیات پر مضمون لکھے۔ ضرورت اس لئے پیش آئی کہ گزشتہ دنوں ایک جنازے پر جانا پڑ گیا، میت والے گھر کے باہر شامیانے کے نیچے چند کرسیاں رکھی تھیں، تعزیت کی غرض سے آنے والے وہاں جنازے کا انتظار کررہے تھے۔ کچھ دیر بعد کسی کونے سے آواز بلند ہوئی کہ جنازے کا وقت ہوگیا ہے۔ ساتھ ہی عورتوں نے بلند آواز میں بین ڈالنا شروع کردیا۔ مردوں نے جنازے کو کندھوں پر اُٹھایا اور کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے قریبی مسجد کی طرف چل پڑے جہاں نمازِ جنازہ پڑھائی جانی تھی۔ وہاں پہنچ کرکسی نے کہا کہ میت مسجد کے اندر لے جاکر جنازہ پڑھنا چاہئے۔ مگر فوراً ہی کچھ لوگوں نے اختلافی نوٹ رجسٹر کروایا کہ ایسا کرنا جائز نہیں، کچھ دیر ''دوستانہ '' بحث ہوتی رہی، بالآخر یہ طے پایا کہ میت باہر ہی رکھی جائے گی۔ پہلے نمازِ عصر ادا کی جائے گی اس کے بعد نمازِ جنازہ پڑھائی جائے گی۔ جنازہ پڑھنے والوں کی تعداد اب نصف رہ گئی تھی۔ وہاں سے قبرستان کچھ دور تھا اس لئے میت گاڑی کا انتظام کیا گیا تھا۔ چند قریبی رشتہ دار اپنی اپنی سواری میں ساتھ ہو لئے۔ قبرستان پہنچتے پہنچتے یہ تعداد گھٹ کر ایک چوتھائی سے بھی کم رہ گئی۔ گور کن ابھی قبر کھود رہا تھا، روشنی کم ہو چکی تھی مگر ایک بلب کا انتظام تھا۔ کچھ دیر میں قبر تیار ہوگئی اور میت کو دفن کرنے کا مرحلہ درپیش ہوا، جو لوگ وہاں موجود تھے انہوںنے اپنے علم اور تجربے کے مطابق مشورے دینے شروع کئے، لُبِ لباب جن کا یہ تھا کہ میت کو عین شرعی طریقے کے مطابق دفنایا جائے۔ طرح طرح کی آوازیں اوور لیپ ہونی شروع ہوئیں۔ کسی نے اپنے موبائل فون سے اس تمام عمل کی فلم بنانی شروع کردی۔ آخر کار میت کو قبر میں اُتارا گیا۔ مٹی ڈالی گئی۔ پھول رکھے گئے،اگر بتی جلائی گئی، دعا کی گئی اور پھر یہ لوگ واپس ہو لئے۔ مرگ والے گھر واپس آنے والے لوگ اب چار پانچ سے زیادہ نہیں تھے۔ کچھ دیر بعد وہ بھی یہ کہہ کر رخصت ہوگئے کہ ''گھبرانا نہیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں، کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتائیے گا۔'' اب گھر میں صرف مرنے والے کی بیوہ تھی اور اس کی جوان بیٹی۔ ماں بیٹی نے چند لمحوں تک ایک دوسرے کو خالی خالی نظروں سے دیکھا اور اچانک ایک دوسرے کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کردیا۔ مرنے والا تو جاچکا تھا مگر ان ماں بیٹی کی موت کا سفر ابھی شروع ہوا تھا۔


اس ملک کی آبادی بائیس کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔ یہ وہ ٹائم بم ہے جس کی پن نکالنے کا کسی کو ہوش ہے، نہ اس اژدھے پر قابو پانے کی حکمتِ عملی کسی حکومتی ریڈارپر ہے۔ نصف سے زیادہ آبادی عورتوں پر مشتمل ہے اور ان میں سے بھی اکثریت ہنرمند یا تعلیم یافتہ نہیں


''موت کا منظر، مرنے کے بعد کیا ہوگا؟'' ٹائپ کتابیں بتاتی ہیں کہ مرنے کے بعد فوت ہونے والے شخص سے کیسا سلوک کیا جائے گا مگر کوئی کتاب ایسی میری نظر سے نہیں گزری جو یہ بتاتی ہوکہ ایک مڈل کلاس شخص کے مرنے کے بعد اس کے لواحقین پر کیا گزرتی ہے۔ سرکاری ملازم کی بیوہ کو تو پینشن کی مد میں چار پیسے مل ہی جاتے ہیںجس سے بہرحال وہ پیاز کے ساتھ روٹی کھانے کی عیاشی کرسکتی ہے، مگر جو غریب روزانہ  کی بنیاد پر اپنا گھر چلاتا تھا یا سفید پوش کسی نجی کمپنی کا ملازم تھا جس کے سیٹھ نے بیوہ کے نام تعزیتی خط کے ہمراہ ایک ماہ کی تنخواہ کا چیک بھیج کر اپنے تئیں جنت میں گھر پکا کروالیا اس کے لواحقین اب باقی ماندہ زندگی کیسے گزاریں گے؟ یہ سوال اگر کسی آزاد خیال دانشور سے پوچھیں تو کہے گا کہ جب تک اس ملک میں شراب پر پابندی نہیں ہٹائی جائے گی تب تک کچھ نہیں ہوسکتا۔ یہ سوال اگر کسی مذہبی دانشور سے پوچھیں تو کہے گا کہ جب تک ملک سے فحاشی کا خاتمہ نہیں ہوگا تب تک یہ کچھ نہیں ہوسکتا۔ یہ سوال اگر کسی ماہرِ معاشیات سے پوچھیں تو کہے گا کہ ہماری اصلاحات سے عام آدمی کو فائدہ ہوا ہے اگر یہ بیوہ بھی عام آدمی ہے تو اسے بھی فائدہ پہنچے گا۔ یہ سوال اگر متعلقہ سرکاری افسر سے پوچھیں تو اُس کا جواب ہوگا کہ میںنے تو نوٹ پُٹ اَپ کردیا تھا، منظوری نہیں ہوئی۔ یہ سوال اگر کسی عالمِ دین سے پوچھیں تو وہ کہے گا کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے اور اگر یہی سوال کسی حکومتی عہدے دار سے پوچھا جائے تو وہ مسکرا کر اسے آئوٹ آف کورس قرار دے کر آگے بڑھ جائے گا اور اگر مجھ جیسے بندے سے کوئی یہ سوال پوچھے تو میرا جواب ہوگا''میاں تم کون سا سوال لے کر آگئے، ہمارے ذمے اس سے کہیں زیادہ اہم سوالوں کے جواب تلاش کرنا ہیں۔ مثلاً ہم نے قوم کو یہ بتانا ہے کہ امریکی آشیرباد سے بننے والا نیا اتحاد داعش کے خلاف ہے یا مسلم اُمہ کو لڑانے کی سازش، شام میں عالمی طاقتوں سے کہاں کہاں بھول چُوک ہو رہی ہے۔ اور کالموں میں دیئے گئے میرے سنہری مشوروں پر عمل نہ کرنے کی صورت میں یہ احمق عالمی لیڈران کس قدر بھاری نقصان اٹھائیں گے۔''
اس ملک کی آبادی بائیس کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔ یہ وہ ٹائم بم ہے جس کی پن نکالنے کا کسی کو ہوش ہے، نہ اس اژدھے پر قابو پانے کی حکمتِ عملی کسی حکومتی ریڈارپر ہے۔ نصف سے زیادہ آبادی عورتوں پر مشتمل ہے اور ان میں سے بھی اکثریت ہنرمند یا تعلیم یافتہ نہیں (ویسے تومردوں کا بھی یہی حال ہے) یہ خواتین اپنی زندگی گزارنے کے لئے کسی نہ کسی شکل میں مردوں کی محتاج ہیں چاہے وہ ان کے والد ہوں، بھائی، شوہر یا اولاد۔ اور جب ان میں سے کوئی کمانے والا چلا جاتا ہے تو یہ خواتین اس سفاک معاشرے کے رحم و کرم پر ہوتی ہیں۔ ذرا ایک لمحے کے لئے تصور کریں کہ جس معاشرے میں اچھی خاصی پڑھی لکھی باشعور ملازمت پیشہ خواتین کو ہراساں کیا جاتا ہو، انہیں قدم قدم پر ایسے مردوں سے واسطہ پڑتا ہو جو بھری میٹنگ میں معنی خیز جملے ان پر اُچھالتے ہوں اور ان کے پاس سوائے سرجھکاکر سننے کے کوئی آپشن نہ ہو، وہاں ایک اَن پڑھ اور غیر ہنرمند عورت کا کیا حال ہوتا ہوگا ۔ یہ جاننے کے لئے کسی آزاد خیال لکھاری، مذہبی دانشور، عالم دین، ماہرِ معاشیات، سرکاری افسر اور حکومتی وزیر سے کچھ پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں۔ بے شک ایک بیوہ نادار عورت کا نان نفقہ ریاست کی ذمہ داری ہے مگر کوئی بھی ریاست خاص طور پر بائیس کروڑ لوگوں کا ملک یہ ذمہ داری نہیں نبھاسکتا جب تک اس کام کے لئے اس کے پاس پیسے نہ ہوں اور یہ پیسے عوام نے ریاست کو دینے ہوتے ہیں جس سے ریاست کا نظم و نسق چلتا ہے۔ لیکن یہ اس مسئلے کا ایک پہلو ہے۔ دوسرا پہلو سماجی ہے۔ ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کی تعلیم اور ملازمت کے حق کو بامرِ مجبوری قبول تو کرلیا گیا ہے مگر یہ حق مردوں کی مرضی کے ساتھ مشروط ہے۔ اگر شوہر کہہ دے کہ ملازمت کی ضرورت نہیں، تم بچے پالو تو عورت کو یہی کرنا پڑے گا۔ شہروں سے باہر توصورت حال مزید ابتر ہے۔ لڑکیا ں اگر روپیٹ کر دس بارہ جماعتیں پڑھ بھی لیں تو بالآخر گھر میں روٹیاں ہی پکائیں گی۔ ایسا ایسا ٹیلنٹ ہم اس نصف آبادی کا ضائع کررہے ہیں جس سے اُلٹا معاشرے کے بوجھ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر نصف آبادی کا نصف بھی تعلیم یافتہ ہو کر ملازمت یا کاروبارمیں اپنا حصہ ڈالنا شروع کردے تو صرف اس ایک کام سے یہ ملک سرپٹ دوڑ سکتا ہے۔ اور اگر ہم یہ نہیں کرسکتے تو پھر چاہے مرد کی نمازِ جنازہ میں کوئی بھی دعا مانگ لے، اس بیوہ کے درد کا درمان نہیں ہو سکے گا جس کے گھر سے وہ جنازہ اٹھا تھا۔


مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔
 [email protected]
 

یہ تحریر 144مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP