قومی و بین الاقوامی ایشوز

مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کاالزام اورامریکی استثنیٰ

 ہمیں امریکہ سے کسی خیرکی کبھی توقع نہیں رہی۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی جانی ومالی قربانیوں کے باوجود امریکہ کی جانب سے ڈومورکامطالبہ اورپاکستان پرمختلف نوعیت کے الزامات سننے اورپڑھنے کوملتے رہتے ہیں۔ ان الزامات کاایک ہی مقصدنظرآتاہے کسی طرح پاکستان کودباؤ میں لاکرامریکی مفادات کے تابع کیاجائے۔بعض امریکی پالیسی سازچاہتے ہیں کہ پاکستان خطے میں امریکہ کی کٹھ پتلی کاکردار ادا کرے۔

امریکہ نے مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کے الزام میں پاکستان کو2017ء میں واچ لسٹ میں رکھا تھا، امریکی انتظامیہ کے خیال میں پاکستان اپنی کارکردگی بہترنہیں کرسکا۔ 2018ء میں پاکستان کانام بلیک لسٹ میں ڈال دیاگیا۔امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیونے بین الاقوامی ایکٹ برائے مذہبی آزادی 1998ء کے تحت پاکستان سمیت چین،سعودی عرب، ایران، شمالی کوریا،برما،اریٹیریا،سوڈان،تاجکستان اورترکمانستان کوبلیک لسٹ میں شامل کیا۔



امریکہ کااگلاہدف ان ممالک پربعض پابندیاں عائد کرناہے۔ پاکستان نے امریکی انتظامیہ کے اس اقدام پرامریکی سفارتکار کو طلب کرکے احتجاج کیا،جس کے  بعد امریکی انتظامیہ نے پاکستان کوپابندیوں سے استثنیٰ دینے کااعلان کیا۔اگرحکومت کی جانب سے امریکہ کے اس اقدام پرفوری ردعمل نہ دیاجاتاتوشاید امریکی انتظامیہ لچک نہ دکھاتی، پاکستان کے احتجاج پرٹرمپ انتظامیہ کواحسا س ہوا کہ پاکستان پرپابندیاں لگاکرامریکہ خطے میں اپنے مفادات کاتحفظ نہیں کرسکتا۔


پاکستان پردباؤڈالنے کی ایک اورامریکی کوشش کسی کویہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ہم نے کیاکرناہے اورکیانہیں کرنا۔ مذہبی آزادی کے معاملے میں پاکستان کاریکارڈ بعض یورپی ممالک سے بھی بہترہے۔


پاکستان پرتومذہبی آزادی کی خلاف ورزی کاالزام لگادیاگیالیکن دوسری طرف بھارت اوراسرائیل سمیت بہت سے ممالک ہیں جہاں اقلیتیں غیرمحفوظ ہیں۔بھارت میں مسلمانوں اوردیگراقلیتوں کے ساتھ جوسلوک ہورہاہے ،اس کی رپورٹس ہم میڈیا پرآئے روزدیکھ رہے ہیں۔کبھی گائے کاگوشت کھانے کاالزام لگاکرتشدد کرکے ماردیاجاتاہے اورکبھی گھروں میں زندہ جلا دیا جاتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں جس طرح کشمیریوں پرمظالم ڈھائے جارہے ہیں ،بچوں کو پیلیٹ گن سے نشانہ بنایاجارہاہے ،نوجوانوں کوگولیاں ماری جاری ہیں، کیا وہ امریکی انتظامیہ اورعالمی میڈیا کی نظروں سے اوجھل ہے؟بھارت چونکہ چین کے خلاف امریکی گیم کاحصہ بن چکاہے، اس لئے صدرٹرمپ کوبھارت میں سب اچھانظرآرہاہے۔متعصب بھارتی وزیراعظم مودی ان کے بہترین دوست ہیں۔

 پاکستان میں اقلیتوں کوآئین کے تحت ہرقسم کی آزادی حاصل ہے۔آئین ان کے جان ومال کی حفاظت اورمذہبی آزادی کوتحفظ فراہم کرتاہے۔آئین وقانون کی نظرمیں تمام شہری خواہ ان کاتعلق کسی بھی مذہب اور فرقے سے ہو، پاکستان کے برابرکے شہری ہیں۔تاہم اتناضرور ہے کہ پاکستان کا صدر اور وزیراعظم بننے کے لئے مسلمان ہوناضروری ہے۔کوئی بھی غیرمسلم ،قومی اسمبلی اورسینیٹ کاالیکشن لڑسکتاہے۔وزارت سمیت اسے کوئی بھی اہم ذمہ داری سونپی جاسکتی ہے۔تعلیم ،ہنراورکوئی بھی شعبہ اختیارکرنے کی کوئی ممانعت نہیں۔کوئی بھی کاروبار،جائیداد کی خریدوفروخت میں مسلم اور غیر مسلم کا فرق نہیں۔شاید ہی کوئی شعبہ ہوجہاں کسی سے اُس کامذہب یافرقہ پوچھا جاتا ہو۔ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے پاکستانی ،ملک وقوم کی ترقی میں اہم کردار اداکررہے ہیں۔حکومت کی پالیسی اورقوانین واضح ہیں، مذہب کی بنیادپرکسی سے امتیازی سلوک نہیں کیاجاناچاہئے۔


پاکستان میں کوئی بھی غیرمسلم ،عام نشستوں پرقومی وصوبائی اسمبلی کاالیکشن لڑسکتاہے۔وزارت سمیت اسے کوئی بھی اہم ذمہ داری دی جاسکتی ہے۔ تعلیم، پیشے سمیت کوئی شعبہ اختیارکرنے کی ممانعت نہیں۔ کاروباریاجائیداد کی خرید و فروخت میں مسلم وغیرمسلم کاکوئی فرق نہیں۔شایدہی کوئی شعبہ ہوجہاں کسی سے اس کے مذہب یافرقے کے بارے میں پوچھاجاتاہو۔مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے پاکستانی ،ملک وقوم کی ترقی میں اہم کردار اداکررہے ہیں۔حکومت کی پالیسی اورقوانین واضح ہیں۔ مذہب کی بنیادپرکسی سے امتیازی سلوک نہیں کیاجاسکتا۔


بانیٔ پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح  نے بھی اس حوالے سے کئی مرتبہ اپنے بیانات میں واضح کیاکہ پاکستان میں تمام مذاہب کومساوی حقوق حاصل ہوں گے ۔قائداعظم نے گیارہ اگست 1947ء کوپاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی میں تقریرکرتے ہوئے فرمایاتھا: ''آپ آزاد ہیں،آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لئے۔آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لئے اورریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لئے ۔آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات، یانسل سے ہو، ریاست کااس سے کوئی لینا دینا نہیں۔''پاکستان میں جتنی بھی حکومتیں آئیں انہوں نے قائداعظم کے اس وعدے کویادرکھا۔تاہم یہ ضرور ہواہے کہ بعض افراد اورتنظیموں کی طرف سے کچھ متعصبانہ رویہ اختیارکیاگیا،لیکن ان کی تعداد آٹے میں نمک سے زیادہ نہیں۔ دنیا جانتی ہے کہ پاکستانی قوم نے عام انتخابات اورعملی زندگی میں ان متعصب لوگوں اورایسی جماعتوں کومسترد کیا۔اسی طرح دہشت گردی میں ملوث مجرموں اوردہشت گردتنظیموں کے خلاف پوری قوم سینہ سپر ہے۔ فورسز کے جوان اورعام شہری اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کررہے ہیں۔

 اکثریت کی پالیسی یہی رہی ہے کہ قائداعظم کے اس فرمان کواپنے بیانیے کاحصہ بنایاجائے ۔سب جانتے ہیں کہ اپنے ہی ملک میں بسنے والی کسی اقلیت یافرقے کوتعصب کانشانہ بناکرکوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی۔ملک میں بسنے والے تمام مذاہب کے ماننے والوں کے لئے اس بات کو یقینی بناناضروری ہے کہ وہ بھی ریاست کے برابرکے شہری ہیں،ماں کی طرح ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے کسی بچے کے ساتھ بھی امتیازی سلوک نہ کرے ، ریاست کی نظرمیں سب برابرہوں۔یہ کس طرح ممکن ہے کہ کوئی ریاست اپنے بعض شہریوں کے ساتھ دونمبرشہری کا ساسلوک کرے،ان پرظلم ڈھائے اوریہ یقین بھی رکھے کہ یہ لوگ دشمن کے ہاتھوں میں استعمال نہیں ہوں گے؟

مذہبی آزادی کے حوالے سے امریکہ کوہمیں لیکچر دینے کی نہیں بلکہ اپنی متعصبانہ پالیسیوں پرنظرڈالنے کی ضرورت ہے۔امریکہ کوفلسطینیوں پراسرائیلی مظالم اورکشمیر یوں پربھارتی 'مظالم' تونظرنہیں آرہے ،لیکن اسے پاکستان میں مذہبی آزادی خطرے میں نظرآرہی ہے۔ہم پاکستانی زیادہ بہترجانتے ہیں کہ ہم نے اپنے بھائیوں کے ساتھ کس طرح رہناہے۔کس طرح انھیں اپنے جسم کا ایک حصہ سمجھناہے۔ہم جانتے ہیں کہ غیرمسلم بھی اچھاپاکستانی ہوسکتاہے،ہمیں معلوم ہے اچھاپاکستانی ہونے کے لئے مسلمان ہوناضروری نہیں۔پھرکوئی دوسراہمیں ڈکٹیشن دینے والاکون ہوتاہے؟

 پاکستان نہ صرف اپنی اقلیتوں کے جذبات کی ہی نہیں بلکہ دوسرے ممالک میں بسنے والے غیرمسلموں کے مذہبی جذبات کی بھی قدرکرتاہے۔ا س کی بڑی مثال سکھوں کے مقدس مقامات اورکرتارپور راہداری ہے۔پاکستان نے بھارتی سکھوں کے مذہبی جذبات کی قدرکرتے ہوئے ان کے لئے کرتارپوربارڈرکھول دیا۔اس راہداری پرتیزی سے کام جاری ہے،اسی طرح بھارتی ہندوؤں اوردنیابھر کے بدھ مت سے تعلق رکھنے والوں کے لئے بھی مذہبی مقامات کے دروازے کھول دئیے گئے ہیں۔سکھوں،ہندوؤں،بدھوں اوردیگرغیرمسلموں کے لئے آسانیاں پیداکی جارہی ہیں۔اعدادوشمارکے مطابق پاکستا ن میں بدھ مت سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد صرف پانچ ہزار ہے،لیکن ٹیکسلا اوردیگرمقامات جوبدھوں کے لئے مذہبی اہمیت رکھتے ہیں،  ان علاقوں میں حکومت خصوصی انتظامات کررہی ہے۔تاکہ نہ صرف پاکستان سے تعلق رکھنے والے بدھ ان علاقوں میں جاسکیں بلکہ دوسرے ممالک سے بھی بدھ مت کے ماننے والے اپنی مذہبی رسومات اورعبادت کے لئے پاکستان آئیں ۔کیادنیاکومعلوم نہیں سپریم کورٹ آف پاکستان نے اقلیتوں کی حفاظت اوران کے مذہبی مقامات کے تحفظ کے لئے کتنے بڑے فیصلے کئے ہیں؟سپریم کورٹ نے کٹاس راج مندرکے تالاب کوپانی سے بھرنے کاحکم دیا،سپریم کورٹ نے کٹاس راج مندرکے تالاب کاپانی خشک ہونے کے معاملے کاازخودنوٹس لیاتھا۔یہ مندرہندوؤں کے لئے بے حد مقدس جگہ ہے۔ٹیکسلا بدھ مت تہذیب کاعظیم شہرتصورکیاجاتاہے۔ٹیکسلاکاذکر ہندومت،جین مت اوربدھ مت کی مذہبی کتابوں میں موجود ہے۔یہ شہراب بدھوں کی توجہ کابھی مرکزبن رہاہے۔

 امریکہ اوریورپی ممالک میں مسلمانوں، خصوصاًحجاب کرنے والی خواتین، کے ساتھ جوامتیازی سلوک کیاجاتاہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ کئی یورپی ممالک میں خواتین کے پردہ کرنے یاسکارف لینے پرمکمل پابندی ہے۔کیایہ اقدامات اورپالیسیاں مذہبی آزادی کے خلاف نہیں ؟

ہوسکتاہے امریکہ کایہ اقدام پاکستان کودباؤ میں لانے اوروزیراعظم عمران خا ن کے اس انٹرویو کاردعمل ہو جس میں انہوں نے کہاتھاکہ پاکستان کسی کے لئے کرائے کافوجی نہیں بنے گا۔امریکہ چاہتاہے کہ پاکستان افغانستان اورخطے میں امریکی مفادات کے مطابق کام کرے۔امریکہ نے اس حوالے سے پاکستان کوجواستثنیٰ دیاہے اس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کواستثنیٰ امریکی مفاد میں دیاگیاہے۔جن ممالک کوپابندی سے استثنیٰ دیاگیاہے ان میں سعودی عرب، تاجکستان اورترکمانستان شامل ہیں۔استثنیٰ ملنے کے بعد پاکستان پرکوئی جرمانہ وغیرہ عائدنہیں ہوگااورنہ ہی کوئی پابندی عائد کی جا ئے گی ۔ایک طرف امریکہ پاکستان کوبلیک لسٹ کررہاہے تودوسری طرف امریکی انتظامیہ اس بات کوبھی تسلیم کررہی ہے کہ پاکستان افغانستان اورخطے میں دہشت گردی کوختم کرنے کے لئے اہم کردار اداکررہاہے۔پاکستان نے جس طرح افغان طالبان کوامریکہ کے ساتھ مذاکرات پرآمادہ کیا،امید ہے کہ اگرمذاکرات کے اگلے دورکامیاب ہوگئے تونہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے میں امن آجائے گا۔


مذہبی آزادی کے حوالے سے امریکہ کوہمیں لیکچر دینے کی نہیں بلکہ اپنی متعصبانہ پالیسیوں پرنظرڈالنے کی ضرورت ہے۔امریکہ کوفلسطینیوں پراسرائیلی، اورکشمیر یوں پربھارتی، مظالم تو نظرنہیں آرہے ،لیکن اسے پاکستا ن میں مذہبی آزادی خطرے میں نظرآرہی ہے۔


ہم پاکستانی زیادہ بہترجانتے ہیں کہ ہم نے اپنے بھائیوں کے ساتھ کس طرح رہناہے۔کس طرح انھیں اپنے جسم کا حصہ سمجھناہے۔ہم جانتے ہیں کہ غیرمسلم بھی اچھاپاکستانی ہوسکتاہے،ہمیں معلوم ہے اچھاپاکستانی ہونے کے لئے مسلمان ہوناضروری نہیں۔پاکستان میں سب برابرہیں۔


 امریکہ کی پاکستان سے ناراضگی کی ایک وجہ پاک چین اقتصادی راہداری یا سی پیک منصوبہ ہے ،یہ منصوبہ امریکہ کوایک آنکھ نہیں بھاتا۔امریکی سی پیک کولے کرپاکستان کودباؤمیں لانے کی کوشش کررہے ہیں۔ قرضوں کی ادائیگی کے لئے حکومت نے آئی ایم ایف سے رابطہ کیاتویہ شرط سامنے آئی کہ پاکستان، چین سے کئے جانے والے معاہدوں اور منصوبوں کی تفصیلات سے آگاہ کرے۔ یہ پروپیگنڈابھی کیاجارہاہے کہ اگرپاکستان نے چینی قرضوں سے جان نہ چھڑائی توپاکستان دیوالیہ ہوسکتاہے۔مقصد پاکستانی قوم کے ذہنوں میں چین کے حوالے سے شکوک وشبہات پیدا کرناہے۔

    حقیقت تویہ ہے کہ موجودہ امریکی انتظامیہ کی پالیسیاں متعصبانہ ہیں۔مسلم ممالک اورمسلمانوں کے حوالے سے صدرٹرمپ کے رویے اوربیانات سے کون واقف نہیں۔صدرٹرمپ پوری دنیا کواپنے نظریے کے مطابق ڈھالنا اورچلاناچاہتے ہیں۔امریکی میڈیا نے بھی اس بات کوتسلیم کیاہے کہ ٹرمپ کی متعصبانہ پالیسیوں نے امریکی شہریوں کوتقسیم کردیا ہے جس سے خود امریکہ کی سلامتی خطرے میں پڑگئی ہے۔امریکہ کے مقابلے میں چین کی پالیسی ہمارے سامنے ہے۔چین دوست ممالک کی ترقی میں اہم کردارادا کررہاہے ۔چین ترقی پذیرممالک کوجوٹیکنالوجی اورمدد فراہم کررہاہے اس کے عوض وہ ہر اُس ملک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی پرگامزن ہے۔چین کے صدرشی جی پنگ نے معاشی اصلاحات کے چالیس سال پورے ہونے پراپنے بیان میں واضح طورپرکہا کہ چین دوسری اقوام کے بل بوتے پرترقی نہیں کرے گا۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ ان کاملک ترقی کے باوجود کسی عالمی بالادستی کامتلاشی نہیں ہے۔سی پیک منصوبہ گیم چینجر ہے،اس منصوبے سے اس خطے کے کروڑوں انسانوں کامستقبل وابستہ ہے ۔

    دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری قربانیاں دنیا کے سامنے ہیں۔پاکستان نے 75ہزارقیمتی جانوں کی قربانی دی اور123ارب ڈالر کا نقصان اٹھایا، معیشت تباہ ہوئی۔جس کی بحالی کے لئے کوششیں جاری ہیں۔ دہشت گردوں کے خلاف قربانیاں دینے کاسلسلہ رکانہیں۔لیکن ان قربانیوں کے جواب میں امریکی صدرٹرمپ کواپنے بیس ارب ڈالریاد ہیں اوروہ بار بار ان بیس ارب ڈالر کاطعنہ دیتے ہیں۔یہ وہ رقم ہے جوامریکہ نے تحفے میں نہیں دی بلکہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں پاکستان کے انفراسٹرکچرکوپہنچنے والے نقصان کی بحالی کے لئے ادا کئی گئی۔ٹرمپ انتظامیہ سے یہ سوال پوچھناہرپاکستانی کاحق ہے کہ کیاکسی امریکی کاخون پاکستانیوں کے خون سے زیادہ قیمتی ہے؟اگر70ہزارامریکیوں کوپاکستان کے لئے اپنی جانیں دینی پڑیں توکتنے ڈالرلیں گے؟امریکی صدرٹرمپ ہمارے زخموں پرنمک چھڑکتے رہتے ہیں ،کچھ نمک ہمیں بھی اُن کے زخموں پر چھڑک دیناچاہئے۔

   امریکی انتظامیہ اس بات کوبھی مانتی ہے کہ پاکستا ن کے بغیرافغانستان میں امن ممکن نہیں۔پاکستان کی ہی کوششوں سے افغان طالبان اورامریکہ کے درمیان مذاکرات شروع ہوئے ۔پاکستان افغانستان میں قیام امن کے لئے  اہم کردار اداکررہاہے لیکن دوسری طرف افغان انتظامیہ کی جانب سے پاکستان پرالزام لگانے کاکوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیاجاتا۔افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال کی جارہی ہے۔ داعش اور  ٹی ٹی پی سمیت کئی دہشت گردوں تنظیموں کے محفوظ ٹھکانے افغانستان میں ہیں۔ان میں سے کچھ دہشت گردگروپوں کوامریکہ اوربھارت کی حمایت کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔اس تمام پس منظر میں پاکستان پرمذہبی آزادیوں کی خلاف ورزی کاالزام لگاکربلیک لسٹ کرنے کاحربہ پاکستا ن کودباؤمیں لانے کی ایک مذموم کوشش تھی ،اس وقت بہتریہ ہی ہے کہ امریکہ کے کسی قسم کے دباؤمیں نہ آیاجائے ۔ٹرمپ انتظامیہ کو جلد ہی اپنی غلطیوں کااحساس ہوجائے گا۔امریکہ اور عالمی برادری کوصرف یقین دلانے کی ضرورت ہے کہ پاکستان میں اقلیتیں امریکہ اور بعض دوسرے ممالک سے زیادہ محفوظ ہیں۔پاکستان میں تمام مذاہب کے ماننے والے مل جل کرزندگی گزار رہے ہیں،انھیں کسی تعصب اورمخالفت کا سامنا نہیں کرناپڑتا،دوسری طرف بھارت میں عام مسلمانوں کے ساتھ ساتھ مشہورمسلم شخصیات کوبھی تعصب کانشانہ بنایاجاتاہے،انھیں اپنی مرضی سے کسی خاص علاقے میں رہائش اختیارکرنے کی بھی آزادی حاصل نہیں۔لیکن کیاکریں اس وقت امریکہ کے نشانے پرصرف ہم ہیں۔


 مضمون نگار اخبارات اورٹی وی چینلز سے وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر آٹھ کتابیں شائع کرچکے ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 69مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP