ہلال نیوز

ڈی ایس ایف کور - تاریخ کے آئینے میں

تحریر : میجر جواد رضا
 آرمی ڈیپارٹمنٹ آف کانسٹیبلری یونائیٹڈ کنگ ڈم سیکورٹی پولیس فورس کے طور پر سپیشل کانسٹیبلز ایکٹ 1923کے تحت معرض وجود میں آئی۔ دراصل فوج اپنے حاضر سروس جوانوں کو اپنے ہی اداروں کی حفاظت کے لئے استعمال کرتی تھی اور پولیس کو صرف دیگر اہم تنصیبات کی حفاظت کے لئے تعینات کیا جاتا تھا۔ بعد ازاں اس مقصد کے لئے 1925میں وار ڈیپارٹمنٹ کانسٹیبلری بنائی گئی اور 1946 میں اس کا نام ''ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ کانسٹیبلری (ڈی ڈی سی)''رکھ دیا گیا۔ دوسری جنگ عظیم کے ریٹائرڈ جوانوں پر مشتمل اس نئی کور کو متحدہ انڈیا کے ماتحت شملہ کے مقام پر تعینات کیا گیا۔
1947 میں جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو اس کور کو منسٹری آف ڈیفنس کے ماتحت کر دیا گیا اور اس کے نام کو منسٹری آف ڈیفنس کانسٹیبلری (ایم او ڈی سی) رکھ دیا گیا جس کا ٹریننگ سنٹر ملتان میں بنایا گیا۔ تاہم 7 مئی 1956 میں اس سنٹر کو ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کر دیا گیا۔ 1978 تک منسٹری آف ڈیفنس کانسٹیبلری کا ہیڈکوارٹر جی ایچ کیو میں انفنٹری ڈائریکٹوریٹ کے ماتحت ہی رہا۔1978میں منسٹری آف ڈیفنس کانسٹیبلری کا الگ ڈائریکٹوریٹ بنا کر جی ایس برانچ کے زیر نگرانی دے دیا گیا۔ 1993 میں اس کور کے نام کو تبدیل کرکے ڈیفنس سروسز گارڈز(ڈی ایس جی) رکھ دیا گیا اور 1995 میں منسٹری آف ڈیفنس کانسٹیبلری ڈائریکٹوریٹ کو کمانڈ ہیڈکوارٹر ڈی ایس جی کور کر کے دوہری ذمہ داری بطور کمانڈ ہیڈکوارٹر ڈی ایس جی اور ڈی ایس جی ڈائریکٹوریٹ سونپی گئی۔ ڈی ایس جی کور کے بیج میں روائتی نشان اور رنگ جو کہ تینوں فورسز کو ظاہر کرتا ہے، میں کور لوگو پاسبان تحریر ہے۔
 چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہدایات پر کمانڈر ڈی ایس جی " گیارہویں کمانڈر آف دی کور" کی سربراہی میں ٹرانسفارمیشن آف ڈی ایس جی کور پر ایک جامع پالیسی وضع کی گئی جس کا مقصد ڈی ایس جی کور کو اور زیادہ مؤثر کرنا تھا۔ اس امر میں کمانڈ کا جامع نظام، مشن/رول اور فرائض کو بہتر کرنا اور اس کے ساتھ ساتھ جوانوں کے مورال کو بلند کرنے کے لئے تنخواہ کے سکیل کو آرمی کے سکیل کے برابر کرنا طے کیا گیا۔
 مارچ 2019 میں ڈی ایس جی کور کے نام کو تبدیل کرکے ڈیفنس سکیورٹی فورس (ڈی ایس ایف)کر دیا گیا۔ کور کے شولڈر ٹائٹلز اور کیپ بیجز کو بہتر طریقے سے ترتیب دیا گیا۔ تاریخ میں پہلی دفعہ ڈی ایس ایف کور نے 23 مارچ 2019 کو جوائنٹ سروسز پاکستان ڈے پریڈ (جے ایس پاک ڈے پریڈ)میں شمولیت اختیار کی۔ 
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ جنگ وامن کے دوران قومی اداروں کی حفاظت کرتے ہوئے ڈی ایس ایف کور کے بیالیس (42)بہادر سپوتوں نے اپنی جان کا نظرانہ پیش کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ اس فورس کو اب تک ایک تمغہ شجاعت اور چار تمغہ بسالت سے نوازا گیا ہے۔ ڈی ایس ایف کا موجودہ معیار اس کی مثالی تاریخ اور اس فورس کی لمحہ بہ لمحہ ترقی کا شاہد ہے۔ 


یہ تحریر 1مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP