قومی و بین الاقوامی ایشوز

مذہب، معاشرہ اور  دَورِ جدید کے رجحانات

مذہب انسانی زندگی میں اہم اور نمایاں مقام رکھتا ہے۔ یہ انسان کے ذہنی اور فکری ارتقا کی نشوونما کرکے اسے پختہ بناتا ہے۔یہ ارتقاء اور ظہور کے تخم سے فانی اور لافانی، محدود اور لا محدود کا شجر اُگا دیتا ہے جس پر اُلوہیت اور بندگی کے ایسے پھل لگے ہوتے ہیں جو سوچ کو معنویت کے اس راستے پر لے جاتے  ہیں  جہاں سے آگہی کی نئی نئی جہتیں کھلتی ہیں۔وابستگی کی یہ بنیادی وجوہات انسان کی شناخت بن جا تی ہیں۔ اس کی زندگی کا محور ہی یہ بن جاتا ہے اور یہی حاصل بھی۔ بنیاد، نمو، مقدس کتابوں، عقائد، رواج و روایات،  ہیروز واقعات اور آغاز و انجام  کا  یہ ہی تسلسل بالآخر زندگی کے فلسفے میں ڈھل جاتاہے جو آگے چل کر نظریات کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔
انسان جستجو کا پرندہ ہے۔ قدرتی طور پر اس کے اندر جاننے اور پرکھنے کی خو موجود ہے۔ وہ کھوج در کھوج میں لگا رہتا ہے۔ ادراک اور شعورکی سیڑھی چڑھتے چڑھتے اس نے  اپنی زندگی پر اثرانداز ہونے والی چیزوں کو کھنگالا۔ اس نے بعض معاملات کی اندھی تقلید کی ہے اور رسم و رواج کو بھی بیڑیاں سمجھ کر پہن لیا لیکن کئی دفعہ سکہ رائج الوقت کے خلاف اناالحق کا نعرہ بھی لگادیا۔ کئی چیزوں اور مذہبی اقدار کو فہم و فراست کی کسوٹی پر پرکھا گیا جو چیزیں انسانی عقل پر کھری اتریں انہیں قبولیت کی سند دے دی ورنہ حسب منشا جمع و تفریق سے کام چلا لیا۔  بعض اوقات کچھ مصلح ایسے اٹھے کہ انہوں نے مذہب جیسی نازک اور پیچیدہ چیز کو ہی انسانی عقل کی پیداوار یعنی ترمیم کے تابع کردیا۔ پھر کوئی صاحبِ جنوں اٹھا، اس نے اصل بنیادی عقائد کی طرف واپسی کی دعوت دی اور وقت گزرنے  کے ساتھ ساتھ پروان چڑھنے والی بدعتوں کے خلاف مذہبی اصلاح کے لئے آواز بلند کردی۔ پھر چاہے وہ آرتھوڈکس، کیتھولک اور پروٹسٹنٹ اختلافات یا یہودیت کی قدیم اور اصلاحی تحاریک ہوں یا مسلمانوں کے مابین جنم لینے والے مسلکی تنازعات ہوں یا پھر دھرما، موکشا، نروان، کرما اور جنموں کے چکرا دینے والی مشکل مساوات۔ ساونارولا سے لے کر معتزلہ اورگوتم بدھ سے لے کر بھگتی تحریک تک سب نے ہی مذہب کی تشریح اور عقائد کی ترجیحات کو متفرق رنگ اور مفہوم پہنائے۔ اس دوران مذہب کے نام پر انسانی انا کی تسکین  کا بھی خوب بندوبست کیا گیا، خون بھی بہایا گیا اورانسانیت سوز جرائم بھی ہوئے لیکن  پھر بھی لوگوں کے ذہنوں میں مذہب سے متعلق سوالات ہر دور، ہر نسل میں جنم لیتے رہے ہیں۔
ویسے تومذہب بذات خود ہمارے ذہنوں میں اٹھنے والے کئی پیچیدہ سوالات کے جواب دے دیتا ہے۔ خاص کر الہامی مذاہب تو اذہان کو درپیش مشکلات کا حل فوراً ہی تجویز کردیتے ہیں لیکن اسلام وہ واحد دین ہے جو اپنی تعلیمات کے ذریعے عائلی و سماجی زندگی کا پورا خاکہ کھینچ کے رکھ دیتا ہے۔  ہم کون ہیں؟ ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ ہمارا ازل و ابد کیا ہے؟ معاشرہ کیوں اور کیا ہے؟ اس کے اصول و ضوابط کیا ہونے چاہئیں۔معاشرے میں ہمارا انفرادی اور مجموعی کردار کیا ہو؟ حکمرانوں کے فرائض، آپس کے تعلقات میں حقوق اور حد ودغیرہ وغیرہ، یہ سب قرآن کے ذریعے ہم تک پہنچا دیا گیا ہے۔  
لیکن ایک عام آدمی ان کو سمجھ نہیں سکتا۔انسانی ذہن و فکر میں پھلتے پھولتے یہ تمام سوالات اور خیالات وضاحت مانگتے ہیں۔ ان تعلیمات کی صحیح تشریح اوران کے مکمل مفہوم کو سمجھنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں لہٰذا ان کے مکمل مفہوم اور تفصیلات کو سمجھنے کے لئے ہمیں کوئی ایسا رہنما درکار ہوتا ہے جو گنجلک چیزوں کو آسان کردے۔ سو دینی سمجھ رکھنے والے حضرات بھی لازم بن گئے۔اب مسئلہ تھا زبان اور بیان پر عبور کا تاکہ بات مختصر بھی ہو اورجامع بھی اور سمجھ میں بھی آجائے اور یہ فصاحت و بلاغت ہمیں مذہبی لوگوں اور ایسا رجحان رکھنے والے طبقے میں ملتی ہے۔ کیونکہ عام تاثر یہی ہوتا ہے کہ یہ جوش و جذبے سے دینی اقدار کا پاس رکھتے ہیں اور ایسا مو اد پڑھتے پڑھاتے ہیں۔ ان کے پاس وہ تمام معلومات ہوں گی جو درکار ہوتی ہیں۔ ان کا حلقہ احباب بھی ایسا ہی ہوگا اور آنا جانا بھی ایسی ہی محفلوں میں ہوگا اس لئے یہ ہماری راہ نمائی بہتر طریقے سے کرسکتے ہیں۔
اب دیکھتے ہیں کہ یہ کون لوگ ہیں جن کی رہبری پر تکیہ کیا جارہا ہے۔ یہ کوئی اونچے درجے کے عالم فاضل بھی ہوسکتے ہیں جو دین و فقہ سے متعلق امور پر کامل دسترس رکھتے ہیں اوریہ لوگ محض ایک ایسا گروہ بھی ہوسکتے ہیں جو یکساں رجحان سازی کی بدولت اکٹھے ہوگئے ہیں، جیسے کوئی مذہبی تنظیم یا گروہ ۔ دونوں صورتوں میں ان کے اثر و رسوخ سے انکار ممکن نہیں ہے۔ معاشرے میں ان کی بے حد عزت ہوتی ہے۔ لوگ ان کی بات کو اہمیت دیتے ہیں۔ان سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کی طرف مائل بھی رہتے ہیں۔ 
سماج کی بنیادوں تک رسائی رکھنے کی وجہ سے مذہبی گروہ اور شخصیات معاشرے میں سیفٹی والو کا کام کرتے ہیں۔یہ مسابقت اور گروہی لڑائی میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ خاص کر اس وقت جب کوئی ایسا مرحلہ درپیش ہو جو مذہبی نوعیت کا ہو۔ یہ لوگوں کے جذبات کو ٹھنڈا کرکے جوش کے بجائے ہوش سے کام لینے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ مخالف گروہ کی سرکردہ شخصیات سے رابطہ کرکے معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔  یہ نازک مذہبی مسائل اور الجھنوں کا سدباب بھی کرتے ہیں کیونکہ ان کے پاس اجتہاد کی قوت اورراستہ موجود ہے۔  یہ حکومت کو بھی ایسے کاموں سے باز رکھتے ہیں جو کسی فرقے کی دل آزاری کا سبب ہو یا  اس سے کسی مخصوص گروپ کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ لیکن کبھی کبھی انہی میں موجود کوتاہ نظر لوگوں کی لاپروائی اور کوتاہی سے معاشرہ ناقابل تلافی نقصان اٹھا جاتا ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ملک میں مذہب کے سچے عالموں اور ماننے والوں کے علاوہ بعض مفاد پرست افراد اور گروہ بھی سامنے آتے رہے ہیں اور اس وقت بھی موجود ہیں۔ یہ نہ تو مذہب سے مخلص ہیں نہ ہی ملک و قوم سے۔ ان کے اپنے مفادات ہیں جن کے حصول کے لئے مذہب کا لبادہ اوڑھ لیا گیا ہے۔ یہ صرف اور صرف لوگوں کے جذبات بھڑکا کر اپنے اصل پوشیدہ نظریات کی ترویج و اشاعت چاہتے ہیں۔ یہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے فن سے خوب واقف ہیں۔ ان کو ہمدردیاں سمیٹنا بھی آتا ہے اور بانٹنا بھی۔ یہ معاشرے میں رونما ہونے والی ہر اونچ نیچ پر نظر رکھتے ہیں اور حسب ضرورت اس کا استعمال کرتے رہتے ہیں۔  یہ معاشرے کی وہ کالی بھیڑیں ہیں جو قوم کو تقسیم کردیتی ہیں۔ ہم نے ان کے ہاتھوں بہت نقصان اٹھایا ہے۔  انہوں نے مکر و فریب سے کام لے کر بھولے بھالے لوگوں تک رسائی حاصل کر لی جنہوں نے ان کو خوب پذیرائی بخشی۔ دورافتادہ علاقوں میں اپنی جڑیں مضبوط کرنے کے بعد انہوں نے اپنا اصل رنگ دکھایا۔ انہوں نے اسلام کا نقاب پہن کر ہماری عبادت گاہوں کو تاراج کیا، بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنایا، پھول سے معصوم بچوں کو اپنی ذلالت اور رعونیت تلے روند ڈالا۔ جوکوئی بے لوث غیرت مند قوم کا خیر خواہ ان کے خلاف کھڑا ہوا انہوں نے اس کو راستے سے ہٹادیا۔ یہ دن بھی آئے کہ ان کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوجانے والوں کو ان ضمیر فروشوں نے کافر تک کہہ دیا لیکن حق کبھی ہارتا نہیں اورسچ کبھی چھپتا نہیں۔ پاکستان نے بھی اپنے شہیدوں اورغازیوں کی بدولت مذہب کے ان سوداگروں کو دھتکار دیا جو چند ٹکوں کی خاطر اپنے ہی بھائیوں کا خون بہاتے رہے۔ اکثریت تو ان کے پوشیدہ عزائم کو پہلے ہی سمجھ چکی تھی جب ان کی سازشوں کا پردہ چاک ہوا اور ان کے اصل گھناؤنے مقاصد واضح ہوئے تو سیدھے سادھے لوگوں کے دلوں میں ان کے خلوص سے متعلق باقی ماندہ ابہام بھی دور ہوگئے ۔
آج کی دنیا شدت پسندی جیسے عفریت سے نبرد آزما ہے۔ اسلاموفوبیا  نے غیر مسلم سوچ اور فکر کو جیسے جکڑ سا لیا ہے۔ وہ ہر مسلمان کو دہشت گرد یا شدت پسند سمجھتے ہیں۔ ایسا ان گمراہ لوگوں کی وجہ سے ہوا جنہوں نے رواداری، برداشت، انسانیت اور بقائے باہمی کے اسلامی اصولوں کو بھلا دیا ۔ اس کی جگہ عدم برداشت، ٹکرائو، منافقت اور مفادات کو اہمیت دی۔ اسلام جیسا روشن دین انہی عناصر کی وجہ سے آج مشکل میں ہے ۔ پاکستان نے اس آگ کے شعلے اپنے دامن سے لپٹے دیکھے ہیں۔ اس بھیانک دور میں جب صحیح اورغلط کا فرق مٹنا شروع ہوگیا تھا، ہمارے علماء اور دینی طبقات نے فرقے اور فقہ کی تقسیم کو پس پشت ڈال کر لوگوں کی بہترین رہنمائی کی۔  انہوں نے مذہب کے نام پر فساد پھیلانے والوں کے نظریات کا گہرائی اور باریک بینی سے جائزہ لیا اور لوگوں کے سامنے ان کا پردہ چاک کرکے اصل مکروہ چہرہ عوام کو دکھایا۔ ایسے علماء ومشائخ صحیح معنوں میں ہمارے لئے مشعل راہ بن گئے۔انہوں نے عوام میں موجود اپنے اثر کو بروئے کار لاتے ہوئے مزاحمت جاری رکھی۔ انہوں نے اسلام کی اس وحشت انگیز تصویر کورد کرکے دہشت گردوں کے خلاف فتویٰ دیا اور لوگوں کو گمراہی سے بچا لیا۔ اس راستے میں کئی علمائے کرام کو شہید کردیا گیا۔ کئی کو دھمکیاں دی گئیں لیکن وہ ڈٹ کر کلمہ حق بلند کرتے رہے۔  
مذہب سے گہری وابستگی ہمیں ایشین کلچر میں زیادہ نظر آتی ہے۔ بدعت، ضعیف الاعتقادی، توہم پرستی، عدم برداشت، سائنس وٹیکنا لوجی کو مذہب کے منافی سمجھنا، جذباتیت، یہ سب چیزیں مل کر اس خطے میں رہنے والوں کو مذہب کے نام پر فریب کھانے کے لئے آسان ہدف بنا دیتی ہیں۔ پاکستان میں بھی عام آدمی کی زندگی پر مذہب کی چھاپ ہے اور وہ بھی ان خوبیوں اور خامیوں کا مرقع ہے۔ تعلیم کی کمی اور جہالت نے صورتحال مزید گھمبیر بنا دی ہے۔ یہاں ہر گلی میں دم درود کی ہوئی پڑیا بانٹنے والوں کی بہتات ہے۔ جہاں ایمان کے کمزور لوگوں کا میلہ لگا ہوا ہے۔
دور جدید میں ٹیکنالوجی کی ترقی نے دوریاں بے معنی کردی ہیں۔ رسل و رسائل کے ذرائع تبدیل ہوگئے ہیں۔ دنوں کی بات لمحوں میں قید ہوگئی ہے۔ ہمیں انٹرنیٹ پرجہاں دوسری خبریں اور معلومات ملتی ہیں وہیں مذہبی مواد بھی بآسانی میسر ہے۔ سوشل میڈیا ہمیں مذہبی گروہوں کی آماجگاہ نظر آتا ہے جہاں ان کی بھرپورموجودگی ملتی ہے ۔ انواع و اقسام کے فیس بک پیج اور ٹویٹر ہینڈل دقیق مسائل پر مباحثہ کرتے نظر آتے ہیں۔ یہیں سے خود ساختہ دانش ور نکلتے ہیں اور یہیں حجت تمام ہوجاتی ہے۔ یہیں فقہ اور فرقہ کی تعریف بمعہ لغوی معنی بتائی جاتی ہے یہیں سے ہماری ناقص معلومات میں یہ اضافہ ہوتا ہے کہ کسی پوسٹ کو لائک کرنے سے بھی ثواب دارین حاصل کیا جاسکتا ہے۔ 
را بطہ اظہار کا بہترین ذریعہ ہے۔ یہ ابہام کو ختم کرکے چیزوں کی اصلیت پیش کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ساتھ ہی یہ اپنی مرضی کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کا بھی عمدہ ذریعہ ہے۔ بات مثبت ہو یا منفی، گھنٹوں میں ہر ایک کے پاس پہنچ جاتی ہے۔ اس پر بحث بھی شروع ہوجاتی ہے اور قیاس آرائیاں بھی۔ پھر سائبر ٹیمز اپنا کام خوب انجام دیتی ہیں۔ بھرپور پراپیگنڈا ہوتا ہے اور لوگ اسی کو سچ مان لیتے ہیں۔ اگر کائونٹر پراپیگنڈا کر کے جواب دیا جارہا ہو تو لوگ دونوں طرف کے پلڑے دیکھتے ہیں۔ جہاں عوامی رائے کا جھکاؤ زیادہ لگا، خود بھی اسی دہلیز پر جھک گئے۔ لہٰذا مذہبی عقائد کے پرچار کے لئے بھی کئی بار یہی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے کیونکہ معاشرے کی نبض یہیں ملتی ہے، سو اس پر ہاتھ رکھنا آسان ہوجاتا ہے۔ ہمارے ملک میں تو ویسے بھی سوشل میڈیا لوگوں کا اوڑھنا بچھونا بن گیا ہے۔ اس لئے تمام مذہبی سرگرمیوں اور اجتماعات کی لائیو کوریج اور اپ ڈیٹس لوگوں کو متوجہ کرنے کا سامان بن جاتی ہیں۔
نوجوان اب گلے میں پڑا ڈھول بجانے کے بجائے تحقیق کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ معاشرے میں تقسیم بھی واضح نظر آتی ہے۔ اگر کچھ لوگ مکمل دینی رجحان رکھتے ہیں تو کئی اس سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے دکھائی دیتے  ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ معتدل نظریات اور خیالات رکھنے والا طبقہ بہت بڑی تعداد میں موجود ہے مگر باقی دو گروپ اتنے طاقتور ہیں کہ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے رہتے ہیں۔ان دونوں میں ہی برداشت کی کمی ہے لہٰذا ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا جذبہ غالب رہتا ہے۔ یہ دونوں ہی انتہاؤں پر بیٹھے ہوئے ہیں اور میزان برقرار رکھنے والا طبقہ ان دونوں سے ہی بددل ہے ۔ 
 آج ہمارا معاشرہ زیادہ وسیع الجہت اور وسیع المقاصد بن رہا ہے۔ اس کے خدوخال تیزی سے بدل رہے ہیں جس کا اثر عوام کی ترجیحات اور رجحانات پر بھی پڑرہا ہے۔ اس کا ثبوت مذہبی جماعتوں کا تیزی سے گھٹتا ہوا ووٹ بینک ہے۔ شہروں میں رہائش پذیر نوجوان طبقہ اپنی راہیں خود متعین کررہا ہے۔ ان کے خیالات بدل رہے ہیں وہ اپنی رائے کا برملا اظہار کرتے ہیں اور صحت مندانہ معاشروں کی طرح ڈیبیٹ کو فوقیت دیتے ہیں ۔ اس تنا ظر میں ہم وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ مستقبل میں بھی مذہبی گروہ پاکستانی معاشرے پر اپنی گرفت قائم رکھ پائیں گے یا نہیں۔ ایک بات تو واضح ہے کہ انہیں اپنے اندر لچک، رواداری اور عقلی توجیحات جیسی صفات پیدا کرنا ہوں گی ورنہ روشن خیال  درمیانی اور مثبت سوچ رکھنے والا نوجوان ان سے دور ہوتا جائے گا کیونکہ گزشتہ کئی سالوں سے جاری  دہشت گردی نے اسلام سے متعلق اس کا یہ نظریہ تو پختہ کر ہی دیا ہے کہ ۔
ناحق کے لئے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
شمشیر ہی کیا نعرہئِ تکبیر بھی فتنہ


مضمون نگار فری لانس صحافی ہیں۔ حالاتِ حاضرہ اور سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتی ہیں۔

[email protected] 
 

یہ تحریر 30مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP