قومی و بین الاقوامی ایشوز

مدارس او ر تعلیمی اصلاحات کا مقدمہ

پاکستان میں تعلیمی اصلاحات کے تناظر میں ایک مقدمہ دینی مدارس کا بھی ہے ۔ ہمارے تعلیمی ، سماجی ماہرین اور علمی و فکری سطح پر موجود دینی اور سیاسی اہل دانش بھی اسی نکتے کی حمایت او رمخالفت پر بہت زور دیتے ہیں ۔ جبکہ اس کے برعکس دینی مدارس سے تعلق رکھنے والے تمام اہل مدارس کا نکتہ نظر یہ ہے کہ اول تو ہم اصلاحات پر یقین رکھتے ہیں اور یہ اصلاحاتی عمل پہلے بھی جاری تھا اور آئندہ بھی جاری رہے گا، دوئم ہم اصلاحات کے نام پر ریاست، حکومت یا کسی بھی فریق کو یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ طاقت کے زور پر اپنی مرضی یا کسی دباؤ کی صورت میں ہم پر اپنا ایجنڈا مسلط کریں ۔یہی وجہ ہے کہ ہمیں مدارس کی سطح پر تعلیمی اصلاحات کے تناظر میں مختلف فریقین کے درمیان بداعتمادی کی فضا بھی نظر آتی ہے ۔


پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں مذہب ایک حساس موضوع ہے وہاں دینی تعلیم خصوصی اہمیت رکھتی ہے ۔ اصولی طور پر تو دینی تعلیم کو ہماری رسمی تعلیم کا بنیادی جزو ہونا چاہئے ۔کیونکہ جب رسمی تعلیم میں بچوں او ربچیوں کو دینی تعلیم سے بھی روشناسی حاصل ہورہی ہوگی تو نہ صرف ان کو آگاہی ہوگی بلکہ دینی مدارس کے مقابلے میں رسمی تعلیم کی اہمیت بڑھ جائے گی


پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں مذہب ایک حساس موضوع ہے وہاں دینی تعلیم خصوصی اہمیت رکھتی ہے ۔ اصولی طور پر تو دینی تعلیم کو ہماری رسمی تعلیم کا بنیادی جزو ہونا چاہئے ۔کیونکہ جب رسمی تعلیم میں بچوں او ربچیوں کو دینی تعلیم سے بھی روشناسی حاصل ہورہی ہوگی تو نہ صرف ان کو آگاہی ہوگی بلکہ دینی مدارس کے مقابلے میں رسمی تعلیم کی اہمیت بڑھ جائے گی ۔لیکن یہاں ہماری رسمی تعلیم کے تناظر میں دو بنیادی سطح کے مسائل غالب ہیں ۔ اول ریاست او رحکمران طبقہ معاشرے کے ہر بچے او ربچی کو بنیادی تعلیم دینے سے قاصر ہے ۔اس کا بڑا ثبوت ریاستی اعداد وشمار کی صورت میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ دوئم جب ہماری رسمی تعلیم دینی تعلیم کے ساتھ نہیں جڑے گی تو دینی مدارس سے جڑی دینی تعلیم کی اہمیت بڑھ جاتی ہے ۔
اس لئے جب یہ دلیل دی جاتی ہے کہ دینی مدارس کی کوئی اہمیت نہیں تو اس سے قبل ہمیں ریاستی او رحکمرانی کے نظام کا تجزیہ کرنا چاہئے کہ کیا وجہ ہے کہ تعلیم میں تفریق کا پہلو موجود ہے ۔جو لوگ تعلیم سے محروم ہوتے ہیں او راس کی بہت سی وجوہات میں ایک بڑی وجہ غربت بھی ہے اس لئے لوگ بچوں او ربچیوں کو مفت تعلیم کی فراہمی کے لئے مدارس پر زیادہ انحصار کرتے ہیں اور مدارس کی اہمیت لوگوں میں بڑھ جاتی ہے ۔لیکن یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ مدارس کی اہمیت کے باوجود ہمیں مدارس سے جڑی تعلیم میں کئی طرز کے فکری اور علمی مسائل غالب نظر آتے ہیں ۔ اگر ہم اپنی مدارس سے جڑ ی غلطیوں کو قبول نہیں کریں گے تو پھر اصلاحات کا عمل اپنی خواہش کے باوجود نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا ۔
سوال یہ بھی ہے کہ ہمیں دینی مدارس میں تعلیمی اصلاحات کیوں کرنی ہیں ۔ اول یہ ہماری قومی ترجیحات کا حصہ ہے اور ہماری ضرورت بھی کہ ہم اپنے دینی تعلیمی اداروں میں دیگر شعبوں کی طرح اصلاحات پر توجہ دیں تاکہ یہ ادارے بھی قومی ترقی کے عمل میں اسی طرح شریک ہو ں جیسے دیگر ادارے شامل ہیں ۔ دوئم مدارس کے بارے میں ایک عمومی تصور منفی بنا کر پیش کیا جارہا ہے او راس میں کچھ مسائل حقائق پر مبنی بھی ہیں او رہمیں اس کے عمومی تصور یا تصویر کو مثبت انداز میں پیش کرکے داخلی او رخارجی دونوں محاذوں پر مؤثر جواب دینا ہے ۔ سوئم آج دنیا میں جو مدارس کے تناظر میں اصلاحات یا بہتری کے تجربات ہورہے ہیں ان سے استفادہ حاصل کرکے اپنے لئے بھی اصلاح کے راستے کو تلاش کرنا ہے ۔ چہارم ان دینی اداروں کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کا علاج بھی تلاش کرنا ہے او رایک متبادل بیانیے کی بحث کو آگے بڑھانا ہے کہ ہم دینی مدارس کو بنیاد بنا کر انتہا پسندی کا مقابلہ کریں گے ۔پنجم فرقہ واریت کے خلاف ایک منظم علمی و فکری تحریک کو آگے بڑھانا ہے کہ ہم اختلافات کے باوجود مل جل کر رہ سکتے ہیں اور جدید تعلیمی نظام کو مدارس میں متعارف کروانا ہے ۔ششم مدارس کی رجسٹریشن ، نصاب کی تبدیلی اور نگرانی و جوابدہی کے نظام کو مؤثر بنانا اصلاحات کا اہم حصہ ہونا چاہئے ۔
پاکستان کیونکہ انتہا پسندی اور فرقہ واریت پر مبنی جنگ سے نمٹنے کی کوششوں کا حصہ ہے ،ان دونوں مسائل نے ملک میں مذہب کے نام پر دہشت گردی جیسے موذی مرض کو بھی جنم دیا ہے ۔اگرچہ پاکستان نے کافی حد تک دہشت گردی پر قابوپالیا ہے او رہماری صورتحال ماضی کی صورتحال سے کافی بہتر ہے لیکن یہ مرض یا جنگ ختم نہیں ہوئی ۔یہی وجہ ہے کہ اس وقت ملک میں سیاسی محاذ پر '' بیانیے کی جنگ '' کو  خصوصی اہمیت دی جاتی ہے ۔ اس تناظر میں قومی اتفاق رائے سے بیس نکاتی '' نیشنل ایکشن پلان '' بھی ترتیب دیا گیا تھا ۔ اس کا مقصد انتہا پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے جہاں اور بہت سے امور پر توجہ دینی تھی وہیں ایک اہم نکتہ دینی مدارس میں اصلاحات کا بھی تھا ۔ کیونکہ ایک عمومی تصور ملک میں او رملک سے باہر یہ ابھر رہا تھا کہ ملک میں جو انتہا پسندی او را س کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی دہشت گردی ہے اس کا براہ راست تعلق دینی مدارس اور اس سے جڑے دینی طالب علموں سے ہے۔ 


مدارس میں اصلاحات لاتے وقت ہمیں دنیامیں مدارس میں ہونے والی اصلاحات کے تجربات سے بھی فائدہ اٹھانا چاہئے کہ وہاں کیسے عملاً اصلاحات کو فوقیت دی گئی او ران کا طریقہ کار کیا تھا ۔خود ہماری رسمی یونیورسٹیوں کو بھی دینی مدارس کی بہتر تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے کیونکہ دینی مدارس کی اصلاحات کا فائدہ عوام سمیت ریاست کے مفاد سے بھی جڑا ہوا ہے


دینی مدارس کا مقدمہ اس لئے بھی کمزور ہوا کہ ہمیں بیشتر انتہا پسندی اور دہشت گردی جیسے واقعات میں دینی مدارس کے طالب علموں کی ہی اکثریت نظر آئی جو ریاست کے لئے خود ایک بڑا چیلنج بن گیا ۔دینی مدارس میں ایسے مدارس بھی تھے جو وفاق المدارس کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں تھے اور وہ بغیر رجسٹریشن کے کام کررہے تھے جن کی نگرانی کا نظام اور زیادہ کمزور تھا یا ہے ۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی کو محض دین یا دینی مدارس تک محدور کرکے دیکھنے کی ضرورت نہیں۔کیونکہ انتہا پسندی سیاسی ، سماجی ، لسانی ، علاقائی نوعیت کی بھی ہے او را س کا نتیجہ بھی ہمیں مختلف طرز کی پرتشدد سیاست یا دہشت گردی کی صورت میں دیکھنے کو ملتا ہے کیونکہ انتہا پسندی او ردہشت گردی جیسے مسائل میں ایک فریق مذہبی فکر کو بنیاد بنا کر انتہا پسندی کو فروغ دیتا ہے ۔ 
ہمارے بہت سے مدارس کی بنیاد فرقوں کی بناء پر ہے ۔ہر فرقہ اپنی سیاسی ، مذہبی او راخلاقی برتری کو بنیاد بناکر دوسروں سے زیادہ فوقیت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ یہاں سے پڑھنے والے طالب علم دینی تعلیم کے بجائے فرقہ وارانہ بنیاد پر حاصل کردہ تعلیم سے جڑ جاتے ہیں اور اس کی بنیاد دوسرے فرقوں کی نہ صرف نفی ہے بلکہ وہ ان کے بارے میں مخالفانہ جذبات بھی رکھتا ہے اس کے نتیجے میں معاشرے میں ایک دوسرے کے فرقوں کے بارے میں تعصبات پیدا ہوتے ہیں ۔ فرقوں کی بنیاد پر دی جانے والی تعلیم کی بڑی خرابی  یہی ہوتی ہے کہ اس میں وہ خود کو بہتر مسلمان اور دوسروں کو کم تر مسلمان سمجھتے ہیں یا ان کو مسلمان ماننے سے بھی انکار کردیتے ہیں ۔ پاکستان نے عملی طور پر فرقہ وارانہ مسائل کی نہ صرف سنگینی دیکھی ہے بلکہ اس نے عملی طور پر ریاستی رٹ کو ہی چیلنج کردیا تھاجو ہماری قومی ساکھ کو بھی خراب کرنے کا سبب بنا ۔
یہی وجہ ہے کہ ریاست کو نیشنل ایکشن پلان کے ساتھ ساتھ قومی سطح پر تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام کی مدد سے '' پیغام پاکستان'' جیسی اہم دستاویز کی تشکیل نو کرنی پڑی او رتمام علمائے کرام نے اس اہم دستاویز پر دستخط کرکے قومی اتفاق رائے پیدا کیا۔ اس دستاویز کا مقصد او راس میں طے کردہ نکات میں تمام مکاتب فکر کے درمیان باہمی ہم آہنگی او رمتنازعہ مسائل سے ہٹ کر قوم کو دینی تعلیم کے نام پر تقسیم کرنے کے بجائے ایک کرنا مقصود ہے ۔یہ دونوں اہم دستاویز نیشنل ایکشن پلان اور پیغام پاکستان کو یقینی طور پر دینی مدارس کی تعلیم ، نصاب ، استاد اور طالب علم سے جوڑ کر آگے بڑھانا ہوگا ۔یہ نیا بیانیہ معاشرے میں مذہبی افراد کے درمیان قبولیت کو پیدا کرے گا اور لوگوں کو فرقوں کی بنیاد پر خود کو تقسیم کرنے کے رجحان کو کم کرے گا ۔
 ایک اہم پیش رفت دینی مدارس کی نگرانی کا نظام ہے ۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ دینی مدارس سے جڑے اداروں یا سکولز کو وفاقی اور صوبائی تعلیمی اداروں کے ماتحت اور دینی یونیورسٹیوں کو ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ماتحت کیا جائے گا۔ یہ اچھی کوشش ہے کیونکہ اس طرح دینی عمل سے جڑے مدارس دینی اداروں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ریاستی و حکومتی اداروں کی تحویل میں کام کریں گے او ران کی نگرانی کا نظام مؤثر بھی ہو گااو رشفاف بھی ۔ کیونکہ وفاقی اداروں کی دینی مدارس کے نصاب ، استادوں کی تربیت، استادوں کے چناؤ کا طریقہ کار ، دینی تعلیم کے ساتھ جدید تعلیم سے آگاہی اور طریقہ کار جیسے امور پر  گرفت زیادہ مضبوط ہوگی ۔ایک جیسا نصاب دینی مدارس کی تعلیم سے جوڑنا ہوگا او رنفرت انگیز موادپر مبنی تعلیم اور دوسروںپرکفر یا کسی کے ایمان یا عقیدے کو چیلنج کرنے کے عمل کو روکنا ہوگا۔
ہمیں رسمی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی مدارس سے بھی انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف بیانیے کی جنگ لڑنی ہے ۔ اس جنگ میں اب دینی مدارس کی ذمہ داری ہے کہ وہ روائتی طورطریقوں سے باہر نکلیں او رایک ایسے متبادل بیانیے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں جو ہمیں قومی سطح پر انتہا پسندی اور دہشت گردی سے باہر نکالنے میں مدد فراہم کرے کیونکہ فکری جنگ کی لڑائی علمی اور فکری بنیادوں پر ہی لڑی جائے گی او ر اس میں دینی مدارس کا اہم کردار بنتاہے۔ اس کے لئے مسئلہ دینی مدارس سے الجھاؤ یا ٹکراؤ کا نہیں ہے او راگر ہمیں مدارس کی سطح پر عملی طو ر پر اصلاحات کو لانا ہے تو اس کی بنیاد مشاورت او راتفاق رائے سے جڑنی چاہئے ۔یہ دینی مدارس ہی ہیں جنہیں دو محاذوں پر جنگ لڑنی ہے جن میں داخلی او رخارجی دونوں محاذ ہیں اور ان کو خود آگے بڑھ کر اس تاثر کی نفی کرنی ہے یا اسے ختم کرنا ہے کہ دینی مدارس انتہا پسندی کو پیدا کرنے کے ذمہ دار ہیں۔
مدارس میں اصلاحات لاتے وقت ہمیں دنیامیں مدارس میں ہونے والی اصلاحات کے تجربات سے بھی فائدہ اٹھانا چاہئے کہ وہاں کیسے عملاً اصلاحات کو فوقیت دی گئی او ران کا طریقہ کار کیا تھا ۔خود ہماری رسمی یونیورسٹیوں کو بھی دینی مدارس کی بہتر تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے کیونکہ دینی مدارس کی اصلاحات کا فائدہ عوام سمیت ریاست کے مفاد سے بھی جڑا ہوا ہے ۔پارلیمنٹ اور سیاسی قیادت سمیت اہل دانش کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ مدارس کی سطح پر تعلیمی و دیگر اصلاحات کے حوالے سے اپنا کردار ادا کریں او ریہ کام سیاسی تنہائی میں نہیں ہونا چاہئے بلکہ سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ہمیں مدارس کے طالب علموں کو قومی ترقی کے ماڈل سے جوڑنا ہے او ریہ سمجھنا کہ محض دینی مدارس سے تعلیم حاصل کرنے والے افراد کا مستقبل دینی مدارس یا مساجد سے جڑا ہے درست حکمت عملی نہیں ۔ 
مدارس کی سطح پر اب تک جو بھی اصلاحات کا عمل ہوا ہے اس کو جوڑ کر ایک مؤثر او رمضبوط حکمت عملی مشاورت کی بنیاد پر اختیا ر کرنے کی عملًا ضرورت ہے۔ ہمیں دینی مدارس کو بوجھ سمجھنے کے بجائے ان سے قومی بیانیے کی تشکیل میں فائدہ اٹھانا چاہئے ۔کیونکہ مدارس کی تعلیمی اصلاحات سے ہم اپنے ان مدارس کے بارے میں موجود منفی مہم کو بھی ختم کرسکتے ہیں اور ان مدارس سے امن ، رواداری ، برداشت ، ہم آہنگی ، ترقی اور خوشحالی کے ایجنڈے کو جوڑ کر ایک مہذب معاشرے کی طرف پیش قدمی کرسکتے ہیں ۔لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ ہماری حکومتیں ، سیاسی قیادتیں او راہل دانش سمیت دینی تعلیم سے جڑے افراد سب اپنی اپنی ترجیحات میں مدارس کی اصلاحات کو قبول کریں یہ عمل کسی کے دباؤ کی وجہ سے نہیں ہونا چاہئے بلکہ یہ ہماری قومی ضرورت ہے او ران اصلاحات کو اسی تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ 


مضمون نگار ملک کے معروف تجزیہ نگار اور کالم نگار ہیں اور دہشت گردی ، جمہوریت سمیت پانچ اہم کتابوں کے مصنف اور کئی اہم تھنک ٹینکس کے رکن ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 261مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP