اداریہ

مثبت طرزِعمل

وطنِ عزیز پاکستان نے جنوبی ایشیاء خطے میں بالخصوص اور بین الاقوامی سطح پر بالعموم قیامِ امن کے لئے ہمیشہ عملی اقدامات  اُٹھائے ہیں۔ علاقائی امن کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ افواجِ پاکستان کے دستے اقوامِ متحدہ کے پرچم تلے مختلف ممالک میں تعینات امن دستوں کا حصہ ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی جانب سے متعدد بار پاکستانی امن دستوں کی خدمات کو سراہا گیا ہے جو یقینا پاکستان اور اُس کے عوام کے لئے فخر کا باعث ہے۔ نائن الیون کے بعد جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز ہوا تو ریاست پاکستان نے اپنی مغربی سرحد کی جانب موجود شدت پسندوں کا قلع قمع کرنے کا فیصلہ کیا جس میں ریاستِ پاکستان اور افواجِ پاکستان الحمدﷲ کامیابی سے ہمکنار ہوئیں اور آج قبائلی علاقہ جات صوبہ خیبر پختونخوا کے اضلا ع کے طور پر ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہیں۔ پڑوسی ملک افغانستان کے حوالے سے بھی پاکستان کاہمیشہ سے ایک ہی مؤقف رہا ہے کہ افغانستان میں قیامِ امن کے لئے پاکستان ہر ممکن اقدام اُٹھائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کا امن افغانستان میں قیامِ امن کے ساتھ مشروط ہے۔
یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران پڑوسی ملک بھارت نے موقع غنیمت جانتے ہوئے افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف منفی سرگرمیوں کے لئے استعمال کیا۔ بھارت نے افغانستان میں متعدد قونصل خانے کھول لئے جن کاکام شدت پسندی اور دہشت گردی کو فروغ دے کرپاکستان دشمن عناصر کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنا تھا۔ بھارت نے ترقیاتی کاموں کی آڑ میں بھی وہاں کے شہریوں کے ذہنوں میں پاکستان مخالف جذبات پیدا کرنے میں کردار ادا کیا اور پاکستان کو ایک دشمن ملک کے طور پر پیش کیا۔ 
ان تمام چیلنجز کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن کے فروغ کے لئے کام کیا۔ پاک افغان بارڈر کو باڑ لگا کرمحفوظ بنانے کے پیچھے بھی پاکستان کا یہی مؤقف تھا اور ہے کہ اس طرح دونوں اطراف سے مداخلت اور منفی سرگرمیوں کو روکا جاسکتا ہے اور اس امر کو یقینی بنایا جاسکتا ہے کہ دونوں ممالک کے شہری ویزے ، پاسپورٹ اور دیگر ضروری سفری دستاویزات کے ہمراہ سفر کو یقینی بنائیں۔افغانستان سے امریکی اور اتحادی افواج کے انخلاء اور طالبان کے کنٹرول حاصل کرنے کے بعد خطے میں درپیش چیلنجز کے پیش نظر پاکستان آج بھی اُسی مؤقف پر قائم ہے کہ افغانستان میں قیامِ امن اور عوام کی معاشی ترقی اور خوشحالی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ خطہ کسی غیر یقینی صورت حال سے دو چار نہ ہو۔ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ ہمیشہ مثبت طرزِ عمل اپنانے اور تعلقات کو مضبوط بنانے پر زور دیا ہے اور اس کے ساتھ تجارتی، سفارتی اور عوامی میل جول کو ترویج دے کر خطے کے امن اور خوشحالی میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان مستقبل میں بھی ہر اُس اقدام اور پالیسی پر کاربند رہے گا جس سے پڑوسی ملک افغانستان میں دیرپا امن قائم ہو اور ترقی کا دوردورہ ہو کہ خطے کی خوشحالی کا راز اسی میں پنہاں ہے۔
 

یہ تحریر 102مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP