ہمارے غازی وشہداء

ماں کی یادوں کا تابندہ ستارہ

میجر ڈاکٹر اشرف شریف شہید کی والدہ محترمہ رفعت آرا علوی سے اُن کے بیٹے کے حوالے سے گفتگو

زندگی اﷲ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک خوبصورت نعمت ہے۔ اس نعمت کا شکر یہی ہے کہ اسے بھرپور طریقے سے اپنے لئے اور دوسروں کے لئے گزارا جائے۔ اپنی زندگی کو کسی مقصد کے لئے وقف کردینا اعلیٰ ترین وصف ہے اور اگر یہ مقصد وطن اور وطن کے لوگوں کی خاطر کچھ کرگزرنا ہو تو یہ مقصد اس زندگی کو چار چاند لگادیتا ہے۔ زندگی سے بھرپور ایسی ہی ایک کہانی میجر ڈاکٹر اشرف شریف شہید کی ہے ۔ ڈاکٹری کا پیشہ تو ویسے بھی ایک عبادت کا درجہ رکھتا ہے اور پھر ڈاکٹر بن کر فوج جیسے ادارے میںشامل ہونا دہری ذمہ داری بن جاتا ہے۔ یعنی نہ صرف عام لوگوں کی مسیحائی کرنا بلکہ ملک کی خاطر زندگی واردینے کا جذبہ رکھنے والوں کی دیکھ بھال کرنا عبادت کے ساتھ ساتھ ملک کی خاطر کچھ کرنے کا جذبہ بھی ہے۔ 



میں جب میجر ڈاکٹر اشرف شہید کی والدہ سے ملنے گئی تو انہیں دیکھتے ہی مجھے احساس ہوا کہ اتنے اچھے اور قابل ڈاکٹر کی والدہ یہی ہو سکتی ہیں۔ ہنس مکھ سی رفعت آراء علوی صبر و ہمت اور حوصلے کا پیکر بنی ہوئی تھیں۔ ان سے مل کر لگا کہ شہید کی ماں بننا بھی کسی عام خاتون کے بس کی بات نہیں بلکہ اس کے لئے بھی اﷲ تعالیٰ اپنے خاص لوگوں کو ہی چنتا ہے۔جوان بیٹوں کی لاشیں اٹھانا مشکل کام ہے لیکن ملک کے لئے جو جان دیتے ہیں ان کے والدین کو اﷲ تعالیٰ کی ذات صبر بھی عطا کرتی ہے۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کے حوصلے اور صبرآزمائے جاتے ہیں اور وہ ان آزمائشوں پر پورا اُترتے ہیں۔ اپنے بیٹے کی چھوٹی چھوٹی باتیں بتاتے ہوئے وہ ایسے لگ رہی تھیں جیسے ابھی بھی وہ اُنہی لمحوں میںجی رہی ہیں اور ہم بھی ان کی یادوں کا حصہ بن رہے تھے۔ میجر ڈاکٹر اشرف بچپن میںماں کی محبت کا محور اور جوانی میں دل کی راحت تھے تو شہادت کے بعد باعثِ صدافتخار بنے۔ انہوںنے اپنے  بیٹے میجر ڈاکٹر اشرف کی باتوں کا آغاز ان کے بچپن سے کیاکہنے لگیں بچپن میں بہت شرارتی تھا اورکبھی غصے میں بھی آجاتا تھا، ایک بار غصے میں کھانے کی میز سے برتن بھی گرا دیئے تھے۔ ہاں سکول سے کبھی کوئی شکایت نہیں ملی۔ پڑھائی میں شروع سے ہی بہت اچھا تھا لیکن پڑھائی کو وقت کم دیتا تھا پھر بھی میٹرک بورڈ میں 80فیصد مارکس لئے تھے۔ میں کہتی تھی کہ اگر یہ پڑھائی کو تھوڑا زیادہ وقت دیتاتو کوئی ریکارڈ بنا سکتا تھا۔ لیکن وہ کھیلوں کا شوقین بھی تھا۔نیشنل گیمز میں بھی حصہ لیا ۔ ایک بار سلور میڈل بھی جیت کرلایا۔ اس کے ساتھ ساتھ آرٹ کا بھی شوق رکھتا تھا۔ گھر میں ڈیکوریشن کی جو چیزیں ہیں ان میں زیدہ تر اسی کی بنائی ہوئی ہیں۔پڑھائی ، کھیل کود اور آرٹ سب کو ساتھ لے کر چلتا۔اس میں آرمی ٹریننگ کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔ اس ٹریننگ نے ہی اسے اس قابل بنایا تھا کہ وہ یہ سب اچھے طریقے سے مینج کرلیتا تھا۔
 اُس کی صحت کا خیال رکھنا بھی میراپسندیدہ کام تھا۔ جوس ، دودھ ، انڈے یہ سب وقت پر دینا، اکثر اشرف کہتا کہ انڈا میں گاڑی میں کھائوں گا اور پھر ہوتا یہ کہ جب میں گاڑی کی صفائی کرواتی تو وہاں سے وہی اُبلے ہوئے انڈے مجھے ملتے۔ پھر میںنے اپنے سامنے کھلانے شروع کردیئے۔ جب نوکری شروع کی تو اکثر 24 گھنٹے کی ڈیوٹی ہوتی۔ وہاں بھی کھانے پینے کا ہوش نہیں رہتا تھا۔ اپنے کیریئر میں ایسے ایسے کارنامے سرانجام دیئے کہ انسان صرف سوچ ہی سکتا ہے۔ اس کے ان کاموں کی مجھے بہت خوشی ہوتی۔ زندگی دینے والی ذات اﷲ کی ہے لیکن موت کے منہ میں جانے والے لوگوں کو زندگی کی طرف لانے کی جدوجہد جب کامیاب ہوجائے تو اس خوشی کا کوئی مقابلہ نہیں۔ مجھے لگتا تھا جیسے یہ سب میںنے خود کیا ہو۔ 
پہلے اس کا ارادہ انجینئرنگ کی طرف جانے کا تھا لیکن پھر اچانک اس کا ارادہ میڈیکل کا ہوگیا۔اس کے لئے اس نے ایکسٹرا بائیو کا پیپر دیا۔ میڈیکل میں جانے کا شوق بس اچانک ہی پیدا ہوگیا تھا۔ پہلے انجینئرنگ  یونیورسٹی میں ایک سال لگایا بھی لیکن پھر کہنے لگا میںنے میڈیکل پڑھنا ہے اس کے لئے اس نے بائیو میٹرک کا ایک پیپر بھی دیا۔ اس ایک پیپر کے لئے بہت محنت کی اور صرف ایک ماہ میں اکیڈمی سے تیاری کرکے پیپر دیا۔ صبح 5 سے 7بجے کلاس لیتا اور شام میں بھی 3 سے 5 بجے کی کلاس ہوتی۔ صبح شام میں ہی چھوڑنے جاتی، گاڑی خود ڈرائیو کرتی جب اس نے خود ڈرائیونگ سیکھی تو مجھے کچھ آرام ملا۔ ہم گاڑی ڈرائیوکرتے ہوئے بہت انجوائے کرتے تھے۔ آتے جاتے دوسری گاڑیوں کے ساتھ ریس لگاتے اور خوش ہوتے۔ اپنے اور اس کے درمیان دوستی کے بارے میں کہنے لگیں ہم دونوں کابہت اچھاتعلق تھاوہ بہت زیادہ کیرنگ تھا۔ چھٹیاں ہوتی تھیں تو اتنا اتنا ٹائم لُڈو کھیلنے میں گزر جاتا۔ میں خود ان بچوں کے ساتھ کرکٹ کھیلتی۔ گھر میں دوستوں کو بلاتا میں ان سب کے لئے کھانا بناتی ان سے گپ شپ کرتی۔ مطلب یہ کہ ان کی ہر ایکٹیوٹی میں ان کا ساتھ دیتی تاکہ میری اپنے بچوں کے ساتھ دوستی رہے۔ 
میرے تینوں بچے لکھنے کے شوقین تھے۔ بڑے بیٹے نے اسی فیلڈ میں نام کمایا لیکن اشرف نے میڈیکل کے ساتھ لکھنے کا شوق بھی پورا کیا۔ جب وہ سوڈان میں تھا تو وہاں میڈیکل سے متعلق ایک میگزین نکلتا تھا جس کا زیادہ کام وہی کرتا تھا۔


شہید کی ماں بننا بھی کسی عام خاتون کے بس کی بات نہیں بلکہ اس کے لئے بھی اﷲ تعالیٰ اپنے خاص لوگوں کو ہی چنتا ہے۔جوان بیٹوں کی لاشیں اٹھانا مشکل کام ہے لیکن ملک کے لئے جو جان دیتے ہیں ان کے والدین کو اﷲ تعالیٰ کی ذات صبر بھی عطا کرتی ہے۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کے حوصلے اور صبرآزمائے جاتے ہیں اور وہ ان آزمائشوں پر پورا اُترتے ہیں۔


جب پری میڈیکل کا رزلٹ آیا تو86  فیصد نمبر لئے۔ میرٹ پر راولپنڈی میڈیکل کالج(RMC) میں نام آگیا تھا۔ لیکن اسی دورانآرمی میڈیکل کالج(AMC) میں ایڈمیشن کھل گئے تووہاں بھی اپلائی کیا اور وہاں بھی سلیکشن ہوگئی۔ ہم نے یہی فیصلہ کیا کہAMC میں ہی جانا چاہئے کیونکہ مجھے لگتا تھا کہ RMC میں سیاست بہت زیادہ ہے اور پھر اشرف AMC میں بہت خوش رہا۔ پڑھائی کے ساتھ ساتھ سپورٹس میں بھی بہت ایکٹو تھا۔ پڑھائی میںمَیں گائیڈ کرتی تھی کیونکہ میری تعلیم بھی سائنس مضامین میں تھی، اس لئے اشرف کو باقاعدہ  ٹائم دیتی اور پڑھائی میں اس کی مدد کرتی۔  میرے والد بھی میرے بچوں کی پڑھائی میں بہت دلچسپی لیتے اور انہیں گائیڈ کرتے۔ ان کا بھی بہت بڑا کردار ہے ان بچوں کی تعلیم  و تربیت میں ۔ اشرف کا بہن بھائی کے ساتھ تو دوستانہ تعلق تھا ہی اس کے ساتھ ساتھ اپنی خالائوں  کے ساتھ بھی بہت محبت اور دوستی کا تعلق تھا۔ ان کے ساتھ بہت شرارتیں کرتا تھے۔ اپنے زیادہ تر راز اپنے بڑے بھائی اور نانا کے ساتھ شیئر کرتے تھا۔
زندگی سے بھرپور اتنا تھا کہ ہر پکنک کا پلان اس نے ہی بناناہوتا تھا۔ ہر چھٹی کے دن سب کو لے کر باہر نکل جانا اور گھومنا پھرنا، کھانا پینا ہی اس کے مشغلے ہوتے۔ 
فوج میں جانے کے بعد سب سے پہلی پوسٹنگ آزاد کشمیر(کریلہ سیکٹر) میں ہوئی جو کہ بہت حساس علاقہ ہے۔ وہاں پرا کثرلوگ اسے کہتے تھے کہ آپ کا یہاں آنا اتنا مبارک ثابت ہوا ہے کہ جب سے آپ آئے ہیں یہاں فائرنگ رُکی ہوئی ہے۔ وہاں کے رہنے والے اسے بہت پسند کر تے تھے، اسے بے تحاشہ تحائف دیتے۔ ان میں سے بہت سے تحفے ابھی تک میںنے سنبھال کررکھے ہوئے ہیں۔ بہت سے اشعار لوگوںنے اس کے لئے لکھے۔ اصل میں یہ لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے بہت کام کرتا تھا۔ ان کی مدد کرنے کے لئے ہر مشکل برداشت کرتا تھا۔ اپنی تنخواہ کا بڑا حصہ وہاں کے لوگوں کی مدد میں خرچ کردیتا تھا۔ اسی لئے سب اس کے لئے بہت دعائیں کرتے ہیں۔
جب سیاچن گیاتو وہاں اسے میجر کے رینک لگے۔ اشرف کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ وہ ہمیشہ  اپنے بارے میں مجھے آگاہ رکھتا تھا۔ باقاعدگی کے ساتھ فون کرتا۔ سیاچن کے بعد بہاولنگر گئے پھر سوڈان بھی گئے۔ سوڈان میں تقریباً ایک سال رہے۔10 مارچ2010 میں سوڈان سے واپس آیا اور ایک سال بعد ہی اس کی شہادت ہوگئی۔ سوڈان میں تھا تو مدرز ڈے پر پہلی بار مجھے میسج کیا کہ You are a wonderful mother and  I am blessed to have you.  میں ان کے اس میسج پر بہت حیران ہوئی کیونکہ اشرف ایسی باتوں میںبالکل بھی Expressive نہیں تھا۔ میرے لئے یہ بات نئی تھی۔ 



اشرف کے Discipline کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہنے لگیں میںزیادہ تر اپنے بچوں کے کام خود ہی کرتی تھی اور ہر چیز انہیں وقت پر ملتی تھی۔ انہیں کبھی بھی سکول ، کالج یا نوکری سے لیٹ نہیں ہونے دیا۔ ہمیشہ ان کا ناشتہ خود بنایا۔ اُن کے والد زیادہ وقت اپنی جاب میںمصروف رہتے۔ ان کے سارے کام میں ہی کرتی تھی۔چاہے وہ گھرکے اندر ہوںیا باہر ۔ میرا بڑا بیٹا بہت سوشل ہے اس کے بہت سے دوست ہیں لیکن اشرف اپنے دوستوں کے معاملے میں بہت سلیکٹو تھا۔ میں چاہتی تھی کہ جتنے مرضی دوست ہوں لیکن گھرکے اندرہونے چاہئیں۔ گھر سے زیادہ دیر باہر میں اپنے بچوں کو نہیں رہنے دیتی تھی۔ اشرف کے آرمی یونیفارم کو بہت محبت سے تیار کرتی تھی۔ میری زندگی بھی اپنے ان بچوں کے ساتھ بہت مصروف گزرتی تھی۔ کسی اور مشعلے کا وقت ہی نہیں ملتا تھا اور اب ایسا لگتا ہے کہ کوئی کام ہی نہیں۔ اشرف کے کمرے میں جب بھی جاتی ہوں تو اس کی خوشبو ہر طرف سے آرہی ہوتی ہے۔اس ظاہری دنیا سے تو وہ چلا گیا اور اس کی کمی بھی محسوس ہوتی ہے لیکن شہید زندہ ہوتے ہیں اس کا احساس اس کی خوشبو کی موجودگی سے ہوتا ہے۔ میجر ڈاکٹر اشرف کی والدہ بتا رہی تھیں کہ پہلے اشرف کے والد کی موت کی اطلاع ملی اور پھر کچھ دیر بعدہی اشرف کی۔یہ سب میرے لئے اتنا بڑا صدمہ تھا کہ میرے حواس میرا ساتھ چھوڑ گئے اور پھر اس کے بعد مجھے بالکل یاد نہیں کہ گھر میںکیا کیا ہوتارہا۔کب ان دونوں باپ بیٹے کی تدفین ہوئی کچھ پتہ نہیں لیکن پھر آہستہ آہستہ سب کچھ یاد آنا شروع ہوگیا۔ ۔۔۔ مسز رفعت آرا علوی یہ باتیں بتا رہی تھیں اور میں سوچ رہی تھی کہ یہ اتنا ضبط کہاں سے لائی ہوں گی۔ شوہر کی موت کا غم برداشت کرنا اور ساتھ ہی جوان بیٹے کی لاش دیکھنا۔۔۔  یہ سچ ہے کہ اتنا حوصلہ اور ہمت کوئی عام انسان نہیں کرسکتا۔ ایک عام انسان کیسے برداشت کرسکتا ہے کہ زندگی سے بھرپور شوہر اور بیٹا مختصر وقت میں منوںمٹی تلے دفن ہوجائیں اور آپ پھر انہیں کبھی نہ دیکھ سکیں۔ اﷲ تعالیٰ انہیں صبر دے اور آنے والی زندگی میں خوشیاں نصیب کرے آمین!!

یہ تحریر 187مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP