ہمارے غازی وشہداء

ماں تجھے مبارک ہو

شہید کی شہادت وہ گواہی ہے جو آسمانوں پہ نور کی طرح چمکتی ہے، شہید ہونے والا کوئی معمولی انسان نہیں ہوتا کیونکہ شہادت صرف اس کانصیب ہوتی ہے جس سے اللہ اور اس کا محبوب راضی ہوتاہے۔

 

24

جنوری1991کامرہ میں پیدا ہونے والے جنید عرفان عباسی (شہید)  اپنے چھ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے، گھر کا چھوٹا بچہ گھر والوں کے لئے ایک کھلونا ہوتاہے۔ جنید(شہید) بھی سب کی ہتھیلی کا چھالہ تھے، توتلی زبان سے باتیں کرتے، ننھے ننھے قدم اٹھاتے، شرارتیں کرتے، لاڈ اٹھواتے، جنید(شہید) پی اے ایف سکول میں داخل ہوگئے، والد ایئرفورس میں تھے۔ انہوں نے اپنے ہر طرف جہازوں کو دیکھا مگر اندر ہی اندر توپوں بندوقوں اور جیپوں کا شوق پالتے رہے، وردی، ملی نغمے اور فوجی بوٹ کی دھمک، جنید(شہید) کو پرجوش کردیتی، وہ بچپن سے ہی شرمیلے اور خاموش طبع تھے۔ اپنی خواہش کا اظہار بہت کم کرتے، اس لئے ان کے اندر پلنے والی خواہش کا گھر میں کسی کو بھی پتہ نہ چلا،ان کی سب سے زیادہ دوستی اپنے بھائی مدثر اور بہن واسیہ سے تھی اور وہ ماں سے لاڈ پیار میں سب سے آگے تھے، جب کبھی ماں پر بہت پیار آتا تو ماں کی گود میں سر رکھ کے لیٹ جاتے اور کہتے ماں، ممتا کی خوشبو کتنی مسحورکن ہوتی ہے، ماں اپنے لخت جگر کا ماتھا چومتی اور کہتی، مجھے تو اپنے شہزادے جنید کی محبت کی خوشبو سب سے زیادہ پسند ہے۔

 

ماں کے ہاتھ کا کھانا دل پسند تھا جب بھی کہیں گھر آتے تو بلاوجہ ہی ماں کو آوازیں دینے لگتے ۔اگر ماں گھر پر نہ ہوتی تو خاموشی سے ایک طرف بیٹھ جاتے اور فون کرکے کہتے ماں مجھے نظر آتی رہا کریں آپ کے بغیر گھر میں روشنی نہیں ہوتی۔

جنید(شہید) کا والد سے بہت احترام کا رشتہ تھا، والد کہہ رہے تھے کہ جنید میرا قیمتی اثاثہ تھا، اس نے کبھی مجھ سے کچھ نہیں مانگا بلکہ میں زبردستی اس کو پیسے دیتا تو کہتا بابا میرے پاس تو پیسے ہیں مگر ساتھ ہی جلدی سے پرس میں ڈال لیتے اور کمرے سے نکل کے دوسرے بہن بھائیوں کو کہتے دیکھا میں آج بھی بابا کاوہی چھوٹا سا بچہ ہوں جس کو بابا آئس کریم والے کی آواز سن کے گود میں اٹھاتے اور آئس کریم دلانے چل پڑتے ہیں۔

جنید(شہید) کی ایک شرارت ایسی تھی جو سب کو ڈرا دیتی، وہ اچانک بیٹھے بیٹھے کمرے میں اندھیرا کردیتے اور ڈرانے والی آوازیں نکالتے یا چھپن چھپائی میں اچانک ایک طرف سے نکل کر چیخ مار دیتے تو سب ڈر جاتے ۔جس سے پتہ چلتاہے کہ ان  کے اندر ان کا بچپن اپنی تمام شرارتوں کے ساتھ زندہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ان کا اپنے بھائی عمران کے بچوں سے بے انتہا پیار تھا اور وہ ان کی شرارتوں کا اسی طرح حصہ بنتے جیسے ان کے ہم عمر ہوں۔

جنید(شہید) کو فوج میں جانے کا جنون تھا پہلی بار 

128Long Course

میں ان کی سلیکشن ہوگئی مگر میرٹ لسٹ میں نام نہیں آیا تو دل گرفتہ ہوگئے دوبارہ

Long Course129

کے لئے کوشش کی مگر کامیابی اس بار بھی نہ ملی، گھروالوں نے بہت سمجھایا کہ فوج کی ضد چھوڑ دو مگر جنید نے اللہ کے بھروسے پر130کے کورس کے لئے پھر سے قسمت کے سرکش گھوڑے پہ لگام

ڈالنے کی کوشش کی اور اس مرتبہ وہ کامیاب ہو گئے۔

جنید(شہید) سرپرائز دے کر لوگوں کو حیران کردینے میں بڑے ماہر تھے،

GHQ

سے لیٹر آیا تو اس وقت ان کے والدین چھت پہ بیٹھے تھے یہ دوڑتے ہوئے اور سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے اوپر پہنچے اور وارفتگی سے ماں سے لپٹ گئے ، جھوم رہے تھے، خوشی سے پھولے نہیں سمارہے تھے، کہنے لگے ایک خوشخبری ہے آج بابا کی وہ خواہش پوری ہوگئی کہ ان کا ایک بیٹا فوج میں ضرور جائے، لیٹر کو ہوا میں لہرانے لگے، خوشی سے ان کا پورا گھرانہ سرشار ہوگیا،

PMA

کی تربیت گاہ میں اپنی پلٹن میں ان کی کارکردگی بہت اچھی تھی، وہاں بھی ان کے اندر ایک شرارتی بچہ کلبلاتا رہا اکثر ایسا چٹکلہ چھوڑتے  کہ اس کے ساتھ ساتھ اس کے سینیئرز اوردیگر ساتھیوں کو بھی رگڑا لگتا تو بعد میں سب اس کو کہتے یار تیری وجہ سے…… ہم صرف تیری وجہ سے پھنستے ہیں۔ جنید (شہید) کہتے جب ہم یہاں سے جائیں گے تو ہمیں ہرمقام پہ ساتھ گزرا ہوا وقت یاد آئے گا اسی لئے تو اس کو خوشگوار بناتا ہوں۔ ویسے بھی سزا سے کیا ڈرنا برداشت ہی انسان کو سخت جان بناتی ہے۔

کمیشن ملنے کے بعد ژوب، چمالانگ، کوئٹہ، بہاولنگر سے ہوتے ہوئے2012میں شمالی وزیرستان میں تعینات ہوئے

 4NLI

جوایک جی دار یونٹ ہے کا حصہ بنے۔

جنید(شہید) یکم ستمبر کو چھٹی کاٹ کر گئے تھے انہوں نے بتایا تھاکہ حالات سخت تو ہیں مگر ہم بھی سخت جان ہیں بس آپ لوگ دعا کریں کہ ہمارا ملک دہشت گردی کی جنگ سے پاک ہوجائے اور اس میں آپ کے فرزند جنید عرفان عباسی کا کردار ایک مومن کا کردار ہو اور میں اقبال کا شاہین بنوں۔ میرے نام کے ساتھ ساتھ میرے کام اور قربانی سے میرے خاندان کا نام بھی روشن ہوا۔ جنید (شہید) وردی کو بہت اہمیت دیتے تھے اگر کہیں مٹی لگ جاتی تو فوراًہاتھ سے ہی صاف کردیتے، سپاہی پوچھتے کہ سر آپ یہ کیا کرتے ہیں تو وہ کہتے کہ میری وردی کو صرف میدان جہاد کی مٹی لگے گی کیونکہ یہ میرے لئے میری اور وطن کی توقیر ہے۔

دتہ خیل میں آپریشن چل رہا تھا دہشت گردوں سے علاقہ صاف کروانا تھا جنید(شہید)

ASO

کی ڈیوٹی کررہے تھے 

 29AK-Punjab

اور

 4NLI

کو یہ ذمہ داری سونپی گئی سب

 4NLI

کی سربراہی میں آگے بڑھے، ایک طرف سے میجر عمر آگے بڑھ رہے تھے دوسری طرف سے جنید(شہید) درمیان میں پہاڑی نالہ تھا ایک طرف میجر عمر نے ایک دہشت گرد کومارا تو باقی دوسری طرف بھاگ گئے جنید کو ہدایات ملیں کہ ان کو پکڑے، اس طرف جنگل اور

Thick Bushes

گنجلک جھاڑیاں تھیںوہاں چھ دہشت گرد چھپے ہوئے تھے جنید(شہید) نے ایک دہشت گرد کو نشانے پر لیا مگر وہ دہشت گرد ان گھنی جھاڑیوں میں یوں بیٹھا تھاکہ ایک دم سے نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ اس نے جنید(شہید) کا نشانہ لیا اور گولی جنید(شہید) کی شہہ رگ کاٹتی نکل گئی ان کے سپاہی نے آگے پیغام دیا کہ سر جنید شہید ہوگئے ہیں، میں زخمی ہوں مجھے اسلحہ پہنچائیں، ایک سپاہی نے کہاکہ ہم اپنے سرخیل وطن کا جسم مبارک دشمن کے ہاتھ نہیں لگنے دیں گے یہ کہہ کے وہ مردمجاہد جنید(شہید) کو اٹھانے کے لئے آگے بڑھا جب نزدیک گیا تو ایک طرف سے سنسناتی گولی آئی جس نے اسے بھی شہادت کا رتبہ عطا کردیا،  جذبہ شہادت مسلمانوں کا ایمان بن چکا ہے اس طرح کی بے شمار مثالیں ہمارے سامنے آئے روز آتی ہیں۔ وردی سے پیار کرنے والے جنید(شہید) نے تین وردیاں استعمال میں رکھی تھیں، دو وردیاں وہ روزمرہ استعمال میں لائے مگر ایک وردی نئی رہنے دی تھی ان کے

NCB

نے بتایا کہ اس دن انہوں نے کہاکہ میری نئی وردی تیار کردو

NCB

نے کہاکہ سر آج  تو کوئی

Visit

نہیں ہے آپریشن پہ جانا ہے تو جنید(شہید) کی آنکھیں چمکنے لگیں اور مسکرا کر کہنے لگے آج تو خاص

Visit

پر جارہا ہوں۔

 والد نے بتایاکہ جنید کی شہادت سے تین روز قبل میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے (مرحوم)بہنوئی میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ آپ کا بہت شکریہ۔ اس وقت مجھے اس شکریے کی سمجھ نہیں آئی لیکن جب میرے لخت جگر کی شہادت ہوئی تو سمجھ آگئی کہ انہوں نے جنید کو ان کے پاس بھیجنے کا شکریہ ادا کیا تھا۔ کچھ چیزیں زندگی میں فوراً سمجھ نہیں آتیں، واقعات خودبخود سمجھادیتے ہیں۔

شہادت والے دن جنید شہیدکے گھروالے شاپنگ کرنے گئے ہوئے تھے کیونکہ جنید کے بھائی اور بہن کی شادی اکتوبر میں تھی، بھائی کو کال آئی کہ جنیدشہید ہوگیاہے، حلق سے ایک چیخ نکلی اور آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے، والد بھی ساتھ تھے ان سے چھپانا بھی فوری طور پر پہ مقصود تھا ۔عمران ، جو جنیدشہید کے بڑے بھائی تھے، نے کہا ابا گھر چلتے ہیں کوئی کام پڑگیا ہے ادھر انہوں نے بہن کو فون کیا، جو شاپنگ کررہی تھیں، ان کو بتایاکہ ابو کی طبیعت خراب ہوگئی ہے فوراً گھر پہنچیں، یوں ہنستا مسکراتا نئے دنوں کے خواب آنکھوں میں جگمگاتا ہوا گھر سے نکلنے والا خاندان جب واپس لوٹا تو آہوں سسکیوں اور اشکوں کے سمندرمیں ڈوب گیا۔

تھوڑی دیر کے بعد یونٹ کے آفیسرز اور ان کی فیمیلیز آنے لگیں، ایک کہرام سا مچ گیا ، بریگیڈیئر کاشف اور دیگر افسران نے کہاکہ جنید(شہید) ہمارا دمکتا ستارہ تھا اس کے نام پر ہماری یونٹ ہمیشہ فخر کرے گی۔

جنید(شہید) کی نماز جنازہ پہلے دتہ خیل میں ادا ہوئی پھرمیران شاہ پھر پشاور اور23ستمبر کو پنڈی پہنچی تو قاسم

Base

میں آرمی چیف بھی پہنچ گئے۔ کورکمانڈرز کے علاوہ دیگر آفیسرز اس آپریشن کے 7شہداء تھے۔

جنید(شہید) کو مری، ان کے آبائی علاقے، میں دفنایا گیا۔ جنید(شہید) کی شہادت کے بعد ان کے

NCB

کی حالت بہت خراب ہوگئی جس کی بنا پر اسے ہاسپٹل ایڈمٹ ہونا پڑا ضمیر

NCB

کہتاہے کہ مجھے اپنے صاحب جیسا افسر نہیں مل سکتا۔

7

اکتوبر کوہونے والی بہن اور بھائی کی شادی اپنے مقررہ وقت پر سادگی کے ساتھ کر دی گئی کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ جنید تو اب ہرلمحہ ہمیں یاد آئے گاتو جس شادی کے کارڈ وہ مسرتوں کے ساتھ بانٹ کرگیاہے ہم وہ تاریخ تبدیل نہیں کریںگے، واسیہ کی رخصتی پر اس کی آنکھیں دروازے پہ مرکوز تھیں کہ شاید  آنکھ مچولی کھیلنے اور سرپرائز دینے والا اس کا پیارا بھائی جنید(شہید) ابھی اچانک سے آجائے گا اور بہن کا سر سینے سے لگاکر اسے دعائوں میں رخصت کرے گا۔

والدین جنید(شہید) کی خوشبو کے حصار سے نکل ہی نہیں پاتے کہ گھر کے درودیوار بھی تو شہید ہی کی خوشبو سے معطر ہیں اور رہیں گے۔


مضمون نگار ایک قومی اخبار میں کالم لکھتی ہیں اور متعدد کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 436مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP