متفرقات

ماٹی کا پُتلا

کسی کو بھی معلوم نہ تھا کہ شوکا کون ہے اور کہاں سے آیا ہے۔ گائوںکے سبھی بچے اور بوڑھے اس سے خاصے مانوس ہوچکے تھے۔ اس کے ہاتھ میں ایک ٹھیکری پکڑی ہوتی جس کو وہ کبھی زمین پر پھینکتا اور پھر اس کو اپنے پائوںکے ساتھ ٹھوکر مارتا ہوا بالکل ایسے کھیلنے لگتا جیسا کہ بچپن میں بچے شٹاپو کھیلا کرتے تھے ۔بس فرق صرف اتنا تھا کہ وہ گائوںکی کچی زمین پر آڑی ترچھی لکیریں نہیں کھینچا کرتا تھا بلکہ وہ ایک درخت کے نیچے بیٹھ جاتا اور آتے جاتے لوگوںکو غور سے دیکھتا رہتا، لوگ اس کی حالت پر ترس بھی کھاتے تھے اور اس کی گندی حالت پر اس سے دور بھی رہتے تھے لیکن وہ بچوں میں ایک مقبول شخصیت بن کر گائوں میں ابھر رہا تھا۔ اس کی عمر پینتیس چالیس کے لگ بھگ ہوگی، اس کے بال وقت سے پہلے ہی سفید ہو گئے تھے شائد کسی بیماری کی وجہ سے یا پھر بھوک اور افلاس نے اس پر اپنا پیرہن اس طرح اوڑھایاتھا کہ اس کو اپنے وجود کو سنوارنے اور سجانے کا وقت ہی نہ ملاتھا۔ وہ بہت کم بولتا تھا۔ اگر کوئی اس سے پوچھ لیتا کہ وہ کون ہے اور کہاں سے اس گائوں میں آیا ہے تو وہ خلائوں میںگھورنے لگتا اور قہقہہ لگا کر آگے بڑھ جاتا۔ گائوں کے لوگوں نے اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا تھا لیکن ایک گھر ایسا بھی تھا جو اس کو کھانا کھلانے کی ذمہ داری پوری کر رہا تھااور وہ گھرتھا خیردین کا جو کہ گائوں میں اچھا خاصا اثرو رسوخ رکھتا تھا او ر اس کی کئی بیگھہ زمین بھی تھی جس پر اس کے کئی مزارعے کام کرتے اور سبزیاں پھل اگانے میں مصروف رہتے تھے۔ خیر دین نے شوکے کو درخت کے نیچے بیٹھا دیکھ کر اس سے بات کرنے کی ٹھانی لیکن وہ کسی بھی نتیجے پر نہ پہنچ سکا تو وہ شوکے کا ہاتھ پکڑ کر گھر لے گیااور اس کو بہت بڑی حویلی کے وسیع لان میں ایک جھولے پر بٹھا دیا۔ شوکے کے لئے یہ ماحول بالکل نیا تھا۔ وہ ہونقوںکی طرح ڈرے سہمے اندازمیں اپنے ارد گرد کو دیکھ رہا تھا۔ اتنی بڑی حویلی بھی کسی کی ہو سکتی ہے یہ اس کے لئے ایک نئی بات تھی ، اس نے دور دیکھا۔ اس کو کچی جگہ نظر آ گئی اس نے بھاگ کر اس کچی جگہ پر ہاتھ میں پکڑی ہوئی مٹی کی سخت ٹھیکری سے اس پر شٹاپو کی لکیریں بنانا شروع کردیں ابھی وہ لکیریں بنا کر ٹھیکری کو شٹاپو کے پہلے خانے میں پھینک کر خود ہی تالیاں بجا رہا تھا کہ اس کو ایک گرج دار آواز نے اپنی جانب متوجہ کر لیا۔ وہ جیسے ہی آواز کی جانب گھوما تو اس کے اوسان خطا ہو گئے، وہ سامنے کھڑے چھ فٹ سے بھی اونچے جوان کو دیکھ کر سہم کر رہ گیا اس کی آنکھوں میں خوف کی جھلک واضح تھی، نو وارد اس کو خونخوار نظروں سے گھور رہا تھا ۔



'' اوئے کون ہو تم اور یہاں کیا کر رہے ہو ؟ ''یہ ایک ہی سوال تھا لیکن دو جواب طلب کرنے والا تلخ لہجہ شوکے کو مزید خوفزدہ کر گیا تھا۔ وہ کوئی بھی جواب دینے کے بجائے حویلی کی طرف دیکھنے لگا۔جہاں سے خیر دین ہاتھ میں روٹی کی ایک چنگیر پکڑے آ رہا تھا۔ شوکے کے چہرے پر اطمینان چھا گیا۔ '' میں نے پوچھا ہے کہ کون ہوتم اور میرے گھر میں کیا کر رہے ہو ؟ '' شوکے کے ذہن میں فوراََ یہ خیال آیا کہ اس پرغرانے والا یا تو اس گھر کا مالک ہے یا پھر خیر دین کا بیٹا یا کوئی بھائی ہے کیونکہ اس کی رعب دار شخصیت شوکے کو خوف زدہ کر رہی تھی ۔

'' یہ میرا دوست ہے کرامت علی ۔''خیر دین نے کہا تو کرامت علی پیچھے کی جانب گھوم گیا لیکن شوکے کے چہرے سے خوف اور ڈر دور بھاگ گیا تھا۔ ''آپ بھی کمال کرتے ہیں ابا جی .... یہ میری حویلی ہے کوئی یتیم خانہ نہیںکہ آپ ہر ایرے غیرے کو اٹھا کر لے آئیں اور ہمارے سروں پربٹھا دیں ۔ '' کرامت علی کا غصہ آخری حد کو چھورہا تھا لیکن خیر دین مسکر ا کر بولا ۔ '' یہ کوئی اَیرا غیرا نہیں ہے۔ یہ تو بے چارہ اللہ کا ولی لگتا ہے اس کو تو یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ کہاں سے آیا ہے اور کون ہے بس اپنا نام ہی بتا سکتا ہے ، '' خیر دین نے شوکے کے حق میںدلائل دیئے تو شوکا بھی اثبات میںسر ہلا کر رہ گیا اور کرامت علی کی طرف دیکھ کر اس کو ماتھے تک ہاتھ لے جاکر سلام کر دیا اور مسکرا کر بولا ''شوکا ....سلام۔'' کرامت علی غصہ میں پائوں زمین پر پٹختا ہواوہاں سے چلا گیا لیکن اس کا انداز بتا رہاتھا کہ وہ خیر دین کے اس فیصلے سے خوش نہیں ہے ۔اب تو شوکے کے وارے نیارے ہونے لگے تھے وہ سارا دن خیر دین کے گھر میں جو لان تھا اس میں گھومتا رہتا اور وہ کبھی کبھی سہمی ہوئی نظروں سے ارد گرد دیکھ کر زمین پر اس انداز میںبھی لیٹ جاتا کہ کچھ سننے کی کوشش کررہا ہواور کبھی کبھی وہ آسمان کی جانب منہ کرکے اس انداز میں اشارے کرنے لگتا کہ وہ آسمانو ں میںرب تعا لیٰ سے کوئی باتیں کررہا ہے ۔ گائوں کے لڑکے اس کے ساتھ خیر دین کی حویلی میں کھیلنے آجاتے تھے۔ وہ بھی کبھی کبھار حویلی سے باہر گائوں کی سرحد پر چلا جاتا اور دور دور تک ہاتھ کو آنکھوں پررکھ کر دیکھنے لگتا کہ کسی کو جاتے یا پھر آتے دیکھ رہاہو۔

ایک دن اس کی ملاقات کرامت علی سے ہو گئی۔ کرامت علی بڑی شاندار گاڑی میں شہر کی جانب سے آ رہا تھا اور شوکا اس کچی سڑی پر بھاگ رہا تھاجس پرکرامت علی کی گاڑی آ رہی تھی۔ شوکا اپنی ہی دھن میں بھاگا جا رہا تھا جب کہ کرامت علی نے گاڑی کے ہارن بجانا شروع کردیئے تا کہ شوکا ایک طرف ہوجائے اور اس کی گاڑی کو راستہ مل سکے لیکن چند منٹ ایسے ہی گزر گئے تو کرامت علی نے گاڑی سے منہ باہر نکال کر شوکے کو پکارنا شروع کر دیا۔ تین چار تیز آ وازوں کے بعد شوکے کی سماعت نے کام کیا تو اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور کرامت علی کو دیکھ کر کھسیانا سا ہو کر سڑک کے ایک طرف ہو گیا۔ کرامت علی نے گاڑی اس کے پاس روکی اور اس کو گا ڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کیا تو شوکا شادیِ مرگ کی کیفیت میں مبتلا ہو کر پہلے کرامت علی اور پھر قیمتی گاڑی کو دیکھتا ہوا اندر بیٹھ گیا لیکن اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے اندر بیٹھے ہوئے تین مردوں کو بھی دیکھا جو کہ غیر ملکی لگ رہے تھے وہ ان کو دیکھ کر سہم کر بیٹھ گیا ،

'' کرامت ! یہ کون ہے ؟ '' ان تینوں میں سے ایک نے زبان کھولی تو کرامت بیک مرر سے دیکھتا ہوا بولا ۔ '' یہ ابا جی کا دوست ہے اور ہماری حویلی کا بن بلایا مہمان ہے۔ ہمارے ساتھ ہی رہتا ہے ۔ اللہ لوگ ہے بے چارہ۔ ''

'' لیکن تم نے تو کہا تھا کہ تم اپنے ابا جی سے بہت تنگ ہو اور ان کو کسی اولڈ ہوم میں بھیج رہے ہو ؟'' ایک اور نے اپنی زبان سے زہر اگلاتو شوکے کو حیرت کا ایک اورجھٹکا لگا لیکن وہ کچھ بھی نہ کہہ سکا بس ان کی باتیں سننے لگا ۔

'' ہاں یار یہ ابا جی بھی نا .......... بس میری ناک کا بال بنتے جا رہے ہیں .... '' کرامت علی نے بے زاری سے جواب دیا، '' وہ تمہاری بھرجائی نہیں مان رہی اس کا کہنا ہے کہ گھر میں بزرگ ہوں تو برکت ہوتی ہے۔ ''

 ''لیکن تم تو اچھی طرح جانتے ہو کہ ہمارا کام کیسا ہے کہیں تمہارا بڈھا باپ کام بگاڑ ہی نہ دے ۔'' ایک کے لہجے میں جو زہر تھا وہ باہر نکلا اور وہ شوکے کی طرف دیکھتا ہوا پھر بولا ۔ '' اور یہ ۔۔۔۔ توتم نے وہ کام کیا کہ ایک تو کوڑھ اوپرسے کھُجلی ۔'' وہ کافی بے زار لگ رہاتھا ۔

کرامت علی نے شوکے کی طرف دیکھا جو اپنے ہاتھ میںپکڑی مٹی کی ٹھیکری کو دیکھنے میں محو تھا ۔ '' یہ تو بے ضر ر سا انسان ہے اس کو تو اپنا ہوش نہیںہے یہ تو ہر وقت شٹاپوکھیلتا رہتا ہے ۔ '' شوکا اپنی تعریف سن کر خوش ہوگیا اور تالیاں بجانے لگا تو گاڑی میں موجود سبھی لوگ قہقہہ لگا کر ہنسنے لگے ۔

اس رات عجیب ہی کام ہوا تھا، بارش زوروں پر تھی کرامت علی کے مہمان مرغ بٹیر کھانے میں مصروف تھے اور شوکا تیز بارش میں حویلی کے پچھلے حصے میں ایک مخصوص جگہ پر مصروف تھا ۔وہ ایک درخت کے نیچے چھپ کر کسی کو فون کرنے میں مصروف لگ رہا تھا۔ اس کی یہ حرکت خیر دین سے چھپی نہ رہ سکی لیکن وہ اس لئے نظر انداز کر گیا کہ نا جانے اب یہ کیا حرکتیں کر رہا ہے، مگر وہ شوکے کو دیکھتا رہا اسی اثنا میں شوکے کی نظر بھی خیر دین کی کھڑکی کی جانب اٹھ گئی تو اس نے مسکراتے ہوئے ہاتھ کے اشارے سے اس کو سلام کر دیا تو خیر دین بھی مسکر ا کر اس کو ہاتھ ہلا کر کھڑکی سے ہٹ گیا ۔ بمشکل تیس منٹ ہی گزرے ہونگے کہ اس حویلی کو چاروں جانب سے فوج نے گھیر لیا تھا اور شوکا ہاتھ میں مٹی کی ٹھیکری پکڑے ہوئے حیرت اور خوشی کی کیفیت میں مبتلا ہو کر پاک فوج کو دیکھ رہا تھا لیکن ابھی اس کی خوشی ادھوری ہی تھی کیونکہ کرامت علی کے ایک ساتھی نے فوجی گاڑیوں کو حویلی میں داخل ہوتے دیکھ کر شور مچا دیا ،

'' کرامت علی ! ہم گھیرے میں آ گئے ہیں ہمیں فوج نے گھیر لیا ہے کچھ کرو۔''یہ شور سن کر پوری حویلی میں بھگڈر مچ گئی تھی۔ کرامت علی اور اس کے ساتھیوںنے اپنی پوزیشنیںلے کر پاک فوج پر جدید اسلحے سے فائرنگ شروع کر دی تھی لیکن جوابی کارروائی میں ان کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنا پڑ گئی تھی کیونکہ ان کے پیچھے سے شوکا بھی ان پر فائرنگ کر رہا تھا۔ خیردین اور گھر کے دووسرے مکین چیخ پکار کرتے ہوئے محفوظ ٹھکانے پر چھپ گئے تھے۔ گھر کے مکینوں کو کچھ سمجھ نہ آ رہا تھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے اور کرامت علی اپنے دوستوں کے ساتھ فوج پرگولیاں کیوں برسا رہا ہے لیکن ان کی نسبت خیردین پر سکون تھا ۔

'' پیچھے فائر کرو پیچھے سے فائرنگ ہو رہی ہے ۔ '' یہ کرامت علی کے غیرملکی دوست کی آ واز تھی لیکن ایک گولی اس کو چاٹ گئی اور وہ ڈھیر ہوکر گر پڑا جب کہ شوکا فائرنگ کرتا ہوا حویلی کے سامنے والے لان میں آگیا تھا وہ پاک فوج کے شانہ بہ شانہ لڑ رہا تھا چند منٹ بعد ہی حویلی کے اندر سے مزاحمت ختم ہوگئی تو محتاط انداز میں آگے بڑھتے ہوئے شوکے نے ایک آفیسر کو سلیوٹ کیا۔

'' سر ۔۔۔۔ ! میجر شوکت علی آن ڈیوٹی ۔ '' آفیسر نے خوش ہو کر شوکت علی کو بھی سیلوٹ کیا لیکن وہ کرامت علی کو بھول گئے تھے کہ وہ ابھی زندہ ہے اور بزدلانہ کاروائی کر سکتا ہے اس کی گن سے نکلی ہوئی گولی شوکت علی کے سینے کو چیرتی ہوئی گوشت میں پیوست ہو گئی اور پھر دوسری تیسری گولی نے شوکت علی کو اس جگہ پر لٹا دیا جس جگہ اس نے شٹاپو کے لئے لکیریں کھینچی ہوئی تھیں۔ جوابی کارروائی میں کرامت علی کا جسم بھی گولیوں سے چھلنی ہو گیا۔ لیکن تلاشی لینے پرحویلی کے تہہ خانے سے ملک بھرکے اعلیٰ اداروںکے نقشے اور بہت سا غیر ملکی اسلحہ بھی برآمد ہو گیا تھا جس کی نشان دہی خیر دین نے کی تھی ۔

 شوکت علی کے پاس خیر دین اور فوج کے جوان کھڑے تھے جو اس کی شہادت پر اس کو سلام پیش کر رہے تھے کیونکہ وہ من کی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے کہ شوکت علی کو جنت کی حوروں نے اپنے حصار میں لے لیا ہے اور وہ چاندنی کے ہالے میںمسکراتا ہوا اپنے رب کے دربار میںعاجزی سے پیش ہو رہا ہے اور مٹی کی ٹھیکری اس کے ہاتھ میں ہی تھی جو یہ سبق دے رہی تھی کہ انسان کی اوقات بس مٹی ہے اور وہ ماٹی کا ایک پُتلا ہے لیکن شہادت کا رتبہ پانے والے جنت کے اعلیٰ ترین عہدوں پرفائز ہوتے ہیں ۔ ۔۔۔۔۔


 

سیلفی


اپنے  گھر کے  دروازے  پہ
خود ہی  دستک  میں  دیتا ہوں
اور  اپنی  دستک خود ہی سُن کر
کون ہے؟  اندر  سے کہتا ہوں
بند کواڑ  کی  جھری  میں  سے
خوف زدہ  باہر تکتا ہوں
باہر  تو  اک  چور کھڑا ہے
اندر  بھی  اک  چور  بڑا ہے
چور ہے  اندر  چور  ہے  باہر
چور چھپا  ہے  چور  ہے  ظاہر
دونوں چور ہیں خاصے تکڑے
چور کو  چور  اب کیسے پکڑے؟

 

فاروق قیصر


دسمبر سے دسمبر تک


اک لمبی مسافت ہے
کچھ ہچکیاں ،کچھ سسکیاں 
کچھ آنسو اور بے چینیاں
نگاہیں جو چوکھٹ سے 
پچھلے دسمبر میں لپٹی تھیں
ابھی تک وہ ساعت ساکن ہے
میرا بچہ ، میرا لال 
ابھی آتا ہی ہو گا
میں کھانا گرم کرتی ہوں 
آج تو وہ جاتے ہوئے فرمائش کر کے گیا تھا
آج تک دستر خوان میں ،
اسکا پسندیدہ کھانا رکھتی ہوں
اِسی آس پر کہ شاید یہ دسمبر
ان ترستی آنکھوں کو جب غور سے دیکھے
تو دھند میں لپٹے لمحوں کو
ذرا سی زندگی بخشے!
دسمبر کی یخ بستہ ہواؤں نے
میرے آنسوں کوخشک تو کر دیا
لیکن دسمبر سے دسمبر تک 
ایک ماں پہ کیا گزری 
دل یہ کہہ نہیں سکتا
دسمبر سہہ نہیں سکتا!!

 

(موناخان)

 

 

یہ تحریر 227مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP