نقطۂ نظر

ماضی کی آہنگ وباز گشت

16

دسمبر ذہن میں آتا ہے تو پاکستان ٹوٹنے کا زخم دُکھنے لگتا ہے۔ ذاتی غم اور صدمے برداشت کرنے اور چُھپانے کے لئے ہوتے ہیں جب کہ قومی المیے غوروفکر کرنے اور سبق سیکھنے کا سامان ہوتے ہیں۔''پاکستان کیوں ٹوٹا'' اس موضوع پہ میری کتاب ہے جس پر میں نے کئی برسوں تک محنت اور تحقیق کی۔ کالم یا مضمون محض ایک آدھ پہلو کا احاطہ ہی کرسکتا ہے۔1971میں قومی اسمبلی کے اجلاس کا التوا اگلی تاریخ دیئے بغیر ایسی غلطی تھی جس نے مشرقی پاکستان کے گلی کوچوں میں بغاوت کی آگ بھڑکا دی۔ کتابیں، شواہد اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ چند ہی دنوں میں ڈھاکہ اور دوسرے شہروں میں قتل و غارت کا ایسا میدان گرم ہوا کہ گلیوں اور بازاروں میں محب وطن پاکستانیوں کی لاشوں کے ڈھیر نظر آنے لگے اور انسان کی حیوانیت اپنے عروج پر پہنچ گئی تھی۔ اسمبلی کا التوا عوامی لیگ کے لئے مغربی پاکستانیوں اور بہاریوں کے قتلِ عام کا لائسنس تھا۔ بے شمار کتابیں اس بہیمانہ اور بے رحم قتل و غارت کا اس طرح ذکر کرتی ہیں کہ پڑھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ مغربی پاکستانیوں کے قتل و غارت کو روکنے اور بغاوت کے شعلوں پر قابو پانے کے لئے آرمی ایکشن کرنا پڑا۔ ایک غلط فیصلہ کئی غلط فیصلوں کا موجب بنتا ہے اور پھر حالات و معاملات پر قابو نہیں رہتا۔ اس تفصیل میں جانا نہیں چاہتا کہ یہ کتابوں کا موضوع ہے۔



آرمی ایکشن کا آغاز ہوا تو ذوالفقار علی بھٹو ڈھاکہ میں تھے۔ اُن کی کتاب گریٹ ٹریجڈی کے مطابق انہوں نے ڈھاکہ میں فائرنگ کی خوفناک آوازیں اور بلند ہوتے آگ کے شعلوں کے مناظر پرل کانٹی نینٹل کی کھڑکیوں سے دیکھے۔ بقول ولی خان، بھٹو اور یحیٰ خان میں سمجھوتہ ہو چکا تھا اور سب کچھ ان کی آشیر باد سے ہورہا تھا۔ چنانچہ بھٹو جب26 مارچ1971ء کو کراچی پہنچے تو انہوں نے ہوائی اڈے پر بیان دیا ''اﷲ کاشکر ہے پاکستان کو بچا لیا گیا ہے۔'' یحیٰ خان سے وفاداری کے تقاضے نبھاتے ہوئے انہوں نے کہا، ''یہ ہر محب ِ وطن پاکستانی کا فرض ہے کہ اگر وہ کسی کو یحیٰ حکومت پر تنقید کرتے دیکھے تو قریبی تھانے میں رپورٹ دے۔''(ہفت روزہ کرنٹ کراچی۔ بحوالہ  پاکستان ڈیوائیڈڈ مصنف ڈاکٹر صفدر محمودصفحہ 109)


ہندوستان نے بنگالیوں اور مکتی باہنی کی آڑ میں اپنے انتقام کی آگ ٹھنڈی کی ورنہ آرمی ایکشن سری لنکا میں بھی ہوتے رہے، ہندوستان میں بھی سکھوں کا قتل عام ہوا کیا وہ علاقے اپنے ملکوں سے الگ ہوئے؟ اسی لئے16 دسمبر1971ء کو اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ ہم نے ہندوستان ماتا کی تقسیم کا بدلہ لے لیا اور نظریۂ پاکستان کو خلیج بنگال میں ڈبودیا۔ بلاشبہ غلطیاں، زیادتیاں اور ناانصافیاں ہوئیں جن کا جتنا بھی ماتم کیا جائے کم ہے۔ اس طرح کی غلطیاں اور بے انصافیاں بہت سے ممالک میں ہو رہی ہیں لیکن ان کے استحکام پر زد نہیں پڑی۔ دراصل ہمارے اس سانحے کا ڈائریکٹر ہندوستان تھا اور یاد رکھئے اسے آئندہ بھی موقع ملا تو باز نہیں آئے گا۔


عمومی طور پر اقتدار پرست سیاستدان کس قدر شاطر اور مطلب پرست ہوتا ہے اس کا اندازہ سیاستدانوں کی سیاست دیکھ کر ہوتا ہے۔ بھٹو صاحب بھی ایک ذہین ، تیز طرار اور شاطر سیاستدان تھے اور اپنے مقاصد کی راہ تراشنے کا فن خوب جانتے تھے۔ ایوبی مارشل لاء سے تھوڑا قبل انہوں نے صدرِ پاکستان سکندر مرزا کو عظمت کے پہاڑ پر بٹھاتے ہوئے لکھا تھا کہ مؤرخ، پاکستان کی تاریخ لکھنے لگے گا تو آپ کو قائدِاعظم سے بھی بلند مرتبے پر فائز کرے گا۔ بھٹو انگلستان اور امریکہ سے تعلیم یافتہ تھے اور قانون کے ماہرہونے کے علاوہ تاریخ کا خوب ادراک رکھتے تھے۔ یہ تاریخ کا ادراک ہی تھا کہ انہوںنے ضیاء الحق سے معافی مانگنے کے بجائے پھانسی قبول کرلی تاکہ وہ تاریخ میں زندہ رہیں اور قبر سے ملک و قوم پر حکمرانی کرتے رہیں۔ ویسے اگر آپ اپنی حالیہ تاریخ پر نظر ڈالیں تو کوئی حیرت نہیں ہوگی کیونکہ کوئی لیڈر معافی مانگ کر بھی قومی ہیرو بن سکتا ہے اورکروڑوں ووٹ لے سکتا ہے۔ اسے آپ پاکستانی قوم کی فراخ دلی اور عفو و درگزر کی عادت کہہ لیجئے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کیا بھٹو کو علم نہیں تھا کہ مشرقی پاکستان میں آرمی ایکشن کا مطلب مشرقی پاکستان کی علیحدگی  اور پاکستان کا دولخت ہونا ہے؟ اسی لہر میں بہتے ہوئے یہ بھی پوچھنے کو جی چاہتا ہے کہ کیا بھٹو سچ مچ اس قدر معصوم، کم علم اور تاریخ سے نابلد تھا کہ اس نے سکندر مرزا جیسے بیورو کریٹ صدر اور سازشوں کی پیداوار شخصیت کو قائدِاعظم سے بھی بڑا لیڈر قرار دے دیا تھا؟ جی نہیں! بھٹو نہایت ذہین اور پڑھالکھا انسان تھا۔ وہ مطالعے کا رسیا اور حافظے کا ''حافظ'' تھا، وہ اپنی منزل کے حصول کے لئے راستے بنانا اور چٹانوں کو تراشنا جانتا تھا۔ یہی حربے استعمال کرتے ہوئے سکندر مرزا کی مرکزی کابینہ میں وزارت حاصل کرلی اور پھر ایوبی کابینہ میں بھی اپنی کرسی پر براجمان رہا۔ موقع ملا تو بھٹو نے ایوب خان کو ڈیڈی بنا لیا اور اس کے قریب ترین ٹھہرا۔ایوب خان کے فوجی عہدِ حکومت میں طویل عرصے تک وزارت کرنے کے بعد وہ یقینافوجی ذہن کو خوب سمجھتا تھا، اسے فوجی حکمرانوں کو شیشے میں اُتارنا آتا تھا، وہ فوجی حکمرانوں کی سطحیت اور سیاسی شعور کے ادراک کی سطح یا گہرائی سے خوب واقف تھا۔ چنانچہ 26 مارچ1971 کو یحیٰ خان سے وفاداری  اقتدار کے حصول کی منزل کی جانب ایک اہم قدم تھا ۔ کیونکہ بھٹو سمجھتا تھا کہ فوجی ایکشن کے بعد پاکستان متحدنہیں رہ سکے گا اور ''اُدھرتم اِدھر ہم'' کا خواب شرمندہ تعبیر ہو جائے گا۔ اب جب یحیٰ خان سیاسی طور پر بالکل تنہا ہو چکا تھا اور وہ مغربی اور مشرقی پاکستان کے سیاستدانوں کی حمایت سے محروم ہوچکا تھا۔ اُس کی قربت صرف حمایت اور وفاداری سے حاصل کی جاسکتی تھی، وہ جانتا تھا کہ یہی قربت اقتدار کا راستہ ہموار کرے گی۔ بھٹو چاہتا تو ضیاء الحق سے بھی معاملات طے کرسکتا تھا لیکن اگر آپ اس زمانے کی سیاست کا بغور مطالعہ کریں تو راز کھلتا ہے کہ اس سمجھوتے کی راہ میںبھٹو کا غرور اور اَنا رکاوٹ بنے ۔ وزارتِ عظمیٰ اور جیالوں کی جذباتی لگن نے بھٹو میں ہیروشپ کا احساس بیدار کردیا تھا اور ملکی و بین الاقوامی سطح پر کامیابیوں اور دراز سیاسی قد نے اُسے غرور میں مبتلا کردیا تھا۔ ضیاء الحق کو اس نے خود آرمی چیف بنایا تھا کیونکہ وہ ضیاء الحق کی وفاداری سے متاثر تھا۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ضیاء الحق بھٹو سے زیادہ شاطر تھا اور وہ اپنے مقصد کے حصول کے لئے بھٹو کو وفا داری کے فریب میں مبتلا کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ مگر جنرل چشتی کو یقین ہے کہ جنرل ضیاء الحق بھٹو کا ممنون تھا۔ وہ دشمن اُس دن بنا جس دن بھٹو نے رہائی کے بعد لاہور میں جلسے سے خطاب کے دوران یہ اعلان کیا کہ وہ دوبارہ اقتدار میں آکر جرنیلوں کو پھانسی چڑھائے گا۔ اس روز آرمی چیف اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیا ء الحق کور کمانڈر جنرل چشتی کے گھر میں تھا۔ بقول جنرل چشتی یہ بیان سنتے ہی اس کا رنگ بدل گیا اور رنگ کے ساتھ ارادے بھی بدل گئے۔ بقول جنرل چشتی ضیاء الحق  بار بار کہتارہا، ''ایسا نہیں ہوسکتا،ایسا نہیں ہوسکتا۔'' یہ فقرہ وہ اپنے آپ سے اور اپنے باطن سے کہہ رہاتھا اوریہ اس کی باطنی تبدیلی کا سب سے بڑا مظہر تھا۔ بھٹوغرور اور اعتماد کے نشے میں چُور یہ سمجھنے میں ناکام رہا کہ جرنیلوں کی پہلی وفاداری فوج سے ہوتی ہے نہ کہ حکمرانوں سے۔۔ تاریخ کی یہ سرگوشی سننے کے لائق ہے کہ جرنیل ہمیشہ سیاستدانوں سے تھوڑے بہت بدظن ضرور رہتے ہیں اور اُن پر کم کم ہی اعتماد کرتے ہیں میرے مطالعے اور مشاہدے کے مطابق اس صورت حال میں سیاستدانوں کا قصور زیادہ ہے۔


شیخ مجیب الرحمن جب1972 میں رہائی پاکر لندن پہنچا تو اس نے بی بی سی کو انٹرویو میں یہ تسلیم کیا کہ وہ عرصے سے بنگلہ دیش کے قیام کے لئے کام کررہا تھا۔16 نومبر2009ء کو بنگلہ دیش کی وزیرِاعظم، شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی، حسینہ واجد نے انکشاف کیا کہ وہ1969 میں لندن میں اپنے والد کے ساتھ تھی جہاں شیخ مجیب الرحمن نے ہندوستانی ایجنسی ''را'' کے افسران سے ملاقاتیں کیں اور بنگلہ دیش کے قیام کی حکمتِ عملی طے کی۔ حسینہ واجد کا بیان عینی شاہد کا بیان ہے۔ اس پر تبصرے کی ضرورت نہیں۔


آرمی ایکشن کے نتیجے میں مشرقی پاکستان میں مزید خون بہا کیونکہ جب بغاوت کے مراکز پر حملہ کیا گیا تو جنگ کا سماں پیدا ہوگیا۔ بے شمار بنگالی خاندان اور خاص طور پر نوجوان بارڈر کراس کرکے ہندوستان چلے گئے۔ ہندوستان اس صورت حال اور بغاوت کی پھیلتی آگ کو  نہ صرف بغور دیکھ رہا تھا بلکہ خفیہ مدد بھی کررہا تھا۔ اس کی تفصیل میری کتاب میں پڑھی جاسکتی ہے۔ ہندوستان نے پاکستان کی ''مشکل'' سے خوب فائدہ اٹھایا۔ ایک طرف بنگالی نوجوانوں کو مکتی باہنی کا نام دے کر فوجی تربیت دینی شروع کردی اور دوسری طرف اپنی ماہر پبلسٹی مشین سے دنیا بھر میں پاکستان آرمی کے مظالم اور قتل و غارت کو مبالغہ آمیز اندازمیں اس منظم طریقے سے پیش کیا کہ عالمی رائے عامہ پاکستان کے خلاف ہوگئی اور بنگلہ دیش کے قیام سے ہمدردی کا اظہار کرنے لگی۔ ہندوستانی پراپیگنڈے میں مغربی پاکستانی فوجیوں، افسروں اور دوسرے شہریوں کا بنگالیوں کے ہاتھوں قتل عام دب کر رہ گیا۔ چنانچہ سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد جب مجیب الرحمن رہا ہو کر ڈھاکہ پہنچا تو اُس نے سوچے سمجھے بغیر اعلان کیا کہ پاکستانی فوج نے 30 لاکھ (تھری ملین) بنگالیوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا۔ مجیب الرحمن کے جھوٹے دعوے اور ہندوستان کے زیرِ اثر عالمی پریس کے مبالغہ آمیز اعدادو شمار کا بھانڈا ایک ہندوبنگالی خاتون محقق نے اپنی کتاب

DEAD RECKONING

میں پھوڑا ہے اور تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ سب جھوٹ تھا  اور یہ کہ آرمی ایکشن میں زیادہ سے زیادہ ساڑھے چار ہزار بنگالی قتل ہوئے۔ یہ کتاب پڑھنے کے لائق ہے مگر افسوس ابھی تک اس کا اُردو ترجمہ نہیں ہوا کہ عوام تک پہنچ سکے۔

سوال یہ ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے المیے کا اصل ڈائریکٹر کون تھا اور کس نے پاکستان کو توڑا؟

سیاستدانوں اور حکمرانوں کی غلطیاں اپنی جگہ لیکن عملی طور پر یہ چوٹ کس نے لگائی؟ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کس کی سرپرستی، مدد اور مداخلت سے عمل میں آئی؟ اس کا ہرگز مطلب اپنی سیاسی غلطیوں، کوتاہیوں، مختلف حکومتوں، حکمرانوں اور فوج راج کے پیدا کردہ احساسِ محرومی پر پردہ ڈالنا نہیں کیونکہ وہ سب کچھ بہرحال تلخ حقیقتیں ہیں اور اُنہیں تسلیم کرنا پڑے گا۔ اسی سے دوسرا سوال جنم لیتا ہے کہ کیا اس قسم کی محرومیاں ، کوتاہیاں، غیردانشمندانہ پالیسیاں اور بے انصافیاں صرف پاکستان میں ہی روا رکھی گئیں؟ کیا صوبائی کشمکش، علاقائی آزادی کی تحریکیں اور نفرتیں صرف پاکستان کی سیاست کا ہی حصہ تھیں؟ نہیں ہرگز نہیں۔ اسی طرح کی صورت حال بہت سے نوآزاد یا ترقی پذیر ممالک کے علاوہ بعض ترقی یافتہ ممالک میں بھی موجود ہے۔ وہاں بھی وفاقی یا مرکزی حکومت پر بے انصافی کے الزامات لگتے رہتے ہیں، بہت سے نوآزاد ممالک میں صوبوں میں رسہ کشی اور نفرت بھی رنگ دکھاتی ہے، بعض اوقات حکمران اور حکومتیں غلط فیصلے بھی کرتی ہیں لیکن ان تمام عوامل کے باوجود وہ ممالک اندرونی طور پر تقسیم ہونے کے باوجود ٹوٹتے نہیں۔ان کے کچھ علاقے، صوبے آزادی کا نعرہ بھی لگاتے ہیں، علیحدگی کا مطالبہ بھی کرتے ہیں جیسا کہ خود ہندوستان میں کوئی درجن بھرعلیحدگی کی تحریکیں جاری ہیں لیکن کبھی یہ نہیں ہوا کہ کسی علاقے کو فوجی قوت کی بنا ء پر الگ ہونے کی جازت دی جائے۔ ہندوستان کے کئی صوبوں میں علیحدگی پسندی اور آزادی کی تحریکوں کے ساتھ گوریلا جنگ بھی جاری ہے، حکومت کی بعض علاقوں میں رٹ بھی موجود نہیں لیکن اس کے باوجود وہاں کوئی صوبہ یا علاقہ نہ ہندوستان سے علیحدہ ہوا ہے اور نہ ہی آزاد۔ سکھوں نے آزادی کی تحریک چلائی تو ہندوستان نے اُسے کچل کر رکھ دیا۔ مقبوضہ کشمیر میں مظالم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔ پھر پاکستان ہی کو کیوں اس قیامت صغریٰ سے گزرنا پڑا؟

ایک بار پھر ببانگ دہل تسلیم کرتا ہوں کہ مشرقی پاکستان سے بے انصافیاں ہوئیں، ان کا معاشی حصہ اُنہیں اس قدر نہ ملا جس پر اُن کا حق تھا، مشرقی پاکستان آبادی میں56فیصد تھا اس لئے جمہوری اصولوں کی روشنی میں برابری بھی اُن کے ساتھ زیادتی تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ ہمارے وہ دانشور جو آئین میں پیریٹی پر احتجاج کرتے اور اسے ہمالیہ جیسی غلطی قرار دیتے ہیں، جذبات کی رَو میں بہہ کر یہ بھول جاتے ہیں کہ جغرافیائی فاصلے کو تسلیم کرتے ہوئے برابری یا پیریٹی کا اصول سب سے پہلے محمدعلی بوگرہ کے آئینی فارمولے میں آیا تھا جس کی بنیاد پر 1954 میں دستور بنایا جانا تھا لیکن غلام محمد نے اسمبلی تحلیل کرکے دستور سازی کی بساط لپیٹ دی۔ اس سے قبل خواجہ ناظم الدین فارمولے میں بھی برابری کا مقصد ایک اور طریقے سے حاصل کیا گیا تھا جس کی تفصیل میری کتاب '' پاکستان: تاریخ و سیاست'' میں موجود ہے۔ کہنے کامطلب یہ ہے کہ آئین میں برابری کا اصول بنگالی سیاستدانوں نے خوشدلی سے تسلیم کیا تھا۔16دسمبر کے حوالے سے پروگراموں میں 1956 میں طے کردہ پیریٹی کے اصول کو خوب رگڑا دیا گیا۔ رگڑا دینے والوں کو علم نہیں تھا کہ 1956ء  کا آئین جناب حسین شہیدسہروردی کا کارنامہ تھا اور وہ نہ صرف بنگالی تھے بلکہ شیخ مجیب الرحمن کے استاد، سیاسی رہنما اور گرو بھی تھے۔ دراصل اب یہ ساری باتیں خیال رفتہ

(After Thought)

ہیں۔ اگر مشرقی پاکستان بنگلہ دیش نہ بنتا تو یہ باتیں کسی کو یاد بھی نہ ہوتیں اور نہ ہی موضوعِ گفتگو ہوتیں۔ یہ درست ہے کہ مشرقی پاکستان میں سیاسی احساسِ محرومی کو ایوبی مارشل لاء اور فوجی طرزِ حکومت نے ابھارا اور اسے باقاعدہ ایک تحریک کی شکل دی۔ پارلیمانی جمہوریت میں بنگالیوں کو اقتدار ملنے کی توقع تھی، وہ جانتے تھے کہ کسی بھی چھوٹے صوبے کو ساتھ ملا کرپیریٹی کے باوجود وہ اقتدار حاصل کرسکیں گے لیکن ایوبی مارشل لاء نے ان کی اُمید کی یہ شمع بھی بجھا دی اور انہیں یقین دلایا کہ اب کبھی بھی ان کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔ پھر ایوبی مارشل لاء کی آزاد شخصیتوں، میڈیا، سوچ اوراظہار پر شدید پابندیوں اور سیاسی مخالفوں پر عرصۂ حیات تنگ کرنے کی کارروائیوں نے بنگالیوں پر یہ بھی واضح کردیا کہ ان کا سیاسی مستقبل تاریک ہے۔'' پاکستان سے بنگلہ دیش،'' نامی کتاب میں سابق بنگالی سفیر اور کرنل شریف الحق نے بالکل درست لکھا ہے کہ شیخ مجیب الرحمن نے 1969ء میں علیحدگی کا فیصلہ کرلیا تھا۔ کرنل شریف الحق بنگلہ دیش کی تحریکِ آزادی اور1971ء کی جنگ کے ہیرو ہیں۔ وہ بنگلہ دیش کے سابق سفیر اور شیخ مجیب الرحمن کے خلاف بغاوت کرنے والوں میں شامل تھے۔ چنانچہ ان کا لکھا ہوا مستند ہے۔ شیخ مجیب الرحمن جب1972 میں رہائی پاکر لندن پہنچا تو اس نے بی بی سی کو انٹرویو میں یہ تسلیم کیا کہ وہ عرصے سے بنگلہ دیش کے قیام کے لئے کام کررہا تھا۔16 نومبر2009ء کو بنگلہ دیش کی وزیرِاعظم، شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی، حسینہ واجد نے انکشاف کیا کہ وہ1969 میں لندن میں اپنے والد کے ساتھ تھی جہاں شیخ مجیب الرحمن نے ہندوستانی ایجنسی ''را'' کے افسران سے ملاقاتیں کیں اور بنگلہ دیش کے قیام کی حکمتِ عملی طے کی۔ حسینہ واجد کا بیان عینی شاہد کا بیان ہے۔ اس پر تبصرے کی ضرورت نہیں۔ اس اُلجھی ہوئی کہانی کو سمجھنے کے لئے اس پہلو پر بھی غور کرنا ضروری ہے کہ جب1956 کے آئین میں بنگالی لیڈر شپ نے پیریٹی کا اصول مان لیا تھا تو پھریحیٰ خان نے اقتدار پر قبضہ کرتے ہی اس اصول کو کیوں ختم کردیا اور کس اتھارٹی کے تحت ون یونٹ ختم کرنے اور ون مین ووٹ کا اصول نافذ کرنے کا اعلان کیا۔ کیونکہ یہ فیصلے تو نئی دستور ساز اسمبلی نے کرنے تھے۔ دراصل یحیٰ خان صدارت پکی کرنے کے لئے مجیب الرحمن سے ساز باز کرنے میں مصروف تھا اور یہ دو بنیادی فیصلے اسی ہوس ِ اقتدار کے تحت کئے گئے تھے۔


16 دسمبر کے سانحے کا تجزیہ کرتے ہوئے ہم ایک بنیادی پہلو اور اہم ترین فیکٹرکوپسِ پشت ڈال دیتے ہیں کہ وہ بنیادی حقیقت ہے بھارت کی ہمسائیگی اور بھارت کے ساتھ دوتہائی بارڈر کا مشترک ہونا۔ فرض کیجئے کہ مشرقی پاکستان بھارت کا ہمسایہ نہ ہوتا تو کیا بنگالی برادران کو کہیں سے اتنی مالی اور سیاسی مدد ملتی، اگر وہ بڑی تعدادمیں ہجرت بھی کرجاتے تو کیا دوسرا ہمسایہ ملک انہیں وہاں جلاوطن حکومت قائم کرنے دیتا، ان کے نوجوانوں کو مکتی باہنی بنا کر رات دن فوجی تربیت اور اسلحے سے لیس کرکے گوریلا کارروائیاں کرنے کی اجازت دیتا؟


یہ بات بھی سو فیصد درست ہے کہ انتخابات کروانے کے بعد اقتدار منتقل نہ کرنا پاکستان کو توڑنے کے مترادف تھا۔ سیاسی بصیرت اور ملکی اتحاد کا تقاضا تھا کہ اقتدار اکثریتی پارٹی  کے حوالے کیا جاتا۔ اسمبلی کا اجلاس ملتوی کرنے کے نتیجے کے طور پر مشرقی پاکستان میں بغاوت ہوئی جسے کچلنے کے لئے آرمی ایکشن کیا گیا ۔ گولی سیاسی مسائل کا کبھی بھی حل نہیں ہوتی، چاہے وہ مشرقی پاکستان ہو یا بلوچستان، سیاسی مسائل ہمیشہ سیاسی بصیرت سے ہی حل ہوتے ہیں۔ آرمی ایکشن نے ایک طرح سے پاکستان کو بہت کمزور کردیا تھا۔ 16 دسمبر کے سانحے کا تجزیہ کرتے ہوئے ہم ایک بنیادی پہلو اور اہم ترین فیکٹرکوپسِ پشت ڈال دیتے ہیں کہ وہ بنیادی حقیقت ہے بھارت کی ہمسائیگی اور بھارت کے ساتھ دوتہائی بارڈر کا مشترک ہونا۔ فرض کیجئے کہ مشرقی پاکستان بھارت کا ہمسایہ نہ ہوتا تو کیا بنگالی برادران کو کہیں سے اتنی مالی اور سیاسی مدد ملتی، اگر وہ بڑی تعدادمیں ہجرت بھی کرجاتے تو کیا دوسرا ہمسایہ ملک انہیں وہاں جلاوطن حکومت قائم کرنے دیتا، ان کے نوجوانوں کو مکتی باہنی بنا کر رات دن فوجی تربیت اور اسلحے سے لیس کرکے گوریلا کارروائیاں کرنے کی اجازت دیتا؟ آرمی ایکشن کی زیادتیوں کو طاقتور میڈیا کے ذریعے پوری دنیا میں پھیلاتا؟ اور پاکستان کی کردار کشی کرتا؟ روس جیسی سپر پاور کو اندرونی معاملے میں پیش کرتا اور روس سے بے پناہ فوجی اسلحہ لے کر اپنے ہمسایہ ملک پر چڑھ دوڑتا؟ اگر یہ مکتی باہنی کی فتح تھی تو پھر پاکستان کی فوج نے ہندوستان کے سامنے ہتھیار کیوں ڈالے؟ ظاہرہے کہ یہ سب کچھ ہندوستان کا کیا دھرا تھا، ہندوستان نے بنگالیوں اور مکتی باہنی کی آڑ میں اپنے انتقام کی آگ ٹھنڈی کی ورنہ آرمی ایکشن سری لنکا میں بھی ہوتے رہے، ہندوستان میں بھی سکھوں کا قتل عام ہوا کیا وہ علاقے اپنے ملکوں سے الگ ہوئے؟ اسی لئے16 دسمبر1971ء کو اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ ہم نے ہندوستان ماتا کی تقسیم کا بدلہ لے لیا اور نظریۂ پاکستان کو خلیج بنگال میں ڈبودیا۔ بلاشبہ غلطیاں، زیادتیاں اور ناانصافیاں ہوئیں جن کا جتنا بھی ماتم کیا جائے کم ہے۔ اس طرح کی غلطیاں اور بے انصافیاں بہت سے ممالک میں ہو رہی ہیں لیکن ان کے استحکام پر زد نہیں پڑی۔ دراصل ہمارے اس سانحے کا ڈائریکٹر ہندوستان تھا اور یاد رکھئے اسے آئندہ بھی موقع ملا تو باز نہیں آئے گا۔ یہ بھی یقین رکھئے میں نے یہ الفاظ کسی نفرت کے تحت نہیں لکھے بلکہ میرے ان تحفظات و خدشات کے سوتے ملک کی محبت سے پھُوٹے ہیں۔ میں ہمسایہ ممالک، بشمول ہندوستان، سے اچھے دوستانہ تعلقات قائم کرنے کے حق میں ہوں۔ امن ہماری ضرورت ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ تاریخ کو بھلادیا جائے کیونکہ جو قومیں اپنی تاریخ فراموش کردیتی ہیں، ان کا جغرافیہ انہیں فراموش کردیتا ہے۔


مضمون نگار ممتاز محقق اور دانشور ہیں۔ ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ پاکستانیات کے حوالے سے وہ ایک مستند شناخت رکھتے ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 309مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP