یوم پاکستان

مارچ کا مہینہ۔۔۔ ہماری تاریخ کا سنگِ میل

مارچ کا مہینہ ہماری قومی زندگی میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ یوں تو مارچ کے مہینے میں کئی اہم واقعات رونما ہوئے لیکن میری رائے میں جن تین اہم ترین واقعات نے مارچ کو ہماری تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت دی وہ ہیں قراردادِ لاہور جسے بعد ازاںقرار دادِپاکستان کہا گیا، قراردادِ مقاصد جو١٢ مارچ ١٩٤٩ کو منظورہوئی اور ہمارے١٩٥٦ اور ١٩٧٣ کے دستاتیر کا حصہ بنی اور تیسرا اہم ترین واقعہ یا کارنامہ ١٩٥٦ کے آئین کی منظوری تھی جسے٢٣مارچ ١٩٥٦ سے نافذ کیا گیا۔ ان تینوں کارناموں نے ہماری تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کئے اور قومی زندگی کے دھارے کا رُخ متعین کرنے میں اہم کردار سرانجام دیا۔



عام طور پر قراردادِ پاکستان کو٢٣ مارچ سے منسوب کیا جاتا ہے لیکن میں کئی بار وضاحت کرچکا ہوں کہ قراردادِ پاکستان اگرچہ ٢٣مارچ کو مسلم لیگ کے اجلاس منعقدہ لاہور پیش کی گئی لیکن اسے منظوری ٢٤ مارچ کو ملی۔ اگر مسلم لیگ کے لیڈران اور قائداعظم چاہتے تو٢٤ مارچ کو قراردادِپاکستان کا دن قرار دے دیتے لیکن یہ انہی کا فیصلہ تھا کہ اسے٢٣ مارچ سے منسوب کیا جائے۔ اسی طرح پاکستان پندرہ اگست١٩٤٧ کو وجود میں آیا لیکن ہماری قیادت کا فیصلہ تھا کہ یومِ آزادی ١٤ اگست کو منایا جائے۔ ظاہر ہے کہ قراردادِ لاہور قائدِاعظم اور مسلم لیگ کی اعلیٰ ترین قیادت کی نگرانی میں ڈرافٹ ہوئی، تشکیل پائی اور انہی کی نگرانی میں مسلم لیگ کے اجلاس میں شیرِ بنگال مولوی فضل الحق نے پیش کی اور انہی کے سامنے ٢٤ مارچ کو منظور ہوئی اس لئے اس فیصلے کا اختیار بھی اُنہی کے پاس تھا کہ اسے پیش ہونیوالے دن یا منظور ہونے والے دن سے منسوب کریں۔ یقیناً ہماری ذہین، صاحبِ بصیرت اور تجربہ کار قیادت کے پیشِ نظر کچھ وجوہ ہوں گی جن کی بنیاد پر قرار دادِ لاہور کے لئے٢٣ مارچ کا دن مخصوص کیا گیا۔ آپ کو اس پر حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ خود مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی نے ٢٢فروری١٩٤١ کو یہ فیصلہ کیا تھا کہ  اس قرارداد کو جسے ''قراردادِ پاکستان '' کے نام سے پکارا جاتا ہے ہر سال٢٣مارچ کو منایا جائے گا اور اس روز اس قرار داد کی وضاحت اور تشہیر کی جائے گی۔  اسی سال جب مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس١٢۔١٥ اپریل ١٩٤١مدراس میں منعقد ہوا تو قراردادِ لاہور کو ایک ریزو لیوشن کے ذریعے مسلم لیگ کے مقاصد کا حصہ بنالیاگیا۔ (فائونڈیشن آف پاکستان شریف الدین پیرزادہ جلد دوم صفحہ٧٢۔٣٧١) 
اسی اجلاس میں١٤اپریل کو اپنے صدارتی خطبے میں قائدِاعظم نے بار بار زور دیا کہ وہ پاکستان حاصل کئے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے اور یہ کہ قرار دادِ پاکستان لینڈ مارک ہے۔ انہوں نے کہا : '' پاکستان ہمارے لئے  زندگی موت کا مسئلہ ہے۔(ص٣٨٨) اسے برطانوی حکومت کو تسلیم کرلینا چاہئے۔ ہم کسی قیمت پر بھی فلسطین کی تاریخ کو دہرانے کی اجازت نہیں دیںگے۔''
لطف کی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں دانشوروں کا ایک گروہ مسلسل پراپیگنڈہ کررہا ہے کہ قائدِاعظم نے کبھی اپنی تقریروں میں آئیڈیالوجی کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ اس جھوٹ کو رد کرنے کے لئے صرف ایک اجلاس میں قائداعظم کا صدارتی خطبہ پڑھ لیں جس میں انہوں نے ایک پیرا گراف میں مسلم لیگ کی آئیڈیالوجی اورآئیڈیالوجی برائے آزاد مملکت کے الفاظ دوبار استعمال کئے۔ یہ کہنا کہ نظریہ پاکستان کی اصطلاح قیامِ پاکستان کے بعد کی ایجاد ہے، تاریخ کو مسخ کرنے اور اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کے مترادف ہے۔ اس کے بعد قیامِ پاکستان تک قائدِاعظم آئیڈیالوجی آف پاکستان یا مسلم قومیت کے تصور کا ذکر بار بار کرتے رہے۔
قیامِ پاکستان کے بعد قرار دادِ پاکستان خاصی بحث اور اختلاف کا موضوع رہی ہے اور جی ایم سید کے جئے سندھ سے لے کر شیخ مجیب الرحمن، مولوی فضل الحق اور مولانا بھاشانی اور کبھی کبھی پختونستان کا نعرہ بلند کرنے والے عام طور پر اپنے خوابوں کی تکمیل کے لئے اسی قرار داد کا سہارا لیتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک اس قرار داد کے مطابق صوبوں کو آزاد مملکتیں ہونا تھا جبکہ ان کے مخالفین کا مؤقف تھا کہ ٤٦۔٤٥ کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ کے منتخب اراکین اسمبلی نے١٩٤٦ کے دہلی کنونشن میں آزاد مملکتوں کو دفن کردیا تھا اور مشرقی و مغربی پاکستان پر مشتمل ایک ریاست کا مطالبہ کیا تھا۔ بلاشبہ اگر قرارداد لاہور کے متن کا مطالعہ کیا جائے تو اس میں آزاد ریاستوں کا تصور ملتا ہے اور اگر اسے بنظرِ غائر پڑھا جائے تو مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل دو آزاد ریاستوں کا تصور ابھرتا ہے، یعنی بنگال اور دوسرے وہ صوبے جو مغربی پاکستان کا حصہ ہیں، ان دونوں یونٹوں کو مقتدر اور آزاد ہونا تھا اور صوبوں کو اٹانومی حاصل ہونا تھی لیکن جہاں تک قائداعظم کا تعلق ہے وہ واضح طور پر قراردادِ لاہور کو ایک ریاست کا مطالبہ اور منشور کہتے تھے۔ لگتا ہے جب مسلم لیگ ورکنگ کمیٹی نے کئی ڈرافٹوں یعنی مسودوں کو ایک قرار داد میں یکجا کرنے کی کوشش کی تو اس میں کنفیوژن پیدا ہوا۔ آج ہم ریاست کو مکمل طور پر آزاد  ملک سمجھتے ہیں لیکن اس دور میں یہ لفظ خود مختار صوبوں کے لئے بھی استعمال ہوتا تھا۔ مسلم لیگ کے ممتاز لیڈر حسین امام کے بقول کہ اس وقت کی مسلم لیگی قیادت ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے دستور سے متاثر تھی جس میں ریاستوں کو داخلی معاملات میںمکمل آزادی حاصل ہے لیکن امریکہ کی پچاس ریاستیں فیڈریشن کی لڑی میں پروئی ہوئی ہیں۔ شیرِ بنگال ورکنگ کمیٹی کے اس اجلاس میں شامل نہیں تھے جس نے یہ قرار داد ڈرافٹ کی لیکن دوسرے دن سیدھے مسلم لیگ کے اجلاس میں  پہنچے اور قرارداد پیش کرنے کا تاریخی اعزاز حاصل کیا۔ ان کے متعدد بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ فضل الحق کے ذہن میں اس قرارداد کا مطلب دو آزاد ریاستیں تھیں لیکن قائدِاعظم  نے اسی دن اخباری رپورٹوں سے گفتگو میں یہ بیان دے کر قرار داد کے مقدر کا فیصلہ کردیا کہ ہم صرف ایک ملک کا مطالبہ کررہے ہیں۔ (بحوالہ جناح آف پاکستان از سٹینلے والپرٹ صفحہ نمبر١٨٥) قائداعظم نے اپنے مؤقف کو بعدازاں گاندھی کے نام خطوط میں بھی واضح کیا۔
مارچ کے حوالے سے دوسرا اہم واقعہ قرار دادِ مقاصد کی منظوری تھی جسے پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی نے ١٢ مارچ ١٩٤٩ کو منظور کیا۔ اسی پس منظر میں اسے دستور کی بنیاد قرار دیا جاتا ہے۔ اسمبلی میں چند ایک غیر مسلم نمائندوں نے اس قرار داد پر کڑی تنقید کی۔ اُنہیں اعتراض اس بات پر تھا کہ اس قرار داد میں اقتدار اعلیٰ کو اﷲ تعالیٰ کی ملکیت قرار دیا گیا ہے جس کا سادہ سا مفہوم یہ ہے کہ پاکستان میں قرآن و سنت کے خلاف قانون نہیں بن سکے گا۔ عام طور پر مغربی جمہوریتوں میںجنہیں ہم سیکولر جمہوریتیں کہتے ہیں،عوام کو ''اقتدار اعلیٰ '' قرار دیا جاتا ہے اور اس حوالے سے ان کے منتخب کردہ نمائندوں کو ہر قسم کا قانون بنانے کی مکمل آزادی ہوتی ہے۔ اسی آزادی کا سہارا لے کر بعض ممالک میں ہم جنس پرستی پر بھی قانونی مہر لگا دی گئی ہے۔
ظاہر ہے کہ اسلام کی بنیاد پر بننے والے مسلمان اکثریتی ملک میں پارلیمنٹ کو مادر پدر آزادی نہیں دی جاسکتی۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ قیامِ پاکستان سے قبل جب قائدِاعظم پیر آف مانکی شریف سے ملنے صوبہ سرحد گئے تو پیرصاحب کے سوال کے جواب میں قائدِاعظم نے زور دے کر کہا کہ پاکستان میں کبھی بھی قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی نہیں ہوسکے گی۔ قیامِ پاکستان  سے قبل قائدِاعظم نے لاتعداد بار  وضاحت کی کہ ہمارا آئین قرآن ہے اور پاکستان کے آئین کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی جائے گی۔ آج اگر آپ ان حضرات کے بیانات پڑھیں جو قراردادِ مقاصد کی مخالفت میں ہلکان ہو رہے ہیں تو آپ کو ان میں وہی دلائل نظر آئیں گے جو دستور ساز اسمبلی میں غیر مسلم اراکین نے دیئے تھے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ یہ روشن خیال دانشور دعویٰ کرتے ہیں کہ اس وقت کی کابینہ کے رُکن جو گندر ناتھ منڈل قرار داد منظور ہوتے ہی ہندوستان بھاگ گئے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قرار دادِ مقاصد ١٢مارچ ١٩٤٩ کو منظور ہوئی اور جوگندرناتھ منڈل نے ١٦ ستمبر١٩٥٠ کو ہندوستان ہجرت کی۔ یعنی وہ قرار داد کے منظور ہونے کے ڈیڑھ برس بعد تک کابینہ کے رُکن رہے۔
 مارچ کو تیسرا اعزاز یہ حاصل ہے کہ ہمارا پہلا دستور ٢٣مارچ١٩٥٦ کو نافذ کیا گیا۔ اگرچہ دستور سازی میں تقریباً ٩برس ضائع کردینا ناقابلِ معافی جرم تھا لیکن بہرحال یہ ایک بہت بڑا کارنامہ تھا جس میں متحدہ ، جمہوری اور اسلامی پاکستان کی ضمانت موجود تھی۔ اس دستور میں پاکستان کو اسلامی جمہوریہ قرار دیا گیا تھا اور اسے مشرقی و مغربی پاکستان کے منتخب اراکین نے منظور کیا تھا۔ میری سوچی سمجھی رائے ہے کہ اگر اکتوبر١٩٥٨ میں سکندر مرزا اور ایوب خان مارشل لاء لگا کر اس دستور کو منسوخ نہ کرتے اور عام انتخابات ہو جاتے تو مشرقی پاکستان کبھی بھی علیحدگی کی راہ پر نہ چلتا۔ اس مارشل لاء نے دونوں صوبوں کی منظوری سے بننے والے آئین کو منسوخ کرکے وہ بنیاد ہی ختم کردی جس پر پاکستان کھڑا تھا۔ جمہوریت اور دستور قائم رہتے تو صوبے اپنے اختلافات آئینی ڈھانچے کے تحت رفع کرلیتے لیکن جب آئین کو پامال کرکے جمہوریت کی بساط لپیٹ دی گئی تو بنگالیوں کی حصولِ اقتدار کی شمعیں بجھ گئیں اور علیحدگی کے رجحانات زور پکڑ گئے۔


مضمون نگارممتاز محقق اور دانشور ہیں۔ ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ پاکستانیات کے حوالے سے وہ ایک مستند شناخت رکھتے ہیں۔ 
[email protected]


 

یہ تحریر 182مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP