نقطۂ نظر

لیاقت علی خان اور کشمیر

ایک بات اصول کے طور پر یاد رکھیں کہ نہ ہر چمکنے والی شے سونا ہوتی ہے، نہ ہر چھپا ہو ا لفظ مقدس اور سچ ہوتا ہے۔ اﷲ پاک سبحانہ' وتعالیٰ  نے عقل اور کامن سینس اسی لئے دی ہے کہ اِسے کسی بھی بات کو پرکھنے کے لئے کسوٹی کے طور پر استعمال کیا جائے اور دیکھا جائے کہ کیا یہ بات قرینِ قیاس ہے اور حالات و حقائق کے مطابق ہے۔ آج کل سوشل میڈیا پر ایک بات وائرل ہے اور وہ ہے سردار شوکت حیات کا بیان سابق وزیرِاعظم لیاقت علی خان کے بارے میں۔ کئی لکھاریوں اور اینکروں نے بھی اس کا حوالہ دیا ہے جبکہ مجھے یہ بات بالکل مشکوک اور بے بنیاد لگتی ہے ۔ میں یہ کیسے مان لوں کہ جس کشمیر کو قائداعظم پاکستان کی شہ رگ قرار دیتے تھے، جو کشمیر قائداعظم کے قلب و روح میں بسا ہوا تھا اور جس کے لئے انہوں نے اپنے نوزائیدہ ملک پاکستان کے انگریز کمانڈر اِن چیف جنرل گریسی کو فوجیں بھیجنے کا حکم دیا ، اُسے اُن کے دستِ راست اور وزیرِاعظم محض ''پہاڑیاں'' کہہ کر رد کردیں گے یا حقارت سے ایسے الفاظ ادا کریں گے۔ جس کشمیر کی سرحدیں پاکستان کے ساتھ مشترک تھیں، جو مسلمان اکثریت کی ریاست تھی، جہاں سے پاکستان کے لئے پانی کے دریا نکلتے تھے، اُسے وزیرِاعظم پاکستان محض 'پہاڑیاں' کیسے کہہ سکتے ہیں؟ اسی کشمیر کے لئے لیاقت علی خان نے1948 میں جنگ کی دھمکی دی اور بند مٹھی والا بازو عزم کے طور پر لہرایا۔ اُسے وہ کس طرح نظر انداز کرسکتے تھے۔ اسی لئے عرض کرتا ہوں کہ ہر چھپنے والا لفظ نہ مقدس ہوتا ہے نہ کھرا سچ۔ اس مضمون کا مقصد اسی مغالطے کو رفع کرنا ہے۔
آج بھی ایک ایسا ہی اہم مسئلہ درپیش ہے جس کی وضاحت لیاقت علی خان جیسے مخلص اور اعلیٰ درجے کے قائد کے حوالے سے پیدا کردہ بدگمانی کو رفع کرنے اور تاریخی ریکارڈ کی درستی کے لئے نہایت ضروری ہے۔ اس بدگمانی کی جڑیں سردار شوکت حیات کی کتاب میں پیوست ہیں کیونکہ ہمارے اکثر لکھاری ان کا یہ مشکوک فقرہ اپنی تحریروں میں'کوٹ' کرتے رہتے ہیںکہ لارڈ مائونٹ بیٹن نے وزیرِاعظم لیاقت علی خان کو بھارتی رہنما سردار پٹیل کا پیغام دیا کہ پاکستان حیدرآباد اور جونا گڑھ سے دستبردار ہوجائے کیونکہ یہ دونوں ہندو اکثریت کے علاقے ہیں اور اس کے جواب میں بھارت کشمیر سے دستبردار ہو جائے گا۔ یہ پیغام دے کر لارڈ مائونٹ بیٹن چلا گیا تو ہم نے لیاقت علی سے کہا کہ حیدرآباد اور جونا گڑھ کے بدلے جموں کشمیر لینے میں کوئی حرج نہیں۔ جس پر لیاقت علی خان نے بڑے غصے میں(سردار شوکت حیات) سے کہا ''میں پاگل نہیں کہ حیدر آباد جو پنجاب سے بھی بڑا ہے اسے کشمیر کی چند پہاڑیوں کے عوض چھوڑ دوں۔۔۔ اسی لیاقت علی خان نے فائربندی قبول کرلی۔''
یہ طے شدہ اصول ہے کہ کسی بھی بیان کو حالات کے فریم میں رکھ کر دیکھا جاتا ہے کہ آیا یہ بات قرینِ قیاس ہے، کیا اس وقت کے حالات، سیاسی فضا اور قومی تقاضوں کے چوکھٹے میں یہ بات ''فِٹ'' ہوتی ہے؟ میںنے طویل عرصہ قبل سردار صاحب کی کتاب پڑھی تھی اور میری طالب علمانہ رائے یہ تھی کہ سردار صاحب کی مانندان کی کتاب بھی قابلِ اعتماد نہیں۔ سردارصاحب قیامِ پاکستان سے قبل اور بعدمیں جس طرح عمر بھر وفاداریاں بدلتے رہے اور جس سیاسی متلون مزاجی کا مظاہرہ کرتے رہے، اس سے ان کی شخصیت کا اعتماد مجروح ہوا۔ کوئی چار ساڑھے چار دہائیاں قبل جب میں''مسلم لیگ کا دورِ حکومت(1947- 54)''پر تحقیق کررہا تھا تو مجھے سردارصاحب کا بھی انٹرویو کرنے کا موقع ملا۔ میں نے انٹرویو کے دوران محسوس کیاتھا کہ سردار صاحب کے سیاسی قلب کے کسی گوشے میں لیاقت علی خان سے ناپسندیدگی موجود تھی۔ عام طور پر اس طرح کی ناپسندیدگی ذاتی رنجش کا شاخسانہ ہوتی ہے۔ میںنے ان سے پوچھا نہیں لیکن میرا اندازہ ہے کہ وہ اقتدار سے محرومی کا الزام لیاقت علی خان کو دیتے تھے۔ نوجوانوں کو علم نہیں ہوگا کہ سردار شوکت حیات قیامِ پاکستان کے فوراً بعد بننے والی پنجاب کابینہ میں وزیر تھے۔ وزیرِاعلیٰ نواب ممدوٹ سے اختلافات کی بنا پر وہ ایک ہی سال بعد مستعفی ہوگئے اور پھر طویل عرصے تک سیاست سے کنارہ کش رہے۔
بات ذرا دُور نکل گئی۔ تاریخ کی وادی میں قدم رکھوں تو اکثر ایسا ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا لیاقت علی خان سے منسوب الفاظ بظاہر ٹھیک لگتے ہیں؟ کیا یہ اس دور کے حالات میں قرینِ قیاس ہیں؟ تاریخی حقائق ان کی حمایت کرتے ہیں یا بلندبانگ نفی؟۔۔۔ مجھے یہ الفاظ بظاہر اس لئے مشکوک اور ناقابلِ بھروسا لگتے ہیں کہ لیاقت علی خان سر تاپا مسئلہ کشمیر میں ڈوبے ہوئے تھے۔ اگر ابتدائی برسوں کے بیانات پڑھے جائیں تو یوںلگتا ہے جیسے حکومتِ پاکستان مسئلہ کشمیر کو زندگی و موت کا مسئلہ سمجھتی تھی۔ جب پاکستان کے گورنر جنرل قائداعظم محمدعلی جناح کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دے رہے تھے تو لیاقت علی خان کشمیر کو محض چند پہاڑیاں کیونکر کہہ سکتے تھے؟ کیا لیاقت علی خان جیسا زیرک انسان نہیں سمجھتا تھا کہ اول تو کشمیر مسلمان اکثریتی علاقہ، اس کا زیادہ بارڈر پاکستان سے مشترک ہے اور پھر یہ کہ پاکستان کی زراعت کا انحصار اس پانی پر ہے جس کے سوتے کشمیر سے پھوٹتے اور دریائوں کی صورت میں مغربی پاکستان سے گزرتے ہیں۔ کشمیر کے بھارتی الحاق کے خلاف احتجاج کرنے والا اور جہادِ کشمیر کی درپردہ مدد کرنے والا لیاقت علی خان کشمیرکو پہاڑیاں کیسے کہہ سکتا ہے؟ رہی سیز فائر یا فائر بندی تو جب بھارت یکم جنوری1948 کو مسئلہ کشمیر اقوامِ متحدہ میں لے گیا اور استصوابِ رائے کا وعدہ کیا توپاکستان کے پاس اورآپشن ہی کیا تھا کیونکہ خود حکومتِ پاکستان کشمیر میں استصوابِ رائے کا مطالبہ کررہی تھی۔ ذہن میں رہے کہ اس وقت قائداعظم بقیدِ حیات تھے اور حکومت کو ان کی رہنمائی میسر تھی۔
اب ذرا تاریخی حقائق پر نگاہ ڈالئے۔ مائونٹ بیٹن جون1948 تک ہندوستان کا گورنر جنرل رہا۔ وہ مشترکہ دفاعی کونسل کی میٹنگ کے لئے یکم نومبر1947 کو لاہور آیا۔ اس میٹنگ میں بھارت کی جانب سے سردار پٹیل ، سردار بلدیو وغیرہ اور پاکستان کی جانب سے سردار عبدالرب نشتر، چودھری محمدعلی وغیرہ نے شرکت کی۔ پنڈت نہرو اور وزیرِاعظم لیاقت علی خان علالت کے سبب اجلاس میں شریک نہ ہو سکے اور نہ ہی مائونٹ بیٹن کی پاکستانی وزیرِاعظم سے ملاقات ہوئی۔ اس اجلاس میں نہ سردار شوکت حیات تھے اور نہ ہی لیاقت علی خان تو پھر سردار شوکت حیات کو لیاقت علی خان کے کشمیرکے بارے میں الفاظ کہاں سے اور کیسے پہنچے؟ البتہ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اسی دن مائونٹ بیٹن نے لیاقت علی خان سے ملاقات کی، جس میں قائداعظم نے تجویز دی کہ کشمیر میں استصوابِ رائے کروایا جائے۔ گویا استصوابِ رائے شروع ہی سے حکومتِ پاکستان کا مطالبہ اور مؤقف تھا کیونکہ قائدینِ پاکستان کو یقین تھا کہ استصواب میں کشمیری پاکستان سے الحاق کا فیصلہ سنائیں گے۔ بھارت نے اس تجویز کو مسترد کردیا اور دوماہ بعد مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کے سامنے پیش کردیا۔ اسی مہینے میں5 نومبر 1947 کو ریڈیو پاکستان پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے لیاقت علی خان نے کہا کہ '' آج کشمیری عوام اپنی آزادی نہیں بلکہ اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔'' نومبر ہی میں آزاد کشمیر کی فوجیں مظفرآباد، باغ، راولا کوٹ، راجوڑی بھمبر، میرپور پر قابض ہوچکی تھیںاور لیاقت علی خان18نومبر کو پھر تجویز دے رہے تھے کہ بھارت پاکستان اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں کشمیر میں استصواب رائے کروائیں۔ ریاست جونا گڑھ نے ستمبر1947 میں پاکستان کے الحاق کا فیصلہ کیاتھا لیکن 9نومبر 1947 کو بھارت نے جونا گڑھ پر قبضہ کر لیا۔ پاکستان اس مسئلے کو اقوامِ متحدہ میں لے گیا اور پھر یہ مسئلہ اپنی موت ہی مرگیا۔ چنانچہ سردار شوکت حیات کا یہ کہنا کہ پاکستان جونا گڑھ اور حیدر آباد سے دستبردار ہو جائے ، کمزور حافظے اور کنفیوژڈ یادداشت کا شکار ہے۔ رہا حیدر آباد تو وہ بڑی ریاست تھی اسے جلدی ہضم کرنا ممکن نہ تھا۔ چنانچہ جس روز 11 ستمبر1948 کو قائداعظم کا انتقال ہوا، اس روز بھارت نے فوج کے ذریعے حیدر آباد پر قبضہ کرلیا۔
جہاں تک سردار پٹیل کی تجویز کا تعلق ہے اس کا ذکر چودھری محمدعلی کی کتاب ظہورِ پاکستان میں ملتا ہے جو ایک معتبر اور اعلیٰ درجے کا تاریخی حوالہ ہے۔ اس میٹنگ میں چودھری محمدعلی خود موجود تھے۔ اس لئے یہ سنی سنائی بات نہیں۔ اس کا مزید حوالہ ایم ایچ عسکری کے مضمون میںبھی ملتا ہے، جو لیاقت اینڈ ورلڈ افیئرز نامی کتاب میں شامل ہے۔ عسکری صاحب ریڈیو میں نیوز ایڈیٹر تھے اور وزیرِاعظم آفس کو کشمیرکے بارے میں روز مرہ کی پیش رفت سے آگاہ کرنا ان کے سپرد تھا۔ انہوںنے وزیرِاعظم لیاقت علی کی گہری دلچسپی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ لیاقت علی خان ہر لمحے کشمیر میں بدلتی ہوئی صورتِ حال سے آگاہ رہتے تھے۔ نومبر1947 کے اواخر میں لیاقت علی خان جائنٹ ڈیفنس کونسل کی میٹنگ کے لئے ہندوستان گئے تو وہاں کشمیر کے مسئلے پر گفتگو کے دوران یہ تجویز دی کہ کشمیر کا معاملہ اقوامِ متحدہ کے سپرد کردیاجائے اور وہ کشمیریوں کی مرضی کے مطابق کشمیر کے الحاق کا فیصلہ کرے۔ پنڈت نہرو نے خوف کے مارے اس تجویز کو مسترد کردیا۔ بقول چودھری محمدعلی ''بحث کے دوران لیاقت علی خان  نے جونا گڑھ اور کشمیر کے مسائل پر ہندوستان کی منافقت، متضاد اور دُہری پالیسی (Inconsistency) کو خوب ایکسپوز کیا اور دلائل سے ہندوستانی رہنمائوں کو لاجواب کردیا۔ اس موقع پر سردار پٹیل نائب وزیرِاعظم ہندوستان جذباتی ہو کر پھٹ پڑا اور کہا کہ مسائل کو پُرامن انداز سے حل کرنے کے لئے پاکستان کشمیر لے لے اور ہندوستان حیدر آباد سے دستبردار ہو جائے۔ نہرو کو یہ تجویز پسند نہ تھی۔ چنانچہ کوئی فیصلہ نہ ہوسکا اور ہندوستان مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ میں لے گیا۔ لیاقت علی خان کی مسئلہ کشمیر سے کمٹمنٹ اتنی مضبوط  اور گہری تھی کہ لیاقت علی خان نے اس وقت تک دولتِ مشترکہ وزرائے اعظم کی کانفرنس جنوری1951 میںشرکت سے انکار کئے رکھا جب تک اس کے ایجنڈے میں مسئلہ کشمیر کو شامل نہیں کیاگیا۔ تاریخی کہانیاں زلف یار کی مانند طویل ہوتی ہیں۔ مختصر بات فقط اتنی سی ہے کہ سردار شوکت حیات کے بیان کی تاریخ میں کوئی شہادت نہیں ملتی اور نہ ہی یہ قرینِ قیاس لگتا ہے۔ تاریخ ان کے الفاظ کی نفی کرتی ہے۔ اس لئے انہیں بار بار دہرا کر تاریخ میںمغالطے پیدا کرنا مناسب نہیں۔


مضمون نگارممتاز محقق اور دانشور ہیں۔ ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ پاکستانیات کے حوالے سے وہ ایک مستند شناخت رکھتے ہیں۔ 
[email protected]


 

یہ تحریر 53مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP