شعر و ادب

لڑو کہ جہدِ زندگی ہی اصل میں حیات ہے

نڈر نڈر رواں دواں
اے زندگی کے کارواں
اے زندگی کے کارواں
جو موت و زیست کی ہزار گھاٹیاں پھلانگتے
تلاطموں سے کھیلتے
مزاحمتیں دھکیلتے
رُخِ ہوا کو موڑتے
رُکاوٹوں کو توڑتے
ہمیشہ مسکراتے ہو
اے گلستانِ زندگی
ہمیشہ لہلہاتے ہو
ہوں لاکھ بدگمانیاں
وبا کی قہر مانیاں
اجل کی حکمرانیاں
ہوں طفلکِ حیات کی ہزار ناتوانیاں
اجل سے پھر بھی دُو بدو
تمہیں رہو گے سرخ رُو
جو غار و کوہ سے تم نے کی شروع یہ وہ لڑائی ہے
لڑائی یہ مہیب ہے
لڑائی یہ طویل ہے
تباہیوں کے درمیاں ''حیاتِ بہترین'' کی بڑی قوی دلیل ہے
یہی دلیل ''ماسعیٰ''
اے ارتقا کے پیشوا
تو قافلے کا راہ نما
لڑو لڑو قضا لگی ہے پھر بقا کی گھات میں
لڑو حیاتِ جاوداں، پھنسی توہمات میں
لڑو کہ جہد زندگی ہی اصل میں حیات ہے
یہی ہے جس کو عالمِ دوام میں ثبات ہے
بنامِ کشتگاں لڑو
بنامِ رفتگاں لڑو
یہ وقتِ امتحان ہے
بنامِ امتحاں لڑو
منصور الحسن ، ڈی ایس پی، پنجاب پولیس
 

یہ تحریر 95مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP