قومی و بین الاقوامی ایشوز

لائن آف کنٹرول ۔۔۔سول آبادی پر ہندوستانی بمباری

کشمیر ایک خطۂ جنت نظیر جس میں بھا رتی ظلم و ستم کی کا رروائیاں سنتے کئی دہائیاں گز ر چکی ہیں اور اب اس بد نصیب خطے کی داستانِ خو نچکاںایک نئے انسانی المیے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ایک طرف آزاد جموں و کشمیر ہے۔ جہاں کے لو گ آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں جبکہ دوسری طرف بھارتی مقبوضہ کشمیر ہے جہاں قابض بھارتی فوج کر فیو لگا کر انسانیت سوز مظالم توڑ رہی ہے۔ بھارتی مقبو ضہ کشمیر میں اس وقت دس لاکھ کے قریب بھارتی فوج نے پچھلے  دو ماہ سے کرفیو نا فذ کر رکھا ہے آج جب انسانی حقو ق ،شخصی آ زادی اور اظہا ررائے جیسے خوبصورت الفاظ کا استعمال زبان زد عام ہے، بھا رتی مقبو ضہ کشمیر میں ظلم و جارحیت کا یہ نیا سلسلہ کسی المیے سے کم نہیں ۔وادی میں ظلم و ستم کے ساتھ ساتھ بھا رتی فوج اور پیرا ملٹری فورسز لا ئن آف کنٹرول اور ورکنگ بائونڈری پر بھی اندھا دھند فا ئرنگ کا سلسلہ جا ری رکھے ہو ئے ہیں ۔ پلوامہ کے واقعے کے بعد سے فا ئرنگ کے واقعات میںمسلسل اضا فہ ہو تا جا رہا ہے ۔ اگر ہم صرف 2019 کے فا ئرنگ کے واقعات کا جا ئزہ لیں تو ہم اس جا رحیت کے رجحان کا تجزیہ کر سکتے ہیں۔  غیر جانبدار اور سرکا ری اعداد وشمار کے مطا بق جنوری سے ستمبر تک نو مہینوں میں بھا رت کی طرف سے جارحانہ اقدامات  اور فائرنگ کے 2560 وا قعا ت ہو چکے ہیں ۔ پاکستان کی طرف سے ان حملو ں کا منہ توڑ جواب دیا جا تا ہے اور پاکستان کی جانب سے کی گئی فا ئرنگ سے بھارتی پو سٹوں کو نشانہ بنا یاجاتا ہے۔کیونکہ پاکستان کو بھارتی جارحیت کا جواب دیتے ہوئے مکمل احتیاط کرنا پڑتی ہے ، مبادا لائن آف کنٹرول کے دوسری طرف  رہنے والے معصوم کشمیر ی اس کی زد میں نہ آجا ئیں ۔ اگرچہ بھارت ذرائع ابلاغ میں اس بات کا اکثر ڈھنڈورا پیٹتا ہوا نظر آتا ہے کہ پاکستان کی طرف سے کشمیریوں کو فا ئرنگ کا نشانہ بنایا جا تا ہے لیکن بھارت کبھی بھی  اس کا کوئی واضح ثبوت پیش نہیں کر سکا ۔جبکہ پاکستانی فوج کی فا ئر نگ سے مارے جانے والے فوجیوں کی خبریں انڈین میڈیا کی زینت بنتی رہتی  ہیں۔ اس طر ح بھارت کی طرف سے آبادی کو بھی کثرت سے نشانہ بنا یاجاتا ہے جس میں تا ک تاک کر معصوم لوگوں کو،جو اپنے روز مرہ کے کاموں میں مصروف ہو تے ہیں ، ٹارگٹ کیا جا تا ہے  جو کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت ایک جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ بھارت کی طرف سے جا سوسی کے لئے ڈرون کا استعمال بھی کثرت سے کیا جا تا ہے یہ ڈرون پا کستان کی حدود میں پاکستانی پوسٹوں اور فوج کی نقل و حرکت کا جا ئزہ لینے کے لئے آتے ہیں۔انہیں دفاع وطن پر ما مور پاکستانی فوج کے بہادر نشانہ بناتے ہیں ۔ صرف سال 2019 میں پاکستان درجن  کے قریب بھارتی ڈرون کو خاک چٹا چکا ہے۔ اسی طرح بھارت سر جیکل سٹرائیک کے نام پر بھی دو بار منہ کی کھا چکا ہے ۔


ان معصوم کشمیریوں سے بھارتی فوج خوف زدہ ہے،جس کی آبادی میں  ہر آٹھ کشمیریوں پرایک قابض بھارتی فوجی خود کا ر اسلحہ تانے کھڑا ہے ۔ان آٹھ میں آبا دی کے تنا سب سے صرف دو جوان کشمیری ہیں ،با قی کم سن بچے، ضعیف  مردو خواتین اور جوان لڑکیا ں شامل ہیں ۔


29 ستمبر2016کا سرجیکل سٹرا ئیک ڈرامہ اور پلوامہ کے بعد 26 فروری 2019میں بالاکو ٹ میں سرجیکل سٹرائیک  ڈرامہ میں میراج طیارے اپنا پے لوڈ پھینک کر فرار ہو گئے ۔حالانکہ پلوامہ واقعے کی ذمہ داری ایک کشمیری مجاہدنے قبول کی جس نے اپنی جان کی بازی لگا کر40 سے زائد بھارتی فوجیوں کو جہنم واصل کیا ۔یہ بھی  بھارتی ظلم کا نتیجہ تھا جو اس نے کشمیر کے نہتے اور معصوم لوگوں کے ساتھ روا رکھا ہے۔ اس واقعے پر بھارتی ائیر فورس نے سرجیکل سٹرائیک کا ڈرامہ تو کیا لیکن جگ ہنسائی کے سوا کچھ حاصل نہ کر سکا  اور اگلے ہی روز  الٹا اپنے  دو جنگی جہا ز تباہ کروانے کے بعدپاکستانی فوج کے ہاتھوں اپنا پائلٹ گرفتا ر کر وا لیا ۔پاکستان نے اگرچہ جذبہ خیر سگالی کے تحت پائلٹ  واپس کر دیا  لیکن بھارتی فوج ،حکومت اور میڈیا  اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آرہے۔
اب ہم لائن آف کنٹرول پر بھارتی جا حیت کا بھی جا ئزہ لیتے ہیں ۔مصدقہ اعداد وشما ر کے مطابق سال 2019 کے ان نو مہینوں میں 33 معصوم سویلین جن میں بچے، بو ڑ ھے اور عورتیں شامل ہیں، شہا دت پا چکے ہیں۔ جبکہ 179 لوگ  بھارت کی جانب سے کی گئی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں شدید زخمی ہوئے ہیں۔ ان میں سے اکثر مستقل طور پر معذورہو چکے ہیں۔ لائن آف کنٹرول کے قریب رہنے والے یہ لوگ اگرچہ بلند حوصلگی کا نمونہ ہیں لیکن آئے روز کی فائرنگ سے جانی و مالی نقصان ان کی برداشت سے باہر ہو تا جا رہا ہے ۔ فائرنگ کے ان واقعات سے سکول ،کالج،ہسپتال اور کاروبای مراکز بھی مستثنٰیٰ نہیں ہیں بلکہ بھارتی فوج جان بوجھ کر ایسی جگہوں کو نشانہ بناتی ہے جہاں پر لوگ زیادہ تعداد میں موجود ہوں۔اس سفاکیت کی انتہا یہاں تک ہے کہ جنازہ اور شادی کے اجتما عات بھی محفوظ نہیں ہیں۔ ایسے بھی واقعات کثرت سے ہو چکے ہیں کہ لوگ بھارتی فائرنگ سے شہید ہونے والے افرادکے لئے جنازے کی ادائیگی کے لئے اکٹھے ہوئے تو بھارتی افواج نے فائرنگ شروع کر دی جس سے مزیدبچے اور بوڑھے بھی شہید ہو گئے۔ حال ہی میں بھارتی فوج نے کلسٹر بمبوں کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہری آبادیوں پر اس طرح کے بموں کا استعمال ایک سنگین جرم ہے کیونکہ ناسمجھ بچے اس کو کھلونا سمجھ کر اٹھا لیتے ہیں اور وہ اُن کی غفلتسے پھٹ کر ارد گرد کے لوگوں کو بھی شدید زخمی اور ہلاک کر دیتا ہے۔ گزشتہ برس سنائپرشاٹ سے ایک سکول وین کو بٹل کے علاقے میں نشانہ بنا یا گیا ۔ خوش قسمتی سے وین میں سوار بچے تو محفو ظ رہے لیکن ڈرائیور سینے میں گولی لگنے سے جا ں بحق ہو گیا ۔ مر حوم کے تین چھوٹے چھو ٹے بچے باپ کی شفقت سے محروم ہو گئے۔ 6 جنوری 2019  کو نسیم اختر زوجہ اشرف بھارتی مار ٹر گولے کے سپلنٹر لگنے سے شدید زخمی ہو گئی۔ وہ اپنے گھر کے صحن  میں دن کے تین بجے کپڑے دھونے  میں مصروف تھی جب وہ  بھا رتی آ رمی کی جا رحیت کا شکا ر ہو گئی۔


گزشتہ آٹھ ہفتوں کے دوران40ہزار کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں سات آٹھ برس کے کم عمر بچے بھی شامل ہیں ۔ان پر کرفیو تو ڑنے اور بھارتی فوجیوں پر پتھر پھینکنے کا الزام ہے۔


75 سالہ فقیر الدین کھو ئی رٹہ کا رہا ئشی ہے، وہ اپنے گھر میں چا ر پا ئی پر بیٹھا تھاجب وہ بھارتی جارحیت کا نشانہ بنا اگر چہ بر وقت طبی امداد سے اس کی جان بچ گئی لیکن وہ ایک ٹا نگ سے ہمیشہ کے لئے معذور ہو گیا ۔
30 اور 31 جو لائی 2019 کو بھا رتی فوج نے نیلم وادی میں شدید فائرنگ کی جس میں چھوٹے اور بڑ ے ہتھیا روں کا بے دریغ استعما ل کیا ۔چا ر سالہ ایان نے کھیلتے ہو ئے کھلونا بم اٹھا لیا جو بھا رتی فوج جان بو جھ کر شہری آبادیوں پر پھینکتی ہے کہ لو گ نا دانستگی میں اس کو اٹھا لیں اور زیا دہ جانی نقصان ہو ۔چا ر سالہ ایان بھی اسی درندگی کا شکا ر ہو گیا، بم اس کے ہا تھوں میں پھٹ گیا اور وہ شہید ہو گیا جبکہ آٹھ سے زائد لوگ زخمی بھی ہو ئے۔
ایک زخمی نے بتا یا کہ بھا رت کی طرف سے پر امن اور معصوم شہریوں پر فائرنگ سمجھ سے بالا تر ہے ،حتیٰ کہ ان کے گھر  اور جانور بھی بھا رت کی طرف سے آ ئے دن فا ئرنگ کی زد میں رہتے ہیں جس سے ان کو  جا نی نقصان کے علاوہ مالی نقصا ن بھی اٹھا نا پڑتا ہے ۔نکیال کا رہا ئشی14 سا لہ ذیشان ایو ب سائیکل پراپنیدکا ن پر جا رہا تھا  جب بھا رت کی طرف سے فا ئر کی گئی گو لی اس کے سینے سے پار ہو گئی۔
پلوامہ واقعے کے بعد بھارتی فوج کشمیر کے ہر سیکٹر میں اندھا دھند فائرنگ کر رہی ہے۔ 2 اکتوبر کو نیزہ پیر گا ئوں کی رہا ئشی 50 سالہ نو ر جہا ں زوجہ محمد ممتاز بھی بھارتی فو ج کی اسی اندھی جا رحیت کا شکا ر ہو کر جا ں  بحق ہو گئی جبکہ کچھ اور لو گ ز خمی بھی ہو گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان آ رمی کے سپوت کمال مہارت سے بھارتی فوج کی اس جا رحیت کا جواب جواب دے کر ان کی پوسٹوں کونیست و نابود کر تے ہیں ۔
بھا رت نے اسی چیز کو مد نظر رکھتے ہو ئے9 مئی 2018 کو سیز فائر کی درخوا ست کی تھی۔ اسی سلسلے میںدونوں اطراف کے ڈی جی ایم اوز نے با قاعدہ لائن آف کنٹرول پر فا ئر بندی کا معا ہدہ کیا لیکن بد قسمتی سے بھارت کبھی بھی اس معا ہدے پر کا ر بند نہیں رہا جس کی قیمت معصوم اور پر امن کشمیریوں کو اپنی جان دے کر چکانی پڑ رہی ہے ۔بھارت کی اس جا رحانہ پا لیسی کی گو نج بین الاقوامی اخبارات میں بھی نظر آتی ہے ۔ کیونکہ بین الاقوامی صحا فی اکثر پاکستان کی طرف لا ئن آف کنٹرول کا دورہ کر تے ہیں اور اپنی آنکھو ں سے بھارتی جارحیت کا مشاہدہ کر تے ہیں۔ یہ صحا فی آ زادی سے ہر جگہ جا کر لو گو ں سے مل کر اپنی مطلوبہ معلوما ت حاصل کر تے ہیں۔ ان میں سے کچھ صحا فی ایسے بھی ہیں جنہوں نے بھارتی مقبو ضہ کشمیر میں جا کر رپو ر ٹنگ کر نے کی کو شش کی تو ان سے کیمرہ اور دوسرا سامان چھین کر ان کو جیل میں بھیج دیا گیا  ۔
بعدازاںسفارتخا نو ں کی کو شش سے ان کو رہا ئی ملی ۔



اس وقت کرفیو اور لاک ڈائون زدہ مقبوضہ کشمیر پوری دنیا  میں زیر بحث ہے ۔ کوئی ایک بھی ملک ایسا نہیں جہاں سے شا  ئع ہونیوالے  اخبارات قابض بھا رتی فوج کے نر غے میں پھنسے ہو ئے کشمیریوں کے حوالے سے خبریں شائع نہ کر رہے ہو ں یا وہا ں کے عوام بے گناہ کشمیریو ں پر ٹوٹنے والے مظالم پر مضطرب نہ ہوں ۔بھا رتی سفارتکار پریشان ہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں لگائے گئے کر فیو اور وہا ں سے سڑکو ں اور گلیوں میں تعینا ت لاکھوں مسلح بھارتی فوجیوں کی مو جودگی کے لئے کس طرح کا جواز پیش کریں ۔دنیا کو کیا بتا ئیں کہ بھارت اور بھارتی فوج کو نہتے کشمیریوں کی طرف سے بھارت پر حملے کا خطرہ ہے ۔ان معصوم کشمیریوں سے بھارتی فوج خوف زدہ ہے،جس کی آبادی میں  ہر آٹھ کشمیریوں پرایک قابض بھارتی فوجی خود کا ر اسلحہ تانے کھڑا ہے ۔ان آٹھ میں آبا دی کے تنا سب سے صرف دو جوان کشمیری ہیں ،با قی کم سن بچے، ضعیف  مردو خواتین اور جوان لڑکیا ں شامل ہیں ۔
گزشتہ آٹھ ہفتوں کے دوران40ہزار کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں سات آٹھ برس کے کم عمر بچے بھی شامل ہیں ۔ان پر کرفیو تو ڑنے اور بھارتی فوجیوں پر پتھر پھینکنے کا الزام ہے۔
پاکستان  مقبو ضہ کشمیر کی عوام کو اخلاقی، سفارتی اور سیا سی مدد کی فراہمی کے ساتھ لائن آف کنٹرول پر بھارتی جا رحیت کا بھی جواب دے رہا ہے ۔ سویلین آبادی کو محفو ظ بنانے کے اقدامات بھی کررہا ہے، زخمیوں کو بر وقت طبی امداد فراہم کی جاتی ہے ۔شہداء کے لواحقین کو مالی امداد کے ساتھ ساتھ تدفین کے بندوبست میں بھی پاکستان آرمی بھرپور تعا ون کرتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر کی عوام پاکستانی فوج کے شا نہ بشانہ کھڑ ی ہے۔

یہ تحریر 54مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP