اداریہ

لائن آف کنٹرول پر مقیم شہری آبادی پر بھارتی بمباری

5 اگست 2019 کو بھارت نے جس طرح سے آرٹیکل370 اور آرٹیکل 35-A کا خاتمہ کرکے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی ہے اس سے یقینا کشمیر سمیت پوری دنیا میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور دنیا بھر سے انسانی حقوق کے حوالے سے آوازیںاٹھ رہی ہیں۔معاملہ یہیں تک نہیں رہااور بھارت کاآئے روز لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آزاد کشمیر میں سول آبادی کو نشانہ بنانے کا جو وتیرہ رہا ہے اُس میں مزید شدت آچکی ہے۔ لائن آف کنٹرول پر تعینات پاک فوج ،بھارتی فوج کی فائرنگ کا مؤثر اور بھرپور جواب دے کر اُن کی پوسٹوں کو نشانہ بناتی ہے جس سے کچھ عرصے کے لئے بھارتی فائرنگ کا سلسلہ رُک جاتا ہے اورکچھ دنوں بعد یہ عمل پھر سے دہرایا جاتا ہے۔ اس کے برعکس پاکستانی فوج کبھی بھی مقبوضہ کشمیر میں معصوم شہریوں اور سول آبادی کو نشانہ نہیں بناتی جبکہ بھارت کی بلااشتعال فائرنگ سے آزاد کشمیر میں بیسیوں گھر اور سکول تباہ اور بچے، بوڑھے، خواتین اور جوان زخمی اور شہید ہوجاتے ہیں جو نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ اقوامِ متحدہ کی اُن قراردادوں کی بھی توہین ہے جو کشمیریوں کو استصوابِ رائے کا حق دینے سے متعلق پاس کی گئی تھیں۔ پانچ اگست کے اقدام سے بھارت کا ہندو جنونیت اور انتہاپسندوں کا وہ قبیح چہرہ ضرور سامنے آیا ہے جو آج تک  'بھارتی سیکولرازم' کے پیچھے چھپا ہوا تھا۔ 
شائد بھارت ماضی اور حال ہی میں ہونے والے واقعات سے بھی سبق نہیں سیکھناچاہتا۔ بھارت نے 26 فروری کو اپنے طیارے بالاکوٹ بھیجے اس کے جواب میں27 فروری کو پاک فوج اور پاک فضائیہ نے جس مؤثر انداز سے بھارت کو جواب دیا اور اُن کے طیاروں کو مار گرایا وہ بھی روز ِروشن کی طرح عیاں ہے لیکن اس کے باوجود بھارتی فوج کے چیف جنرل بپن راوت نے ایک اور بیان داغا کہ وہ لائن آف کنٹرول کے اُس پار بھی جاسکتے ہیں۔ کسی فوج کے سربراہ  کی جانب سے ایسا بیان یقینا انتہائی مضحکہ خیز ہے جبکہ اُنہیں یہ بھی معلوم ہے کہ ماضی میں اُن کی نام نہاد جعلی سرجیکل سٹرائیک کا جس طرح سے بھانڈا پھوٹا اور 27 فروی کو لائن آف کنٹرول پر جو بھارت کے ساتھ ہوا،  پھر ایسی صورت حال میں ایک جنگی ہیجان بپا کرنا  دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر اور دیگر ایشوز سے ہٹانے کی ناکام کاوش کے سوا کچھ بھی نہیں۔
 پاکستان نے بہرطور مقبوضہ کشمیر کے واقعے کو دنیا کے ہرفورم پر اُجاگر کیا ہے اور بین الاقومی سطح پر بتایا ہے کہ کس طرح سے نہ صرف مقبوضہ کشمیر کے کروڑوں کشمیریوں کی زندگیوں کو اجیرن بنادیا گیا ہے بلکہ سیزفائر کی صریحاً خلاف ورزیوں اورآئے روز فائرنگ سے آزاد کشمیرکے معصوم شہریوں اور اُن کی املاک کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔بین الاقوامی طاقتوں اور اداروں بالخصوص اقوامِ متحدہ کو اس بابت اپنا مؤثر کردار ضرور ادا کرنا ہے کہ اگر بھارت کو اس کے گھنائونے عزائم کی تکمیل سے نہ روکا گیا تو خدانخواستہ خطہ جنوبی ایشیا اور دیگر خطے بھی کسی بہت بڑی تباہی سے دوچار ہوسکتے ہیں جس سے بچنے کے لئے اقوامِ عالم کو آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنا ہوںگے۔
 

یہ تحریر 118مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP