یوم آزادی

قیامِ پاکستان سے قائداعظم کے پاکستان تک

سوال یہ ہے کہ قیامِ پاکستان کی بنیاد کب رکھی گئی۔ آسمانی فیصلوں کی تکمیل اور خواب کو حقیقت بنتے صدیاں گزر جاتی ہیں۔ اس سوال کے جواب میں ہمیں تاریخِ فرشتہ سے رہنمائی لینی پڑے گی۔کیونکہ''تاریخِ فرشتہ'' ہندوستان کی قدیم تاریخ پر ایک مستند کتاب سمجھی جاتی ہے۔ تاریخِ فرشتہ کے صفحہ نمبر101 پر وہ خط درج ہے جو1192-93 میں شہاب الدین غوری نے پرتھوی راج کو لکھا تھا۔ پس منظر کے طور پر یاد رہے کہ شہاب الدین غوری اور پرتھوی راج کے درمیان 1192 میں جنگ ِ ترائن ہوئی جو اس لحاظ سے ایک فیصلہ کن معرکہ سمجھا جاتا ہے کہ اس جنگ نے ہندوستان میں مسلمانوں کے مستقبل کا فیصلہ کردیا اور مقامی  ہندو راجائوں کی کمر توڑ کر مسلمانوں کی حکمرانی کے لئے راہ ہموار کردی۔ اس دَور میں پرتھوی راج ہندوستان کا طاقتور ترین راجہ سمجھا جاتا تھا اور وہ جب غوری کے مقابلے میں ترائن (ترائوڑی) کے میدان میں اُترا تو اس کے ساتھ ہندوستان کے ڈیڑھ سو ہندو راجے ، تین لاکھ مسلح فوج اور تین ہزار ہاتھی تھے۔ جبکہ غوری کے پاس ایک لاکھ دس ہزار فوج تھی۔ یہ اس لحاظ سے ایک فیصلہ کن معرکہ تھا۔ اگر خدانخواستہ اس جنگ میں غوری کو شکست ہو جاتی تو پھر آئندہ شاید کوئی مسلمان فاتح صدیوں تک ہندوستان کا رُخ نہ کرتا اور نہ ہی ہندوستان میں پہلی اسلامی مملکت کی بنیاد رکھی جاتی۔ جس کا بانی شہاب الدین غور ی اور اس کا جرنیل قطب الدین سمجھا جاتا ہے۔

 اس دَور میں یہ بھی ایک رسم تھی کہ بادشاہان ایک دوسرے کے خلاف مقابلے کے لئے میدانِ جنگ میںاُترتے تو تلواریں اورنیزے اٹھانے سے پہلے ایک دوسرے کو شرائط بھجوائی جاتی تھیں۔ اگر کوئی فریق ان شرائط کو تسلیم کرلیتا تو جنگ ''صلح نامہ'' میں بدل جاتی ورنہ خون کی ندیاں بہتیں اور فتح وشکست کا واضح فیصلہ ہو جاتا۔ چنانچہ رسمِ دنیا کے مطابق شہاب الدین غوری نے جو خط پرتھوی راج کو لکھا اسے پڑھ کرمجھے محسوس ہوا کہ گویا پاکستان کی بنیاد کی پہلی اینٹ یہی تھی۔ اس خط میں شہاب الدین غوری نے لکھا کہ اگر تم صلح کرنا چاہتے ہوتو مجھے پنجاب ، سندھ اور سرحد کے علاقے دے دو باقی ہندوستان کے علاقے تم اپنے پاس رکھو ورنہ جنگ کے لئے تیار ہوجائو۔ بلوچستان کا اس میں ذکر نہیں تھا کیونکہ وہاں مسلمانوں کی حکمرانی تھی۔ تاریخی طور پر اس مطالبے کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ان علاقوں میں مسلمان مقابلتاً اکثریت میں تھے۔ یعنی ہندوستان کے دوسرے علاقوں کی نسبت یہاں مسلمانوں کی آبادی زیادہ تھی۔ گویا نظریاتی، مذہبی اور آبادی کے حوالوں سے ہندوستان جغرافیائی طور پر تقسیم ہو چکا تھا۔ جسے مؤرخین بعدازاں مسلم انڈیا اور ہندوانڈیا کے ناموں سے یاد کرتے رہے۔
جنگ ہوئی، پرتھوی راج کو اپنے ہندوستانی راجائوں سمیت شکست ہوئی، قطب الدین ایبک جو لاہور میںدفن ہے، فتوحات کے جھنڈے لہراتا دہلی پہنچ گیا۔ جسے اس نے اپنا مرکز بنایا اور ہندوستان میں پہلی اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی۔ اس سے قبل مسلمان فاتحین یہاں آتے رہے۔ جن میں غزنی خاندان خاص طور پر قابلِ ذکر ہے کیونکہ پنجاب غزنی سلطنت کا صوبہ رہا ہے۔ ان سے قبل 712ء میں محمدبن قاسم سندھ پر حملہ آور ہوا لیکن چند برس بعد715ء میں اسے واپس بلالیاگیا، جس کی وجہ سے یہاں مستحکم مسلمان سلطنت قائم نہ ہوسکی۔ بہرحال1192 تک ان علاقوںمیں مسلمان بقایا ہندوستان کی نسبت مقابلتاً اکثریت میں ہوچکے تھے اور اس میں سب سے اہم کردار صوفیاء اور اولیائے کرام کا تھا۔ جن کی نگاہ، اخلاق اورکردار نے غیر مسلموں کے دلوں کو مسخر کیا اور اسلام کی روشنی کو پھیلایا۔
اس میں دراصل قابلِ غور بات یہ ہے کہ وہ علاقے جن کا غوری مطالبہ کررہاتھا وہ جغرافیائی طور پر ایک دوسرے سے منسلک تھے۔ جبکہ بلوچستان پہلے ہی مسلمانوں کے زیرِ حکومت تھا اور یہ بات اس لئے کلیدی حیثیت رکھتی ہے کہ تحریکِ پاکستان کی بنیاد ہی اس اصولی مطالبے کے گرد گھومتی تھی کہ وہ علاقے جن میں مسلمان اکثریت میں ہیں اور جو جغرافیائی طور پر ایک دوسرے سے پیوست ہیں ان علاقوں پر مشتمل ایک آزاد مسلمان اسلامی مملکت قائم کی جائے۔ کیونکہ مسلمان دنیا کے ہر اصول اور معیار کے مطابق ایک الگ قوم ہیں۔ اگر آپ مارچ1940 کی قرارداد لاہور کا مطالعہ کریں یا علامہ اقبال کے خطبہ الٰہ آباد1930 کا یا علامہ اقبال کے خطوط بنام قائداعظم کایا پھر قائداعظم کی تقاریر کا… تو ان میں ہمیں ایک ہی تصور ملتا ہے کہ چونکہ مسلمان ایک قوم ہیں لہٰذا وہ ایک آزاد وطن کے مستحق ہیں۔ اس لئے ہندوستان کے وہ علاقے(پنجاب، سندھ ، سرحد اور بلوچستان) جن میں مسلمان اکثریت میں ہیں اور جوزمینی طور پرایک دوسرے سے منسلک ہیں ان پر مشتمل پاکستان کا قیام عمل میں لایا جائے۔
گویا یہ مشیتِ ایزدی تھی کہ 1192ء تک مسلمان پنجاب ، سندھ، سرحد اور بلوچستان کے علاقوں میں اکثریت میں ہوچکے تھے اور تقریباً ساڑھے سات  صدیاں قبل مطالبۂ پاکستان کے لئے زمین ہموار کرکے بنیاد رکھ دی گئی تھی ورنہ اگر مسلمان سرحد کے بعد یوپی اور پھر ان صوبوں میں اکثریت میں ہوتے جوجغرافیائی فاصلوں میںبٹے ہوئے تھے اور زمینی قربت سے محروم تھے تو کیا پاکستان کا مطالبہ کیا جاسکتا تھا اور اسے کوئی تسلیم کرتا؟ جواب ہے ناممکن۔ کیونکہ ہندوستان کے مختلف حصوں میں بکھرے ہوئے مسلمانوں کے لئے علیحدہ وطن کا مطالبہ نہیں کیا جاسکتا تھا، اس کی پہلی شرط جغرافیائی وحدت تھی اور اسی کی تشکیل میں مشیت ایزدی کی جھلک نظر آتی ہے۔ اس لئے مجھے کہنے دیجئے کہ قیامِ پاکستان کی بنیاد 1192ء میں رکھ دی گئی تھی، اس کی پہلی اینٹ غوری کا خط تھا اور پھر یہی خیال، آرزو اور مقصد صدیوں تک پھلتا پھولتا رہا۔ جب تک مسلمان کسی نہ کسی صورت ہندوستان پر حکمران تھے، اس آرزو کو مطالبہ بنانے کی ضرورت نہ تھی۔ لیکن جب وہ زوال کا شکار ہوئے اور محکوم ہوئے تو اُن کی یہی خواہش خواب بن کر نگاہوں میں بسنے اور جھلکنے لگی اور پھر منزل بن گئی۔ اس آرزو کی واضح صورت شاہ ولی اﷲ کے خطوط میں ملتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ قائداعظم اکثر اوقات کہا کرتے تھے کہ میرا کمال فقط یہ ہے کہ جو آرزو تمہارے اندر پرورش پا رہی تھی اور جو تم چاہتے تھے میںنے اس کا اظہار کردیا۔
آپ جانتے ہیں کہ یہ چند برس قائداعظم کے لئے مایوسی کا دور تھا۔ حتی کہ وہ مسلم لیگ کے ''تنِ مردہ'' اور مسلمان عوام کی بے حسی سے دل شکستہ ہو کر سیاست سے تائب ہوگئے اور انگلستان چلے گئے۔ سیاست کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ چھٹتی نہیں ہے، منہ سے یہ کافر لگی ہوئی اورپھر خاص طور پر محمدعلی جناح جیسا شخص جس کے رگ و پے میں مسلمانوں کی محبت، ان کے مستقبل سے وابستہ خطرات اور ان کی کسمپرسی کا احساس موجزن تھا۔ وہ بظاہر الگ تھلگ ہونے کے باوجود اپنی قوم سے الگ تھلگ نہیں رہ سکتا تھا۔ انگلستان جانے سے قبل اور1934میں انگلستان سے واپسی کے بعد کی قائداعظم کی تقریر کا تقابل کیا جائے تو ان میں ایک واضح ارتقاء اور نظریاتی پختگی نظر آتی ہے۔ گویا مسلمانوں کی سرد مہری سے روٹھ کر انگلستان چلے جانا قائداعظم کے لئے اس لحاظ سے بہتر ثابت ہوا کہ انگلستان کی نسبتاًکم ہنگامہ خیز زندگی میں انہیں وکالت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے ماضی، مسائل، نفسیات، فکری میلان اور مستقبل پر گہرے غورو خوض کا موقع ملا۔ کیونکہ ہندوستان سے جانے کے بعد وہ روز مرہ کی سیاسی سرگرمیوں، جلسے جلوسوں اور دیگر مصروفیات سے آزاد ہوگئے تھے۔ انگلستان جانے سے قبل وہ1920 میں ناگپور کے کانگریسی جلسے کے بعد کانگریس سے مستعفی ہوچکے تھے اور 1928 میں نہرو رپورٹ کی اشاعت کے بعد مسلمانوں اور ہندوئوں کے راستوں کے جدا جدا ہونے کا اعلان کر چکے تھے۔ نہرو رپورٹ پر قائداعظم کا وہ ببانگ دہل رد عمل یاد کیجئے جس میں انہوں نےParting Of the Ways کا اعلان کرکے علیحدگی کی بنیاد رکھ دی تھی۔
انگلستان سے حصولِ تعلیم کے بعد جب نوجوان قائداعظم 1896 میں ہندوستان آئے تو وہ مسلمانوں کو ایک اقلیت کہتے تھے اور اقلیت کے حوالے ہی سے قانون ساز اسمبلیوں سے لے کر سیاسی پلیٹ فارم تک مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کے لئے جدوجہد کرتے رہے۔ وقف الادد کے قانون سے لے کر لکھنؤ پیکٹ تک قائداعظم کی حکمت عملی کے پس پردہ یہی سوچ کارفرما نظر آتی ہے لیکن1934 میں ہندوستان دوبارہ واپسی کے بعد قائداعظم کے ویژن میں ایک نمایاں پختگی نظر آتی ہے۔ اب وہ اقلیت کے سیاسی فلسفے سے آگے نکل کر مسلمان قومیت کے نقطہ ارتقاء پر پہنچ چکے تھے۔ چنانچہ اب ان کی تقاریر کا مرکزی خیال  یہ تھا کہ مسلمان ایک قوم ہیں، ان کا مذہب، کلچر، رسم و رواج، تاریخ حتیٰ کہ ہر شے ہندوئوں سے مختلف ہے، اس لئے وہ ایک الگ وطن کا مطالبہ کرتے ہیں جہاں وہ اپنے اصولوں کے مطابق آزادانہ زندگی گزار سکیں۔1944 میں ایک سوال کے جواب میں قائداعظم نے یہ واضح کیا تھا کہ جب تک ہم اقلیت کی بات کرتے تھے ہمیں تحفظات کی ضرورت تھی ،ہم زندگی کے ہر شعبے میں اپنا حصہ مانگتے تھے لیکن دراصل ہم ہراصول کے مطابق ایک قوم ہیں اور بحیثیت قوم ہمیں ایک علیحدہ وطن کی ضرورت ہے۔ یہ ہمارا حق ہے اور ہم یہ لے کر رہیں گے۔ قائداعظم کی سیاسی فکرکے ارتقاء کا یہ سنگِ میل ہی بالآخر پاکستان کی بنیاد بنا ہے۔
نتیجہ کیا نکلا… اس کی وضاحت خود قائداعظم نے بار ہا اپنی تقاریر میں کی ہے۔…  میں کہہ چکا ہوںکہ قائداعظم مسلم لیگ کی ''مردہ تنی'' اور مسلمان عوام کی سردمہری سے دل گرفتہ ہو کر انگلستان چلے گئے تھے۔ لیکن وہ اب واپس آئے تو انہوںنے دو تین برس دن رات محنت کرکے مسلم لیگ کو منظم کیا اور مسلمان عوام کو یہ احساس دلاکر جگایا کہ وہ ایک منفرد قوم ہیں اور ایک الگ خطہ زمین ان کی منزل  ہے تو پھر وہی مسلمان عوام جوق در جوق مسلم لیگ کی صفوں میں شامل ہونے لگے اور بقول قائداعظم : '' وہ مسلم لیگ جسے کل تک کوئی پوچھتا نہ تھا، جس کا کہیں ذکر نہیں ہوتا تھا، اب اس قدر اہم ہوگئی ہے کہ انگلستان  سے لے کر امریکہ تک ہر روز اس کا ذکر ہوتا ہے۔ مجھ پر نوازشات کی بارش کی جاتی ہے اور مجھے ہندوستان کی وزارتِ عظمیٰ کا تاج پیش کیا جاتا ہے۔'' ان چند برسوں میں مسلم لیگ کس طرح ایک عوامی قوت بنی ہے اس صورت حال کا نقشہ قائداعظم کے الفاظ میںملاحظہ فرمایئے:
"Five Years ago did Anyone talk about us... There is now not a day when every newspaper , friendly or unfriendly does not talk about The Muslim League... Flattering references are often made to me...our friends went so far as to offer me the crown of the premier of this great united India"
(قائداعظم کی تقریر9مارچ1944)

چنانچہ قائداعظم نے اس موقع پر یہ واضح کیا کہ یہ تبدیلی مسلمان عوام کی حمایت کی مرہونِ منت ہے اور ہمیں کوئی پیشکش، جبر یا قوت اپنے راستے سے نہیں ہٹا سکتی۔
قائداعظم کا فکری پس منظر کیا تھا، وہ خلوصِ نیت سے کیا محسوس کرتے تھے اور انہوں نے پاکستان کا تصور کہاں سے لیا تھا، اس موضوع  پر قائداعظم کی متعدد تقریریں ملتی ہیں لیکن میں آج ان کی علی گڑھ والی 8مارچ1944 کی تقریر کے چند فقرے آپ کی خدمت میں پیش کررہا ہوں جن سے آپ کو ان سوالات کا جواب ملے گا۔ نظریاتی حوالے سے یہ ایک اہم تقریر ہے اور قائداعظم کی مثبت ذہنی روش پر روشنی ڈالتی ہے۔ اسے سمجھنا اس لئے ضروری ہے کہ بہت سے پاکستانی دانشور دوقومی نظریئے کے منکر ہیں، وہ نظریاتی حوالے سے قائداعظم کو سیکولر سمجھتے ہیں جبکہ ہندوستانی مصنفین پاکستان کو منفی سیاست کا شاخسانہ کہتے ہیں۔ بہت سی دیگر تقریروں کی مانند، یہ تقریر ثابت کرتی ہے کہ قائداعظم نظریاتی لیڈر تھے اور ان کی نظریاتی اساس نہایت پختہ تھی۔ انہوںنے کہا:

    "Pakistan was not product of the conduct or misconduct of Hindus. It has always been there; only they were not conscious of it. Hindus and Muslims, though living in the same towns and villages, had never been blended into one nation; they were always two separate entities."
    Tracing the history of the beginning of Islam in India, Quiad-e-Azam proved that Pakistan started the moment the first non-Muslim was converted to Islam in India long before the Muslims established their rule. As soon as a Hindu embraced Islam he was outcast not only religiously but also socially, culturally and economically. As for the Muslim, it was a duty imposed on him by Islam not to merge his identity and individuality in any alien society. Throughout the ages Hindus had remained Hindus and Muslim had remained Muslim, and they had not merged their entities-that was the basis for Pakistan." In a gathering of high European and American officials he was asked as to who was the author of Pakistan. Mr. Jinnah's reply was 'Every Mussalman.'
(Speech at Aligrah.The Dawn,March 10,1944)

ترجمہ:  پاکستان ہندوئوں کے مناسب یا غیر مناسب رویے کی پیداوار نہیں۔ یہ ہمیشہ موجود رہا ہے۔ صرف انہیں اس کا شعور نہیں تھا۔ ہندواور مسلمان اکٹھے رہنے کے باوجود کبھی ایک قوم نہیں بنے، ان کا تشخص ہمیشہ جدا جدا رہا ہے۔ پاکستان اسی روز بن گیا تھا جب مسلمانوں کی آمد سے بہت عرصہ قبل پہلا غیر مسلمان اسلام کے دائرے میں شامل ہوا تھا۔جونہی ایک ہندو مسلمان ہوتا ہے وہ مذہبی، سماجی ، ثقافتی اور معاشی طور پر اپنے ماضی سے کٹ جاتا ہے۔ مسلمان اپنی انفرادیت اور تشخض کسی بھی معاشرے میں ضم نہیں کرسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ صدیوں تک اکٹھے رہنے کے باوجود ہندو ہندواور مسلمان مسلمان رہے ہیں اور یہی پاکستان کی بنیاد ہے۔ 
یورپین اور امریکی باشندوں کے اس اجتماع میں ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان کا خالق کون تھا توجناح کا جواب تھا ہر مسلمان۔''
(علی گڑھ میں تقریر: 8 مارچ1944۔ ڈان10مارچ1944)
قائداعظم کے الفاظ پر کھلے ذہن سے غور کیجئے، ان کا مدعا اور معانی سمجھنے کی کوشش کیجئے کیونکہ دراصل قائداعظم نے ان الفاظ کے ذریعے اپنی تاریخ اور مسلمانوں کے فکری شعور کے سمندر کو کوزے میں بند کردیا تھا اور واضح کردیا تھا کہ مطالبہ پاکستان کسی منفی جذبے یا محرک کی پیداوار نہیں بلکہ ہماری صدیوں پر محیط تاریخ کا نچوڑ اور نتیجہ ہے اور یہ کہ پاکستان کا مطالبہ دو قومی نظریے کی بنیاد پرکیا جارہا ہے جو کہ تاریخ کی ایک اٹل حقیقت  ہے۔ قائداعظم نے کئی مواقع پر کہا کہ اس میں میرا کوئی کمال نہیں، میںنے پاکستان کا مطالبہ کرکے فقط مسلمانانِ ہند کی دیرینہ خواہش اور قلبی آرزو کا اظہار کیا ہے جس نے مسلم لیگ کی مقبولیت کو چند برسوں کے عرصے میں چار چاند لگا دیئے ہیں۔ 8 مارچ کی تقریر کے بعد بھی جب ان سے کسی غیر ملکی مہمان نے پوچھا کہ پاکستان کا مصنف یا خالق کون ہے تو قائداعظم نے وہی بات کی کہ پاکستان کے تصور کا خالق ہر مسلمان ہے یعنی یہ مسلمان کے دل کی آواز ہے اور ہر مسلمان کی آنکھ کا خواب ہے۔ اب آپ ہی بتایئے کیا قائداعظم ایک نظریاتی انسان نہیں تھے اور کیا پاکستان ایک نظریے کی پیداوار نہیں ہے۔؟
بدقسمتی سے قائداعظم کی شخصیت کے اس پہلو کی طرف بہت کم توجہ دی گئی ہے۔ اس لئے میں قائداعظم کی آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس منعقدہ 1939ئ، میں کی گئی تقریر کے چند فقرے نمونے کے طور پر پیش کررہا ہوں۔ انہیں پڑھئے اور ان الفاظ کے باطن میں جھانکئے تو آپ کو اصل جناح کا سراغ ملے گا۔ وہ جناح جو بظاہر انگریزی بولتا، مغربی لباس پہنتا اور مغربی طور طریقوں پر عمل کرتا تھا، لیکن باطنی طور کیا تھا۔ قائداعظم کے الفاظ تھے: 
''مسلمانو! میںنے دنیا کو بہت دیکھا، دولت، شہرت اور عیش و عشرت کے بہت لطف اٹھائے۔ اب میری زندگی کی واحد تمنا یہ ہے کہ مسلمانوں کو آزاد اور سر بلند دیکھوں۔ میں چاہتا ہوں کہ جب مروں تو یہ یقین اور اطمینان لے کر مروں کہ میرا ضمیر اور میرا خدا گواہی دے رہا ہو کہ جناح نے اسلام سے خیانت اور غداری نہیں کی۔ میں آپ کی داد اور شہادت کا طلب گار نہیں ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ مرتے دم میرا اپنا دل، ایمان اور میرا ضمیرگواہی دے کہ جناح تم نے مدافعتِ اسلام کا حق ادا کردیا۔ جناح تم مسلمانوں کی حمایت کا فرض بجالائے۔ میرا خدا یہ کہے کہ بیشک تم مسلمان پیدا ہوئے اور کفر کی طاقتوں کے غلبے میں علم اسلام کو سربلند رکھتے ہوئے مسلمان مرے۔''
یومِ حساب، خدا کے حضور سرخروئی کا خیال، مسلمانوں اور اسلام کی سربلندی کا علم بلند کئے ہوئے مرنے کی آرزو اور رضائے الٰہی کی تمنا صرف اور صرف وہ شخص کرسکتا ہے جو سچا مسلمان ہو اور جس کا باطن خوفِ خدا کے نور سے منور ہو۔ غور کیجئے کہ جب قائداعظم نے یہ تقریر کی اس وقت اُن کی عمر تقریباً 53 سال تھی اور ان کی شہرت اوجِ ثریا پر تھی۔
دراصل قائداعظم کو زندگی بھر اقلیتوں کے مسئلے سے واسطہ رہا اور وہ اس سے نمٹنے کی کوشش کرتے رہے۔ متحدہ ہندوستان میں مسلمان سب سے بڑی اقلیت تھے اور اس اقلیت کے سب سے بڑے رہنما محمدعلی جناح تھے۔ چنانچہ متحدہ ہندوستان کا خواب ٹوٹنے کے بعد (جس کا نقطہ عروج 1928کی نہرو رپورٹ کو قرار دیا جاسکتا ہے  کیونکہ قائداعظم نے اسے پارٹنگ آف دی ویز یعنی راستوں کی علیحدگی قرار دیا تھا) قائداعظم پہلے پہل مسلمان اقلیت کے حقوق اور بعدازاں مسلمان قوم کے حقوق کے لئے اس وقت تک مسلسل لڑتے رہے، جدوجہد کرتے رہے جب تک قیامِ پاکستان کے امکانات واضح نہیں ہوئے۔ مسلمان اقلیت سے مسلمان قوم کے سفر میں1940 کی قرار داد لاہور یا قراردادِ پاکستان ایک طرح سے اہم ترین سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ اس کے بعد قائداعظم اور مسلم لیگ کا مؤقف یہ رہا کہ مسلمان ایک اقلیت نہیں بلکہ ہر تعریف ، معیار اور تصور کے مطابق ایک قوم ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس قومیت کی اہم ترین بنیاد مذہب تھی۔ اسی طرح جب قیامِ پاکستان کا مرحلہ قریب آیا تو قائداعظم کے لئے  سب سے اہم سوال اور مسئلہ پھر اقلیتوں کا تھا۔ کیونکہ پاکستان میں بھی کئی مذہبی اقلیتیں آباد تھیں اور ادھر ہندوستان میں بھی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کی ہی تھی جس کے تحفظ کے لئے قائداعظم پریشان رہتے تھے۔ چنانچہ قیامِ پاکستان سے چند ماہ قبل اور چند ماہ بعد تک ان سے بار ہا اقلیتوں کے مستقبل کے بارے میں سوالات پوچھے جاتے رہے جس کی وہ بار بار وضاحت کرتے رہے۔ اس دَور میں قائداعظم نے جو تقاریر کیںیا بیان دیئے ان کا صحیح مفہوم سمجھنے کے لئے اُن کا مطالبہ اس مسئلے کے تناظر میں کرنا چاہئے۔
اس ضمن میں قائداعظم کے ذہن اور فکرکو سمجھنے کے لئے ان کی اس پریس کانفرنس کا حوالہ دینا ضروری ہے جو انہوں نے پاکستان کا گورنر جنرل نامزد ہونے کے بعد 14 جولائی1947 کو نئی دہلی میں کی۔ اقلیتوں کے ضمن میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوںنے کہا: 
''میں اب تک بار بار جو کچھ کہتا رہا ہوں اس پر قائم ہوں ۔ ہر اقلیت کو تحفظ دیا جائے گا۔ ان کی مذہبی رسومات میں دخل نہیں دیا جائے گا اور ان کے مذہب ، اعتقاد ، جان و مال اور کلچر کی پوری حفاظت کی جائے گی۔ وہ ہرلحاظ سے پاکستان کے برابر کے شہری ہوں گے۔'' تو قائداعظم نے کہا: ''آپ مجھ سے ایک فضول سوال پوچھ رہے ہیں۔ گویا میں اب تک جو کچھ کہتا رہا ہوں وہ رائیگاں گیا ہے۔ آپ جب جمہوریت کی بات کرتے ہیں تو مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آپ نے اسلام کا مطالعہ نہیں کیا۔ ہم نے جمہوریت1300سال قبل سیکھ لی تھی۔'' سوال یہ ہے کہ 1300سال قبل مسلمانوں نے کون سی جمہوریت سیکھی تھی؟ کیا وہ سیکولر جمہوریت تھی یا اسلامی جمہوریت؟ ان دونوں تصورات میں ایک واضح فرق ہے  جسے ذہن میں رکھنا چاہئے، وہ یہ کہ مغربی جمہوریت کے مطابق مذہب اور سیاست ایک دوسرے سے بالکل الگ اور لاتعلق ہوتے ہیں۔ یہ لوگوں کا انفرادی معاملہ سمجھا جاتا ہے جبکہ مسلمانوں کے نزدیک اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اس لئے اس کی سیاست بھی اسلامی اصولوں کے تابع ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ قائداعظم پاکستان کو ایک ماڈرن اسلامی جمہوری ملک بنانا چاہتے تھے اور ان کے نزدیک اسلامی اور جمہوری اصولوں میں کوئی تضاد نہیں تھا۔ قائداعظم کی تقاریر کا مطالعہ کریں تو یہ راز کھلتا ہے کہ قائداعظم نے اپنی تقریروں میں کبھی بھی لفظ سیکولرازم استعمال نہیں کیا جبکہ اسلام ان کی تقریروں اور تحریروں کا محور نظر آتا ہے۔
یوں تو قائداعظم کی تقاریر میں بہت سے حوالے ملتے ہیں جن سے اندازہ ہوگا کہ قائداعظم کے خیالات میںایک تسلسل تھا اور وہ مسلسل پاکستان میں اسلامی جمہوری نظام کا تصور پیش کرتے رہے بلکہ وعدہ کرتے رہے لیکن میں اس حوالے سے چند ایک اقتباسات پیش کررہا ہو ں جن سے قائداعظم کی سوچ اور وژن سمجھنے میں مدد ملے گی۔
نومبر1945 میں قائداعظم نے پشاور میں کہا:
''آپ نے سپاسنامے میں مجھ سے پوچھا ہے کہ پاکستان میں کون سا قانون ہوگا۔ مجھے آپ کے سوال پر سخت افسوس ہے۔ مسلمانوں کا ایک خدا، ایک رسولۖ اور ایک کتاب ہے، یہی مسلمانوں کا قانون ہے اور بس۔ اسلام پاکستان کے قانون کی بنیاد ہوگا اور پاکستان میں کوئی قانون اسلام کے خلاف نہیں ہوگا۔''
14فروری1947 کو شاہی دربار سبی ، بلوچستان میں تقریر کرتے ہوئے کہا''میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات اس اسوئہ حسنہ پر چلنے میں ہے جو ہمیں قانون عطا کرنے والے پیغمبرِ اسلام ۖ نے دیا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی جمہوریت کی بنیاد صحیح معنوں میں اسلامی تصورات اور اصولوں پر رکھیں۔''
30 اکتوبر1947 کو لاہور میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا:  ''اگر ہم قرآنِ حکیم سے رہنمائی حاصل کریں تو بالآخر فتح ہماری ہوگی۔ میراآپ تمام لوگوں سے یہی مطالبہ ہے کہ پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے کے لئے بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہ کریں۔''
25 جنوری1948 کو عید میلاد النبیۖ کے موقع پر کراچی بار ایسوسی ایشن کے استقبالئے میں تقریر کرتے ہوئے قائداعظم نے وکلاء کے سامنے ان حضرات کو بے نقاب کیا جو ان کے حوالے سے غلط فہمیاں پھیلا رہے تھے۔ اس وقت قائدِاعظم پاکستان کے گونر جنرل بھی تھے اس لئے ان کے منہ سے نکلاہوا ہر لفظ ''پالیسی بیان'' کی حیثیت رکھتا تھا۔ قائداعظم کے الفاظ پرغور کیجئے اور ان الفاظ کے آئینے میں ان چہروں کو تلاش کیجئے جنہیں قائداعظم نے شرارتی اور منافق کہا۔ قائداعظم نے کہا: ''میں ان لوگوں کے عزائم نہیں سمجھ سکا جو جان بوجھ کر شرارت کررہے ہیں اور یہ پراپیگنڈہ کررہے ہیں کہ پاکستان کے آئین کی بنیاد شریعت پر نہیں ہوگی۔ ہماری زندگی پر آج بھی اسلامی اصولوں کا اسی طرح اطلاق ہوتا ہے جس طرح 1300 سال پہلے ہوتا تھا۔ اسلام نے ہمیں جمہوریت سکھائی ہے اور مساوات اور انصاف کا سبق دیا ہے اس لئے کسی کو بھی خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔''
پھر فروری1948 میںقائداعظم نے امریکی عوام کے نام ایک ریڈیو پیغام میںیہ واضح الفاظ کہہ کر نہ صرف ہر قسم کے شکوک و شبہات کی دھند صاف کردی بلکہ اس بحث کو بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سمیٹ دیا۔ قائداعظم نے فرمایا : ''پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے ابھی دستور بنانا ہے۔ مجھے علم نہیں کہ اس کی حتمی شکل و صورت کیا ہوگی؟ لیکن مجھے یقین ہے کہ پاکستان کا آئین جمہوری قسم کا ہوگا جسے اسلام کے بنیادی اصولوں کے مطابق تشکیل دیا جائے گا۔ اسلام کے اصول آج بھی عملی زندگی پر اسی طرح لاگو ہوتے ہیں جس طرح 1300 برس قبل ہوتے تھے۔ اسلام نے ہمیں جمہوریت سکھائی ہے اور مساوات اور انصاف کا سبق دیا ہے۔ ہم ان شاندار روایات کے امین اور وارث ہیں اور دستورسازی میں انہی سے رہنمائی حاصل کی جائے گی۔ بہرحال پاکستان ایک تھیوکریٹ(مذہبی ریاست) نہیں ہوگی۔''
قائداعظم مسلسل یہ کہتے رہے کہ اسلام مکمل ضابطۂ حیات ہے، سیرت النبیۖ ہمارے لئے اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔ جمہوریت، مساوات اور انصاف ہم نے اسلام سے سیکھا ہے اور اسلام نے جمہوریت کی بنیاد 1300 برس قبل رکھ دی تھی اس لئے ہمارے لئے یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ پاکستان میںاقلیتوں کو برابر کے حقوق حاصل ہوں گے اور یہ کہ ہمارے نبی کریم ۖ نے یہودیوں ، عیسائیوں سے جس فراخدلی کا مظاہرہ کیا تھا ہم اس پر عمل کریں گے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ پاکستان کے آئین کی بنیاد شریعت پر نہیں رکھی جائے گی وہ سازشی اور منافق ہیں۔ آخر میں یہ کہہ کر تمام شکوک و شبہات کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی کہ پاکستان کا آئین جمہوری ہوگا اور اس کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی جائے گی۔ گویا جہاں تک نظامِ حکومت کا تعلق ہے قائداعظم کا تصورِ پاکستان پوری طرح واضح ہے اور وہ یہ کہ قائداعظم ایک اسلامی جمہوری اور فلاحی پاکستان چاہتے تھے اور اگر وہ زندہ رہتے تو ہمارا آئین یقینا انہیں بنیادوں پر تشکیل دیا جاتا۔


مضمون نگار ممتاز محقق اور دانشور ہیں۔ ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ پاکستانیات کے حوالے سے وہ ایک مستند شناخت رکھتے ہیں۔ 
[email protected]
 

یہ تحریر 59مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP