قومی و بین الاقوامی ایشوز

قوم کو درپیش چیلنجز میں پاک فوج کی معاونت

ملک کو درپیش قیام امن کے مسائل ہوں یامادر وطن کی سرحدوں کی حفاظت،قومی انتخابات ہوںیاقدرتی آفات ہماری افواج ہم وطنوں کے ساتھ کھڑی دکھائی دیتی ہیں۔ اسی طرح شجر کاری مہم میں آگے آگے ہوتے ہیں تو، پولیو کے خاتمے کے لئے پرعزم، وطن عزیز کی سرحدوں کے ساتھ  ملک کی فصلوں کو ٹڈی دل سے بچائو کے لئے بھی ہر دم تیار اور عالمی وبا انسداد کرونا کے لیے بھی کمر بستہ دکھائی دینے والے میرے دھرتی کے جوان میری طرح ہر پاکستانی کی آنکھ کا تارا ہیں۔



 پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل، میجر جنرل بابر افتخار نے اپنے ایک بیان میں2021 تک پاکستان کو پولیو فری بنانے کے لئے چالیس ملین بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلانے کا چیلنج قبول کیا، جس کے تحت پاک فوج کے جوانوں کی پولیو ورکرز کے ساتھ ڈیوٹیز لگائی گئیں تاکہ محفوظ ماحول میں ہیلتھ ورکرز کی ٹیمیں دلجمعی کے ساتھ اپنے امور سر انجام دیںاور مادر وطن کا مستقبل معذوری سے محفوظ  رہے۔انسداد پولیو مہم بعض قبائلی علاقوں میں غیر شرعی اور حرام سمجھی جاتی ہے۔ وہاں ہیلتھ ورکرز کے کام میں رخنہ ڈالا جاتا ہے، اس لئے پاک فوج نے اپنی ذمہ داری کو اس محاذ پر بھی احسن طریقے سے ادا کیا۔ 
جنوری 2020 میں ٹڈی دل نے فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا جس کا فوری سدباب ضروری تھا جس کے پیش نظر وزیراعظم عمران خان نے ملک میں ٹڈیوں کے خلاف بروقت اور مؤثر نیشنل ایکشن پلان کا اعلان کیا۔اس سلسلے میں قومی سطح پر نیشنل لوکسٹ کنٹرول سنٹرکا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس کے تحت ملک بھر میں سروے اور کنٹرول آپریشنز شروع کیے گئے۔ 
غذائی و زرعی معیشت کے تحفظ اور ٹڈی دل کے مؤثر تدارک کے لئے تقریباً دس ہزار جوان و افسران نے ملک کو غذائی قلت سے بچانے کے لئے اہم  ڈیوٹی سرانجام  دی۔اس موقع پرچیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نیشنل لوکسٹ کنٹرول سنٹر کا دورہ کیا. انجنیئر ان چیف لیفٹیننٹ جنرل معظم اعجاز، چیف کوآرڈینیٹرنیشنل لوکسٹ کنٹرول سنٹرنے ٹڈیوں کے خطرے سے نمٹنے کے لئے کی گئیں کوششوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نیشنل ایکشن پلان کے مطابق قومی کوششوں کو ہم آہنگ کرنے میں نیشنل لوکسٹ کنٹرول سنٹر کے کردار کو سراہا اور ٹڈیوں کے خطرے سے نمٹنے کے لئے سول انتظامیہ کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ محکمہ زراعت کو پاک فوج کی جانب سے ٹڈی دل کے مکمل خاتمے کے لئے جدید سپرے مشینیں فراہم کی گئیں،علاوہ ازیںجدید زمینی اسپرے کی مشینیں، وافر مقدار میں زرعی ادویات، پاک فوج کے ہوائی جہازاور ہیلی کاپٹر بھی صوبوں کی مدد کے لئے فراہم کیے گئے ۔ 
افواج پاکستان ہر کٹھن مرحلہ پر ہمیشہ عوام کی امنگوں پر پورا اتری ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا قدرتی آفات کے پیشِ نظر اقدامات کی بہتر کوشش کرنا، ہر مشکل گھڑی میں فوج نے عوام کی پکار پر لبیک کہا ہے۔
اسی تناظر میں عالمی وبا کرونا نے جب پاکستان کا رخ کیا تو پاک فوج نے اس امتحان سے نمٹنے کے لئے بھی ملک و قوم کو تنہا نہیں چھوڑا۔
 آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی خصوصی ہدایات پر پاک فوج کے جوان سول انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ اس تناظر میں آرمی چیف نے اپنی ایک ماہ، افسران کی دودن اور جوانوں کی ایک دن کی تنخواہ کرونا کے ریلیف فنڈ میں جمع کرائی ۔
کرونا کے خلاف جنگ کے محاذ پر ملک کے دیگر شہروں کی طرح کراچی میں بھی پاک فوج کے جوانوں نے گرانقدر محنت کی۔ آرمی اور حکومت سندھ نے محدود وسائل میں بہترین امور سر انجام دینے کا احسن اقدام کیا ہے۔



اس حوالے سے ایکسپو سینٹر کراچی میں فیلڈہسپتال قائم کیا گیا، جو ابتدا میں 1200 بستروں پر مشتمل رہا بعد ازاں اس تعداد میں دوہزار کا  اضافہ کیا گیا۔ سویلین رضا کاروں سمیت پاک آرمی کے پیرامیڈیکل سٹاف نے فیلڈ ہسپتال ایکسپوسینٹر میں اپنے فرائض سرانجام دیئے، واضح رہے، سویلین اور آرمی پیرا میڈیکل اور دیگرسٹاف نے کرونا کے خلاف جنگ میں اپنے آپ کو رضا کار کے طور پر پیش کیا ہے، فیلڈ ہسپتال کے باقاعدہ قیام سے قبل اعلیٰ سول اور فوجی حکام نے کیمپ کا دورہ کرکے تیاریوں کا جائزہ بھی لیا۔اس موقع پر انہوں نے مریضوں کو فراہم کردہ سہولیات اور حفظان صحت کے اصولوں کی پاسداری یقینی بنانے کی مکمل ہدایات دیں جن پر پابندی سے عمل ہورہا ہے۔ فیلڈ ہسپتال میں باقاعدہ سپرے کیا جاتا ہے، مریضوں کوان کی کنڈیشن دیکھ کر بذریعہ ایمبولنس یا پیدل ہسپتال کے اندر لایا جا تا ہے جہاں ان کے چیک اپ کے بعد ان کی آئسولیشن ہال تک رسائی ممکن کی جاتی ہے۔ آئسولیشن سینٹر مکمل ائیر کنڈیشن ہے لیکن اگر کسی کو یہ ماحول مناسب نہیں لگتا تو اس کی منشا کے لحاظ سے بھی مکمل انتظامات کیے گئے ہیں۔ مر یضوں کے لئے بہترین بستر،صاف ستھرے لباس سمیت اچھا کھانا، جوسز اور ادویات کی فراہمی بھی یقینی بنائی گئی ہے۔ جدید تقاضوں کے پیش نظر فیلڈ ہسپتال کو وائی فائی کی سہولت سے بھی مزین کیا گیا ہے جبکہ پیرا میڈیکل سٹاف اور رضا کارو ں سمیت عملے کے ہر ذمہ دار کو مخصوص لباس کے ساتھ ہر سہولت دینے کی بھی بھرپور کوشش کی گئی ہے۔
علاوہ ازیں سوک سینٹر میں بھی پاک آرمی کے تعاون سے کرونا بچائو کیمپ بھی قائم کیا گیا ہے یہاں بھی مر یضوں کی نگہداشت کا انتظام کیا گیا ہے۔ سندھ حکومت نے ایکسپو سینٹر کراچی کے انتظامات کو سراہا ہے۔
کرونا سے بچائو کے لئے پاکستان آ رمی کی جانب سے کراچی ائیر پورٹ پر وائرس کی تشخیص کے لیے سکریننگ کی سہولیات فراہم کرنے کا بھی اہتمام کیا گیاہے۔
کرونا سے تحفظ کے لئے لاک ڈائون کی صورتحال میں بھی پاکستان آرمی حکومت کے ساتھ متحرک ہے ، آرمی چیف کی خصوصی ہدایت پر سارے ملٹری ہسپتال میں کووڈ-19 معاونت ڈیسک تشکیل دیئے گئے۔
 امن ہو یا جنگ، قدرتی آفات ہوں یا کوئی بھی ہنگامی صورتحال، پاک فوج ہر حال میں ملک کی حفاظت کے لیے کوشاں ہے۔ پاک فوج کے جوان سے لے کر افسر سب کا مقصد مادر وطن کی خاطر جان قربان کرنا ہے، چاہے گرمی ہو یا سردی، سیاچن کے گلیشئر ہوں یا ریگستان غرض ہر طرح کے موسم اور حالات میں جانفشانی اور عزم و حوصلے کے ساتھ اپنی جان ہتھیلی پر لیے گھر سے دُور ملک کی سالمیت میں مگن ہیں۔
پاک فوج کے جوانوں نے سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اندرون ملک آنے والی قدرتی آفات میں بھی عوام کی امداد و بحالی کے لیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں اسی وجہ سے عوام کو  پاک فوج سے بہت  محبت ہے۔ اسی لئے سرحد پار دشمن کے اشاروں پر ناچنے والے چندعاقبت نااندیش لوگ  ہزارہا کوششوں کے باوجود کامیاب نہیں ہوسکے۔یہ دہشتگرد عناصر ریاست کو کمزور کرنے کے لئے عوام اور فوج کے درمیان خلا  پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ نادان یہ نہیں جانتے جو لوگ شہادت کے لئے وردی زیب تن کرتے، ان لوگوں کی سانسوں کی حفاظت موت کرتی ہے۔ پروردگار ان کی توقیر کا محافظ ہوتا ہے، یہ مٹھی بھر عناصر اپنی شیطانی چالوں سے باز تو نہیں آنے والے مگر اللہ حق ہے وہ سب سچ عوام کے سامنے لے آتا ہے جس کے تحت سرحدوں پر کھڑے جوانوں کو دیکھ کر، قدرتی آفات میں مدد کے لئے تیار وطن کے پاسبانوں کو دیکھ کر، ہنگامی حالات میں نڈر شیروں کو دیکھ کر، دہشتگردی، وبا سمیت دیگر چینلج کے خاتمے کے لئے ہر گھڑی تیار و کامران سپاہوں کو دیکھ کر بے اختیار ہر پاکستانی پاک فوج زندہ باد کا فلک شگاف نعرہ بلند کرتا ہے۔ ||


مضمون نگار مختلف موضوعات پر لکھتی ہیں
[email protected]
 

یہ تحریر 194مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP