اداریہ

قومی کردار اور ملکی ترقی

 قوموں کی ترقی ان کے مجموعی کردار سے مشروط ہوا کرتی ہے جو معاشرے اور سماج، انصاف،رواداری اور یگانگت کی بنیادوں پر استوار ہوتے ہیں وہ ہر میدان میں باوقار سطح پر دکھائی دیتے ہیں۔ دوسری صورت میں ملک اور قوم دونوں پستی کی دلدل میں پھنستے چلے جاتے ہیں۔ وطنِ عزیز بانیٔ پاکستان محمد علی جناح  کی قیادت میں اُنہی بنیادوں پر قائم ہوا جن پر چل کر بہت سی قومیں آج دنیا کی کامیاب ترین اقوام میں شمار ہوتی ہیں۔ شومیٔ قسمت کہ قیامِ پاکستان کے کچھ ہی عرصے بعد بانیِ پاکستان کی رحلت کی بناء پر یہ ملک اپنے مقاصد اور ڈگر سے ہٹتا چلا گیا۔  مذہبی ، سیاسی اور باہمی منافرت نے ملک میں شدت پسندی کو فروغ دیا جس نے ملک میں جاری ترقی کے عمل کو تہس نہس کرکے رکھ دیا۔ جب نائن الیون کے بعد بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی کا عفریت سامنے آیا تو اُس کے خاتمے کے لئے پاکستان نے دیگر ممالک کی نسبت اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کیا۔ یقینا پاکستان نے اس ڈیڑھ دہائی کے دوران جہاں ماضی میں سرزد ہوتی کوتاہیوں سے سیکھا وہاں دہشت گردی اور شدت پسندی کا کامیابی سے مقابلہ کرکے دنیا کو یہ بتا دیا کہ آج کا پاکستان اپنے اُن بنیادی مقاصد کی جانب توجہ دے کر آگے بڑھنا چاہتا ہے جن کی بنیاد محمد علی جناح نے رکھی تھی۔25 جنوری 1948 کو بانیٔ پاکستان نے اپنے خطاب میں واضح انداز میں فرمایا تھا ''اسلام نے مساوات سکھائی ہے۔ ہر شخص سے انصاف اور روادی کا حکم دیا ہے۔ کسی بھی شخص کے پاس کیا جواز ہے کہ وہ عوام الناس کے لئے انصاف، رواداری اور دیانتداری کے اعلیٰ معیار پر مبنی جمہوریت، مساوات اور آزادی سے گھبرائے۔'' 
گویا بانیٔ پاکستان نے قیامِ پاکستان کے بعد مختلف مواقع پر کی گئی تقاریر میں قوم کے لئے ایک راہ متعین کردی تھی جو انصاف، رواداری اور دیانتداری کے اعلیٰ معیار پر قائم ہونا تھی۔ شائد قوم ان زریں اصولوں پر اس طرح سے عمل پیرا نہیں ہو پائی جس کی ضرورت تھی جس کی وجہ سے ملک منافرت کا شکار ہوتا چلا گیا اور بدقسمتی سے ملک میں وقتاً فوقتاً مختلف گروہ متحرک ہو تے رہے اور انتہا پسندی کے بیانیے کو ترویج دیتے رہے۔بعض عناصر بنیادی حقوق کی آڑ میں پاکستان مخالف مطالبات پیش کرکے ملک کی اساس اور نظریئے کو پامال کرنے کی سازشیں کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔بہر طور قوم اب ماضی کی کوتاہیوں سے سیکھنے اوراُنہیں درست کرنے کی خواہاں ہے کہ اسی سے روشنی اور اصلاح کا پہلو نمایاں ہوگا جو پاکستان کے مستقبل کو توانا اور مضبوط بنانے میں کردار ادا کرے گا اس کے لئے یقینا معاشرے کے دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ شعبہ تعلیم کا بھی کلیدی کردار ہوگا۔ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اپنی حالیہ کانفرنس میں بتایا ہے کہ کس طرح مدارس کو قومی دھارے میںلائے جانے کی ضرورت ہے اور وہاں دی جانے والی دینی تعلیم کو جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ دیگر علوم بھی پڑھائے جائیں تاکہ طلباء تعلیم کے حصول کے بعد مختلف شعبہ جات کا حصہ بن کر ملک و قوم کی بہتر خدمت کرسکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں پاکستان میں وہ ماحول دینا ہے جس سے سماجی و معاشی سرگرمیاں پیدا ہوں اور ملک ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوسکے۔ انہوںنے یہ بھی کہا کہ ادارے اپنی جگہ مضبوط ہوں تو کوئی شخص یا گروہ ریاست سے نہیں لڑ سکتا۔ لوگ اپنی ریاست اور سکیورٹی فورسز پر اعتماد کریں ہمیں ملکی دفاع کو مضبوط  رکھنے کے ساتھ ساتھ وہ کام کرنے ہیں جن سے ملک کا نظام ٹھیک ہو اور ملک ترقی کرے۔
پاکستان سب کا ہے۔ اس کو چیلنجز سے نکالنے کے لئے بھی سب طبقات کو آگے بڑھ کر اپنے اپنے حصے کا کام کرنا ہے اور اپنا کردار ادا کرنا ہے کہ بانیٔ پاکستان محمدعلی جناح اس عظیم قوم سے ایسے ہی کردار اور اوصاف کی توقع رکھتے تھے۔ آئیے ! وطن کے لئے سب ایک ہو جائیں اور باہم مل کر اس پاک سرزمین کو مسائل اورگرداب سے نکالیں۔ کام کرنے کا ایک وقت ہوتا ہے یقینا یہی وہ وقت ہے جب قوم اور تمام اداروں نے دیانتداری اور شفافیت کے ساتھ کام کرتے ہوئے اس سبز ہلالی پرچم کو سربلند کرنا ہے۔
 افواجِ پاکستان زندہ باد
 پاکستان پائندہ باد            
 

یہ تحریر 46مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP