قومی و بین الاقوامی ایشوز

قومی سلامتی اور میڈیا کا کردار

زمانہ حاضر میں میڈیا قوموںکے عروج اور ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتا دکھائی دیتا ہے۔ جن ممالک میں میڈیا ذمہ داری کے ساتھ اپنی اس طاقت کو مثبت انداز میں ملکی ترقی اور معاشرتی ہم آہنگی کے لئے استعمال میں لاتا ہے وہاں کے معاشروں میں اپنائیت اور باہمی روا داری دکھائی دیتی ہے۔ دوسری صورت میں یہ انتشار ، نفرت ، ہیجان اور شدت کو فروغ دینے کا باعث بن رہا ہے۔ گویا میڈیا کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ پاکستان، جسے گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے دہشت گردی اور شدت پسندی کا سامنا تھا،میں میڈیا نے مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے ایک قومی بیانیہ تشکیل دینے میں کردار ادا کیاجس کے بعد پوری قوم دہشت گردی جیسے عفریت کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی اور کامیاب ٹھہری۔ یہی وجہ ہے کہ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے ایک انتہائی اہم پریس کانفرنس میں اعتراف کیا کہ موجودہ دور میں میڈیا نے بہت ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے اور یہ کہ اگر ایسا ذمہ دار میڈیا1971 میں ہوتا تو پاکستان دو لخت ہونے کی نوبت نہ آتی۔ اُن کے یہ الفاظ اگر ایک جانب میڈیا کی صنعت سے وابستہ افراد کے لئے خراج تحسین تھے تو دوسری جانب انہوں نے اس کی اہمیت بھی جتلائی کہ ففتھ جنریشن وار ریجیم میں میڈیا ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتا ہے اور ہتھیار کوئی بھی ہو اس کا استعمال اسے مؤثر بناتا ہے ۔ ایک ہتھیار سے خود کشی بھی ہو سکتی ہے اور دشمن کو بھی ختم کیا جا سکتا ہے ۔ انہوںنے یہ بات اسی پیرائے میں تھی کہ پاکستانی میڈیا نے انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جس کے باعث یہ ہتھیار دشمن کے خلاف بخوبی استعمال ہوا اور قومی مفاد کو تقویت ملی اور ملکی و قومی سلامتی کے نظریات کو فروغ ملا ۔لیکن میڈیا کے کچھ ناقدین اس تھیوری کو تنقید کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ صحافت کا سچ کسی بھی مصلحت سے بالا تر اور آزاد ہونا چاہئے ۔ اتنا آزاد کہ اس پر کوئی قد غن نہ ہو اور کسی بھی فائدے یا نقصان کے اندیشے سے بھی ماو ر ا ہونا چاہئے ۔



یہ نظریہ نظریاتی طور پر بھی غلط ہے اور عملی طور پر بھی۔نیک نیتی، نیک ارادے اور نیک مقصدسے بو لا گیا جھوٹ ایسے سچ سے بہر صورت بہترہوتا ہے جس کے پیچھے قومی یا ملکی نقصان کا یقین یا اندیشہ ہو ۔ مزید آسان الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ ایسی صحافتی مصلحت پسندی جو ملک کو فائدہ پہنچائے ایسے صحافتی سچ سے بہتر ہو گی جو ملک دشمنوں کوفائدہ پہنچائے اور ریاست کو کمزور کرے ۔ اسی لئے آئین پاکستان میں بھی بنیادی انسانی حقوق کے باب میں آرٹیکل 19 اظہار رائے کی آزادی  اور میڈیا کی آزادی کا حق دیتا ہے لیکن یہ آزادی بھی کچھ قانونی پابندیوں کے طابع ہے اور آئین خود یہ کہتا ہے کہ ہر کسی کو اظہار رائے اور میڈیا کو آزادی ہو گی لیکن یہ آزادی عظمت اسلام ، ملکی سلامتی،ملکی سالمیت، ملکی دفاع، دوست ممالک سے تعلقات، امن عامہ، اخلاقیات اور توہین عدالت جیسے معاملات میں محدود ہو گی۔اس لئے جو ناقدین سمجھتے ہیں کہ آئین میں دی گئی میڈیا کی آزادی کسی بھی قید و بند سے آزاد ہے تو ایسا نہیں ہے۔ ویسے بھی موجودہ صورتحال میں منطقی سائنس کے تناظر میں دیکھا جائے تو میڈیا کا کردارماضی کے مقابلے میں حساس بھی ہو گیا ہے اورمدبرانہ بھی۔ ملکی سلامتی اور دفاع جیسے معاملات میں جب دشمن کی جانب سے جنگی جنونیت کا بھی سامنا ہو تو میڈیا  جیسے ہتھیار کے استعمال میں انتہائی احتیاط لازم ہوتی ہے ۔آئین پاکستان ہی کہتا ہے کہ ریاست سے وفاداری ہر شہری کا اولین و بنیادی فرض ہے۔منطقی تقاضا ہے کہ ثانوی آئینی فرائض کی ادائیگی میں بنیادی آئینی حق متاثر ہو رہا ہو تو بنیادی اور اساسی احکامات ہی مقدم رہیں گے ۔
زمانہ امن میں تو صحافتی آزادی بے باک ہی ٹھہرنی چاہئے لیکن جنگی جنونیت کا جواب دینے کے لئے صحافتی ذمہ داری ہر حال میں مقدم ہونی چاہئے۔ جنگ جیتنے کا چیلنج درپیش ہو ، دشمن کو زیر کرنا ہو اور ملک و قوم کو بچانا ہو تو پھر دیگر اداروں کی طرح صحافتی ترجیحات بھی تبدیل ہو جاتی ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ محبت اور جنگ میں بہت کچھ جائز ہو جاتا ہے ۔ اسی لئے ملکی سلامتی و دفاع کو صحافتی ترجیحات میں سرِ فہرست اور دیگر صحافتی اقدار پر مقدم رکھا جاتا ہے۔
یہ پریس کانفرنس جس کا شروع میں حوالہ دیا گیا، بنیادی طور پر قوم پرست تنظیم پشتون تحفظ موومنٹ کی متنازعہ سرگرمیوں کے حوالے سے تھی جس میں صحافیوں کو بتایا گیا کہ مذکورہ تنظیم کے رہنما قومیت پرستی میں دشمن کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں اور ملکی سلامتی کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔ ان کا طرز عمل کسی طور بھی ملکی و قومی مفاد میں نہیں ہے ۔ اسی پریس کانفرنس میں جب ڈی جی صاحب نے میڈیا کے حالیہ کردار کی تعریف کی توایک سینیئر اور ممتاز اینکر نے سوال داغا کہ کیا آپ  اس میڈیا کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ پی ٹی ایم کے رہنماؤں کو بھی ٹی وی پر بلائیں اور ان کا مؤقف جانیں ۔ بظاہر تو یہ سوال صحافتی آزادی اور اظہار رائے کی آزادی کے تناظر میں گیا تھا ،لیکن ڈی جی آئی ایس پی آرنے 'نہیں 'میں جواب دیا اور کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایسے افراد جن کا بیانیہ ملک کو نقصان پہنچا رہا ہو اور دشمن کو فائدہ دے رہا ہو تو ایسے افراد کو اپنے بیانئے کے پرچار کی قطعی طور پر اجازت نہیں ہونی چاہئے ۔بلاشبہ یہ پابندی آئی ایس پی آر کی طرف سے نہیں تھی بلکہ ملکی قانون اور پیمرا کا ضابطہ اخلاق ایسے خیالات کا پرچار کرنے کی بھی قطعی اجازت نہیں دیتا۔ 
رواں سال فروی میں ہمارے پڑوسی ملک نے جنگی جنونیت کے زیر اثر پاکستان کے خلاف مہم جوئی کی جو ناکام کو شش رہی اور پاک فوج نے بھرپور انداز میں اس در اندازی کا جواب دیا۔ اس سارے عرصے میں ہندوستانی میڈیا اپنی ملک و قوم کے لئے پوری دنیا میں جگ ہنسائی کاسامان کرتا رہا ۔ اس کی مثال ایسی رہی جیسے فٹبال کے میچ میں کوئی کھلاڑی اپنے ہی خلاف گول کرنا شروع کر دے ۔ہندوستانی میڈیا زمانہ امن اور زمانہ جنگ کی رپورٹنگ میں فرق نہیں کر سکا اور اپنے ہی دیس و فوج کے خلاف چٹکلے چھوڑتا رہا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہندوستان میں صحافتی آزادی کا معیار ہماری صحافتی آزادی سے بڑھ کر ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری صحافت قدرے ذمہ دارانہ اورمعروضی ہے ۔ 
بریکنگ نیوز کی دوڑ میں اکثر اوقات نیوز چینلز سبقت لینے کے لئے قومی مفاد کو پس پشت ڈال دیتے ہیں ایسی ہی ایک مثال ممبئی حملہ کیس کی تھی،جب ممبئی کے تاج محل ہوٹل پر حملہ ہوا اور اجمل قصاب کو مرکزی ملزم کے طور پر پکڑاگیا تو یاران صحافت نے خبر چلا دی کہ اجمل قصاب تو پاکستان کا رہنے والا تھا اور یہ ہوائی جھوٹ ثابت کرنے کے لئے اس کے (فرضی) گھر بھی پہنچ گئے۔ ایک طویل عرصہ تک ٹرائل جاری رہنے کے بعد اجمل قصاب کو پھانسی کی سزا سنائی گئی۔  اسے تختہ دار پر لٹکا بھی دیا گیا لیکن پورے ٹرائل میں یہ ثابت نہ ہو سکا کہ وہ پاکستان کا رہنے والا تھا ،بلکہ ہندوستان کے سکیورٹی اداروں کی رپورٹ میں لکھا گیا کہ اجمل قصاب ہندوستانی تھا اور ہندوستان کا ہی رہائشی تھا ۔ یہی وہ غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ ہے جہاں معروضی حالات کی جانچ اور خبر کے نتائج کا ادراک کئے بغیر ایسا بم پھوڑ دیا جاتا ہے جو دشمن پر گرنے کے بجائے اپنے ہاتھ کو  جھلسا دیتا ہے۔
 ففتھ جنریشن ریجیم میں میڈیا نے جنگی صورتحال میں کلیدی کردار ادا کرنا ہوتا ہے ۔چاہے وہ پراپیگنڈا ہو یا پبلیسٹی ، جھوٹ ہو یا سچ ، حقیقت ہو یا فریب، غائب ہو یا حاضر، میڈیا کا کام ہے کہ معروضی حالات کے تناظر میں اپنی ترجیحات تبدیل کرے اور ملک و قوم کی سلامتی اور مفاد کو مقدم رکھے۔ اگرچہ قومی مفاد کی اصطلاح کی کوئی مطلق تعریف موجود نہیں ہے اسی لئے اس کی تشریح میں کنفیوژن کا عنصر ہر دور میں موجود رہا ہے ۔ اسی لئے قومی مفاد کے معاملے پر میڈیا میں غلطیوں کی گنجائش کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ اسی لئے قومی مفاد کے حوالے سے سکیورٹی ایکسپرٹس کی اپنی توجیہات موجود ہیں۔  یاران صحافت میں ایسے بھی ہیں جن کے نزدیک قومی سلامتی کی اصطلاح محض میڈیا پر بے جا قد غن لگانے کے لئے استعمال کی جاتی ہے لیکن وہ اس منطقی اصطلاح کو ہمیشہ منفی زاویئے سے دیکھتے ہیں اور کسی بھی قسم کے ما بعد الطبیعاتی مضمرات کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں اور ملکی مفاد کو زک پہنچانے کے لئے غیر ارادی طور پر دشمن کا آلہ کار بن جاتے ہیں ۔ 
قلم کو تلوار سے بھی زیادہ طاقتور سمجھا جاتا ہے ۔ اور یہ بات کوئی مفروضہ نہیں بلکہ ہر دور میں سچ ثابت ہوئی ہے ۔ تلوار گھائل کر سکتی ہے تو قلم بھی گھائو دے سکتا ہے اور معاملہ قومی مفاد کا ہو یا ملکی و قومی سلامتی کا، ہر صورت میں ان دونوں ہتھیاروں کے وار کا نشانہ دشمن ہی ہونا چاہئے ۔ زمانہ امن اور زمانہ جنگ کی میڈیا ترجیحات میں فرق ہوتا ہے اس فرق کا ادراک ہونا ضروری ہے تاکہ قومی مفاد اور ملک و قوم کی سلامتی کے بارے میںرپورٹنگ میں غلطی کی گنجائش نہ رہے ۔ 


مضمون نگار ایک نجی ٹی ۔وی چینل سے وابستہ ہیں اور حالاتِ حاضرہ کے پروگرام کے میزبان ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 76مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP