اداریہ

قومی حمیت اور تدبر

دنیا میں وہی اقوام باوقار مقام حاصل کرنے میں کامیاب ٹھہریں جن کے افراد نے اُنہیں بنانے اور سنوارنے میں اپنا کردار ادا کیا اور معاشرتی و اخلاقی اقدار کو فروغ دیا، نیز باہمی یگانگت اور رواداری کے جذبوں کو پروان چڑھایا۔ وطنِ عزیز پاکستان کو اپنے قیام کے اوائل ہی سے مختلف چیلنجز کا سامنا رہا ہے جن سے قوم جوانمردی کے ساتھ نمٹتی چلی آئی ہے۔ پاکستان ہمیشہ رہنے کے لئے قائم ہوا ہے۔ اس کا قیام ماہِ رمضان کے بابرکت مہینے میں عمل میں آیاپھر اس کے چند روزبعد عید کا تہوارآزادی کی خوشیوں اور مسرتوں کے ساتھ منایا گیا۔ رواں ماہ میں بھی عیدالفطر منائی گئی۔قوم نے پُرامن ماحول میں عید کی خوشیاں اپنے اپنے عزیزواقارب کے ساتھ منائیں جبکہ افواجِ پاکستان کے جوانوں نے اپنے اپنے تعیناتی کے مقام پر اور وطن کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے عیدمنائی۔ پاکستان ایک خوبصورت گلدستہ ہے۔ ہم سب نے مل کر اس گلدستے کو تروتازہ رکھنا ہے۔ اس کے لئے ہماری قوم نے ماضی میں بھی بھرپور قربانیاں دی ہیں اور آئندہ بھی گریز نہیں کرے گی۔گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے قوم کو جس چیلنج کا سامنا رہا ، وہ دہشت گردی اور شدت پسندی کا چیلنج تھا جس کے لئے پوری قوم اور اس کی افواج نے جانی و مالی قربانیاں دے کر کافی حد تک چھٹکارا حاصل کرلیاہے۔ جدوجہد ابھی جاری ہے، قوم متحد ہے۔ ہزاروں جانوں کی قربانیاں دے کر قوم اس نقطے پر متفق ہو چکی ہے کہ شدت پسندی اور معاشرہ اکٹھے نہیں چل سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ قومی سطح پر مدرسہ ریفارمز اور ایک جیسی تعلیم کی بات کی جارہی ہے۔اس سلسلے میں عملی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
 علاوہ ازیں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بناء پر جن پاکستانی شہریوں کو فاٹا کے مختلف علاقوں سے عارضی طور پرنقل مکانی کرنا پڑی، اُن کی واپسی کا عمل کافی حد تک مکمل ہو چکا ہے۔ فاٹا بھی اب قومی دھارے میں شامل ہوکر صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ بن چکا ہے۔ وہاں تعلیم ، صحت اور انتظامی حوالے سے بحالی اورترقی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ آئی ای ڈیز کو کلیئر کرنے کا کام بھی جاری ہے۔ ظاہر ہے یہ وہ آئی ای ڈیز ہیں جو دہشت گردوں نے پاکستان کے شہریوں اور افواج کی نقل و حرکت محدود کرنے اور خود سے دور رکھنے کے لئے بچھا رکھی تھیں۔ افواجِ پاکستان کے کئی جوان اور افسران آئی ای ڈیز کو کلیئر کرنے کے دوران شہادت کے مرتبے پر فائز ہو چکے ہیں۔ لیکن بعض عناصر کی جانب سے بجائے اس کے کہ وہ اس پُر خطر اورکٹھن چیلنج سے نمٹنے پر افواج اور ریاست کی تحسین کرتے، وہ اس ایشو کو بھی تنقید برائے تنقید کی عینک سے دیکھ رہے ہیں اور اس حوالے سے ہرزہ سرائی روز کا معمول ہے جس سے ظاہر ہے پاکستان دشمن عناصرہی فائدہ ٹھائیں گے۔
دہشت گردوں کے خلاف باقاعدہ آپریشنز کے بعد اب ملک بھر میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے باقی ماندہ شدت پسندوں اور اُن کے سہولت کاروں کا سراغ لگا کر اُن کا خاتمہ کیا جارہا ہے۔قوم خوش ہے کہ ملک میں روز مرہ معمولات بہت بہتر ہو گئے ہیں اور شہری اب معمول کی زندگی اپنی خواہشات کے مطابق بسر کررہے ہیں۔ لیکن معاشرے میں ظاہر ہے کچھ ایسے واقعات رونما ہو جاتے ہیں جن پر قوم تڑپ کر رہ جاتی ہے۔ قصور میں ایک کمسن بچی' زینب' کے ساتھ جو ہوا اور اب اسلام آباد میں ایک معصوم بیٹی'فرشتہ' کے ساتھ جو سفاکی ہوئی اس پر قوم شرمندہ ہے۔ متعلقہ ادارے اپنی اپنی جگہ ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لئے کوشاں ہیں۔ افواجِ پاکستان نے بھی اس سلسلے میں اپنی خدمات پیش کی ہیں۔ لیکن بعض عناصر نے اس معاملے کو بھی ایک لغو اور بے ہودہ پروپیگنڈے کی جانب موڑ کر افواجِ پاکستان کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ ظاہر ہے ملک دشمن عناصر کا اپنا ایک ایجنڈہ ہے۔ وہ معاملات کو توڑ مروڑ کر یوں پیش کرتے ہیں کہ قومی اداروں کو جگ ہنسائی کا سامنا کرنا پڑتاہے۔
قوم افراد سے بنتی ہے ۔ شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے قوم کے ہر فرد کو ملت کے مقدر کا ستارہ قرار دیا لیکن شومیٔ قسمت کہ کچھ لوگ غیروں کے ہاتھوں میں یوں کھیل رہے ہوتے ہیں کہ اُن کے ذاتی مفادات قومی حمیت اور قومی معاملات پر حاوی ہو جاتے ہیں جو یقینا کسی بھی قوم کے لئے لمحۂ فکریہ ہوتے ہیں۔ وطنِ عزیز پاکستان کو آج بھی چیلنجز کا سامنا ہے اوریہ ملک بہت سے دشمنوں کی سازشوں کا شکار بھی ہے۔ ایسے میں قوم کے ہرفردکو تدبر اور تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ کوئی ایک ادارہ یا کوئی ایک فرد کسی قوم کی حالت نہیں بدل سکتا۔
آیئے سب مل کراس تحفۂ خداوندی کی قدر کریں، اسے بنائیں، سنواریں اور اس کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں کہ ہماری تمام تر عزت و ناموس اسی پاک سرزمین اور نظریئے کے ساتھ جُڑی ہوئی ہے جس کے لئے ہمیں ثابت قدم رہنے کی ضرورت ہے۔ اﷲ پاکستان کو ہمیشہ سلامت رکھے۔
 

یہ تحریر 236مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP