متفرقات

قسم اس وقت کی

میرا بچپن١٩٦٥ء کی جنگ اور اس دوران قوم کے جذبے اور جوش و خروش کے بارے میں اپنی امی اور ابا سے کہانیاںسنتے ہوئے گزرا اور اپنے ملک اور پاک فوج سے عشق انہی شجاعت کی داستانوں کی وجہ سے ہے۔ ٦٥ کے جذبے کی شدت اورسچائی کا احساس تھا لیکن اس شدت کا یقین اور اس حقیقت کا ادراک تب ہوا جب ٢٦فروری٢٠١٩ کو یہ خبر ملی کہ بزدل دشمن نے اپنی بزدلانہ روایات برقرار رکھتے ہوئے رات کے اندھیرے میں مملکتِ خداداد پاکستان پر فضائی حملے کی ناکام کوشش کی ہے۔پاکستانی قوم میں دشمن کے اس بزدلانہ حملے کی وجہ سے بے چینی پھیل چکی تھی ، قوم منتظر تھی کہ دشمن کو کب اس ناپاک جرأت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ کافی حد تک مایوسی کی سی کیفیت تھی، کچھ لوگوں نے اس دوران مسلح افواج کی دفاعی صلاحیتوں پر کئی قسم کے سوالات بھی اٹھانا شروع کردیئے تھے۔ قوم میں غصہ تھا کہ جلد از جلد دشمن کا ادھار چکایا جائے۔ دن گزارے نہیں گزر رہا تھا اور مجھے وہ ساری کہانیاں یاد آرہی تھیں جو میرے امی ابا مجھے سناتے تھے۔



٦ستمبرکو جب دشمن نے شب خون مارا۔ صبح ٦،٧ بجے تک یہ خبرپھیل گئی کہ ہندوستان نے حملہ کردیاہے۔ پھرصدرِ پاکستان کی وہ تقریر کہ جس میں سپہ سالار اپنی بہادر قوم کو اس کی شناخت یاد کراتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ بزدل دشمن جانتا نہیں کہ اس نے کس قوم کو للکارا ہے۔ اعلانِ جنگ ہو چکا تھا۔ قوم اپنے ملک کے دفاع کے لئے تیار ہو چکی تھی۔ گائوں خالی ہونا شروع ہوگئے تھے۔ بچے، بوڑھے اور جوان ہاتھوں میں ہاکیاں اور ڈنڈے لے کر یہ کہتے ہوئے محاذِ جنگ کا رُخ کرچکے تھے۔
اے دشمنِ دیں تو نے کس قوم کو للکار ا !،    لے ہم بھی ہیں صف آرائ
میری پاک فوج دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنی کھڑی تھی۔جب زندہ دلانِ لاہور ہاکیاں اور ڈنڈے لے کر اپنے محافظوں کے پاس پہنچے۔ محاذپر میری پاک فوج کے دلیر جوانوں نے اپنی عوام کو دشمن کے سامنے نہ آنے دیا اور ارضِ مقدس اور اس کے رہنے والوں کے دفاع کی جو قسم کھائی تھی وہ اس میں سرخرو ٹھہرے۔
بھارت نے میدانی حملے میں پسپائی دیکھ کر٧ستمبر کو ہوائی حملے کا شوق پورا کرنا چاہا لیکن مجاہدِ اکبر ایم ایم عالم نے وہ کارنامہ انجام دیا جو رہتی دُنیا تک عالم کا عالمی ریکارڈ بن گیا۔
میں یہ سب باتیں یاد کررہی تھی اور میرے دل سے بھی ایک صدا نکلی
 اج آکھاں'' ایم ایم عالم'' نوں
  کدی قبراں وچوں بول
یہ بے چینی قائم تھی کہ وزیرِاعظم کا خطاب سنا،  دل کو تھوڑی ڈھارس ہوئی اور اس کے بعدآئی ایس پی آر سے میجر جنرل آصف غفور کی قوم کو یہ یقین دہانی کہ بدلہ لیا جائے گا۔
اپنے حصے کی چال تم چل بیٹھے
    ہمارے منتظر رہنا کہانی ختم کرنی ہے
اور پھر پاکستانی قوم نے دیکھا کہ ہمارے جرنیل نے اپنا وعدہ  نبھایا۔ ٢٨ فروری کو قوم نے یہ خوشخبری سنی کہ پاک فضائیہ کے ہوا بازوں نے ایم ایم عالم کی یادتازہ کرتے ہوئے ہندوستان کے دو جہاز تباہ کردیئے۔ جن میں سے ایک جہاز کا ملبہ مقبوضہ کشمیر میں گرا اور دوسرا جہاز پاک سرزمین پر گِرا اور اس کا پائلٹ جب ہمارے لوگوں کے ہاتھ لگا تو 'جی آیاں نوں ' کہتے ہوئے  اسے ایک ہی بات کہی'' ابھی نندن! پاکستان تباہ کرنے آئے تھے…  پہلے پاکستانیوں سے تو مل لو''
ہندوستانی جہاز کی تباہی اور پائلٹ کی گرفتاری کی خبر نے قوم میں ایک نئی  روح پھونک دی۔قابلِ رشک یکجہتی دیکھنے میں آئی کہ جب تمام سیاسی جھنڈوں کی جگہ عوام کے ہاتھوں میں سبز ہلالی پرچم لہرا رہاتھا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا اپنی قوم سے یہ وعدہ کہ بدلہ لیا جائے گا اور واقعی بدلہ لے لیا گیا اور بدلہ بھی ایسا کہ بھارتی قوم عرصے تک اس درد کو محسوس کرتی رہے گی۔
کم از کم دو باتیں دشمن پر واضح ہو گئیں کہ یہ دن کی روشنی میں مارتے ہیں اور مار کر سب کو دکھاتے ہیں کہ میری پاک فوج کا وہ جذبہ کہ لہو کے آخری قطرے تک مادرِ وطن کی حفاظت کرنی ہے اور ہماری عوام کا اب جانبازانِ وطن پر ایک بار پھر یہ اعتماد کہ جب تک پاکستان کا دفاع اﷲ کے بعد ان جانبازوں کے ہاتھوں میںہے،  انشاء اﷲ دشمن کو ہر محاذ پر منہ کی کھانی پڑے گی۔
 میری سرحد پہ پہرہ ہے ایمان کا
   میرے شہروں پہ سایہ ہے قرآن کا
    میرے فوجی ''غلامانِ خیبر شکن''
    چاند میری زمیں، پھول میرا وطن
جو قوت ہمارے پاس ہے وہ مودی سرکار کے پاس نہیں۔
'نعرئہ تکبیر۔۔اﷲ اکبر' کی ہیبت ہمارا دشمن نسل در نسل سے جانتا ہے اور اس کی طاقت پہچانتاہے۔
١٩٦٥ء کے جس جذبے کا ذکر میںنے اپنے بڑوں سے سنا تھا۔ آج میں اس جذبے کا حصہ بن چکی تھی۔ جہاں میری پاک فوج اِن اشعار کی تفسیربنی ہوئی تھی۔
   میرے وطن میرے بس میں ہو تو
    تیری حفاظت کروں میں ایسے
    خزاں سے تجھ کو بچا کے رکھوں
    بہار تجھ پہ نثار کر دوں
وہیں میری دلیر قوم کا جذبہ تھا کہ 
 تیری محبت میں موت آئے
    تو اس سے بڑھ کے نہیں ہے خواہش
    یہ ایک جاں کیا ہزار ہوں تو
    ہزار تجھ پہ نثار کر دوں
میں مختلف یونیورسٹیوں میں پڑھاتی رہی ہوں، میںاپنے شاگردوں کا یہ جذبہ دیکھ کر حیران رہ گئی جب کچھ سٹوڈنٹس میرے پاس آئے او ر کہنے لگے:
'میم ہماری جان، مال ہر چیز پاکستان پر قربان، ہم اپنے فوجیوں کے شانہ بشانہ لڑنا چاہتے ہیں۔ اگر بارڈر پر ہمارے زخمی فوجیوں کو خون کی ضرورت ہے،ہمارا خون حاضر ہے۔ آپ تو فوجیوں کے رسالے میں لکھتی ہیں ہمارا پیغام دے دیں کہ ہم ان کے ساتھ آنا چاہتے ہیں،ہم اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں۔صرف ایک بار وہ یہ بتا دیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔'
ان کے اس جوش کو دیکھ کر میری آنکھیں بھر آئیں اور میںنے مسکرا تے ہو ئے کہا 'یہی تو مسئلہ ہے کہ وہ ہم سے کچھ مانگتے ہی تو نہیں صرف دیناجانتے ہیں۔
مودی سرکار! تم اس قوم سے بھڑنے کی کوشش کررہے ہو؟؟
اس ملک میں صرف وردی والے ہی فوجی نہیں بلکہ اس ملک میں رہنے والا ہر پاکستانی فوجی ہے۔
بھارتی پائلٹ کی گرفتاری کے بعد سشما سوراج کا جو بیان آیا تھا اور پاکستان کو مذاکرات کے لئے کہا گیا تھا تو بھی مجھے ٦٥ کا جنگی نغمہ یاد آگیا۔
 اج ہندیاں جنگ دی گل کیتی
        اَکھ ہوئی حیران حیرانیاں دی
        مہاراج اے کھیڈ تلوار دی اے
        جنگ کھیڈ نئیں ہوندی زنانیاں دی
        ''اسی سندھی، کشمیری، بلوچ پٹھے نے''
        اسی پت پنجاب دے پانیاں دے
        اسی نسل محمود جئے غازیاں دی
        دودھ پیتے نے مانواںپٹھانیاں دے 
        سانوں چھیڑ کے ہن پہ نسدے او
        سٹ سہوو تے سئی پاکستانیاں دی
ادھر محاذوںپر ہماری پاک افواج سینہ سپر تھیںہمارے افسر اورجوان ان کے ہر حملے کاجواب دے رہے تھے اور دوسری جانب پی ایس ایل جس پر ساری دنیا کی نظریں تھیں کہ اب اس کے انعقاد کا کیا ہوگا۔ یہاں پراسی پاک فوج کا دیا ہوا اعتماد کہ ہمارے ہم وطنو ہم اپنی روایات کو اسی طرح زندہ و جاوید رکھیں گے اور واقعی ساری دنیا نے یہ دیکھا بارڈر پر جو بھی صورتحال رہی پاکستان سپر لیگ کا اختتام بھی انتہائی شاندار طریقے سے ہو ا اور جب پاک فوج کے جوانوںنے پیرا شوٹ کے ذریعے نیشنل سٹیڈیم میں انتہائی دبنگ طریقے سے انٹری دی توسٹیڈیم پاکستان زندہ باد ، پاک فوج زندہ باد کے نعروں سے گونج اُٹھا۔ سپہ سالار جنرل قمرجاوید باجوہ کی بھی سٹیڈیم میںموجودگی ساری دنیا کو ایک خاموش پیغام دے گئی کہ پاک فوج ہر محاذ پر اپنی عوام کے ساتھ ہے۔ 
ڈی جی آئی ایس پی آر کے اس بیان نے ساری دنیا کو یہ پیغام دے دیا کہ ہمارے پاس صلاحیت ہے ہم سب کچھ کرسکتے ہیں لیکن خطے کے امن کی قیمت پر نہیں۔ اور خطے میں امن کی خواہش کی اس سے بڑی مثال کیا ہوگی کہ جنگی قیدی ونگ کمانڈر ابھی نندن کو عزت و احترام سے آزاد کرکے واہگہ بارڈر کے ذریعے اس کے ملک واپس بھیج دیا گیا۔
بہت سارے دیسی لبرلز اور نام نہاد محبانِ وطن نے بحیثیت پاکستانی سوال اٹھائے ، حکومت پر بھی اور پاک فوج پر بھی۔ ان دانشور حضرات کو یہ پیغام دینا چاہتی ہوں کہ قابلِ قدر صاحبانِ علم و دانش ! آپ کی نظر میں ایک نظریہ ہوگا، ہماری پاک فوج اور ایجنسیز کی نظر میں ہزار ہوتے ہیں۔ وہ کبھی بھی ملک کی سالمیت اور مفاد کے خلاف نہیں جاسکتے۔
 ان لوگوں کی دانشمندانہ گفتگو کے جواب میں لکھنے کوتو بہت کچھ ہے لیکن میں اپنے مضمون کا اختتام تلخی سے نہیں بلکہ اس دعا کے ساتھ کروں گی ۔
''اے میرے رب! شہنشاہوں کے شہنشاہ تو نے جیسے غزوئہ بدر کے تین سو تیرہ مسلمانوں کی فرشتوں کے ذریعے مدد کرتے ہوئے ان کے دشمنوں کو شکست سے ہمکنار کیا، ایسے ہی میری پاک فوج کی مدد فرما کہ ہم پاکستان کی طرف اٹھنے والی ہر میلی آنکھ کو نیست و نابود کردیں۔ 
پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔۔۔  افواجِ پاکستان پائندہ باد


مضمون نگارمیڈیا سائیکالوجسٹ اور رائٹر ہیں۔ 
[email protected]

یہ تحریر 43مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP