تحفظ، امن اور ترقی کا سفر

قربانیوں کا سفر

7جون2019ء کو گلگت  بلتستان سے کراچی تک فضا سوگوار تھی۔یہ عید کا دن تھا اور ایک بار پھرسے پاکستان کے ہر کونے سے تعلق رکھنے والے بہادر فوجی جوانوں نے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا اور اِس دھرتی ماں کی آغوش میں ہمیشہ کے لئے میٹھی نیند سو گئے۔قربانیوں کا سفر جاری ہے اور آئے روز قوم کے یہ بیٹے دفاع ِوطن کو یقینی بنانے کے عظیم ترمقصد کے لئے قربان ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ 7جون2019 کو بھی ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا جس میں '35آزاد کشمیر رجمنٹ' کے تین افسروں اور ایک جوان، جن میں کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل راشد کریم بیگ،میجر معیذمقصود بیگ،کیپٹن عارف اللہ خان اور لانس حوالدار ظہیر شامل ہیںجو خرقمر، شمالی وزیرستان میںہونے والے IEDکے ایک دھماکے میں شہید ہوگئے۔ یہ شہادتیں پاکستان کے چار مختلف حصوں ہنزہ بلتستان، کراچی سندھ، لکی مروت خیبرپختونخوا اور چکوال پنجاب کی نمائندگی ظاہر کر رہے تھے اور اس بات کی عکاسی کررہے تھے کہ پاکستان کے فرزند چاہے وہ کسی بھی رنگ و نسل یا مذہب و عقیدے سے تعلق رکھتے ہوں دفاعِ وطن کی خاطر سب مل کر جان کے نذرانے پیش کرتے ہیں۔



چند سال پہلے بھی '35آزاد کشمیر رجمنٹ' کے بہادر جوانوں نے دلیری و شجاعت کی عظیم الشان تاریخ رقم کی تھی۔ جب بھی اس یونٹ کا نام سامنے آتا ہے تو مہمند ایجنسی کے ولی داد آپریشن(اپریل ۔جولائی2011ئ) کے خیال سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس آپریشن کے پہلے دن ہی (6-7 اپریل 2011)کو 12 جانبازوں نے جامِ شہادت نوش کیا اور 18 جوان شدید زخمی ہوئے۔ اس علاقے میں دہشت گردوں کی تعداد کا اندازہ اس طرح سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف ایک دن میں گھنم شاہ۔ بکھمال شاہ روڈکو فوج کے گزرنے کا راستہ صاف کرنے کے لئیپچپنIEDs  کا سامنا کرناپڑا۔یعنی دہشت گردوں کی کمین گاہ تک پہنچنے کے تمام راستوں پر کثیر تعداد میں بارودی مواد نصب تھا اور ہر ایک جگہ دشمن گھات لگا کر بیٹھا ہوا تھا۔ لیفٹیننٹ کرنل راشد کریم بیگ شہید اُس وقت میجر  اور میجر معیذ مقصود بیگ شہیدکیپٹن تھے جنہوںنے انتہائی بہادری اور کمال مہارت سے دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا اور آپریشن کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ 
ولی دادآپریشن کی کامیابی کے لئے 35 آزادکشمیررجمنٹ کی قربانیوں کا اندازہ ایسے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف آپریشن کے مشرقی حصے تک پہنچنے کے لئے 50 میں سے 36 جوان شدید زخمی ہوئے۔ لیفٹیننٹ (اب میجر) عاطف بشیر کا  اس آپریشن میں دادِ شجاعت دیتے ہوئے آدھے سے زیادہ جسم جھلس گیا لیکن وہ ڈٹے رہے۔ اسی طرح لیفٹیننٹ احمد(اب میجر) نے متعدد گولیوں کا سامنا کیا اور شدید زخمی ہوئے لیکن ان کے پائے استقامت میں لغزش نہیں آئیں۔بہادرافسروں اور جوانوں نے زخمی ہونے کے باوجود حوصلے نہیں ہارے اور''فتح یا شہادت'' کا جذبہ دلوں میں رکھتے ہوئے ہر طرح کی رکاوٹوں کا سامنا کیااور دہشت گردوں کا پاک افغان بارڈر سے مکمل صفایا کرکے دم لیا۔اس آپریشن کو کامیاب بنانے کے لئے چار بڑے حملے کئے گئے جن میں جوانوں کی لاتعداد قربانیوں کے صلے میں فتح نصیب ہوئی۔
 اِن کی قربانیوں کے نقوش آج بھی مہمند ایجنسی میں ثبت ہو چکے ہیں۔ اُس وقت بھی کیپٹن خضر محمود ستی اور کیپٹن عابد نوید سمیت 26جوانوں نے جامِ شہادت نوش فرمایا اور اس آپریشن کی کامیابی پر اُس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے خود جا کر یونٹ کے تمام افسروں اور جوانوں کواس بہادری اور شجاعت کے بے مثال مظاہرے پر بہت سراہا۔
آج بھی اِس یونٹ کے29 افسروں اور جوانوںنے اپنے سینوں پر سنہری پٹی جبکہ62سپوتوں نے سرخ پٹی سجائی ہوئی ہے جو اِس بات کا ثبوت ہے کہ ولی داد آپریشن کی سختی اور کٹھن مراحل بھی اِن بہادروں کے حوصلوں کو پست نہیں کر سکے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ فوجی جوانوں کے کندھوں پر بھی ذمہ داری کا  بہت بڑا بوجھ ہے کہ وہ اپنی بہادری و شجاعت کی روایات کو فخریہ اور نمایاں انداز میں لے کر آگے چلیں۔ پاکستانی قوم ان فوجی جوانوں کے اس جذبہ حب الوطنی کو ہمیشہ یاد رکھے گی اور آپ کی قربانیوں کی تہہ دل سے شکر گزار رہے گی۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی قربانیوں کی لاتعداد ناقابل یقین اور ناقابلِ فراموش داستانیں ہیںجن کا ہر ایک ورق بہادری اور شجاعت کی عمدہ مثالوں سے سنہری حروف میں لکھا ہوا ہے۔جب بھی کوئی جماعت سرکشی پر اترتی ہے تو قانونِ خداوندی اور قانونِ مملکت کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا جاتا ہے ،فتنہ فساد برپاکر کے ملکی سلامتی کو درپیش مسائل پیدا کئے جاتے ہیں اور اِن درندوں کی ناپاک حرکتوںسے قوم کی جان و مال، رہن سہن، عزت و وقار، معیشت و کاروبار برباد ہوتے ہیں توایسی حالت میں جنگ جائز ہی نہیں بلکہ فرض ہو جاتی ہے اور پھر ایسی ہی حالت میں اِس دھرتی ماں کے بیٹے اِن گھنائونی سازشوں اورشرو فساد کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر ابھرتے ہیں اور یہی اِس وقت قوم و ملت کی سب سے بڑی خدمت ہے۔یہ وہ وقت ہے جب اِن ظالم بھیڑیوں کے خون سے ارضِ مقدس کے سینے کو سرخ کر دیا جائے اورمفسدوں کے شر سے اللہ کے مظلوم بندوں کو نجات دلائی جائے، جو شیطان کے پیروکار بن کر اور غیر ملکی عناصر کے آلہ کار کی حیثیت سے اِس پاک دھرتی کے غیور عوام پر اخلاقی، روحانی اور مادی تباہی کی مصیبتیں نازل کرتے ہیں۔ ایسے لوگ انسان نہیں، بلکہ انسانوں کی شکل و صورت میں درندے اور انسانیت کے حقیقی دشمن ہوتے ہیں۔
 پاکستان میں یہ جو امن و سلامتی نظر آتی ہے وہ وطن پر مر مٹنے والے انہی شہداء کی جاں نثاری و جانبازی کا فیض ہے جنہوں نے اللہ رب العزت کی خوشنودی ، وطن سے محبت اور پاکستانی پرچم کی سربلندی کے لئے اپنے خون سے پاکستان کے سدابہار چمن کو سیراب کیا۔
ہم احسان مند ہیں اِن فوجی جوانوں کے جو اپنے پیاروں کو پیچھے گھروں میں چھوڑ کر، ہر دم ہر وقت تیار، دہشت گردوں کے ناپاک عزائم خاک میں ملاتے ہوئے اِن کٹھن ، دشوار گزار وادیوں اوربرفیلی چوٹیوں میںاپنے دن رات بسر کرتے ہیں۔ دن رات، صبح شام، سردی گرمی یا بہار خزاں، ہمارے یہ بہادر جوان اپنے نرم اور گرم بستروں کو چھوڑ کر وطن سے کیا ہواوعدہ نبھاتے ہیں جو انہوں نے پاک فوج میں بھرتی ہوتے وقت کیاتھا۔گزشتہ کئی برسوں سے پاک فوج کا ہر رینک متعدد بار ایسے کئی آپریشن کے علاقوںمیں دشمن سے برسرِ پیکار رہا ہے ۔
 سب سے بڑھ کر ہمیں ناز ہونا چاہئے اپنی مائوں، بہنوں اور بیٹیوں پر جو اپنے لخت جگر، اپنے سہاگ اور اپنے سہارے کو اپنے ہاتھوں سے تیار کر کے وطن پر قربان ہونے کے لئے بھیجتی ہیں۔ کیا اِن مائوں کو اپنے بچے یاد نہیں آتے ہوں گے؟ کیا کوئی بھی شخص اپنی سب سے پیاری چیزکی قربانی دے سکتا ہے؟ چاہے جتنا بڑا شیر جوان ہی کیوں نہ ہو لیکن والدین کے لئے تووہ ایک بچہ ہی ہوتا ہے اور کون چاہتا ہے کہ اُن کے بچوں کو گرم ہوا بھی لگے۔ لیکن عقل دنگ رہ جاتی جب وہ والدین جنہوں نے اپنی اولاد کو انگلی پکڑ کر چلنا سکھایاتھا، آج خود اپنے ہاتھوں سے اپنے پیارے بیٹے کو دفنا کر آئے ہیں۔ کیا ہم ایک لمحے کے لئے اُن بیوائوں کا سوچ سکتے ہیں جنہیں اپنا مستقبل  شوہر کے بغیر گزارنا ہے۔بچوں کی پرورش کرنی ہے، اُن کی تعلیم، کھانا پینا، شادی، غمی خوشی سب کچھ اکیلے کاٹنا ہے۔کیا یہ سب آسان ہے؟
اُن بچوں سے کبھی کسی نے پوچھا ہے جنہوں نے بچپن سے ہی یتیمی میں آنکھ کھولی ہو۔ کیا اُن کو اپنا بابا یاد نہیں آتا ہو گا؟ جو اُن کی ننھی منی فرمائشیں پوری کرتا ہو گا، ناز نخرے اٹھاتا ہو گا ، اُن کے ساتھ کھیلتا ہو گا اور انہیں تحفظ کا احساس دلاتا ہو گا۔ اُن یتیموں کی ایک دن کی محرومی کا ازالہ بھی کبھی نہیں ہو سکتا۔ جانے والے کو یاد کر کے کیا رونا؟ جو پیچھے رہ گئے ہیں اُن کا ایک ایک لمحہ دکھ بھرا ہے۔ جدائی کا غم جب کسی کو لگتا ہے تو احساس ہوتا ہے۔
 لیکن کمال ہے اِس کا مل صبر پر جو شہید کے ورثاء بڑے فخریہ انداز میں شہید سے مناسبت پر کرتے ہیں ۔میں نے خود دیکھا جب ایک بیوہ نے اپنے شوہر کے شہید ہونے پر کہا کہ '' مجھے فخر ہے کہ آج میں ایک عام عورت سے ایک شہید کی بیوہ بن گئی''۔ بوڑھے والدین نے اپنے بیٹے کی شہادت پر اللہ کا شکر ادا کیا۔ ایک چھوٹی سی بچی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ '' پہلے میرے باباصرف میرے ہیرو تھے لیکن آج میرے بابا پوری قوم کے ہیرو ہیں''۔بے شک شہید پوری قوم کے ہیرو ہیں اور ہم نہ صرف ان شہداء کے بلکہ ان کے اہل و عیال کے بھی احسان مند ہیں۔
شہادت وہ عظیم مرتبہ ہے جو ہر انسان کے حصے میں نہیں آتا، اس رتبے کو حاصل کرنے کے لئے وہ کچھ کرنا پڑتا ہے جو کسی دنیاوی منزل کو پانے کے لئے نہیں کرنا پڑتا۔ رسول اللہۖ کی احادیث میں بھی شہادت اور شہیدکے اس قدر فضائل بیان ہوئے ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے اور شک و شبہ کی ادنیٰ گنجائش بھی باقی نہیں رہتی ۔ ایک حدیث میں ہے کہ '' جنت میں جانے کے بعد کوئی دنیا میں لوٹنا اور اس کی اشیاء کو پانا پسند نہیں کرے گا سوائے شہید کے ، وہ تمنا کرے گا کہ دنیا کی طرف دس بار لوٹایا جائے پھر مار دیا جائے (اس اکرام کی وجہ سے جو وہ وقت شہادت میں دیکھتا ہے۔)''
بے شک شہید کے لئے اللہ تعالیٰ کے دربار میں بیش بہا انعامات ہیں اور قیامت کے روز شہید کے سر پر یا قوت کا تاجِ عزت پہنایا جائے گا اور انبیا، صدیقین اور صالحین کا ساتھ نصیب ہو گا۔ سب سے بڑھ کر شہید کی شفاعت ، اس کے گھر کے 70افراد کے حق میں قبول کی جائے گی۔ یہی جذبہ شہادت ہے جو پاک فوج کے ہر جوان کے دل میں ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت بھی ماند نہیں کر سکتی اور یہی شہداء کے جسدِ خاکی سے ٹپکتا خون ہے جو پاک دھرتی کی خوشحالی کا ضامن ہے۔

یہ تحریر 599مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP