یوم پاکستان

قرارداد پاکستان سے قیام پاکستان تک

اُصولِ فطرت ہے کہ اُجالے اندھیروں کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں۔ برعظیم پاک و ہندکی تاریخ بھی اِسی نوعیت کی ہے ۔ فرائض سے غفلت اور مغلیہ حکمرانوں کی تن آسانی کی وجہ سے مسلمان انگریزوں کے دست نگر بن گئے۔1857ء کی جنگ آزادی کے بعد مسلم اقتدار کا چراغ گل ہو گیا۔جنگِ آزادی میں یوں تو ہندوئوں اور سکھوں نے مسلمانوں کا ساتھ دیا لیکن شکست کے بعد منہ پھیر لیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انگریزوں نے مسلمانوں کو اپنا دشمن سمجھ کر اُن پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے۔ظلم و جور کی چکی میں پستے ہوئے مسلمانوں کو سر سید احمد خان نے بیدار کیا۔ دو قومی نظریے نے خوابیدہ مسلمانوں میں آزادی کی تڑپ پیدا کی۔ ڈاکٹر علامہ محمدا قبال کی شاعری نے مسلمانوں کی عروقِ مردہ میں خون زندگی دوڑا دیا۔ انڈین نیشنل کانگریس معرضِ وجود میں آئی لیکن بہت جلد اُس کا چہرہ بے نقاب ہوگیا۔ قائداعظم محمد علی جناح کی بصیرت نے مسلمانوں میں شمعٔ نوید روشن کی۔ مسلمانوں میں جذبۂ حریت پروان چڑھنے لگا۔ انگریزوں نے اپنے پائوں مضبوط کرنے کے لئے طرح طرح کے منصوبہ جات ، ایکٹ اور مختلف مراعات سے مسلمانوں کو مرعوب کرنے کی کوشش کی۔ 
 بنگال کی تقسیم ' مسلم لیگ کا قیام' تنسیخ بنگال' پہلی جنگ عظیم کا آغاز و اختتام' جلیاں والا باغ کا سانحہ ' تحریک خلافت' نہرو رپورٹ' قائد اعظم کے چودہ نکات '  خطبہ الٰہ آباد' کانگریسی وزارتیں اور ہندوئوں کے مظالم جیسے تاریخی اُتار چڑھائو کے بعد دوسری جنگ عظیم (1939-1945)کے آغاز نے تحریک پاکستان کو تقویت بخشی۔22 مارچ 1940ء جمعتہ المبارک سہ پہر بابائے قوم حضرت قائد اعظم محمد علی جناح نے منٹو پارک لاہورمیں منعقدہ جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے قیام پاکستان ،دو قومی نظریہ اور اسلامی نظامِ حیات پر روشنی ڈالی۔ غلامی کی زنجیروں میں جکڑے مسلمان 23 مارچ 1940ء کو سوئے منزل چلے ۔ نتائج سے بے خوف ' زندگی آزادی کے سپرد کرنے والے ' اذانِ حق کے پرستار' قائد اعظم کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے آگے بڑھتے گئے۔ ''بن کے رہے گا پاکستان' لے کے رہیں گے پاکستان' پاکستان کا مطلب کیالا اِلٰہ الااللہ' ' ایسے نعرے لبوں سے نہیں' دل سے بلند ہو رہے تھے۔ چشم ِفلک نے دیکھا کہ قوت ہار گئی اور جذبے جیت گئے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی صدارت میں مسلمان ایک جھنڈے تلے اکٹھے ہوئے۔ شیر بنگال چودھری فضل الحق نے قائد اعظم کی تقریر کی روشنی میں ایک قرارداد پیش کی اور پھر وقت نے ثابت کر دیا کہ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے پیش کردہ خاکے کو رنگِ حقیقت ملنے کے آثار ہویدا ہونے لگے۔ مایوسی سے بند ہوتی آنکھوں کو تنویر مل گئی۔ 
ہفتہ23 مارچ 1940ء کو پیش کی جانے والی قرارداد تاریخ عالم میں وہ پہلی قرارداد ہے جس نے غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی اور ظلمت کے اندھیروں میں بھٹکتی ہوئی قوم کو آزادی کی روشنی عطا کی۔قائداعظم نے اعلان کر دیا ''مجھے یقین ہے کہ مَیں آپ کے جذبات کی ترجمانی کر رہا ہوتا ہوں۔جب مَیں یہ کہتاہوں کہ مسلم ہند اُس وقت تک چین سے نہ بیٹھے گا جب تک کہ وہ اپنا منتہائے مقصود حاصل نہیں کر لے گا۔ آل انڈیا مسلم لیگ کی مشہور قراردادِ لاہور میں ہماری منزلِ مقصود کی واضح انداز میں نشان دہی کی جا چکی ہے اور یہ ہند کے سیاسی مسئلے کا واحد حل ہے ۔ '' (دی ڈان 23 مارچ 1944ء)
حصولِ آزادی کے لئے قراردادِ پاکستان سے قیامِ پاکستان تک مسلم مشاہیر نے برصغیر پاک و ہند کے کونے کونے تک آزادی کا پیغام پہنچایا۔ قائدِاعظم نے ہر ایک کا دروازہ کھٹکھٹایا اور پیغامِ آزادی دیا۔ اُنھوں نے واضح کر دیا کہ ہماری جنگ دستوری ہے ۔ ہم اپنے مطالبوں سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔ یونینسٹ پارٹی کی کچھ منفی سرگرمیوں کی پروا کئے بغیر آزادی کا سفر سبک رفتاری سے جاری رہا۔ قائداعظم محمد جناح نے کشمیر مسلم نیشنل کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا '' مجھے یہ دیکھ کر مسرت ہوئی کہ ریاست کے مسلمان بیدار ہوگئے ہیں اور متحد کھڑے ہیں۔ جیساکہ اب میں دیکھتا ہوں کہ اس پنڈال میں ایک لاکھ کے اجتماع میں بوڑھے بھی ہیں اور جوان بھی ، مزدور بھی ہیں اور تجار بھی۔ ''(19جون 1944ء)
جلسے جلوسوں کا سلسلہ زور پکڑنے لگا ۔ مسلمانوں کا اُصولی مؤقف حکومتی ایوانوں میں گونجنے لگا ۔ اس تحریک کو دبانے کے لئے تمام حربے استعمال میں لائے گئے لیکن مسلمانوں کے جذبے کی حرارت کم نہ ہوئی۔ موہن داس کرم چند گاندھی نے اخبارات کا سہارا لے کر پروپیگنڈا شروع کیا ۔ مختلف نوعیت کے وفود قائداعظم سے رابطے کرتے رہے،کئی مشن آتے جاتے رہے۔ اگر تحریک کا بغور مطالعہ کیا جائے تو مسٹر گاندھی اور مسٹر راج گوپال اچاریہ مخالفت کے باوجود قائداعظم کے مؤقف کو رد نہ کر سکے۔ قائداعظم نے فرمایا :''کرپس کی تجاویز کی پشت پر بھی برطانوی حکومت کی طاقت موجود تھی اوربرطانیہ نے اپنی کابینہ کے ایک رکن کو اتنی دور سے ہند بھیجا تاکہ وہ بہ نفسِ نفیس کانگریس اور مسلم لیگ کے سامنے معاملہ پیش کر سکیں۔ نہ صرف یہ ، کرپس نے ان نکات کی وضاحت کرنے کے لئے جو کانگریس اور مسلم لیگ نے اٹھائے، دو ہفتے سے زیادہ کانگریس رہنمائوں اور مجلس عاملہ کے ساتھ صرف کئے ۔ یہ درست ہے کہ یہ شرط وہاں بھی تھی کہ کرپس تجاویز کی بنیادی باتوں میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہو سکتا اور یہی سبب تھا کہ وہ ناکام ہوگئے لیکن مسٹرگاندھی اور سی راج گوپال اچاریہ تو شاہ سے زیادہ شاہ پرستی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ''(30 جولائی1944ء)
پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے طالب علم قائداعظم کے شانہ بشانہ میدانِ عمل میں کود پڑے۔ مولانا ظفر علی خان اور مجید نظامی کے قلم آزادی کی روشنائی سے منور تحریریں قرطاس پر بکھیرنے لگے۔ روزنامہ '' نوائے وقت '' کا بھی اجرا ء ہوگیا۔ قائداعظم محمدعلی جناح اور مسٹر گاندھی کے مابین مراسلات کا سلسلہ جاری رہا۔ قائداعظم نے واضح کر دیا ''پاکستان شرطِ اوّل ہے، اس کے بغیر کسی قسم کی مراسلت بے سود ہوگی۔ قراردادِ لاہور کے بارے میں ہندو اخبارات نے اسے قراردادِ پاکستان کانام دیا۔ یاد رہے! کہ کچھ احباب کا یہ کہنا ہے کہ قراردادِ لاہور کی منظوری کے وقت مسز مولانا محمدعلی جوہر نے اُسی وقت کہہ دیا تھا کہ یہ قراردادِ پاکستان ہے۔'' مختلف نوعیت کے مذاکرات ہوتے رہے لیکن مسلمان اپنے مؤقف پر ڈٹے رہے۔ گاندھی کی مکارانہ حکمتِ عملی بھی دم توڑ گئی۔ مسلم لیگ منصوبہ بندی کمیٹی نے5 نومبر1944ء کو معاشی اور صنعتی پالیسیوں کا اعلان بھی کیا۔ قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی ٹیم کے ہمراہ مختلف تقریبات میں شریک ہو کر آزادی کی لہر میں مزید اضافہ کیا۔ لاہور میں یومِ اقبال کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم نے فرمایا: '' ہر چند کہ وہ ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں لیکن ان کا شعر، جو لافانی ہے ، ہماری رہنمائی اور فیضان روحانی کے لئے ہمیشہ موجود رہے گا۔ ان کی شاعری طرز کے اعتبار سے حسین اور زبان کے لحاظ سے دلکش ہونے کے علاوہ ہمارے سامنے اس عظیم شاعر کے ذہن اور قلب کی ایک تصویر پیش کرتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ انھیں اسلامی تعلیمات سے کس قدر گہری عقیدت تھی۔ وہ رسول اکرم ۖ کے ایک سچے اور وفا کیش پیرو کار تھے۔ اوّل مسلمان اور آخر مسلمان۔ وہ اسلام کے شارح اور اس کی صدا تھے۔ ''(دی ڈان،11 دسمبر1944ء)
دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر برصغیر پاک وہند سیاسی کشمکش کا مرکز بن چکاتھا۔ مسلمان ہر صورت ِ حال کا سامنا کرنے کے لئے سربکف تھے۔22 مارچ 1945ء کو یومِ پاکستان کی تقریب کے موقع پر مسلمانوں نے اعلان کیا وہ حصولِ پاکستان تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ نیشنل گارڈز پنجاب کے جوان قائداعظم کا ہراول دستہ بن گئے ۔ لارڈ ویول نے مسلمانوں کو جال میں پھنسانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ 1946 ء کے الیکشن میں مسلم لیگ نے واضح اکثریت حاصل کر لی۔ اکھنڈ بھارت کا خواب چکنا چور ہوگیا۔ یومِ فتح کے موقع پر قائداعظم کا پیغام مسلمانوں کے لئے نویدِ مسرت ثابت ہوا۔ مختلف اخبارات ، رسائل اور جرائد نے مسلم لیگ کی کامیابی کو سراہا۔ عالمی پریس نے بھی کروٹ بدلی اور مسلمانوں کے مطالبۂ پاکستان کی حمایت کر دی۔ پنڈت جواہر لال نہرو کے جلسے بھی منہ تکتے رہ گئے۔ اتحاد ، تنظیم ، ایمان، کا نعرہ لے کر قائداعظم محمد علی جناح آگے بڑھے ۔ رحمن کا رحم مسلمانوں کے سروں پر ایک سائبان تھا ۔3 جون 1947ء کو تقسیم ہند کا اعلان کر دیا گیا۔ لارڈ مائونٹ بیٹن اور ریڈ کلف کے گٹھ جوڑ سے بائونڈری لائن بہت متاثر ہوئی۔ مسلم اکثریت کے بہت سے علاقہ جات ہندوستان کو دے دیئے گئے۔14 اگست1947ء بمطابق درمیانی شب 26/27 رمضان 1366ھ پاکستان دنیا کے نقشے پر اُبھرا ۔ قائداعظم کی ولولہ انگیزبے خوف قیادت نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ اندھیرے سے اجالے تک کے اس سفر میں مسلمانوں کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا' ان کا تصور ہی دل دہلا دینے کو کافی ہے۔ مسلمانوں کو آگ و خون کا دریا عبور کرنا پڑا' بہنوں کی عصمتیں لوٹی گئیں' بھائیوں کے سر تن سے جدا کر دیئے گئے' کتنے معصوم بچے یتیم ہوئے' کتنی عورتیں بیوہ ہوئیں۔ مسلمان قوم نے ایک آزاد مملکت کو پانے کے لئے جذبۂ ایمان سے سرشار ہو کر اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا دیا مگر افسوس کہ آج ہم اسی ملک کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کے در پہ ہیں۔ ہمارے سینے میں دل تو ہے مگر قوم کے احساس کی دھڑکن نہیں' ہم آنکھیں تو رکھتے ہیں مگر کھوٹے اور کھرے کی پہچان رکھنے والی بینائی کھو چکے ہیں' لب تو رکھتے ہیں مگر ہماری زبان سچائی کا ساتھ دینے سے معذور ہے' ہاتھ تو ہیں مگر ان میں باطل کا نام و نشان مٹانے کی طاقت نہیں' ہمارے پاس تقریریں اور دعویٰ تو بہت ہیں مگر جب ان کا عملی ثبوت دینے کا وقت آتا ہے تو وقتی مصلحتوں کی خاطر اپنے آپ کو خود غرضی اور بے حسی کی چادر میں چھپا کر یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا رہے یا نہ رہے ہم تو محفوظ ہیں' ہم نے تو برائی کا ساتھ نہیں دیا مگر یاد رہے کہ ظلم پر خاموش رہنے والا بھی ظالم ہے۔ کاش ہم کبھی اپنے من کے غار حرا میں ضمیر کی دم توڑتی آوازیں بھی سن سکیں تاکہ ہمارے لب کھلیں تو سچائی کے لئے، ہاتھ اٹھے تو حق کا بول بالا کرنے کے لئے،  قدم اٹھیں تو راہ حق میں ۔
سچائی کا ساتھ دینا مشکل ضرور ہے مگر جب دل نورِ ایمان سے منور ہو تو منزلیں خود قریب آ جاتی ہیں۔ منزل تک رسائی کے راستے ایقان کی حرارت سے ہموار ہو جاتے ہیں۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ حق کا ساتھ دینے والے خطرات میں تو ضرور گھرتے ہیں مگر اپنے نیک عمل سے تاریخ کے اوراق میں اپنا نام سنہری حروف سے رقم کر جاتے ہیں اور وہ لوگ اپنی قوم کے لئے باعثِ فخرثابت ہوتے ہیں ۔ ان کی زندگی آنے والوں کے لئے مشعل راہ بن جاتی ہے۔قائداعظم کی اس امانتِ حسیں کے تحفظ کے لئے ہمیں نظم و ضبط ، صبر و تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔پاکستان دنیا کا واحدملک ہے جس میں ہر قسم کی نعمت موجود ہے۔ اس کے اظہارِ تشکر کے لئے ہمیں اپنے محاذپر اپنا فرض ادا کرنا چاہئے۔ 


مضمون نگار ممتاز ماہرِ تعلیم ہیں اور مختلف اخبارات کے لئے لکھتے ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 353مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP