یوم پاکستان

قراردادِ مقاصد کی معنویت

قائداعظم نے اقتدار سنبھالتے ہی ان وعدوں کو وفا کرنے کی جدوجہد کا آغاز کر دیا مگروہ بہت جلد اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خاں کو تحریکِ پاکستان کے خواب و خیال کو حقیقت کا رنگ روپ بخشنے کے عمل کو اسی انداز کی مشکلات پیش آتی رہیں۔ معاشی اور معاشرتی زندگی میں تجدید و اصلاح کی مساعی میں مخصوص مفادات کے حامل طبقات کے علمبرداروں کی جانب سے پیش آنے والے واقعات اور مباحث کے پس منظر میں وزیراعظم لیاقت علی خاں نے قومی اسمبلی سے 'قرار دادِ مقاصد 'منظور کرائی۔ یہ قرارداد7مارچ 1949ء کو قومی اسمبلی میں پیش کی گئی تھی اورچھ (6) دن کی بحث و تمحیص کے بعد منظور ہوئی تھی۔ اس قرارداد کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اقتدار کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اور اُس ذاتِ والا صفات نے اپنا یہ حقِ اقتدار پاکستان کی منتخب قومی اسمبلی کو بطور امانت سونپ دیا ہے۔ اسمبلی کے اراکین اس اقتدار کو اللہ تعالیٰ کی امانت کے طور پر استعمال میں لائیں گے۔ اقتدار اللہ کا ہے اورعوام کے منتخب نمائندوں کے پاس امانت ہے۔

برصغیر کے مسلمانوں نے ایک عوامی جمہوری تحریک کی بدولت14اگست 1947ء کو پاکستان کا جغرافیائی وجودقائم کر دکھایا تھا۔اس تحریک کے قائداعظم محمد علی جناح نے قیامِ پاکستان کے فوراً بعد تعمیرِ پاکستان کی جانب پیش قدمی شروع کر دی تھی۔یہ گویا پاکستان کے خطۂ خاک کو سرزمینِ پاک بنانے کے عمل کی ابتدا تھی۔ قائداعظم نے آغازِ کار ہی میں اسلام کی ابدی تعلیمات کی روشنی میں اقتصادی اصلاحات کی جانب پیش رفت شروع کر دی تھی۔ سٹیٹ بنک آف پاکستان کے افتتاحی اجلاس میں اُنھوں نے اسلام کے ابدی اصولوں کی روشنی میں جدید معاشی نظام کے فروغ و استحکام کے لئے ماہرینِ معاشیات کی ایک کمیٹی قائم کر دی تھی۔ اسی طرح انھوں نے پاکستان مسلم لیگ کے پہلے اجلاس میں ہی زرعی اصلاحات کے لئے ایک کمیٹی قائم کر دی تھی۔ اس کمیٹی کے وجود میں آنے کے ساتھ ہی جاگیردارسیاستدانوں نے چند فتویٰ فروش علماء  کے دستخطوں سے زرعی اصلاحات کو اسلام کے منافی قرار دلوا دیا تھا۔یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کرائے کے کچھ سپاہی جاگیرداری نظام کے تحفظ کے لئے پہلے سے تیار بیٹھے تھے۔ جس روز زرعی اصلاحات کمیٹی کی خبر اخبارات میں شائع ہوئی اُسی روز کے اخبارات میں زرعی اصلاحات کو غیر شرعی قرار دینے کی خبر بھی ساتھ ہی ساتھ شائع ہو گئی مگر قائداعظم مُلّائیت کی اس یلغار سے بے نیاز تحریکِ پاکستان کے منشور پر عمل پیرا رہے۔یہاں یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہم تحریکِ پاکستان کے خواب و خیال کی جانب متوجہ ہوں۔اسلام کے آفاقی اور ابدی اصولوں کی روشنی میں ایک عادلانہ معاشی نظام کا قیام تحریکِ پاکستان کے چند بنیادی اصولوں میںسے ایک ہے۔ معاشی انصاف کے اس اصول کے ساتھ اپنی اور آل انڈیا مسلم لیگ کی اٹوٹ وابستگی کو نمایاں کرتے ہوئے بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح نے 24۔اپریل1943ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کے دہلی اجلاس میںاستحصالی طبقات کو یوں للکارا تھا:
''یہاں میں جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ وہ ایک ایسے ظالمانہ اور شرپسند نظام کی پیداوار ہیں، جس کی بنیادیں ہمارے خون سے سینچی گئی ہیں۔ عوام کا استحصال ان کی رگوں میںخون بن کر گردش کر رہا ہے، اس لئے ان کے سامنے عقل اور انصا ف کی کوئی دلیل کام نہیںکرتی۔ ہمارے ہاں لاکھوں کی تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں، جنہیں انتہائی مشقت کے باوجود صرف ایک وقت کی روٹی میسر ہے۔ کیا یہ ہے ہماری شاندار تہذیب؟ کیا پاکستان کا مطلب یہ ہے؟ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ لاکھوں مسلمان معاشی ظلم کا شکار ہو کر ایک وقت کی روٹی کو بھی ترستے رہیں گے؟ اگر آپ کا مطلب یہ ہے تو میں ایسے پاکستان سے باز آیا۔''
سرکار دربار میں انتہائی اثر و رسُوخ کے حامل طبقات کو اس انداز کی کھری کھری سُنا کر قائداعظم جہاں محروم اور مظلوم مسلمانوں کے دل کی آواز بن گئے، وہاں مسلم لیگ ان کی قیادت میں زبردست عوامی جمہوری تحریک بن کر اُبھری۔ جاگیرداری ہماری زرعی پسماندگی کا سبب ہی نہیں بلکہ علمی زوال اور معاشی ابتری کی ذمہ دار بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تصور پاکستان پیش کرنے کے صرف چند ماہ بعد اقبال نے اسلامیانِ ہند پر واضح کیا تھا کہ: ''برصغیر میں اسلام کے مستقبل کا انحصار مزارعین کی آزادی پر ہے۔'' یہ حقیقت ہر گز فراموش نہ ہونی چاہئے کہ معاشی ظلم کے خلاف جدوجہد ہماری قومی جدوجہد کا ایک تابناک رُخ ہے۔ 
 قائداعظم نے اقتدار سنبھالتے ہی ان وعدوں کو وفا کرنے کی جدوجہد کا آغاز کر دیا مگروہ بہت جلد اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خاں کو تحریکِ پاکستان کے خواب و خیال کو حقیقت کا رنگ روپ بخشنے کے عمل کو اسی انداز کی مشکلات پیش آتی رہیں۔ معاشی اور معاشرتی زندگی میں تجدید و اصلاح کی مساعی میں مخصوص مفادات کے حامل طبقات کے علمبرداروں کی جانب سے پیش آنے والے واقعات اور مباحث کے پس منظر میں وزیراعظم لیاقت علی خاں نے قومی اسمبلی سے 'قرار دادِ مقاصد 'منظور کرائی۔ یہ قرارداد7مارچ 1949ء کو قومی اسمبلی میں پیش کی گئی تھی اورچھ (6)دن کی بحث و تمحیص کے بعد منظور ہوئی تھی۔ اس قرارداد کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اقتدار کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اور اُس ذاتِ والا صفات نے اپنا یہ حقِ اقتدار پاکستان کی منتخب قومی اسمبلی کو بطور امانت سونپ دیا ہے۔ اسمبلی کے اراکین اس اقتدار کو اللہ تعالیٰ کی امانت کے طور پر استعمال میں لائیں گے۔ اقتدار اللہ کا ہے اورعوام کے منتخب نمائندوں کے پاس امانت ہے۔ یوں قراردادِ مقاصد نے عام آدمی کو اقتدار کا مالک ٹھہرایا ہے اور عوام کی رائے سے منتخب ہو کر قومی اسمبلی میں پہنچنے والے اراکین کو یہ اقتدار استعمال کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ یہ قرارداد اسمبلی میں پیش کرتے وقت وزیراعظم لیاقت علی خاں نے عوام کے حقِ حاکمیت کو یوں اُجاگر کیا تھا  :

"We, the people of Pakistan, have the courage to believe firmly that all authority should be exercised in accordance with the standards laid down by Islam, so that it may not be misused. All authority is a sacred trust, entrusted to us by God for the purpose of being exercised in the service of man, so that it does not become an agency for tyranny or selfishness."

    یہ اس عزم کا اظہار ہے کہ پاکستان کے عوام ہمہ مقتدر ہیں اور یہاںمحض چند لوگوں پر انحصار کے بجائے اسلام کی انقلابی رُوح کی تفہیم و تعبیر سے عوام کی تربیت کا اہتمام حکومتِ وقت کا اہم ترین فریضہ قرار پایا ہے۔ عوام کا فریضہ یہ ہے کہ وہ اپنے نمائندے منتخب کرتے وقت صداقت، امانت اور دیانت کے دینی معیار کوملحوظِ خاطر رکھیں تاکہ وہ اسمبلی میں پہنچ کر اسلام کے روشن اصولوں کے مطابق اپنا حقِ اختیار استعمال کر پائیں۔ قراردادِ مقاصد کے مطابق :

"It has been made clear in the Resolution that the State shall exercise all its powers and authority through the chosen representatives of the people.......The Preamble fully recognizes the truth that the authority has been delegated to the people, and to none, and that it is for the people to decide who will exercise that authority. It was made clear in the Resolution that the State shall exercise all its power and authority through the chosen representatives of the people."

    قراردادِ مقاصد میں ایک مؤثر دینی استدلال کے ساتھ یہ بات کہی گئی ہے کہ اسلام میں تھیاکریسی کی ہر گز کوئی گنجائش نہیں ہے۔اسلام بین المذاہب ہم آہنگی اور اقلیتوں کے فکر و عمل کی آزادی کا علمبردار ہے:

Wherein adequate provision shall be made for the minorities freely to profess and practise their religions and develop their cultures;

    قراردادِ مقاصد میں ریاست کو اسلام کے آفاقی اور ابدی اصول و اقدارکی روشنی میں اسلامی معاشرے کی تشکیل و تعمیر کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ خوش قسمتی سے ہماری پہلی دستور ساز اسمبلی میں مولانا شبیر احمد عثمانی ایک منتخب رُکن کی حیثیت میں فعال تھے۔ اُنھوں نے قراردادِ مقاصد کی ترتیب و تخلیق کی پارلیمانی بحث و تمحیص میں بھرپور حصہ لیا تھا۔ وہ قائداعظم کی قیادت میں رواں دواں تحریکِ پاکستان کے ایک سرگرم رُکن رہے تھے۔ اس اعتبار سے تحریکِ پاکستان کے دینی، قومی اورسیاسی مزاج سے بخوبی آگاہ تھے۔ وزیراعظم لیاقت علی خان کی قیادت میں چھ(6)دن کے بھرپور پارلیمانی غور و فکر سے قراردادِ مقاصد منظورتو ہو گئی مگر افسوس ، صد افسوس کہ اس کی روشنی میں آئین سازی کا فریضہ سرانجام نہ دیا جا سکا۔ کرائے کے قاتل نے لیاقت علی خان کو ہم سے چھین لیا اور بعد ازاں بہت جلد افسرشاہی کی حکومت قائم ہو گئی۔ غلامانہ ذہنیت میں راسخ برطانوی ہند کی افسرشاہی کے تربیت یافتہ افسران ہمارے حکمران بن بیٹھے۔برطانوی حکمرانوں نے افسرشاہی کو اپنے سامراجی زندان میں بند رکھنے کا ایک اہتمام کر رکھا تھا۔ اپنی غلامانہ ذہنیت پر نازاں یہ حکمران خود بھی حریتِ فکر و عمل سے محروم تھے اور پاکستان کے عوام کو بھی آزادی اور خود مختاری کے جذبہ و احساس سے عاری دیکھنے کے خواہاں تھے۔ عوامی جمہوری تحریکِ پاکستان کے نظریہ و عمل سے ناآشنائے محض افسر شاہی کا دور آیا تو جہاں تحریکِ پاکستان کے خواب و خیال متنازع فیہ بننے لگے وہاں قراردادِ مقاصد کے گرد بھی شکوک و شبہات کی دُھند گہری ہونے لگی۔ تاہم عوام کے اجتماعی شعور اور مشترکہ قومی دانائی کی بدولت کچھ عرصے میں یہ دُھند چھٹ گئی اور قراردادِ مقاصد کو پاکستان کے آئین کا جزوِلایُنفک بنادیا گیا۔ ||


مضمون نگار ایک ممتاز دانشور ہیں۔ آپ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے سابق ریکٹر ہیں۔ آپ کی تحاریر قومی اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں۔  
[email protected]
 

یہ تحریر 111مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP