قومی و بین الاقوامی ایشوز

قبائلی علاقوں میں قیامِ امن کے بعد معاشی بحالی کے اقدامات

افواج پاکستان کی جانب سے معاشی ترقی اور بے روزگار نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے عملی اقدامات اور اس کے اثرات  پر مبنی جاوید آرائیں کی خصوصی رپورٹ




ایف سی ہیڈ کوارٹر ساؤتھ کی نگرانی میں معاشی ترقی کو مذکورہ علاقہ میں مزید وسعت دینے اور بے روزگار مقامی نوجوانوں کے لئے روزگار کے بہتر سے بہتر مواقع پیدا کرنے کے لئے یہ کوشش کی جارہی ہے کہ اب اس یونٹ کو مقامی نوجوانوں کے حوالے کر دیا جائے تاکہ وہ بغیر کسی کے انحصار کے مقامی سطح پر خود فٹ بالز تیار کر کے پاکستان کے علاقوں میں سپلائی کر سکیں اور بہتر آمدن حاصل کرنے کے قابل ہو سکیں۔


افواج پاکستان ملک کا وہ باصلاحیت اور قابلِ اعتماد ادارہ ہیں جس پر پاکستانی قوم کو فخر ہے اور یقین بھی۔ جن ملکوں کی فوج کمزور ہوجائے تو دشمن ان کو اپنی چالوں میں جکڑ کر ہمیشہ کے لئے صفحہ ہستی سے مٹا دیتے ہیں۔ افواج پاکستان ملک کی حفاظت کی آخری لکیر ہے اور یہی بنیادی وجہ ہے کہ ارض پاکستان کے ازلی دشمن ہماری بہادر افواج کی وجہ سے ہمارے پیارے ملک کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے ۔ پاکستان آرمڈ فورسز نے ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے بے تحاشاقربانیاں دے کر ان چیلنجز کا نہ صرف ڈٹ کر مقابلہ کیا بلکہ دشمنوں کی چالوں کو ناکام بنا کر ان کو ناکوں چنے چبوائے۔ افواج پاکستان کے بہادر سپوتوں نے جانوں کے نذرانے پیش کرکے اپنے ملک کے چپے چپے کی حفاظت کی ہے۔ ہمارے ملک کی بہادر افواج پاکستان کی بنیادی طاقت کا سر چشمہ ہے جس میں جذبہ ایمانی اور عوام کی محبت کا عنصر شامل ہے۔ جو ہمیشہ سے افواج پاکستان کے لئے فخر کا باعث ہے۔




دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران قبائلی علاقوں میں افواج پاکستان اورفرنٹیئرکور نے امن کی بحالی کے لئے لازاوال قربانیاں پیش کی ہیں۔ امن وامان کی صورتحا ل کو بہتر بنانا ہو یاکرونا وباء کے دوران بیوہ،معذور افراد کو راشن کی فراہمی ہو، غریب لاچار اورمعذور افراد کی مالی امداد ہو،جنگ زدہ علاقوں کی ترقی و خوشحالی ہو یاپھر وہاں کے نوجوان نسل کے لئے باعزت روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہوں، ہماری افواج کامشن بہترین رہا ہے۔ جنگ زدہ قبائلی علاقوں میں امن کی بحالی کے بعدپاک آرمی اور ایف سی نے ان علاقوں میں معاشی ترقی کے لئے بے تحاشا کام کیا ہے۔ آج بھی ان علاقوں میں پاک فوج کی نگرانی میں بہترین کیڈٹ کالجز اور تعلیمی درسگاہیں وہاں کے بچوں کو تعلیم کے بنیادی زیور سے آراستہ کرنے میں مصروف عمل ہیں تاکہ ان دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے افواج پاکستان سمیت ملک کے دیگر اداروں میں خدمات سر انجام دینے کے قابل ہو سکیں اور یہ بھی اٹل حقیقت ہے کہ سابقہ قبائلی علاقوں کے جوان افواج پاکستان کی کوششوں سے تعلیم کی طرف راغب ہو چکے ہیں اور انہوں نے تعلیم کو اپنا ہتھیار بنانا شروع کر دیا ہے کیونکہ وہ یہ جان چکے ہیں کہ تعلیم ہی سے معاشرے اور قومیں ترقی کرتی ہیں۔ افواج پاکستان قبائلی علاقوں کے بے روزگار نوجوانوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرانے کے ساتھ ساتھ ان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کر کے اس قابل بنا رہی ہیں کہ وہ معاشرے پر بوجھ بنے بغیر اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کے لئے حلال اور باعزت روزگار کمانے کے قابل ہو سکیں۔ ان تمام خدمات پر نظر دوڑائیں تو پاک فوج کے تمام فارمیشنز اور یونٹس نے بہت کام کیا ہے۔ تاہم اس آرٹیکل میں ہم صرف ایف سی سائوتھ کی کاوشوں کا جائزہ لیںگے۔ بلاشبہ ایف سی ہیڈ کوارٹر ساؤتھ کے اپنی مدد آپ کے تحت معاشی ترقی کی بحالی کی مد میں کئے گئے اقدامات بہت خوش آئندہیں۔ ملک کی بقاء و سلامتی ہو دہشت گردی کے چھائے ہوئے سائے ہوں سیلاب کی تباہ کاریاں ہوں،ٹڈی دل ہو،دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا پھر کسی بھی قسم کی قدرتی آفات افواج پاکستان ہمیشہ لبیک کہتے ہوئے آگے بڑھیں اور پاکستانی قوم کی امیدوں پر پورا اترتے ہوئے اپنا لوہا منوایا ۔میں یہاں پر اس علاقے کا ذکر کرنا چاہوں گا جو آج سے کئی سال پہلے بدامنی اور دہشت گردی کی کاروائیوں سے براہ راست متاثر ہوا تھا ۔اس علاقے میں دہشت گردی کی لہر نے انسانی اور کاروبار زندگی کو مکمل طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا تھا کاروباری مراکز تباہ ہو چکے تھے۔ خوف اور دہشت کے سایوں نے وہاں پر اپنا بسیرا کر لیا تھا کھیلوں کے میدان غیر آباد اور معاشی ترقی مکمل طور پر رک گئی تھی۔ زندگی کا پہیہ چلانے کے لئے علاقے کے لوگوں نے ملکی بقاء کے لئے نقل مکانی شروع کر دی تھی اور ویرانیاں اس علاقے کا مقدر ٹھہر چکی تھیں۔لوگ اپنا سب کچھ چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں آئی ڈی پیز کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو گئے تھے بازار کھنڈرات میں تبدیل ہو گئے تھے اور علاقہ میں ہو کا عالم برپا تھا۔ جی ہاں یہ سب حالات موجودہ ضم ہونے والے اور سابقہ نیم قبائلی علاقہ ایف آر جنڈولہ کے تھے جو اب ضم ہونے کے بعد ضلع ٹانک کے بندوبستی علاقہ میں شامل ہو چکا ہے، جہاں پر کئی سال پہلے دہشت گردی کی لہر کے دوران انسانی خوشیاں بالکل مانند پڑ چکی تھیں جنڈولہ وہ علاقہ تھا جس کو کاروبارکامرکز تصور کیا جاتا تھادہشت گردی کی وجہ سے یہاں پر زندگی کی چہل پہل سکڑ گئی تھی لیکن اس دوران افواج پاکستان کو ان علاقوں میں امن بحال کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ جنہوں نے یہاں کے محب وطن شہریوں کے ساتھ مل کر قربانیوں کی داستانیں رقم کیں اور جنڈولہ کا امن بحال کروایا۔ بیٹنی قبائل اور اس کے مِشران سیکورٹی فورسز کے شانہ بشانہ رہے اور مشکل حالات میں انہوں نے یہ سچ کر دکھایا کہ بیٹنی قبائل محب وطن تھے اور ہیں جنڈولہ میں امن کی بحالی کے بعد ایف سی ہیڈ کوارٹر ساؤتھ نے جنڈولہ میں معاشی ترقی اور خوشحالی کے لئے عملی اقدامات اٹھانا شروع کئے اور ایسے معاشی منصوبوں کا آغاز کیا جس سے یہاں کے نوجوانوں کواپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے لئے باعزت روزگار کمانے کے مواقع فراہم کئے جا سکیں تاکہ یہاں کا نوجوان بھی حلال روزگار کے ساتھ ملکی اور عوامی خدمت میں اپنا بھرپور کر دار ادا کر سکے۔ عوامی فلاح و بہبود کے کاموں میں تیزی لاتے ہوئے ایف سی ہیڈ کوارٹر ساؤتھ کی کاوشوں سے اعلیٰ معیار کی  درجنوں دکانوں پر مشتمل ایک خوبصورت کمرشل مارکیٹ کی تعمیرکی گئی اور وہاں کے باسیوں کے لئے بنائی گئی کمرشل دوکانوں کے مالکانہ حقوق ان کے حوالے کر دئیے گئے تاکہ وہ ان دکانوں میں پھر سے اپنا کاروبار شروع کرکے علاقہ کی معاشی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔



 ایف سی ہیڈ کوارٹر ساؤتھ کے تعاون اور سیکٹر ہیڈ کوارٹر ساؤتھ کی نگرانی میں 7 جولائی 2012 کو گورنمنٹ ڈگری کالج جنڈولہ میں نوجوانوں کے باعزت روزگار اور ان کو ہنر مند بنانے کے لئے Football Stitching Units Jandola  کا قیام عمل میں لایا گیا تھا تاکہ یہاں کی یوتھ کو ہنرمندبنا کر اس قابل بنایا جا سکے کہ وہ کسی پر بوجھ بنے بغیر اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پال سکیں۔ ڈگری کالج جنڈولہ میں قائم کئے گئے مذکورہ سنٹر میں بے روزگار نوجوان کو تربیت فراہم کر کے ہنر مند شہری بنانے کے لئے ایف سی ہیڈ کوارٹر ساؤتھ نے پاکستان لیول پر بہترین فٹ بال بنانے والی انور خواجہ انڈسٹری سیالکوٹ کے ساتھ معاہدہ کیا تاکہ اس کے ٹرینر یہاں پر آکر بے روزگار نوجوانوں کو فٹ بالوں کی stitchings کی تربیت فراہم کر سکیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہاں کے مقامی نوجوانوں نے تربیت کا عملی مظاہرہ دکھاتے ہوئے اپنے کام پر گرفت حاصل کر لی تربیت کے اول مراحل میں انور خواجہ انڈسٹری زیر تربیت افراد کو فٹ بال بنانے کا سامان مہیا کرتی تھی اور اس یونٹ میں کام کرنے والے نوجوان فٹ بال کی  stitching کا  مرحلہ مکمل کرکے فٹ بالز کمپنی کو تیار کر کے واپس کر دیتے تھے جس پر کمپنی معاہدے کے مطابق فی فٹ بال 89 روپے تربیت یافتہ افراد کو اجرت کے طور پر ادا کرتی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے یونٹ میں کام کرنے والے نوجوان ہنر مند بن گئے اور کسی پر انحصار کئے بغیر وہ اب اعلی کوالٹی کے فٹ بالز تیار کرنے کے قابل ہوگئے ہیں۔ زیر تربیت نوجوان اب تک دس ہزا ر سے زائد اعلی کوالٹی کے فٹ بالز تیار کر چکے ہیں جبکہ ماہانہ کی بنیادوں پر اس یونٹ میں 800 سے زائد اعلیٰ کوالٹی کے فٹ بالزتیار ہوئے ہیں جو پاکستان کے مختلف علاقوں بلوچستان، گلگت بلتستان،پشاور اسلام آباد اور ملک کے دیگر بڑے شہروں میں سپلائی ہو چکے ہیں اور کھیلوں کے میدانوں کی زینت بن رہے ہیں ایف سی ہیڈ کوارٹر ساؤتھ کے تعاون اور سیکٹر ہیڈ کوارٹر کی زیر نگرانی معاشی ترقی کے اس خواب کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے اور تربیت یافتہ نوجوانون کی حوصلہ افزائی کے لئے ایف سی ساؤتھ بغیر کسی منافع کے اور خود نقصان برادشت کر کے ان کو فٹ بال کے پارٹس فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ 2500 روپے ماہانہ تنخواہ کے طور پر بھی ادا کر رہی ہے تاکہ وہ اپنا کام بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھ سکیں ایف سی ساؤتھ نے جنڈولہ میں بے روزگار نوجوانوں کے لئے باعزت روزگار اور معاشی ترقی کا جو خواب دیکھا تھا وہ اب حقیقت کا روپ دھار رہا ہے انور خواجہ انڈسٹری کے ماہر افراد سے stitiching کی تربیت حاصل کرنے والے 18سے زائد افراد اب اپنے اور دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے بے روزگار نوجوانوں کو عملی تربیت فراہم کر رہے ہیں جس سے علاقہ میں بے روزگاری کا خاتمہ اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔ ایف سی ہیڈ کوارٹر ساؤتھ کی نگرانی میں معاشی ترقی کو مذکورہ علاقہ میں مزید وسعت دینے اور بے روزگار مقامی نوجوانوں کے لئے روزگار کے بہتر سے بہتر مواقع پیدا کرنے کے لئے یہ کوشش کی جارہی ہے کہ اب اس یونٹ کو مقامی نوجوانوں کے حوالے کر دیا جائے تاکہ وہ بغیر کسی کے انحصار کے مقامی سطح پر خود فٹ بالز تیار کر کے پاکستان کے علاقوں میں سپلائی کر سکیں اور بہتر آمدن حاصل کرنے کے قابل ہو سکیں۔ مذکورہ یونٹ میں نوجوانوں کی جانب سے جنوبی وزیرستان کے اونچے پہاڑ پریغل ون اور پریغل ٹو کے نام سے اعلیٰ کوالٹی کے فٹ بالز کی تیار یوں کا سلسلہ جاری ہے جس کی کوالٹی عالمی معیار کے مطابق نظر آتی ہے۔ جنڈولہ میں مقامی سطح پر ہنر مند جوانوں کے ہاتھوں تیار ہونے والی پریغل ون اور پریغل ٹو فٹ بال اسوقت پاکستان کے بڑے علاقوں میں کھیلے جانیوالے فٹ بال میچوں میں استعمال ہو رہی ہیں جبکہ پریغل ون کی قیمت 550 روپے اور پریغل ٹو کی قیمت 450 روپے مقرر کی گئی جو کسی بھی اعلیٰ کولٹی کے فٹ بال کی نسبت بہت کم ہے جس کو فٹ بال کی ٹیمیں خرید کر خوشی محسوس کرتی ہیں کیونکہ ان کو اتنی کم قیمت پر اتنی اعلیٰ کوالٹی کا فٹ بال ملنا بہت ہی خوش آئند ہے ایف سی ہیڈ کوارٹر ساؤتھ کے تعاون اور سیکٹر ہیڈ کوارٹر ساؤتھ کی نگرانی میں ایسے علاقوں میں بے روزگاری کے خاتمے،تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز اور عوامی فلاح و بہبود کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا،کھیلوں کی سرگرمیوں کا انعقاد کرانا،معذور افراد کو گھروں کی دہلیز پر راشن پہنچانا،بیوہ عورتوں کو سلائی مشینیں فراہم کرنا،بیماروں کے علاج کے لئے مالی مدد کی فراہمی،تعلیم یافتہ نوجوانوں کو تعلیم کے حصول میں آسانی پیدا کرنے کے لئے ان کو وظائف دینا بلاشبہ افواج پاکستان اور ایف سی ساؤتھ کا ایک بہت بڑا کام ہے جس کوعلاقے کا ہر محب وطن شہری قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان کی ان کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہے راقم اگر یہاں پر آئی جی ایف سی ساؤتھ میجر جنرل عمر بشیر اور سیکٹر کمانڈر ساؤتھ بریگیڈئیر نیک نام کاذکر نہ کرے تو یہ زیادتی کے مترادف ہو گا۔ افواج پاکستان کے ان دونوں حکام نے اپنی تعیناتی کے دوران نہ صرف علاقہ میں پائیدار امن کی بحالی کے لئے کام کیا بلکہ ان علاقوں میں بسنے والی عوام کو پیار محبت اورجذبہ حب الوطنی کا ایسا پیغام دیا جس کو مدتوں تک یاد رکھا جائیگا ان دونوں حکام نے نوجوانوں کے تابناک اور ابھرتے ہوئے مستقل کے لئے خصوصی اقدامات اٹھائے ہیں تاکہ قبائلی پٹی کے بے روزگار نوجوان کی محرومیوں کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ 

گورنمنٹ ڈگری کالج جنڈولہ میں قائم فٹ بال سٹیچینگ یونٹ کا صحافیوں کو خصوصی طور پر دورہ بھی کرایا گیا اس موقع پرجنڈولہ کے کمانڈنگ آفسیر لیفٹیننٹ کرنل مسرور بٹ بھی صحا فیوں کے ہمراہ  تھے، ڈگری کالج میں قائم یونٹ میں فٹ بالز کی تیاری کے تمام مراحل کے بارے میں صحافیوں کو آگاہی دی گئی۔ جب صحافیوں نے یونٹ کادورہ کیا تو تمام تربیت یافتہ نوجوان دل جمعی کے ساتھ اپنے کام میں مصروف عمل تھے۔ صحافیوں کی ٹیم نے جب مقامی تربیت یافتہ شاہ زیب نامی نوجوان سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ آج سے کئی سال پہلے ملک میں سابقہ دہشت گردی کی لہر کی وجہ سے جنڈولہ اور اس میں بسنے والے مقامی افراد اور کاروبار زندگی بری طرح متاثر ہوئی تھی۔ علاقے کی یوتھ بھی بے روزگاری کی دلدل میں دھنستی جارہی تھی، ایسے میں ایف سی ساؤتھ نے ایک طرف امن کی بحالی میں کردار ادا کیا جبکہ دوسری طرف معاشی ترقی اور روزگار کے مواقعوں کی فراہمی میں خصوصی اقدامات اٹھا ئے جس میں فٹ بال سِٹچنگ یونٹ کا قیام اس کی زندہ مثال ہے انہوں نے کہا کہ ہم بیروزگار ہو چکے تھے ایف سی نے اپنے خصوصی تعاون سے ہمیں مذکورہ یونٹ میں قومی سطح کے تربیت یافتہ ماہرین سے تربیت فراہم کی اور آج ہم الحمد للہ بغیر کسی کے سہارا کے اپنا کام کر کے باعزت روزگار کما رہے ہیں۔ شاہ زیب کا کہنا تھا یونٹ کے اندراب ایک فٹ بال کی stitching پرمناسب اُجرت بھی مل رہی ہے۔ اب ہم اپنے علاقہ کے دوسروں بے روزگار نوجوانوں کو یونٹ میں لاکر ان کو تربیت فراہم کر رہے ہیں تاکہ وہ بھی ہماری طرح ہنر مند بن کر باعزت روزگار کمانے کے قابل ہو سکیں صحافیوں کو نوید اور مہران نامی نوجوان نے بتایا کہ ہم بے روزگار تھے لیکن اب ہم ایف سی کی عوام دوست معاشی پالیسیوں کے ثمرات سے مستفید ہو رہے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب جنڈولہ جیسے علاقہ سے اعلی معیار کے فٹ بال پورے پاکستان میں فروخت ہوں گے اور ان علاقوں کے بے روزگار نوجوان اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا کر ملک و قوم کی خدمت کے ساتھ علاقے کا نام بھی روشن کرنے کے قابل ہوسکیں گے۔ ہنر مند نوجوانوں نے دہشت گردی سے متاثرہ سابقہ قبائلی علاقہ جنڈولہ میں بے روزگار نوجوانوں کے لئے معاشی انقلاب برپا کرنے اور ان کو باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر آئی جی ایف سی ساؤتھ میجر جنرل عمر بشیر،سیکٹر کمانڈر ساؤتھ بریگیڈ ئیر نیک نام بیگ،کمانڈنگ آفیسر 245 ونگ جنڈولہ لیفٹیننٹ کرنل مسرور بٹ سمیت دیگرتربیت فراہم کرنے والے افراد کی کاوشوں پر ان کا شکریہ ادا کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ ایف سی سائوتھ اور افواج پاکستان اسی طرح سابقہ قبائلی علاقوںمیں عوامی فلاح و بہبود کے لئے معاشی منصوبوں پر عملی طور پر کام کرتی رہے گی تاکہ ان علاقوں میں ترقی، امن و امان اور خوشحالی کے اثرات مرتب ہوں ۔ ||


[email protected]
 

یہ تحریر 168مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP