قومی و بین الاقوامی ایشوز

قبائلی علاقوں سے قبائلی اضلاع۔ ایک طویل سفر

پہاڑ ان کے ارادے، سمندر ان کے دل
قناعت ان کا تمدن، گلاب ان کے خیال
خدا نے ان کو عطا کی ہیں جرأتیں کتنی
کسی بھی حال میں رہنا نہیں ہے ان کو محال
یہ دیودار کے ہم قد، بلندیوں کے دھنی
یہ گھاٹیوں کے شناسا ہیں چوٹیوں کے مکیں
یہ روز کھود کے لاتے ہیں دودھ کی نہریں
چمکتی رہتی ہیں خود داریوں سے ان کی جبیں
مجھے ہمیشہ رشک آیا ہے ان عظیم ہم وطنوں پر جو بلندیوں پر زندگی گزارتے ہیں، گھاٹیوں کو تسخیر کرتے ہیں، کتنی مشکل زندگی ہے، میدانی علاقوں کی نسبت۔ لیکن کبھی حرف شکایت زباں پر نہیں لاتے۔ کتنی صدیوں سے پہاڑ ان کے ساتھی ہیں، چٹانیں ہم راز، جیسے جیسے دنیا ترقی کررہی تھی، انسان کو زندگی کی آسانیاں میسر آرہی تھیں۔ ان کی بھی خواہش رہی کہ انہیں بھی ملک کے دوسرے علاقوں کی طرح سہولتیں نصیب ہوں۔ شاہراہیں تعمیر ہوں، درسگاہیں ان کی آئندہ نسلوں کے لیے قائم ہوں، ان کے بھی علاج کے لیے جدید طبی آلات کے ساتھ اسپتال موجود ہوں، مختلف حکومتیں آئیں، منصوبے بناتی رہیں، لیکن اکیسویں صدی ان کے لیے راستے کھلنے اور دوسرے اضلاع کی طرح صوبائی اسمبلیوں میں نمائندگی کی نوید لے کر آئی۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ان کی نمائندگی 1973 سے تھی۔ لیکن صوبائی اسمبلی میں باقاعدہ رکنیت 2019 میں نصیب ہوسکی۔



وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے۔ انگریزی میںFederally Administered Tribal Areas   ۔ فاٹا۔ بڑا خوبصورت مخفف پوری دنیا میں زیر استعمال تھا۔ قبائلی علاقوں سے خیبر پختونخوا کے اضلاع تک کا سفر بظاہر 74سال کی مسافت معلوم ہوتی ہے۔ لیکن در حقیقت دُشوار گزار گھاٹیوں، بلند و بالا چوٹیوں، سر سبز وادیوں میں یہ ہمیشہ جاری رہنے والی سماجی معاشرتی اور عمرانی تبدیلیوں کا ما حصل ہے، نہ جانے کتنی صدیاں لگی ہیں، اس منزل تک پہنچنے میں ۔ اب ملک کے دوسرے حصّوں کی طرح اور اپنے ہمسائے میں خیبر پختونخوا کے دوسرے اضلاع کی طرح خیبر، کرم، اورکزئی، مہمند، باجوڑ ، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان بھی صوبے کے اضلاع ہیں۔ ان کے انتخابی حلقے بھی بن گئے ہیں۔ جولائی 2019 میں پہلے انتخابات کے بعد ان کے لیے 21نشستیں بھی قائم کردی گئی ہیں۔ جن میں 16عام حلقے ہیں۔ خواتین کے لیے محفوظ نشستیں 4ہیں۔ ایک نشست اقلیت کے لیے مختص۔ خیبر پختونخوا اسمبلی میں سابقہ ایجنسیاں اب اضلاع کی صورت میں اپنے منتخب ارکان رکھتی ہیں۔ یہ مرتبہ ایک صدی سے زیادہ عرصے کے بعد ملا ہے۔ انتخابات میں ساری سیاسی جماعتوں نے بھرپور حصّہ لیا۔ خواتین نے خاص طور پر جوش و جذبے کا اظہار کیا۔ پاکستان تحریک انصاف ، جمعیت علمائے اسلام، بلوچستان عوامی پارٹی نے سیٹیں جیتیں۔ زیادہ تعداد آزاد امیدواروں کی تھی۔ ان علاقوں کے لیے سیاسی جماعتوں کی شرکت بھی نیا تجربہ تھی۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پہلے ہمیشہ یہاں سے ارکان آزاد حیثیت سے ہی ممبر بنتے تھے۔ عام طور پر یہ تصور تھا کہ فاٹا کے ارکان ہمیشہ حکومتی پارٹی کی حمایت کریں گے۔ فاٹا کے ان علاقوں کے علاوہ کچھ قبائلی علاقے صوبائی حکومت کے تحت رہے ہیں۔ انہیں پاٹا (Provincially Administered Tribal Areas) کہا جاتا تھا۔ یہ علاقے چترال، دیر، سوات، بونیر، شانگلہ، کوہستان، کالا ڈھاکا، مالا کنڈ کے اضلاع کہلائے۔ اب خیبر پختونخوا کل 35اضلاع پر مشتمل ہوگیا ہے۔ نئے اضلاع کا رقبہ 27220 مربع کلومیٹر ہے۔ ان کی آبادی 50لاکھ کے قریب ہے۔ پاٹا والے اضلاع کی قریباً 76لاکھ ۔
یہ قبائلی علاقے پاکستان کے لیے حفاظتی حصار کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ابتدا میں حکومت پاکستان نے ان کے لیے وہی قواعد و ضوابط اور وہی انتظامات برقرار رکھے جو برٹش انڈیا کے حکمرانوں نے ان کے لیے وضع کیے تھے۔ تاریخ پر سرسری نظر ڈالیں تو ان علاقہ جات میں کرائمز ریگولیشن کے نفاذ کا آغاز 1872میں سامنے آتا ہے کہ جب وی پنجاب فرنٹیئر ریگولیشن متعارف کرایاگیا۔ تاریخ کے صفحات کہتے ہیں کہ برطانوی استعمار نے سکھ انگریز دوسری لڑائی کے بعد اس علاقے کو 1849میں تحویل میں لیا۔ پہلے یہ وسیع تر پنجاب کا حصّہ تھے جس کی راجدھانی لاہور تھی۔ کچھ اضلاع باقاعدہ ضلعی انتظامیہ کے تحت تھے۔ انہیں طے شدہ (Settled District)اضلاع کہا گیا۔ مگر پہاڑوں میں گھرے علاقوں میں برطانوی حکمرانوں نے سیاسی اور سلامتی کے اعتبار سے اپنے زیرنگیں رکھا۔ یہاں برٹش انڈیا کے عام عدالتی اور انتظامی نظام کا دائرۂ اختیار نہیں تھا۔ زیادہ تر ان قبائل نے اپنا بندوبست 'پختون ولی' کے تحت خود کرنا تھا۔ 1901 میں باقاعدہ ایف سی آر نافذ کیا گیا۔ 1947کے بعد بھی ایف سی آر ہی لاگو رہا۔ برطانوی راج کے تمام اختیارات ان علاقوں میں ایک پولیٹیکل ایجنٹ کے ہاتھ میں ہوتے تھے۔مسائل کے تصفیے کے لیے جرگے ہوتے تھے یا معتبرین کی کونسل۔ روایتی قبائلی سربراہ ملک کہلاتے تھے۔ مذہبی طور پر اختیارات وہاں کے ملّاں کے پاس ہوتے تھے۔ برطانیہ نے افغان سربراہ امیر عبدالرحمن خان کے دور میں مستقل بارڈر کو ڈیورنڈ لائن کانام دیا ۔ 1901میں پختون علاقے پنجاب سے لے کر شمالی مغربی سرحدی صوبہ تشکیل دیا گیا۔ جس میں طے شدہ اضلاع بھی تھے اور قبائلی علاقے بھی۔ 1947میں قیام پاکستان کے بعد بھی ان علاقوں کی یہی حیثیت رہی۔17جون 1947 کو قائد اعظم محمد علی جناح نے قبائلی علاقوں کے مسلمانوں کے اظہار تشکر میں ایک بیان جاری کیا۔''مجھے پورے ہندوستان اور بیرونی ممالک سے مبارکباد اور نیک تمنّائوں کے خطوط اور تار موصول ہوتے ہیں۔ مگر میرے لیے فرداً فرداً سب کا جواب دینا ممکن نہیں ہے۔ تاہم میں ان سب کا تہ دل سے ممنون ہوں۔ جنہوں نے مجھے مبارکباد کے یہ پیغامات اور پُر خلوص خطوط ارسال کیے ہیں۔ خاص طور پر سرحد کے اس پار قبائلی علاقوں کے ان مسلمان بھائیوں کی نیک تمنّائوں اور مبارکباد کے پیغامات کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ جو بڑی تعداد میں موصول ہوئے۔ میں انہیں یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم اپنے معاملات کو برادرانہ طریقے پر استوار کرلیں گے۔ ہماری ایسی کوئی خواہش نہیں کہ ہم ان کی آزادی میں دخل انداز ہوں۔ ہمیں مسرت ہوگی کہ ہم ان سے ملیں اور ایسا اہتمام کریں جو بالخصوص ہم دونوں اور بالعموم مسلمانوں کے مشترکہ مفاد میں ہو۔''



بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اگر چہ برٹش انڈیا کی سیاسی اور عدالتی طور پر عدم مداخلت کی پالیسی کو برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ اس خواہش کا اظہار بھی ہے کہ ایسا اہتمام کیا جائے جو عام پاکستانیوں اور قبائلی علاقوں کے عوام کے مشترکہ مفاد میں ہو۔قائد اعظم اپنی مصروفیات کے باعث قبائلی علاقوں میں تو نہیں جاسکے لیکن 17اپریل 1948کو انہوں نے گورنمنٹ ہائوس پشاور میں ایک قبائلی جرگے سے خطاب کیا۔اس خطاب کے اقتباسات اگر چہ طویل ہیں لیکن ان کا اندراج اس معاملے کی بنیاد سمجھنے کے لیے ضروری ہے:
''میں ایک عرصے سے آپ سے ملاقات کا متمنی تھا۔ آپ شمال مغربی سرحدی قبائل کے نمائندے ہیں۔ آج میں آپ سے ملاقات کر کے درحقیقت بہت خوشی محسوس کر رہا ہوں ، مجھے افسوس ہے کہ میں آپ کے اپنے علاقوں میں آپ سے ملاقات کے لئے نہ آ سکا لیکن مجھے امید ہے کہ میں آئندہ کسی وقت ایسا کر پائوں گا۔
آپ نے جو میرا خیر مقدم کیا اور میری ذات کے بارے میں جو باتیں کہیں میں ان کے لئے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں نے جو کچھ کیا ، اسلام کے ایک خادم کی حیثیت سے محض اپنا فرض ادا کرنے کی خاطر کیا اور حتیٰ الامکان اپنی قوم کی مدد کرنے کی کوشش کی۔ میں اس بات کے لئے کوشاں رہا ہوں کہ مسلمانوں میں اتحاد پیدا کر دیا جائے اور مجھے توقع ہے کہ آپ پاکستان کو عظیم اور عالی شان مملکت بنانے کے اس اہم مرحلے کا احساس رکھتے ہوں گے۔ آج مسلمانوں میں اتحاد و یگانگت کی اس سے کہیں زیادہ ضرورت ہے جتنی کہ حصول پاکستان کے مرحلے میں ہمیں ضرورت تھی، جسے ہم اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پہلے ہی حاصل کر چکے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اس کام میں مجھے آپ کی پوری پوری حمایت حاصل ہوگی۔ میں چاہتا ہوں کہ ہر مسلمان فرد مسلمانوں میں باہم مکمل اتحاد قائم کرنے کیلئے اپنی پوری کوشش صرف کر دے اور میری مدد اور حمایت کرے۔ مجھے اعتماد ہے کہ آپ اس کام میں کسی فرد یا پاکستان کے کسی بھی علاقے سے پیچھے نہیں رہیں گے۔ ہم مسلمان ایک خدا، ایک کتاب یعنی قرآن حکیم اور ایک رسولۖ پر ایمان رکھتے ہیں۔ پس ہمیں ایک قوم کی حیثیت سے بھی متحد ہو کے رہنا چاہئے۔ آپ کو اس پرانی کہاوت کا علم ہوگا کہ اتحاد میں قوت ہے، اتحاد بقاء کا ضامن ہے اور انتشار تباہی کا سبب ہے۔
مجھے اس بات سے مسرت ہوئی کہ آپ نے پاکستان کے ساتھ اپنی وفاداری کا عہد کیا ہے اور یہ کہ آپ اپنے تمام وسائل اور اہلیت کے ساتھ پاکستان کی مدد کریں گے۔ آپ نے جس عہد کا اعلان کیا ہے میں اس کی تعریف کرتا ہوں قیام پاکستان کے سلسلے میں آپ نے پہلے ہی جو کردار ادا کیا ہے مجھے اس کا پورا علم ہے اور میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے قیام پاکستان کی جدوجہد میں میرے ساتھ تعاون کیا ہے اور میری حمایت کی ہے ، جیسا کہ آپ کو علم ہے آپ کی وفاداری، اعانت ، یقین دہانی اور اعلانات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک پائیدار اورحتمی علامت کے طور پر ہم نے وزیرستان سے فوجیں واپس بلانے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ کیونکہ ہم آپ پر سرحد کے آر پار رہنے والے مسلمان بھائیوں کی حیثیت سے پورا اعتماد اور اعتبار کرتے ہیں۔ مجھے اس امر پر بھی بہت خوشی ہے کہ آپ کو معروضی حالات میں تبدیلی رونما ہونے کا پورا شعور ہے۔ اب یہ کوئی غیر ملکی حکومت نہیں ہے۔ جیسے کہ پہلے تھی بلکہ اب ایک مسلم حکومت ہے اور مسلم حکمرانی ہے جس نے اس عظیم ، آزاد اور خودمختار مملکت پاکستان کی زمام اقتدار تھام رکھی ہے۔ اب یہ ہر مسلمان کا فرض ہے، آپ کا بھی اور میرا بھی اور ہر پاکستانی کا  کہ ہم نے جومملکت قائم کی ہے اسے زندگی کے ہر شعبے میں تقویت بخشی جائے اور اسے سب لوگوں بالخصوص غریبوں اور حاجت مندوں کے لئے خوشحال اور شادماں بنا دیا جائے۔
پاکستان کی ایسی کوئی خواہش نہیں کہ وہ آپ کی داخلی آزادی میں بے جامداخلت کرے۔ پاکستان میں صلاحیت ہے کہ وہ خود انحصاری اور خود کفالت کے حصول میں حتیٰ الامکان آپ کی مدد کرے گا اور آپ کی تعلیمی، معاشرتی اور اقتصادی ترقی میں آپ کی اعانت کرے گا اور جیسا کہ اب تک طریقہ رہا ہے، آپ کوسالانہ وظائف کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے جس کا مطلب ہے کہ جب سال ختم ہوتو آپ کا حال ان فقیروں سے بہتر نہ ہو جو گدائی کے لئے ہاتھ پھیلائے رکھتے ہیں۔ اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ممکنہ حد تک ان مراعات میں کچھ اضافہ کرالیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ باعزت شہریوں کی حیثیت سے اپنے پائوں پر کھڑے ہوجائیں اور آپ کو پوری ترقی کے مواقع حاصل ہوں تا کہ آپ اپنی اور اپنے خطے کی بہترین صلاحیت کے مطابق پیداوار حاصل کر سکیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ صوبہ سرحدخسارہ کا صوبہ ہے لیکن اس کی ہمیں زیادہ پریشانی نہیں۔ سرحد کے آر پار اپنے قبائلی بھائیوں کی اقتصادی اور معاشرتی زندگی کی تعمیر کے لئے پاکستان کو مالی یا کسی قسم کی امداد دینے میں ہمیں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوگی۔
میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں کہ تعلیم از بس ضروری ہے اور مجھے مسرت ہے کہ آپ اس کی اہمیت کی قدر کرتے ہیں۔ یہ میرے لئے اور فی الحقیقت میری حکومت کے لئے بھی مستقل اطمینان کی بات ہوگی کہ آپ کے بچوں کی تعلیم میں آپ کی مدد کرنے کی کوشش کی جائے اور آپ کے تعاون اور آپ کی امداد سے ہم بہت جلد اس سمت میں پیش قدمی کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کی فوجی اور غیر فوجی ملازمتوں میں آپ کی شمولیت کی خواہش پر میں اور میری حکومت پوری طرح غور کریں گے۔ مجھے امید ہے کہ اس معاملے میں بھی غیرضروری تاخیر کے بغیر کچھ نہ کچھ پیش رفت ہو سکے گی۔
آپ نے اس خواہش کا بھی اظہار کیا ہے کہ ماضی میں آپ کو جو فوائد مثلاً وظائف اور وثیقہ داری حاصل تھی اور حاصل ہیں، اسی طرح برقرار رہیں۔ میری یا میری حکومت کی ایسی کوئی خواہش نہیں کہ جب تک آپ پاکستان کے فرمانبردار اور وفادار ہیں موجودہ انتظامات میں آپ سے صلاح مشورے کے بغیر کوئی ردوبدل کیا جائے۔
 مجھے علم ہے کہ غلے، ، کپڑے اور شکر کی قلت ہے۔ آپ کو یہ احساس ہونا ہے کہ ساری دنیا مشکل وقت سے گزر رہی ہے اور پاکستان اس سے مستثنیٰ نہیں۔ درحقیقت دنیا بھرکو مشکلات کا سامنا ہے۔ لیکن یہ نہیں کہ ہمیں اس مسئلے کا احساس نہیں۔ ہم اپنی بھر پور صلاحیت کے ساتھ کوشش کررہے ہیں ہمیں بلوچستان اور صوبہ سرحد کا خاص خیال ہے۔ اس ضمن میں آپ کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ ہم اپنی پوری کوشش کریں گے کہ ضروری اشیاء  آپ کو بروقت اور معقول حد تک کافی مقدار میں مل جائیں۔ میں امید کرتا ہوں اور اس بھلے وقت کامنتظر ہوں کہ جب حالات زیادہ معمول پر آجائیں گے۔ تا کہ جہاں تک خوراک، کپڑے، مکانات اور دیگر اشیائے صرف کا تعلق ہے ہم زیادہ آرام اور آسائش سے رہ سکیں۔
آخر میں آپ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے پاکستان کی امداد کے لئے پوری دلجمعی کے ساتھ یقین دہانی کرائی اور اپنی وفاداری کا واشگاف اعلان کیا تا کہ مملکت اسلام کی سطوت وشکوہ کی بلندیوں کو پا سکے ایک عظیم اور جلیل القدر قوم کی حیثیت سے دیگر اقوام عالم کی صف میں اپنا مقام حاصل کرے۔
پاکستان زندہ باد''
قائد اعظم نے اپنے اس خطاب میں قبائلی علاقوں کے مستقبل کے لیے رہنما خطوط مرتب کردیے تھے۔ بعد میں آنے والی حکومتیں کم و بیش ان کی روشنی میں ہی عمل کرتی رہیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے گورنر جنرل پاکستان کی حیثیت سے قبائلی علاقوں سے معاہدہ کیا  اور  خیبر، کرم، شمالی، جنوبی وزیرستان ایجنسیوں کے ملکوں سے ان علاقوں میں پاکستانی فوج نہ رکھنے پر رضا مندی ظاہر کی۔ پولیٹیکل ایجنٹ کا عہدہ بھی برقرار رہا۔ پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں کا دائرۂ اختیار بھی ان علاقوں میں نہیں تھا۔انہیں آزاد علاقہ یا علاقہ غیر کہا جاتا تھا۔ 1970 تک یہی صورت حال رہتی ہے، لیکن پھر معاشی ضرورتوں کے تحت فاٹا کے لوگوں میں یہ خواہش زور پکڑنے لگی کہ انہیں پاکستان میں اور پاکستان کے باہر روزگار کے مواقع ملنے چاہئیں۔
عمومی طور پریہ تاثر پایا جاتا ہے کہ قبائلی علاقہ جات میںایک عرصہ تک اصلاحات کا نفاذ نہ ہو پانا ریاست کی بہت بڑی کوتاہی ہے۔مگر یہ بات یاد رکھی جانی چاہئے کہ قیامِ پاکستان اور اس کے بعد بھی قبائلی علاقہ جات کے عمائدین  نے اپنی خصوصی حیثیت، ثقافت اور ماحول کو ہمیشہ برقرار رکھنے پر زور دیا اور ان خواہشات کے احترام میں بھی پاکستان کے دوسرے علاقوں کی طرح قانونی عملداری سے احتراز کیاگیا مگر ستمبر2001میں نائن الیون کے واقعہ کے بعد خطے میں جو حالات تبدیل ہوئے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز ہوا تو دہشت گردی اور شدت پسندی کے خطرات کے پیش نظر قبائلی عوام اور عمائدین کا بھی ذہن تبدیل ہوا کہ قبائلی علاقہ جات میں بھی ترقی اور خوشحالی اتنی ہی ضروری ہے جس طرح ملک کے دیگر علاقوں میں ہو رہی ہے۔ یوں قبائلی علاقہ جات اپنے عوام اور عمائدین کی عین خواہش کے مطابق قبائلی اضلاع میں تبدیل ہوئے۔
1971 کے بعد صورت حال تیزی سے تبدیل ہوتی ہے۔ مشرقی پاکستان میں بھارت کی جارحیت کے بعد بڑے بازو کی علیحدگی، 1973کے آئین کی منظوری، افغانستان میں سردار دائود خان کی بغاوت، 1978 سے روس کی افغانستان میں مداخلت۔



یہاں سے قبائلی علاقوں کی حساس اہمیت میں بہت سرعت سے اضافہ ہوتا ہے۔ کیونکہ افغانستان میں خانہ جنگی، سوویت یونین کی یلغار، امریکہ ، یورپ اور عرب ممالک کی دلچسپی کے بعد افغان مہاجرین بڑی تعداد میں ان قبائلی علاقوں میں داخل ہونے لگے۔ روس کی شکست، افغانوں کی اپنی حکومت، پھر طالبان کا ظہور۔ یہ سارے واقعات قبائلی علاقوں پر براہِ راست اثر انداز ہورہے تھے۔ وہاں اب سلامتی، امن و امان کے مسائل سنگین ہورہے تھے۔پولیٹیکل ایجنٹ کا نظام وہاں کی انتظامی ، معاشی اور قانونی ضروریات پوری کرنے میں ناکام ہورہا تھا۔ قبائلی عوام  افغانستان کے جہاد میں حصّہ لینے والے غیر ملکی مسلمانوں کو پناہ دے رہے تھے۔
نائن الیون نے تو پوری دنیا کا نظم و نسق بدل ڈالا۔ افغانستان پر امریکہ اور اتحادیوں کے حملوں کے بعد جہاں افغان مہاجرین کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ وہاں ان علاقوں میں انتہا پسندی۔ دہشت گردی کے واقعات بھی بڑھے۔ امریکہ کے ڈرون حملوں نے امریکہ کے خلاف نفرت میں اضافہ کیا۔
1977 سے اگر چہ فاٹا علاقوں میں اصلاحات کے لیے حکومتوں نے منصوبہ بندی شروع کردی تھی اور سست رفتاری سے کچھ نہ کچھ اقدامات ہوتے رہتے تھے۔ لیکن نائن الیون اور اتحادی فوجیوں، نیٹو کی افواج کی بڑی تعداد میں موجودگی، پاکستان کا نان نیٹو اتحادی بننے سے اس علاقے کا انتظامی ڈھانچہ تبدیل ہونے لگ گیا تھا۔
یہاں جنرل نصیر اللہ خان بابر (ر) کی رپورٹ 1976کا ذکر ضروری ہے۔ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے فاٹا اصلاحات کے لیے نصیر اللہ خان بابر کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی۔ جن کے ارکان میں حفیظ پیرزادہ، رفیع رضا اور ڈاکٹر مبشر حسن جیسی اہم شخصیات شامل تھیں۔ اس کمیٹی کا بنیادی مقصد ان علاقوں کو صوبہ سرحد کا حصّہ بنانا تھا، لیکن 1977 کے مارشل لاء سے یہ عمل رک گیا۔ 1996 میں فاٹا میں حق بالغ رائے دہی کا قانون نافذ ہوا۔ پہلی بار قبائلی علاقوں کے عوام نے 1997کے انتخابات میں ووٹ کا حق استعمال کیا۔ جو یقینا ایک بڑی تاریخی پیش رفت تھی۔
اکیسویں صدی کی پہلی دہائی کو قبائلی علاقوں میں تبدیلیوں کا عشرہ قرار دیا جاسکتا ہے۔اپریل 2005 میں جسٹس(ر) میاں محمد اجمل کی سرکردگی میں فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن میں اصلاحات کے لیے کمیٹی بنائی جاتی ہے۔اس کمیٹی نے فاٹا کے ارکان اسمبلی، وکلائ، ملک کے قانونی ماہرین کی مشاورت سے ایف سی آر میں بہت سی اصلاحات کی سفارش کی مگر سرحد کے گورنر کی تبدیلی کے بعد ان پر عملدرآمد نہ ہوسکا۔ 2006 میں صاحبزادہ امتیاز احمد کی سربراہی میں ایک ٹاسک فورس نے پھر فاٹا کے انتظامی امور پر ایک رپورٹ تیار کی جسے صدر جنرل پرویز مشرف کی زیر صدارت اجلاس میں پیش کیا گیا۔ اس میں ایک فاٹا سیکرٹریٹ کا قیام، فاٹا ترقیاتی اتھارٹی، قبائلی علاقوں کی روایات، رسم و رواج میراث کا تحفظ، وفاقی، صوبائی، زیر انتظام قبائلی علاقوں کے قواعد و ضوابط میں ابہام کی دوری، امن و امان کے قیام کے لیے قبائلی رسم و رواج اور خلوص کو بروئے کار لانا شامل تھا۔ اور سب سے اہم یہ کہ ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیشن قائم کیا جائے جو قبائلی علاقوں کے مستقبل کی منصوبہ بندی کرے جس میں انہیں جدید ترین سہولتیں بھی حاصل ہوں، ان کی روایات بھی برقرار رہیں۔




2008 میں گورنر اویس احمد غنی نے ایف سی آر اصلاحات رپورٹ پر عملدرآمد کے لیے ایک کابینہ اصلاحاتی کمیٹی کو یہ ذمہ داری سونپی۔ اس کمیٹی نے بڑی دور رس سفارشات منظور کیں، جس میں فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن کو فاٹا ریگولیشن 2008 سے تبدیل کیا جائے۔ پولیٹیکل ایجنٹوں کے فیصلے کے خلاف اپیل سننے کے لیے ایک ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کا تقرر بہت اہم تجویز تھی۔ ایک فاٹا ٹریبونل جس کا سربراہ ہائیکورٹ کا ریٹائرڈ جج ہو۔  ان سفارشات کا خیر مقدم کیا گیا۔
پی پی پی کے (2008-2013)  دَور حکومت میں شمالی مغربی سرحدی صوبے کا نام اتفاق رائے سے خیبر پختونخوا منظور کیا گیا۔ اس طرح اس علاقے کے لوگوں کا یہ دیرینہ مطالبہ پورا ہوا کہ صوبے کا باقاعدہ نام ہونا چاہئے۔ اس کے ساتھ ہی فاٹا کے علاقوں کی خیبر پختونخوا میں باقاعدہ انضمام کے لیے کوششوں کا آغاز ہوجاتا ہے۔ مئی 2014 میں ایک پانچ رکنی فاٹا ریفارمز کمیشن قائم کیا جاتا ہے ۔ یہ کمیشن اپریل 2015 میں اپنی رپورٹ گورنر خیبر پختونخوا کو پیش کردیتا ہے۔ 2016میں فاٹا کے معاملات پر سفارشات ایک فیصلہ کن موڑ پر پہنچتی ہیں۔ سرتاج عزیز کی سربراہی میں فاٹا ریفارمز کمیٹی۔ فاٹا کو مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے لیے سفارش کرتی ہے۔ 9ماہ کے مشوروں اور مباحثوں کے بعد طے کیا جاتا ہے کہ فاٹا کے علاقے خیبر پختونخوا میں ضم کیے جائیں گے۔ یہاں کے لوگ صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے لیے ووٹ دیں گے۔ فاٹا کے علاقے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے دائرۂ اختیار میں آجائیں گے۔
ان علاقوں میں آئندہ دس سال کے لیے سماجی، سیاسی، اقتصادی منصوبہ بندی کے لیے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی قائم کی جائے گی۔ 24مئی 2018 کو قومی اسمبلی نے ایک آئینی ترمیم کے ذریعے فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کی منظوری دے دی۔ اس ترمیم کی حمایت میں پاکستان مسلم لیگ(ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور متحدہ قومی موومنٹ نے ووٹ دیے۔ جبکہ جمعیت علمائے اسلام( فضل گروپ) اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی نے واک آئوٹ کیا۔ سینیٹ نے بھی اس کی منظوری دے دی۔
قبائلی عوام کی پُرزور خواہش پر24مئی2018 ۔ صدیوں سے اپنے رسم و رواج کی حفاظت کرتے قبائلی علاقوں کی تاریخ کا ایک سب سے اہم سنگ میل ہے۔ جس کے بعد فاٹا اب پاکستان کی مملکت اور خیبر پختونخوا کا باقاعدہ، با ضابطہ حصّہ بن گیا ہے۔
یہ ایک صدی سے زیادہ کا سفر جولائی 2019 میں فاٹا کے عوام کو صوبائی اسمبلی کے لیے جوش و جذبے سے ووٹ دیتے دیکھتا ہے۔پاکستان کے عوام فاٹا کے جری، بہادر، غیور بھائیوں کو مرکزی دھارے میں شریک پاکر خیر مقدم کرتے ہیں۔ 28اگست 2019 کو وہ روشن صبح طلوع ہوتی ہے، جب تالیوں کی خیر مقدمی گونج میں سابق فاٹا کے ضم ہونے والے اضلاع کے 19منتخب نمائندے خیبر پختونخوا اسمبلی کے ایوان میں پاکستان کے آئین کے تحت حلف اٹھاتے ہیں۔اس ساری جدوجہد میں افواجِ پاکستان نے بھی نہایت ہی اہم کردار ادا کیا ہے۔
کے پی کے اسمبلی کے اسپیکر مشتاق غنی نو منتخب ارکان کو پُر جوش مبارکباد دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج ہم ایک نئے سفر کا آغاز کررہے ہیں اور ضم ہونے والے اضلاع کے 50 لاکھ عوام اپنے نمائندوں سے بڑے توقعات رکھتے ہیں۔ کے پی کے اسمبلی کے لیے یہ تاریخی دن ہے۔ اور ان تمام سیاسی جماعتوں اور شخصیتوں کے لیے جنہوں نے قبائلی علاقوں کو مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے لیے برسوں جدو جہد کی۔
فاٹا اضلاع کے خیبر پختونخوا میں ضم ہونے سے پاکستان کے خواب کی تکمیل ہورہی ہے۔ فاٹا کا وسیع و عریض رقبہ اب وہی سہولتیں اور اختیارات حاصل کرے گا جو پورے پاکستان کے عوام کو حاصل ہیں۔ بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے 17اپریل 1948 کو گورنمنٹ ہائوس پشاور میں قبائلی معتبرین سے جو وعدے کیے تھے، پاکستانی قوم نے 28اگست 2019 کو ان کا ایفاکردیا۔ اس کے لیے تاریخ قائد اعظم کے بعد آنے والے سارے حکمرانوں کو لائق تحسین سمجھتی ہے، جنہوں نے اس علاقے کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھا۔ اس کے لیے باقاعدہ کوششیں جاری رکھیں۔اکیسویں صدی میں آنے والے حکمران خاص طور پر صدر جنرل پرویز مشرف ، صدر آصف زرداری، وزیر اعظم میاں نواز شریف اور وزیرا عظم عمران خان اور پاکستان آرمی بالخصوص چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ ، لائق تحسین ہیں جن کے ادوار میں ارتقائی عمل کے بعد اس دیرینہ خواب نے مکمل تعبیر حاصل کی۔
فاٹا کے عوام نے بہت مصائب برداشت کیے ہیں۔ دہشت گردی کا سامنا کیا ہے۔ غیر ملکی انتہا پسندوں کے مظالم سہے ہیں۔ افغانستان سے ہونے والے حملوں کی زد میں رہے ہیں۔ امریکی ڈرون حملوں میں ان کے بچے بزرگ خواتین شہید ہوتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی مسلح افواج کے آپریشن ضرب عضب، رد الفساد میں پورا ساتھ دیا ہے۔ ان کے گھر تباہ ہوئے، فصلیں برباد ہوئیں، کاروبار متاثر ہوئے، اس لیے اب وہ ایک مستحکم اور روشن مستقبل کے حقدار ہیں۔ کے پی کے حکومت، پاکستان حکومت، پاکستان کے صنعتی و تجارتی اداروں سب کو چاہئے کہ وہ ہمارے حفاظتی حصار کے ان اضلاع میں مقیم عوام کی سماجی، سیاسی، صنعت اقتصادی، تعلیمی ترقی کے لیے عملی تجاویز دیں، مدد کریں، ان علاقوں میں جائیں، ارضی حقائق سے آگاہ ہوں۔
قبائلی علاقے جب کے پی کے کے باقاعدہ اضلاع بن گئے ہیں، ان اضلاع کے عوام ایک بالکل ہی نئی طرز زندگی اختیار کررہے ہیں۔ اسی لیے ان کو زیادہ سے زیادہ اعتماد میں لینا ضروری ہوگا۔ ملک میں رائج قوانین، اور فاٹا کے قوانین میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ان ہم وطنوں کو نئے ضابطوں اور قواعد سے آگاہی کے لیے مسلسل کوششیں ناگزیر ہوں گی۔



انتہائی اطمینان اور مسرت کی بات ہے کہ حکومت خیبر پختونخوا کے شعبۂ منصوبہ بندی اور ترقیات نے Tribal Decade Strategy (2020-2030) کے زیر عنوان 209صفحات پر ایک دستاویز تیار کی ہے جو میرے خیال میں ہر درد مند پاکستانی کو بغور پڑھنی چاہئے۔ اپنے مطالعے اور مشاہدے کی بنا پر مشاورت اور تجاویز دی جاسکتی ہیں۔ اس حکمت عملی کے مختلف مدارج اور منصوبوں میں یہ اہم نکات شامل ہیں۔ دس سال کی حکمت عملی اور عملدرآمد، تاریخی تناسب میں نظر انداز کردہ ترقیاتی امور، ضم شدہ علاقوں میں ترقیاتی ترجیحات، ٹیکنیکل، مشاورتی منصوبوں کی تیاری ،عزائم کی تکمیل، اور احتسابی اداروں، انداز حکمرانی اور حقوق کا تحفظ، میونسپل اداروں کی تشکیل اور مقامی حکومت، خدمات کے لیے آفیسرز کی تربیت، انسانی وسائل کی بہبود، تعلیم، صحت عامہ، پینے کا پانی اور نکاسیٔ آب، سماجی بہبود، اور سماجی اقدار کا تحفظ، خواتین کے حقوق، نوجوان، کھیل اور ثقافت، اقتصادی ڈھانچے کی توسیع، شاہراہیں، پل، سڑکیں، دیہی علاقوں میں بجلی کی ترسیل، تقسیم، آبپاشی، زراعت، مال مویشی، ڈیری فارمنگ، فشریز، صنعتیں اور کمپنیاں، ہنر مندی کی تربیت، روزگار کے مواقع، پائیدار وسائل کی تنظیم، جنگلات ، ماحولیات و جنگلی حیات، معدنیات، کانیں، تیل اور گیس ۔
ماشاء اللہ۔ بہت ہی جامع حکمت عملی ہے۔ قریباً تمام شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ لیکن یہاں حکمرانی عام پاکستانی علاقوں کی طرح سست روی اور بے حسی سے نہیں ہوگی۔ یہ بہت ہی حساس علاقے ہیں۔ پھر افغانستان میں امریکی فوجیوں کی واپسی کے بعد جو صورت حال ہونے والی ہے، یہ علاقے براہ راست اس کی زد میں ہوں گے۔ لیکن یہ امر بھی اپنی جگہ قابلِ ستائش ہے کہ پاک  افغان بارڈر مینجمنٹ  پراجیکٹ کے تحت پاکستان اور افغانستان کے درمیان انٹر نیشنل بارڈر کو ایک مضبوط آہنی باڑ لگا کر چیک پوسٹیں قائم کردی گئی ہیں جس سے خطے میں دیرپا امن کا قیام ممکن ہو جائے گا۔
بہر طور قبائلی اضلاع میں  بہتر سے بہتر انداز حکمرانی اختیار کرنا ہوگی۔ فاٹا کو مرکزی دھارے میں لانے کے لیے ہمارے تمام اکابرین کی جدو جہد شامل ہے۔ ان کے وعدوں کا پاس رکھنے اور صوبوں کی میراث کی بقا بھی ہمارے حکمرانوں کے ذہن میں ہونی چاہئے۔ اہداف کے حصول کے لیے مالی مشکلات بھی سر اٹھائیں گی۔ نیشنل فنانس کمیشن کے معاملے میں صوبائی شکایات ہیں۔ اضلاع کو صوبائی حکومتوں سے گلے شکوے ہیں یہ سب دور ہوں گے تو فاٹا کے عوام اس ہمہ گیر سماجی سیاسی انتظامی تبدیلی سے مستفید ہوسکیں گے۔
آخر میں ان حسین وادیوں۔ گھاٹیوں۔ بل کھاتی سڑکوں اور خود دار ہم وطنوں کو سلام۔
بڑے خلوص سے ملنے گھٹائیں آتی ہیں
بہت ہی پیار سے بادل سلام کرتے ہیں
فلک تو اتنا ہے نزدیک جھک نہیں سکتا
ستارے جھیل میں شب بھرقیام کرتے ہیں ||


مضمون نگارنامورصحافی' تجزیہ نگار' شاعر' ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔
[email protected]gmail.com
 

یہ تحریر 118مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP