اداریہ

قبائلی اضلاع :تحفّظ، امن اور ترقی کا سفر

پاکستان جفاکش اور پُرعزم مکینوں کی سرزمین ہے۔ یہاں کے باسی ملک سے محبت کرنے والے لوگ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی ملک پر کوئی کڑا وقت آتا ہے تو عوام ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند سامنے آتے ہیں اور متحدہو کر ملک کی حفاظت اور دفاع کے لئے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ قیامِ پاکستان سے لے کر زمانہ حال تک پاکستان کا سفر مختلف چیلنجز اور مشکلات سے بھرا دکھائی دیتا ہے لیکن قابلِ ستائش امر یہ ہے کہ پاکستانی قوم ایک ایسی قوم کے طور پر سامنے آتی ہے جونام ساعد حالات کے باوجود آگے بڑھنا جانتی ہے۔
باوجود معروضی حالات اور دشمنانِ پاکستان کے گٹھ جوڑاور سازشوں کی بناء پر پاکستان کو شدت پسندی اور دہشت گردی ایسے عفریتوں کا سامنا رہا ہے ۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ پاکستان کے بعض علاقے 'نوگو ایریاز' بنے ہوئے تھے لیکن افواج اور امن قائم کرنے والے اداروں کی گزشتہ ڈیڑھ دہائی کی سرتوڑ کوششوں اور قربانیوںکی بدولت قوم کو آج پُرامن ماحول میسر ہے۔ پاکستان بطورِ ایک ریاست کے ذمہ دارانہ انداز میں آگے بڑھ رہا ہے وہ پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ضرور ہے لیکن وہ اپنے دفاع کے حوالے سے اس سے بھی کہیں زیادہ حساس ہے۔ پاک افغان بارڈر مینجمنٹ  اور پاک ایران بارڈر پر باڑ لگانے کے پیچھے بھی یہی جذبہ کارفرما ہے تاکہ خطے کے یہ تینوں ممالک دہشت گردی اور تخریب کاری سے محفوظ رہیں۔
 پاکستان اپنے حصے کا کام کررہا ہے یہی وجہ ہے کہ آج قبائلی اضلاع میں امن بحال ہو چکاہے۔ عارضی طور پر بے گھر ہونے والے افراد کی بڑی تعداد اپنے اپنے علاقوں میں واپس جا چکی ہے ۔ افواجِ پاکستان طالبان کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگیں ناکارہ بنانے میں مصروف ہیں۔اس بناء پر آئے روز افواجِ پاکستان کے افسران اور جوانوںکی شہادتیں ہو رہی ہیں۔ یہ شہادتیں اپنے شہریوں کو امن اور تحفظ پہنچانے کے لئے ہیں۔ اس کے علاوہ افواجِ پاکستان نے بڑے پیمانے پر قبائلی اضلاع میں تعلیم و صحت کے شعبوں سمیت معاشی سرگرمیوں کے لئے مراکز تعمیر کئے ہیں۔ بہترین سپورٹس سٹیڈیم اور کیڈٹ کالجز تعمیر کئے گئے ہیں۔ سڑکوں کے جال بچھا دیئے گئے ہیں اور عوام الناس کی بہت کم وقت میں ایک مقام سے دوسرے مقام تک رسائی آسان ہوگئی ہے۔ لہٰذا معاشی اور معاشرتی سرگرمیاں جاری وساری رکھ سکتے ہیں۔ فاٹا کا انضمام خیبر پختونخوا کے ساتھ ہو جانے سے اب مقامی آبادی کو وہ تمام حقوق حاصل ہیں  جو خیبر پختونخوا کے باقی اضلاع  کے شہریوں کو حاصل ہیں۔ وفاق اورصوبوں کی سطح پر قبائلی اضلاع میں ترقیاتی کاموں کے لئے فنڈز مختص کئے جاتے ہیں۔ یوں صورتِ حال بہت بہتری  کی جانب گامزن ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مقامی افراد دیگر اداروں کے ساتھ باہم مل کر اپنے ان علاقوں کی شاندار ترقی یقینی بنائیں۔ یقینا اس کے لئے امن کا مکمل قیام بہت ضروری ہے۔ بانیٔ پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح نے قوم سے اپنے ایک خطاب میں کہا تھا:''حکومت کا پہلا فرض امن و امان برقراررکھنا ہے تاکہ مملکت کی جانب سے عوام کو ان کی زندگی، املاک اور مذہبی اعتقادات کے تحفظ کی پوری پوری ضمانت حاصل ہو۔''
 چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ میں گزشتہ دنوں اپنے خطاب میں کہا کہ ''پاکستان استحکام اور امن کے سفر میں ارتقا ئی مراحل سے گزر رہا ہے اگرچہ یہ عمل قدرے سست ہے مگر مثبت مدار میں ہے۔ ہمیں اپنے قومی مقاصد کے حصول کے لئے ثابت قدم رہنا ہوگا۔''یقینا یہ امر قابلِ اطمینان  ہے کہ ریاست کے دیگر اداروں کی طرح افواجِ پاکستان پورے جذبے کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے ملک کی ترقی اور امن میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں جس سے ملک میں مکمل امن اور خوشحالی کا حصول ممکن ہوگا۔
 

یہ تحریر 109مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP