قومی و بین الاقوامی ایشوز

قبائلی اضلاع میں پُرامن الیکشن کا انعقاد تکمیلِ امن کی جانب بڑا قدم

افغان امور کے ماہر ، ممتاز صحافی اور تجزیہ نگارعقیل یوسف زئی کی تحریر  

20 جولائی2019 پاکستان کی سیاسی اور پارلیمانی تاریخ میں ایک یادگار دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ کیونکہ اس روز سات ضم شدہ اضلاع میں خیبر پختونخوا اسمبلی کے انتخابات منعقد ہوئے۔ جس میں لاکھوں ووٹرز نے آزادانہ اور پُرامن طریقے سے پورے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لے کر اپنے نمائندے منتخب کئے۔ بعض مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود آزاد اور سیاسی پارٹیوں کے سیکڑوں اُمیدواروں نے تقریباً دو ماہ تک سات قبائلی اضلاع (سابق فاٹا) میں ایسی انتخابی مہم چلائی کہ کہیں پر بھی کسی بدمزگی، تلخ کلامی یا لڑائی جھگڑے کا واقعہ رونما نہیں ہوا۔ قبائلی عوام اور ان کے اُمیدواروں نے اس طرزِ عمل سے ثابت کیا کہ مقبولِ عام تاثر کے برعکس وہ انتہائی جمہوری ، پرُامن اور سیاسی لوگ ہیں اور جمہوری نظام اور اداروں پراُنہیں پورا اعتماد ہے۔ شمالی اور جنوبی وزیرستان جیسے حساس علاقوں میں بھی تقریباً تمام سیاسی پارٹیوں کے اُمیدواروں اور لیڈروں نے جلسے جلوس کئے اور اپنے اپنے منشور اور پروگرام کی کسی رکاوٹ کے بغیر کھل کر تشہیر کی۔ کسی نے بھی ان کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش نہیں کی۔ ان لیڈروں میں سے بعض کے لئے وزیرستان دورے کو بھی ممکن بنایا گیا جن کو بعض گروپس کی جانب سے خطرات لاحق تھے۔ سکیورٹی فورسز نے انتخابی مہم اور پولنگ کے دوران نہ صرف سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کئے بلکہ اُمید واروں اور سیاسی لیڈروں کو ممکنہ حد تک تحفظ بھی فراہم کیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 20 جولائی کو پولنگ پراسیس کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ نہیںہوا۔ پُرامن طریقے سے الیکشن منعقد ہوا اور تمام پارٹیوں اور اُمیدواروںنے نتائج تسلیم کئے۔



20 جولائی کے الیکشن فاٹا کی مین سٹریمنگ کے اس پراسیس کا حتمی مرحلہ تھا۔ جو کہ سال2017 کے دوران پارلیمنٹ میں سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات پر منی بل کی منظوری کے بعد شروع ہوا تھا۔ دو تین پارٹیوں نے اس عمل کے دوران بل اور انضمام کی کھل کر مخالفت کی۔ مگر اکثریتی پارٹیوں نے اس عمل کی حمایت کی۔ جس کا نتیجہ خیبر پختونخوا میں فاٹا کا انضمام، اصلاحات اور آخر میں20 جولائی کے عام الیکشن کی صورت میں نکل آیا۔ سال 2018  میں عسکری اور سول قیادت نے اس جنگ زدہ علاقے کی مین سٹریمنگ پر خصوصی توجہ دی۔سات قبائلی ایجنسیوں کو سات بندوبستی اضلاع میں تبدیل کردیا گیا، دوسرے مرحلے پر یہاں کے عوام کو ایف سی آر اور پولیٹیکل انتظامیہ کے چنگل سے آزادی دلائی گئی اور اعلیٰ عدلیہ تک عوام کو رسائی دی گئی۔موجودہ حکومت نے اس کے لئے 10برسوں کے لئے 1000ارب روپے رکھنے کا اعلان کیا اور فنڈز جاری کئے گئے۔ ان ضم شدہ اضلاع میں عدالتیں قائم کی گئیں۔ صوبائی محکموں کے دفاتر قائم کئے گئے اور لیوی فورس کو تربیت دے کر 16 ہزار پولیس اہلکار اور افسران تعینات کئے گئے۔ قبائلی اضلاع کے لئے وزیرِاعظم کے حکم پر اجمل خان وزیر کی شکل میں خصوصی مشیر مقرر کیا گیا۔ جنہوںنے وزیراعلیٰ، وزیراعظم اور آرمی حکام کی ہدایات اور سرپرستی میں تعمیرِ نو اور اداروں کی بحالی اور توسیع کے لئے بہترین کام کرکے فنڈز جاری کروائے اور اس بات کو یقینی بنایا کہ صوبائی کابینہ کو عملی اقدامات پر آمادہ کرنے کے عمل اور ضرورت کو یقینی بنایا جائے۔ گورنر کی قیادت میں پہلے سے موجود ایپیکس کمیٹی کے اجلاسوں میں کور کمانڈر پشاور نے غیر معمولی دلچسپی لے کر صوبائی حکومت کو ہر ممکن تعاون فراہم کرکے ادارہ جاتی منتقلی کے عمل کو ممکن بنایا۔ سات میںسے پانچ نئے ضم شدہ اضلاع میں صوبائی کابینہ کے اجلاس منعقد کرائے گئے تاکہ قبائلی عوام کے ساتھ عملی یکجہتی کا اظہار کیا جاسکے۔ جبکہ وزیرِاعظم نے اس عرصے کے دوران چھ اضلاع کے دورے کرکے نہ صرف اعلانات کئے بلکہ جلسے بھی کئے تاکہ عوام کو اعتماد میں لیاجاسکے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور کمانڈر پشاورکور لیفٹیننٹ جنرل شاہین مظہرنے بھی وقتاً فوقتاً مختلف اضلاع کے دورے کئے  اور اس دوران سول اداروں کو فعال بنا کر ان کو اختیارات کی منتقلی کا عمل بعض مشکلات کے باوجو دجاری رکھاگیا۔


72 برس بعد اگر قبائلی عوام کو ان کے بنیادی حقوق مل رہے ہیں تویہ تعمیرِ پاکستان کے علاوہ تکمیلِ پاکستان کا ایک تاریخی عمل کہلایاجاسکتا ہے اوراس کے انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ جس کا کریڈٹ تمام بڑی پارٹیوں کے علاوہ خود قبائلی عوام اور یقینی طور پر موجودہ سول اور ملٹری قیادت کو جاتا ہے۔ جنہوں نے اس مشکل کام کو ممکن اور یقینی بنایا۔


مین سٹریمنگ کے اس عمل کو مستقل طور پر کامیاب بنانے کے لئے لازمی تھا کہ ان سات اضلاع کو سینیٹ اور قومی اسمبلی کے بعد خیبر پختونخوا اسمبلی اور حکومت میں بھی نمائندگی دی جائے۔ اس سلسلے میںطے پایاکہ ان اضلاع کو صوبائی اسمبلی میں 16 حلقے یا سیٹیں دی جائیں۔ اس اعلان یا فیصلے پر یہ کہہ کر اعتراض کیاگیا کہ علاقے کی جغرافیائی اہمیت اور آبادی کے تناظر میں سیٹوں کی تعداد کم ہے اور اس سلسلے میں متفقہ طور پر قومی اسمبلی سے یہ بل پاس کرایا گیا کہ حلقوں کی تعداد 26 کی جائے۔ تاہم وقت کی کمی اور بعض مشکلات کے باعث یہ بل طریقہ کار کے مطابق سینیٹ سے پاس نہ ہوسکا اور یوں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے مطابق طے پایا کہ فی الحال 16 ہی سیٹوں پر انتخابات کرائے جائیں۔ جن کے ساتھ اگر مخصوص نشستیں مل جائیں تو کل تعداد21 بنتی ہے۔  مطلب یہ کہ صوبائی اسمبلی میں20 جولائی کے الیکشن کے بعد قبائلی اضلاع کو کل21نشستیں مل گئی ہیں۔
16 سیٹوں کے لئے28 لاکھ18 ہزار ووٹرز نے ووٹ ڈالنے تھے۔ جن میں مرد ووٹرز کی تعداد 16 لاکھ 71ہزارجبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 11لاکھ 30 ہزار تھی۔ الیکشن کمیشن کے قوانین کے مطابق ہر حلقے میں کم ازکم 10 فیصد خواتین کے ووٹ ڈالنے لازمی تھے۔ تاہم خوشگوار حیرت اس وقت ہوئی جب ضلع کرم اورضلع اورکزئی کے بعض علاقوں میں خواتین نے مرد ووٹرز کے مقابلے میں زیادہ ووٹ پول کرکے نئی مثال قائم کی۔ دو خواتین اُمیدواروںنے بھی جنرل سیٹوں پر آزادانہ طریقے سے الیکشن لڑا۔ جس نے پورے ملک اور عالمی برادری کو اس علاقے کے مستقبل کے حوالے سے بہت اچھا پیغام دیا۔ دونوں خواتین کو اگرچہ بہت کم ووٹ ملے تاہم انہوںنے زبردست مہم چلائی، ریلیاں نکالیں اور ڈور ٹو ڈور کمپین چلا کر نئی مثال قائم کی۔ 28 لاکھ ووٹرز کے لئے تقریباً 280 اُمیدوار میدان میں تھے جن میں202آزاد تھے۔ یہی وجہ ہے کہ16میں سے سات نشستوں پر آزاد اُمیدوار کامیاب ہوئے۔ پانچ پر پی ٹی آئی کامیاب ہوئی ، تین سیٹوں پر جے یو آئی (ف) اور ایک ایک جماعت اسلامی اور اے این پی کے حصے میں آئی۔ بعد میں متعدد نے تحریکِ انصاف میں شمولیت حاصل کی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ خیبر پختونخوا کی تاریخ میں کسی پارٹی کو پہلی بار 100 ارکان کی حمایت حاصل ہوئی۔
تیسرے مرحلے کے طور پر اب ان علاقوں کو تاریخ میں پہلی بار صوبائی حکومت میںنمائندگی ملنی تھی۔ اس ضمن میں ان کو تین وزارتیں دینے کا اقدام اٹھایا گیا۔ اگر مشیر خصوصی اجمل وزیر کو اس سکواڈ میں شمار کیا جائے تو کل تعداد ان علاقوں کی نمائندگی کے تناظر میں کابینہ کی سطح پر چار بن گئی ہے۔ جو کہ انتہائی خوش آئند بات ہے۔ اس عمل سے ان علاقوں کے مسائل مؤثر طریقے سے حل ہوسکیں گے۔ اور اس جنگ زدہ خطے کی محرومیوں کا ازالہ بھی ہوسکے گا۔ 72 برس بعد اگر قبائلی عوام کو ان کے بنیادی حقوق مل رہے ہیں تویہ تعمیرِ پاکستان کے علاوہ تکمیلِ پاکستان کا ایک تاریخی عمل کہلایاجاسکتا ہے اوراس کے انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ جس کا کریڈٹ تمام بڑی پارٹیوں کے علاوہ خود قبائلی عوام اور یقینی طور پر موجودہ سول اور ملٹری قیادت کو جاتا ہے۔ جنہوں نے اس مشکل کام کو ممکن اور یقینی بنایا۔


[email protected]
 

یہ تحریر 32مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP