تحفظ، امن اور ترقی کا سفر

قبائلی اضلاع میں علم کی روشنی

ارسطو نے کہا تھا کہ جاہل عالم کو نہیں جانتا کیونکہ وہ کبھی عالم نہیں رہا جبکہ عالم جاہل کو  جانتا ہے کیونکہ وہ خود جاہل رہ چکا ہے۔
درحقیقت علم سے دوری خداشناسی سے ہی نہیںخود شناسائی سے بھی محرومی ہے، قبائلی علاقوں میں فروغ علم کی ضرورت یوں بھی ہے کہ قیام پاکستان سے قبل بھی یہ علاقہ پسماندگی کا شکار رہا۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ آزادی کے بعد بھی سابقہ فاٹا کو بنیادی ضروریات زندگی سے محروم رکھا گیا۔ دانستہ یا غیر دانستہ طور پر مختلف حکومتی ادوار میں غیور قبائلیوں کی مشکلات کم کرنے کی کوشش نہ کی گئی۔ یہ سمجھنے کے لئے سقراط جیسی دانش کی ضرورت ہرگز نہیںکہ اگر عصر حاضر کے تقاضوں سے کسی بھی علاقے کو نا بلد رکھا جائے گا تو وہاںاسی قسم کی پیچیدہ صورت حال پیدا ہوسکتی ہے۔مسلمہ سچائی ہے کہ علم سے محرومی غربت اور پسماندگی کو بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے، قبائلی علاقوں کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا۔ 1978میں شمالی وزیرستان میں رزمک کیڈٹ کالج کا قیام عمل میں لایاگیا مگر پھر طویل عرصے تک علاقے میں کوئی دوسرا علم دوست قدم نہ اٹھایا گیا۔ 15فروری 2010 کو گومل زام کے مقام پر قبائلی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کیڈٹ کالج وانا کے قیام کا اعلان کیا۔کیڈٹ کالج وانا کا باقاعدہ افتتاح جنرل اشفاق پرویز کیانی نے 23جون 2011 کو کیا۔ کالج کے بنیادی اغراض ومقاصد میں کلاس ہفتم سے بارہویں جماعت تک مناسب فیس میں ملک بھر کے بالخصوص قبائلی علاقوں کے بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی ممکن بنانا قرار پایا۔ وانا کیڈٹ کالج کی ترجیحات میں درس و تدریس کے ساتھ شخصی تعمیر، کردار سازی، دین کی حقیقی تعلیم سے روشناس کروانا اور جسمانی نشوونما میں میں بہتری لانا شامل ہے۔ 


 


دسمبر 2018کی ایجوکیشن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم(EMIS)کی رپورٹ کے مطابق فاٹاکی سات ایجنسیوں اور چھ نیم قبائلی علاقوں میں 73فیصد طلباء ہیں جن میں 69فیصد لڑکے اور 79فیصد لڑکیاں کلاس پنجم تک سکول چھوڑ دیتے ہیں، مڈل اور سکینڈری سکول لیول پر مزید 50 فیصد لڑکیاں تعلیم ادھوری چھوڑ کر گھر بیٹھ جانے کو ترجیح دیتی ہیں۔ اعداد وشمار ظاہر کررہے  ہیں کہ شمالی وزیر ستان میں صورت حال سب سے بدتر رہی جہاں69  فیصد لڑکوں اور 79فیصد لڑکیوں کو سکول سے اٹھا لیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ قبائلی علاقوں میں کل 5,890 سکول ہیں جن میں رجسٹرڈ طلبہ کی تعداد 677,157 ہے جبکہ تعلیمی بجٹ 12بلین رکھا گیاہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قبائلی اضلاع کے بیشتر سکول بنیادی ضروریات سے محروم ہیں، مثلاً محض 43 فیصد سکولوں میں بجلی کی سہولت میسر ہے جبکہ محض 42.2 فیصد سکولوں میںپینے کا پانی دستیاب ہے، 45 فیصد سکولوں میں بیت الخلاء کی سہولت ہے جبکہ 70فیصد سکولوں کی چار دیواری ہے۔، قبائلی علاقوں میں اساتذہ کی صورت حال بھی تسلی بخش نہیں۔ مثلاً قبائلی اضلاع کے سکولوں میں 20709 ٹیچرز موجود تھے جن کی تعداد2017-18 تک کم ہوکر  18,621 رہ گئی ہے، فاٹا کی درسگاہوں میں 5000 اسامیاں خالی ہیںجن میں ٹیچرز کے علاوہ دیگر عملہ بھی شامل ہے۔ EMIS کی رپورٹ کے مطابق قبائلی علاقوں میں تعلیم نسواں کی شرح بھی محض تین فیصد ہے۔ مزید یہ کہ کے پی حکومت نے پرائمری سطح پر تمام کتب کو انگریزی زبان میں منتقل کردیا، جس کا اطلاق قبائلی علاقوں کے سکولوں پر ہوا ۔ EMISکی تحقیق میں یہ وضاحت سے بتایا گیا کہ قبائلی علاقوں کے ٹیچرز کسی طور پر ایسی قابلیت کے حامل نہیں کہ وہ  انگریزی زبان میں تبدیل ہو جانے والا نصاب طلبہ کو بآسانی پڑھانے کی ذمہ داری ادا کرسکیں۔ قبائلی اضلاع میں اب بھی 1940 کے حالات کے مطابق 100طلبہ کو دو ٹیچرز دو کمروں میں تعلیم دے رہے ہیں جو کسی طور پر جدید تدریسی اصولوں کے مطابق نہیں۔ کے پی میں ضم شدہ قبائلی اضلاع میں دہشت گردوںکا 1500سکولوں کو مکمل یا جزوی طور پر نقصان پہنچانا بھی تعلیمی سرگرمیوں کے لئے نقصان دہ ثابت ہوا۔ 


 


قبائلی علاقوں میں عسکری قیادت جس انداز میں فروغ تعلیم کے لئے کوشاں ہے اس کے پیش نظر یہ امید کرنا خلاف حقیقت نہیں کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ سابقہ فاٹا کی تعلیمی صورت حال میں نمایاں بہتری آئے گی۔ قبائلی علاقوں میں نائن الیون اور پھر امریکہ کے افغانستان پر حملے کے نتیجے میں جو حالات بنے اس سے نمٹنے کی ذمہ داری ہرگز کسی ایک ادارے پر عائد نہیںکی جاسکتی۔ وطن عزیز میں جمہوری نظام ہے لازم ہے کہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف سیاسی اختلافات سے قطع نظر سابقہ فاٹا کی تعمیر وترقی کے لئے ہاتھوں میں ہاتھ دیں۔ یقینا قبائلی اضلاع میں جب علم کی روشنی پھیلے گی تومذہبی، سیاسی ولسانی شرپسندی ختم ہونے کے امکانات روشن ہوں گے۔ 2008میں گورنر ہاؤس میں اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا تھا کہ فاٹا میں مرحلہ وار چھ کیڈٹ کالج قائم کئے جائیں گے، امید کی جانی چاہئے کہ مستقبل قریب میں حکومت قبائلی اضلاع میںجہاں مزید کیڈٹ کالجز کا قیام عمل میں لائے گی وہیں پہلے سے موجود  سرکاری سکولوں میں سٹاف کے علاوہ بنیادی ضروریات کی فراہمی کویقینی بنانے کے لئے بھی ٹھوس اقدمات  کئے جائیں گے ۔


مضمون نگار ایک نجی چینل کے ساتھ وابستہ ہیں اور ایک اخبار میں کالم بھی لکھتے ہیں۔
 

یہ تحریر 206مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP