قومی و بین الاقوامی ایشوز

قبائلی اضلاع میں سکیورٹی اور بحالی کی صورت حال

 ممتاز صحافی اور تجزیہ نگارعقیل یوسف زئی کی تحریر

خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے سات قبائلی اضلاع میں بعض واقعات کے باوجود ماضی کے مقابلے میں امن و امان کی مجموعی صورت حال کافی بہتر ہے، بحالی کی سرگرمیاں اور کوششیں جاری ہیں جبکہ سول اداروں کی بتدریج اور مرحلہ وار منتقلی پر بھی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی توجہ مرکوز ہے۔ 2020کے دوران جب افغانستان کی صورت حال میں بوجوہ ابتری آنا شروع ہوگئی تو ان علاقوں میں بعض عناصر کی دوبارہ آمد کے باعث ٹارگٹ کلنگ کے واقعات نے سر اٹھانا شروع کردیا تاہم فورسزنے ٹارگٹڈ آپریشنزکے ذریعے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں اور بلاامتیازکارروائیوں کے نتیجے میں، واقعات اور حملوں میں کمی آنی شروع ہوگئی۔ سال 2020 کے دوران جہاں درجنوں مقامی افراد ٹارگٹڈ حملوں کا نشانہ بنے وہاں فورسز کے تقریباً 40 افراد بھی شہیدہوگئے جن میں8 آفیسرز بھی شامل تھے۔ 2020کے دوران تقریباً 11 بار فوجی چیک پوسٹوں اور قافلوں پر حملے کئے گئے تاہم فورسز نے اس سے دگنی کارروائیاں کرکے بعض گروپوں کے عارضی ٹھکانے تباہ کر دیئے اور کسی بھی گروپ کو علاقے میں ٹکنے نہیں دیا۔



2020کے اس تمام عرصے میں خیبر، مہمند اورکزئی اور کرم ایجنسی میں امن و امان کی مجموعی صورت حال بہت بہتر اور پُرسکون رہی۔ اسی باعث ترقیاتی کاموں اور معاشی سرگرمیوں کا سلسلہ بھی تیزی سے بہتر ہوتا گیا۔تین قبائلی اضلاع یعنی شمالی، جنوبی وزیرستان اور باجوڑ کی صورتحال نسبتاً مختلف رہی اور اس کی وجہ حکام یہ بتاتے رہے کہ ان علاقوں میں افغانستان سے بعض عناصر یا گروپ مداخلت اور مزاحمت کرتے رہے۔ باجوڑ کے بعض علاقوں پر تقریباً 6 بار سرحد پار سے حملے کرائے گئے جبکہ شمالی وزیرستان میں بھی محدود پیمانے پرکبھی کبھار سرحدپار سے حملے کئے گئے۔ اس کے باوجود ان تین اضلاع میں تعمیرِ نو اور سول اداروں کی مرحلہ وار منتقلی کا سلسلہ جاری رہا کہ کرونا بحران کے باعث صوبے کو متعدد اقتصادی اور انتظامی مشکلات کا سامنا رہا۔ حکومت نے جہاں تعلیمی اور کاروباری ترقی کے لئے انٹر نیٹ اور بجلی کی سہولتوں پر توجہ دی وہاں صحت کی حالت بہتر بنانے کے لئے صحت کارڈکی شکل میں ہر قبائلی شہری کو اپنے علاقوں سمیت ملک کے ہر شہر میں مفت علاج کی سہولت بھی دی جس سے ریکارڈ تعداد میں مریضوں نے فائدہ اٹھایا۔
تھری جی اور فور جی کی سہولتوں کے علاوہ 2020-21 کے دوران افغانستان کے ساتھ تجارت اور بزنس کے مواقع بڑھانے کے لئے پاک سرحدیں کھول دی گئیں جبکہ ویزوں کی مد میں بھی بعض آسانیاں فراہم کی گئیں اور اب چار سرحدی مقامات میں بڑے پیمانے پر بزنس سنٹرز یا مارکیٹیں قائم کرنے کا کام بھی جاری ہے تاکہ مقامی آبادی کی معاشی سرگرمیوں اور ترقی کے امکانات کو فروغ دیا جائے۔
اگر چہ انضمام کے وقت یہ طے پایاتھا کہ سول اداروں کی منتقلی اور ترقی، بحالی کے لئے پانچ سے دس سال کا عرصہ درکار ہوگا، اس کے باوجود اعلیٰ سول اور عسکری حکام نے کوشش کی کہ بحالی اور ترقی کے عمل کو تیز کیا جائے اور اس سلسلے میں مارچ2021 کے دوران پشاور میں ایک بریفنگ کے دوران وزیرِاعظم عمران خان کو بتایاگیا کہ انضمام کے بعد قبائلی اضلاع کے ترقیاتی منصوبوں اور بحالی کے کاموں پر110 ارب کی رقم خرچ کی جا چکی ہے۔ اس کے باوجود وزیراعظم نے ہدایت کی کہ وسائل کی پروا کئے بغیر ترقی اور بحالی کے عمل کو تیز کیا جائے اور متعلقہ سول اداروں خصوصاً پولیس فورس کو تمام سہولتیں فراہم کی جائیں۔ کمانڈرپشاور کور  اور خود آرمی چیف بھی ان علاقوں کی تعمیرِ نو اور ترقی میں غیر معمولی دلچسپی لیتے رہے۔
وزیرستان کے سینیئر صحافی عمر دراز وزیر کے مطابق یہ علاقے طالبانائیزیشن اور اس سے قبل کے ستر، پچھتربرسوں کی مخصوص صورت حال کے باعث لا محدود قدرتی وسائل کے ہوتے ہوئے بھی اتنے پسماندہ رہے ہیں کہ ان کی مین سٹریمنگ اور تعمیر نو کے لئے تیز ترین عمل کے علاوہ مؤثر ادارہ جاتی نظام اور فنڈنگ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق عوام کی ضروریات اور توقعات بہت زیادہ جبکہ تعمیرِ نو اور ترقی کا عمل قدرے سست ہے اس لئے لازمی ہے کہ امن و امان کی مستقل بحالی کے لئے عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرکے ان کو معاشی اور معاشرتی سطح پر اپنے پائوں پر کھڑا کیا جائے۔
صوبائی وزیر برائے تعمیرِ نو، بحالی اقبال وزیرنے رابطے پر بتایا کہ سول اور عسکری قیادت کے علاوہ صوبائی حکومت کی بھی اولین خواہش اور ترجیح یہ ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے اور امن کی بحالی کے بعد عوام کے مسائل کے حل کے لئے اقدامات کئے جائیں اور یہ پریکٹس تیزی سے جاری ہے تاہم بعض عناصر اس عمل کو ناکام بنانے کی کوشش میں بھی مصروف ہیں۔اقبال وزیر کے مطابق بعض مذہبی اور نیشنلسٹ عناصر کسی بھی حادثے یا واقعے کو بنیاد بنا کر عوام کو حکومت اور اداروں سے بدظن کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں حالانکہ قبائلی عوام کو انہی عناصر اور ان کی سابقہ حکومتوں نے جتنا نقصان پہنچایا ہے وہ ریکارڈ کا حصہ ہے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور قوم پرست رہنما لطیف آفریدی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انضمام سے جو توقعات وابستہ کی گئی تھیںچند حلقوں کے مطابق اور بعض مسائل کے باعث وہ پوری نہیں ہو رہی ہیں جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ انضمام  کے مخالف حلقوں کو اس تاریخی فیصلے پر تنقیدکا موقع بھی مل رہا ہے اور عوام خصوصاً نوجوانوں کی مایوسی بڑھ بھی سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو حلقے اپنے مسائل کے حل اور انصاف کے حصول کے لئے سیاسی جدوجہد کررہے ہیں، ریاستی اداروں کو چاہئے کہ ان کو اعتماد میں لیا جائے ۔
سینیئر صحافی حسن خان نے موجود حالات پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ماضی کے مقابلے میں آج ان علاقوں سمیت پورے خیبر پختونخوا اور ملک کے حالات کافی پُرامن اور بہتر ہیں اور افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات پر بھی خاصی توجہ دی جارہی ہے۔ تاہم سول اداروں کو فعال بنانا، متاثرین کی تیز ترین بحالی پرتوجہ دینا اور سیاسی، اقتصادی ترقی اور آزادی کے امکانات کو بڑھانا بہت ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگر افغانستان میں خدا نخواستہ پھر سے ماضی جیسے حالات پیدا ہو گئے تو اس سے ان علاقوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ان علاقوں کی سلامتی اور ترقی کے کاموں اور سرگرمیوں پر خصوصی توجہ دی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ جو حقوق اور سہولتیںعام پاکستانیوں کو حاصل ہیں وہ یہاں کے عوام کو بھی میسر ہوں۔
اس بات سے قطع نظر کہ70 یا 80 برسوں کی محرومیوں اور پسماندگی کے علاوہ برسوں کی جنگی صورت حال کے اثرات کا مداوا چند برسوں میں ممکن کام نہیں اور ابھی بہت سے مراحل طے کرنے باقی ہیں، یہ امر خوش آئند ہے کہ قبائلی اضلاع کو نہ صرف یہ کہ آج اظہارِ رائے کے مواقع حاصل ہیں وہ کسی بھی وقت کہیں بھی اپنے حق کے لئے آواز اٹھاسکتے ہیں بلکہ صوبائی کابینہ اور اسمبلی میں بھی ان کو بھرپور نمائندگی حاصل ہے اور تمام پارٹیاں بھی باہمی اختلافات سے قطع نظر ان کی ترقی اور خوشحالی کے معاملے پر ایک صفحے پر ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ محاذ آرائی اور غیر ضروری کشیدگی سے گریز کرکے اپنی صفوں میں اتحاد قائم کیا جائے اور مستقل امن کے قیام کے لئے انفرادی و اجتماعی کوششیں کرکے اپنے مستقبل کو محفوظ بنایا جائے۔ ||


[email protected]

یہ تحریر 178مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP