قومی و بین الاقوامی ایشوز

قبائلی اضلاع میں انتخابات۔ امن کی جیت

پاکستان کے قبائلی اضلاع میں تاریخ کے پہلے صوبائی انتخابات نئی تاریخ رقم کرگئے۔ بلا شبہ سابقہ فاٹا نائن الیون کے بعد ایک عشرے سے زیادہ عرصہ بدامنی کا مرکز بنا رہا۔ دہشت گردوں نے جس طرح یہاں کے سکون کو غارت کر رکھا تھا، وہ اس سرزمین کے باسیوں کے لئے بالخصوص اور پورے ملک کے لئے بالعموم کسی بڑی آزمائش سے کم نہ تھا۔ بھلا ہو سکیورٹی اداروں اور اس ملک کے جاں نثار سپوتوں کا، جن کی قربانیوں سے خوف و دہشت کی علامت بننے والی سرزمین امن کا گہوارہ بن گئی۔ یہ مبالغہ نہیں حقیقت ہے۔ قبائلی اضلاع کے عوام ایک عرصے تک دہشت گرد گروہوں کے رحم و کرم پر تھے۔ جن کی وجہ سے قبائلی عوام کو نہ صرف شدید جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا، بلکہ در در کی ٹھوکریں بھی کھانی پڑیں۔ یقیناً قبائلی علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے فوجی آپریشنز مشکل ضرور تھے، لیکن ہر مشکل کے بعد آسانی کے مصداق ان آپریشنز کا نتیجہ امن کی صورت میں قبائلی عوام اور پوری قوم کو مل گیا۔ اس بنا پر یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ پاکستان کے قبائلی اضلا ع میں تاریخ کے پہلے صوبائی انتخابات میں محض 16 نشستوں کے نتائج اہم نہیں تھے، بلکہ یہاں کا امن اور خوش حالی اہم تھی۔ جس میں پاکستان اور امن کی جیت ہوئی۔دہشت گردی اور انتہا پسندی ہار گئی۔
پاکستان کے قبائلی اضلاع سے متعلق یہ جاننا ضروری ہے کہ مئی 2018ء میں آئین میں پچیسویں ترمیم کے تحت صوبہ خیبر پختون خوا میں ضم ہونے والے سات قبائلی اضلاع سابقہ فاٹا (Federally Administered Tribal Areas)کا حصہ تھے۔ جن کا انتظام وفاق کے سپرد تھا۔ یہاں انگریز دور کے قانون ایف سی آر (Frontier Crimes Regulations) اور جرگہ نظام کے ذریعے نظم و نسق چلایا جا رہا تھا۔ سابقہ فاٹاسات ایجنسیز خیبر، مہمند، باجوڑ، کرم، اورکزئی، جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان میں تقسیم تھا۔ اس کے علاوہ چھ نیم قبائلی علاقے ایف آرز (Frontier Regions) بھی فاٹا کا حصہ تھے۔ جن میں ایف آر پشاور، ایف آر کوہاٹ، ایف آر بنوں، ایف آر لکی مروت، ایف آر ٹانک اور ایف آر ڈیرہ اسماعیل خان شامل تھے۔ انتظامی طور پر ہر ایجنسی میں پولیٹیکل ایجنٹ تعینات تھا، یہ وفاق کے نمائندے کی حیثیت سے ایجنسی کے معاملات دیکھتا تھا۔ واضح رہے سابقہ فاٹا کا کل رقبہ 27,220 مربع کلو میٹر ہے، جہاں مختلف پشتون قبائل آباد ہیں، جنہیں پاکستان کا مغربی بارڈرسابقہ ''ڈیورنڈ لائن'' افغانستان سے جدا کرتی ہے۔ 2017ء کی مردم شماری کے مطابق قبائلی علاقوں کی مجموعی آبادی 5,001,676نفوس پر مشتمل ہے۔
پچیسویں آئینی ترمیم کے بعد فاٹا کی ساتوں ایجنسیز کو اضلاع کا درجہ دیا گیا، جہاں اب پولیٹیکل ایجنٹ کی جگہ ڈپٹی کمشنر ضلعے کے انتظام کو دیکھے گا۔ اسی طرح نیم قبائلی علاقے ایف آرز کو بھی متصل اضلاع میں ضم کردیا گیا۔ قبائلی علاقوںکے انضمام اور صوبائی انتخابات کے بعد خیبر پختون خوا کے اضلاع میں اضافے کے ساتھ صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں بھی اضافہ ہوگیا۔ اس سے قبل خیبر پختون خوا اسمبلی کی کل نشستیں 124 تھیں، جن میں 99 عام نشستوں کے علاوہ خواتین کے لئے 22 اور اقلیتوں کے لئے 3 نشستیں مختص تھیں۔ قبائلی اضلاع کی شمولیت کے بعد خیبر پختون خوا اسمبلی میں 21 نشستوں کا اضافہ ہوگیا، جن میں 16 عام نشستوں کے علاوہ خواتین کی 4 اور اقلیتوں کی ایک مخصوص نشست شامل ہے۔ اس طرح خیبر پختون خوا اسمبلی کی مجموعی نشستیں 124 سے بڑھ کر 145 ہوگئیں۔
پچیسویں ترمیم میں یہ طے کیا گیا تھا کہ کہ قبائلی اضلاع کے صوبائی انتخابات 2018ء کے عام انتخابات کے بعد ایک سال کے اندر منعقد کئے جائیں گے۔ الیکشن کمیشن نے انتخابات کے لئے قبائلی علاقوں میں 16 صوبائی حلقے قائم کئے۔ ضلع باجوڑ کو تین صوبائی حلقوں میں تقسیم کیا گیا۔ ضلع مہمند میں دو حلقے، ضلع خیبر میں تین، ضلع کرم میں دو، ضلع اورکزئی میں ایک، ضلع شمالی وزیرستان اور ضلع جنوبی وزیرستان میں دو دو حلقے بنائے گئے۔ اس کے علاوہ چھ فرنٹیئر ریجنز ایف آر پشاور، ایف آر کوہاٹ، ایف آر بنوں، ایف آر لکی مروت، ایف آر ٹانک اور ایف آر ڈیرہ اسماعیل خان کو ملاکر ایک صوبائی حلقہ بنایا گیا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق قبائلی اضلاع کے رجسٹرڈ رائے دہندگان کی کل تعداد 2,801,831 ہے۔ جن میں مرد ووٹرز 1,671,314 ہیں اور خواتین ووٹرز 1,130,517 ہیں۔ جنہوں نے قبائلی اضلاع کی تاریخ کے پہلے صوبائی انتخابات میں امیدواروں کا انتخاب کرنا تھا۔
یہاں یہ جاننا بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ قبائلی اضلاع کی 16صوبائی نشستوں کے لئے کل 297 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروا رکھے تھے۔ جن میں سب سے زیادہ تعداد آزاد امیدواروں کی تھی۔علاوہ ازیں دو خواتین امیدوار بھی عام نشستوں پر انتخابات لڑ رہی تھیں۔ جنہیں عوامی نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی نے ضلع خیبر اور ضلع کرم سے نامزد کیا تھا۔ قبائلی علاقوں میں خواتین امیدواروں کا سامنے آنا منفرد بات تھی۔ اس سے قبل سخت قبائلی روایات کے امین معاشرے میں کوئی فرد اس کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ خواتین امیدواروں کی جانب سے قبائلی علاقوں میںبلا خوف انتخابی مہم چلانا، اس بات کا اظہارتھا کہ پاکستان کے قبائلی اضلاع میں امن و امان کی بہتر صورت حال قائم ہوگئی ہے۔یہی سبب تھا کہ قومی و بین الاقوامی میڈیا نے بھی مذکورہ خواتین امیدواروں کی انتخابی مہم کو اپنی شہ سرخیوں میں جگہ دی۔ واضح رہے قبائلی اضلاع کے پہلے صوبائی انتخابات میں کل دس سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا۔ تحریک انصاف نے سولہ امیدوار میدان میں اتارے تھے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے پندرہ، عوامی نیشنل پارٹی چودہ، جماعت اسلامی تیرہ، پیپلز پارٹی تیرہ، مسلم لیگ (ن) پانچ، قومی وطن پارٹی تین، جمعیت علمائے اسلام (س) دو، پاک سرزمین پارٹی دو اور پاکستان عوامی لیگ کا ایک امیدوار میدان میں تھا۔ اس طرح سیاسی جماعتوں کے نامزد کردہ امیدواروں کی کل تعداد 84 بن رہی تھی۔ بقیہ 213 امیدوار آزاد حیثیت سے انتخابی میدان میں اترے تھے۔ تاہم انتخابات سے قبل بعض امیدواروں کی دست برداری کے باعث انتخابات لڑنے والے امیدواروں کی مجموعی تعداد 282 رہ گئی تھی، جنہوں نے 20 جولائی کو قبائلی اضلاع کے پہلے صوبائی انتخابات میں قسمت آزمائی کی۔
الیکشن کمیشن نے ساتوں قبائلی اضلاع اور چھ سابقہ فرنٹیئر ریجنز میں کل 1895 پولنگ اسٹیشنز قائم کر رکھے تھے۔ امن و امان کی صورت حال بہتر رہی۔ انتخابی مہم کے دوران اور انتخابات کے دن بھی کوئی بڑا ناخوشگوار واقعہ نوٹ نہیں کیا گیا۔ اگرچہ خیبر پختون خوا حکومت کی درخواست پر امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر، قبائلی اضلاع کے انتخابات ابتدا میں طے کی گئی تاریخ سے اٹھارہ دن تاخیر کا شکار ہوئے، تاہم انتخابات پرامن طور پر منعقد ہوئے، جس پر حکومت سمیت تمام سکیورٹی ادارے مبارک باد کے مستحق ہیں۔
قبائلی اضلاع کے پہلے صوبائی انتخابات کا نتیجہ بھی دلچسپ تھا۔ عموماً سیاسی جماعتیں انتخابات میں زیادہ نشستیں حاصل کرتی ہیں، تاہم قبائلی اضلاع میں اس کے برعکس آزاد امیدوار زیادہ کامیاب ہوئے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات میں سب سے زیادہ چھ آزاد امیدوار کامیاب ہوئے۔ دوسرے نمبر پر حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف نے پانچ نشستیں حاصل کیں۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) تین نشستوں پر کامیاب ٹھہری۔ جماعت اسلامی اور عوامی نیشنل پارٹی کے حصے میں ایک ایک نشست آئی۔ الیکشن کمیشن کی حلقہ وار رپورٹ کے مطابق ضلع باجوڑ کی تین نشستوں میں سے دو پر تحریک انصاف کامیاب ہوئی اور ایک نشست جماعت اسلامی کے امیدوار نے جیتی۔ ضلع مہمند میں ایک نشست عوامی نیشنل پارٹی نے حاصل کی اور ایک پر آزاد امیدوار کامیاب ٹھہرا۔ ضلع خیبر کی تینوں نشستیں آزاد امیدواروں نے جیتیں۔ ضلع کرم میں ایک نشست تحریک انصاف اور ایک پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کا امیدوار کامیاب ہوا۔ ضلع اورکزئی کی واحد نشست آزاد امیدوار نے جیتی۔ شمالی وزیرستان میں ایک نشست تحریک انصاف نے حاصل کی اور ایک آزاد امیدوار کے حصے میں آئی۔ جنوبی وزیرستان میں بھی ایک نشست حکمران جماعت تحریک انصاف کو ملی اور ایک نشست جمعیت علمائے اسلام (ف) نے حاصل کی۔ سابقہ چھ فرنٹیئر ریجنز کی واحد نشست پر بھی جمعیت علمائے اسلام (ف) کامیاب ٹھہری۔ الیکشن کمیشن کی رپورٹ کے مطابق قبائلی اضلاع کے پہلے صوبائی انتخابات میں مرد ووٹرز کا ٹرن آئوٹ 31.42 فیصد اور خواتین ووٹرز کا ٹرن آئوٹ 18.63 فیصد تھا۔ مجموعی ٹرن آئوٹ 26.27 فیصد رہا۔ بہرحال یہ خوش آئند بات ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقے قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔ جہاں کے منتخب نمائندے صوبائی اسمبلی میں نمائندگی کرسکیں گے۔ علاوہ ازیں خواتین کی مخصوص نشستوں پر پہلی مرتبہ قبائلی اضلاع کی خواتین بھی ایوان میں نمائندگی کرسکیں گی۔ یعنی سابقہ فاٹا پہلے سرزمین بے آئین کہلاتا تھا، اب وہاں دوسرے اضلاع کی طرح نظم و نسق چلایا جائے گا اور عوام اپنے مقدمات کے سلسلے میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے بھی رجوع کرسکیں گے۔
بلا شبہ قبائلی علاقوں کے عوام اپنی قبائلی روایات کی وجہ سے خود دار ثابت ہوئے ہیں۔ قبائلی شناخت کی وجہ سے ہر قبیلہ اپنے افراد اور قبائلی مَلکوں کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ یہی سبب تھا کہ قبائلی اضلاع کے انتخابات میں آزاد امیدوار سیاسی جماعتوں پر سبقت لے گئے۔ قبائلی اضلاع میں سیاسی جماعتوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ حکومتی انتظامیہ کے ساتھ مل کر قبائلی عوام کے مسائل پر توجہ دیں۔ ہماری کشادہ دلی اور بہتر طرز سیاست قبائلی علاقوں کی پس ماندگی دور کرنے میں معاون بنے گی۔ بلا شبہ قبائلی اضلاع کے پہلے صوبائی انتخابات نئی تاریخ رقم کرگئے، جس میں پاکستان اور امن کی جیت ہوئی۔ اللہ اس جیت کو ہمیشہ قائم رکھے۔آمین


مضمون نگار جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ایم فل کر رہے ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 48مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP