بیادِ قائد

قائد کا پاکستان

  بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا یومِ پیدائش جسے یومِ قائد بھی کہا جاتا ہے اور یومِ وصال قومی سطح پر منائے جاتے ہیں۔ ان ایام کو منانے کا مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ ریاست کی جانب سے یہ باور کرایا جائے کہ قائد کا پاکستان بالکل اسی سمت میں جا رہا جس سمت میں وہ اسے لے کر جانا چاہتے تھے۔ اور پاکستان کا نظام وہی ہے جیسا قائد چاہتے تھے۔ ملک میں میرٹ،  انصاف اور انسانیت کا وقار اسی سطح پر ہے جس سطح پر قائد دیکھنا چاہتے تھے۔ دیانتداری اور حب الوطنی کا پیمانہ بھی وہی ہے جیسا قائد چاہتے تھے۔ بدقسمتی سے ہمارے یہاں ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہوتی جا رہی ہے جو قائد کے پاکستان کے لیے رنجیدہ ہیں یا انہیں پاکستان کی بگڑی ہوئی شکل پہ کوئی ندامت محسوس ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں کتنے والدین یا اساتذہ رہ گئے ہیں جو بچوں کو قائد کی تعلیمات سے کماحقہ' آگاہ کرتے ہیں۔ اگر کچھ لوگ ایسے تھے تو وہ بھی شُدہ شُدہ ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ میں زمانہ طالب علمی کا ایک واقعہ یہاں بیان کرنا چاہوں گا۔ 1980میں میں ملٹری کالج جہلم سرائے عالمگیر میں آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا۔ میرا ہائوس شیرشاہ ہائوس تھا۔ ہمارے ہائوس ماسٹر پروفیسر سعید راشد تھے جو علی گڑھ یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ تھے اور ایک نابعہ ٔروزگار شخصیت تھے۔ 25دسمبر 1980کو انہوں نے شیرشاہ ہائوس کے صحن سے ملحقہ برآمدہ میں ایک میز پر سفید  میز پوش ڈال کر اس پر ایک پرانی طرز کا ٹرانسسٹر رکھوا دیا۔ اس طرح کے ریڈیو سیٹ شاید آج دیکھنے کو بھی میسر نہ ہوں۔  وہ ا  نٹیکس میں آتے ہوں گے۔ اس ریڈیو کو آن کر دیا گیا اور بتایا گیا کہ آج یوم قائد کے موقع پر ریڈیو پاکستان سے بانی پاکستان قائداعظم کی تقریر نشر ہونی ہے۔ تمام کیڈٹس قائداعظم کی آواز اور ان کی تقریر سنیں گے اور ان کے بتائے ہوئے اقوال کو ذہن نشین رکھیں گے۔ یہ وہ ویلیوز اور رہنمائی تھی جو بڑوں کی جانب سے نئی نسل کو دی جاتی ہے۔ اس میں ظاہر ہے والدین، اساتذہ اور اپنی اپنی جگہ پر اداروں کے سربراہان کا بہت اہم کردار بنتا ہے۔
قائداعظم کی شخصیت ہمارے لیے کسی رول ماڈل سے کم نہیں ہے۔ قوم ان کی ہدایات کی روشنی میں سفر جاری رکھتی تو آج حالات بہت بہتر ہوتے۔ علامہ اقبال کے جس وژن کو قائداعظم نے عملی جامہ پہنا کر پاکستان کا روپ دیا توہمیں یہ سوچنا ہے کہ کیا یہ وہی پاکستان ہے جیسا قائدچاہتے تھے۔ ایک واقعہ جس کو حسن اے شیخ نے ''آتش فشاں'' کے قائداعظم نمبر میں بیان کیا جس میں وہ بتاتے ہیں کہ 25دسمبر 1945کو بمبئی کے مسلمانوں نے اپنے طور پر قائد اعظم کی سالگرہ جوش و خروش سے منائی۔ مسلمانوں کے علاقے دلہن کی طرح سجے ہوئے تھے۔ جگہ جگہ محرابیں اور آرائشی دروازے بنائے گئے تھے۔ جے جے ہسپتال کے قریب قائداعظم کے کچھ شیدائیوں نے ان کی وہ قد آدم تصویر رکھ دی جس میں وہ شاہانہ لباس زیب تن کیے دکھائی دیئے گئے۔ تصویر کے نیچے شہنشاہ پاکستان زندہ باد لکھا ہوا تھا۔ اتفاق سے قائداعظم وہاں سے گزرے تو انہوں نے اپنی کار روک لی اور ڈرائیور سے کہا کہ اُنہیں بلائو جنہوں نے یہ تصویر یہاں رکھی ہے۔ اس دوران سیکڑوں لوگ قائداعظم کی کار کے اردگرد جمع ہو گئے۔ قائداعظم نے متعلقہ لوگوں سے پوچھا:
قائداعظم : یہ تصویر آپ لوگوں نے یہاں رکھی ہے؟
کارکن: جی ہاں
قائداعظم: ''میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہو گا۔ جہاں شہنشاہ کا کوئی تصور نہ ہو گا۔ کسی بھی شخص کو پاکستان میں جمہوریت کے علاوہ کسی دوسرے طرز حکومت کے بارے میں سوچنا تک نہیں چاہئے۔'' اس کے بعد قائداعظم نے مسلم لیگی کارکنوں سے کہا کہ وہ تصویر فوراً اتار دیں۔ 
پروفیسر سعید راشد کی کتاب ''گفتاروکردار قائداعظم'' میں یحییٰ بختیار کے حوالے سے ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ شملہ کانفرنس کے بعد قائداعظم جب کوئٹہ تشریف لائے اور خان آف قلات کے ہاں قیام کیا تو یحییٰ بختیارپہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق قائداعظم کی تصویر بنانے وہاں پہنچے۔ قائداعظم اس وقت سیاہ شیروانی میں ملبوس صوفے پر بیٹھے تھے۔ یحییٰ بختیار جب اپنے کیمرے کو سیٹ کر رہے تھے تو اُن کی نگاہ قائداعظم کے سامنے میز پر رکھی ہوئی ایک کتاب پر پڑی۔ جس کے سرِ ورق پر ''الحدیث'' لکھا تھا۔ ایک دم انہوں نے کچھ سوچ کر کہا:  
یحییٰ بختیار: سر! آپ یہ کتاب ہاتھ میں اٹھا لیں تاکہ یہ فوٹو میں آ جائے۔
قائداعظم: نہیں یوں نہیں۔
یحییٰ بختیار لکھتے ہیں پھر انہوں نے ساتھ بُک ریک میں سے مسلم لیگ کا آئین اٹھایا اس کے بعد ڈان اخبار پکڑا اور فرمایا ''یہ ٹھیک ہے۔''
یہ تھے قائداعظم جو محض مسلمانوں کو خوش کرنے کے لیے کوئی اسلامی کتاب اٹھا کر تصویر بنوا کر چھپوانے میں بھی دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ وہ حدیث اور قرآن کا مطالعہ نہیں کرتے ہوں گے۔ انہوں نے تو خود 1941میں آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن سنٹرل انڈیا کے شہر ناگ پور میں نوجوان طالب علموں کو مخاطب کرکے کہا تھا (جس کے راوی آل انڈیا مسلم لیگ ورکنگ کمیٹی کے ممبر اور مرکزی اسمبلی مسلم لیگ گروپ کے چیف ویپ حاجی عبدالستار تھے)'' آپ پاکستان' پاکستان کر رہے ہو۔  اسے ہمیں کئی پہلوئوں سے دیکھنا ہو گا۔ آپ طالب علم ہیں۔ آپ اس پر ریسرچ کریں۔ سوچیے آپ کے ہاں مجلس قانون ساز ہو گی یا نہیں؟ اس لیے آپ کے پاس قرآن کی صورت میں قانون موجود ہے۔ اس کے آگے کیا قانون بنائو گے۔ اگر بنائو گے تو وہ بائی لاز ہوں گے۔''


بصیرت افروز شخصیت تھے۔ وہ سیاست میں بھی بددیانتی کو قریب نہیں آنے دیتے تھے۔ وہ کم ظرفی کا کم ظرفی سے جواب دینے سے بھی کتراتے تھے۔ سفارش کلچر کے وہ انتہائی خلاف تھے۔ اس لیے کہ اس سے اہل لوگوں کی حق تلفی ہوتی ہے۔ وہ پیسے کی خاطر جھوٹا مقدمہ لڑنے سے بھی گریز کیا کرتے تھے۔ دوسری جانب سرکار کے ایک ایک پیسے کا صحیح استعمال ان کے پیش نظر ہو تا تھا۔


برصغیر کے مسلمان تو قائداعظم محمدعلی جناح کی شخصیت اور خوبیوںکا اعتراف کرتے ہی تھے ان کے سخت ترین مخالفین بھی اُنہیں سراہتے دکھائی دیتے۔ اپنی زندگی کے آخری ایام میں بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں لارڈ مائونٹ بیٹن کو قائداعظم کے بارے میں یہ اعتراف کرتے ہی بنی۔
''جناح میں ضد تو تھی لیکن منافقت نہ تھی۔ سیدھا چلنے ولا، صراطِ مستقیم کا پابند، منہ پر کہہ دینے والا، راست بازی میں دُرِ یکتا، اندر باہر یکساں، انگریزی زبان دانی میں اول درجہ کا مقرر، نحیف جسم وجاں کے ساتھ بھی بارعب اور پُر ہیبت شخصیت مسلمانان ہند کو صرف اکیلا یہ شخص ہی بامِ ترقی و عروج پر لے گیا۔ میں تمام سیاسی زندگی میں جس شخص سے سب سے زیادہ متاثر ہواہوں، مسٹر محمدعلی جناح کی ذات اور شخصیت تھی۔اس میں مَیں نے منافقت کا شائبہ تک نہ دیکھا۔ اتنا بلند کردار انسان اور قومی لیڈر شاید ہی مسلمانوں کو دوبارہ ملے۔'' 
اسی طرح اسٹینلے والپرٹ نے قائداعظم کی سوانح حیات 'جناح آف پاکستان'  جو انہوںنے 1982 میں شائع کی تھی، میں قائداعظم کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا تھاکہ
 ''چند ہی لوگ تاریخ کے دھارے کو تبدیل کرپاتے ہیں، ان میں سے بھی کچھ ہی ہوتے ہیں جو دنیا کے جغرافیے کو تبدیل کرتے ہیں اور ان میں سے کوئی ایک آدھ ہی ایک قومی ریاست تشکیل دے پاتا ہے۔ محمدعلی جناح نے یہ تینوں کام انجام دیے۔''


قیام پاکستان کے فوری بعد قائداعظم کے بمبئی میں رہائش پذیر کچھ عزیز انہیں کراچی آکر گورنر جنرل کے دفتر میں ملے اور انہیں بتایا کہ وہ بھی پاکستان منتقل ہونا چاہتے ہیں اس پر قائداعظم نے فوراً کہا آپ ضرور آئیں لیکن یہ ذہن نشیں رہے کہ آپ پاکستان کے گورنر جنرل کے رشتہ دار کے طور پر ہجرت کر کے نہیں آئیں گے۔ بلکہ یہاں آ کر آپ کو دیگر پاکستانی شہریوں کی طرح کلیم داخل کروانا ہوں گے۔ جو آپ کا قانونی اور جائز حق بنتا ہو گا،صرف وہ ملے گا۔ اس کے بعد ظاہر ہے ان لوگوں نے پاکستان کیونکر آنا تھا۔


بلاشبہ قائداعظم ایک بصیرت افروز شخصیت تھے۔ وہ سیاست میں بھی بددیانتی کو قریب نہیں آنے دیتے تھے۔ وہ کم ظرفی کا کم ظرفی سے جواب دینے سے بھی کتراتے تھے۔ سفارش کلچر کے وہ انتہائی خلاف تھے۔ اس لیے کہ اس سے اہل لوگوں کی حق تلفی ہوتی ہے۔ وہ پیسے کی خاطر جھوٹا مقدمہ لڑنے سے بھی گریز کیا کرتے تھے۔ دوسری جانب سرکار کے ایک ایک پیسے کا صحیح استعمال ان کے پیش نظر ہو تا تھا۔ جبکہ قائد کے حالیہ پاکستان میں بہت سے لوگ سرکاری پیسے اور وسائل کو دیکھتے ہی فراخ دل ہو جاتے ہیں۔ سرکاری عہدے اور سرکاری وسائل ایک بھاری ذمہ داری ہوا کرتے ہیں جس کی ایک ایک پائی کا صحیح مصرف یقینی بنا کر ہی کوئی قوم ترقی کے زینے طے کر سکتی ہے۔
قائداعظم کے سیکرٹری مطلوب الحسن سید خود ایک واقعہ کے راوی ہیں کہ 1943کے اواخر میں لاہور کے مشہور تاجر کتب اور ناشر شیخ محمد اشرف بمبئی گئے اور قائداعظم سے کہا کہ وہ اُن کی سوانح عمری لکھوانا چاہتے ہیں وہ کسی موزوں آدمی کا انتخاب فرمائیں۔ قائداعظم نے اس کا تذکرہ اپنے سیکرٹری مطلوب الحسن سید سے کیا تو انہوں نے کہا سر اتنے دنوں آپ کے ساتھ رہ کر شاید میں خود بھی اس خدمت کے لیے اوروں سے زیادہ موزوں ہوں۔ اس پر قائد اعظم نے کہا اگر آپ خود یہ کام کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ایک شرط ہے کہ آپ کو میری ملازمت چھوڑنا پڑے گی۔ ایک تو اس لیے کہ ملازمت میں رہتے ہوئے آپ کو وقت نہیں ملے گا۔ دوسرے بعض لوگ کہیں گے کہ یہ کتاب میں نے اپنی نگرانی میں لکھوائی ہے۔ تیسرے یہ کہ میرے ساتھ ہونے کی وجہ سے آپ غیر جانبداری سے نہیں لکھ سکیں گے۔ 
قیام پاکستان کے فوری بعد قائداعظم کے بمبئی میں رہائش پذیر کچھ عزیز انہیں کراچی آکر گورنر جنرل کے دفتر میں ملے اور انہیں بتایا کہ وہ بھی پاکستان منتقل ہونا چاہتے ہیں اس پر قائداعظم نے فوراً کہا آپ ضرور آئیں لیکن یہ ذہن نشیں رہے کہ آپ پاکستان کے گورنر جنرل کے رشتہ دار کے طور پر ہجرت کر کے نہیں آئیں گے۔ بلکہ یہاں آ کر آپ کو دیگر پاکستانی شہریوں کی طرح کلیم داخل کروانا ہوں گے۔ جو آپ کا قانونی اور جائز حق بنتا ہو گا،صرف وہ ملے گا۔ اس کے بعد ظاہر ہے ان لوگوں نے پاکستان کیونکر آنا تھا۔
قائد کی زندگی کے ان جیتے جاگتے واقعات سے یہ اخذ کرنا مشکل نہیں رہ جاتا کہ قائداعظم کیسا پاکستان چاہتے تھے۔عمومی طور پر لوگ خود کو ٹھیک نہیں کرتے۔ ایک مزدور اگر بہت ایماندار بھی ہے تو وہ مزدوری کر کے صرف اور صرف روٹی ہی کما سکتا ہے۔ اس کے بچوں کی تعلیم' صحت اور مواقع روزگار اور سب سے بڑھ کر وہ عزت اس کے بچے کو کون دے گا کہ وہ ایک مزدور کا بیٹا ہے؟ اس کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ یہاں کسی کو اچھی ملازمت مل جاتی ہے تو اس کو اپنے ساتھ کام کرنے والے غریب لوگ اچھے نہیں لگتے کہ وہ اس جیسے نہیں ہوتے۔ قوم کو ایک جیسا بنانے کے لیے ایک جیسا نظام زندگی اور فراہمی انصاف کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ ملازمتوں کی فراہمی میں میرٹ کو سو فیصد یقینی بنانے سے اچھے 'محنتی اور بہتر کردار والے لوگ سامنے آئیں گے۔ وگرنہ جو کسی کی سفارش پر نوکری لے کر آتا ہے اس کی دفتر میں حاضری کو یقینی بنانا مشکل ہو جاتا ہے۔ یوں قائداعظم کے حوالے سے منائے جانے والے ایام خواہ وہ ان کا یومِ پیدائش ہو یا یومِ وصال ان مواقع پر عوام کو بالعموم اور حکمرانوں اور ارباب اقتدار کو بالخصوص اپنا اپنا احتساب کرتے ہوئے غوروفکر کرنا ہو گا کہ موجودہ پاکستان کو قائداعظم کا پاکستان بنانے میں ان کا کیا کردار رہا ہے۔ یاخدانخواستہ قائد کے پاکستان کی شکل بگاڑنے میں اُن کا کتنا حصہ ہے؟ انسان فانی ہے۔ اس نے ایک دن رزقِ  خاک ہونا ہے۔ شاید اِن چیزوں کا حساب مانگ لیا جائے' یہ وقت غنیمت ہے۔ آیئے قائد کے پاکستان کو خوبصورت بنائیں۔ 
حوالہ جات
• گفتار و کردار قائداعظم  از  پروفیسر سعید ارشد
•  انسائیکلو پیڈیا قائداعظم  از  منصور احمد بٹ
•  جناح آف پاکستان  از  اسٹینلے والپرٹ


مضمون نگار ادیب اور کالم نویس ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 138مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP