متفرقات

قائد اعظم پاکستان کے حوالے سے یادداشتیں

                قائد اعظم محمد علی جناح جہاز سے اُترے اور کہا !

                  میں مسلمانوں کے لئے سورج کی روشنی لایا ہوں

قائد کی قوم میں محبوبیت کارازان کاکرداراور ان کالائحہ عمل تھا۔ انہیں کسی تزک ،ا حتشام اورتزئین کی حاجت نہ تھی۔

ممتازصحافی ، تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن اورسابق ڈائریکٹر آئی ایس پی آر'زیڈ اے سلہری (مرحوم )کی

 

6جون 1913ء کو ظفروال (سیالکوٹ)کے ایک گائوں میںپیدا ہونے والے زیڈ اے سلہری (مرحوم) اپنے دور کے ممتاز صحافی اور تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن تھے۔ان کااصل نام ضیاء الدین احمد سلہری تھا ۔ انہوں نے 1938ء  میں ایف اے ،39ء میں بی اے او ر 40ء میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے صحافت کیا۔زمانہ طالب علمی سے مطالعے اور لکھنے کا شوق رہا ۔اس دور میں تحریک پاکستان کا شور اٹھا تو اس میں اپنے قلمی جہاد کے ذریعے زبردست کردار اداکیا۔انگریز ی اخبار ''ڈان ''میں کام کیا اور بعد ا زاں کراچی سے اپناشام کا انگریزی اخبار''ایوننگ ٹائمز''نکالا۔1965ء کی جنگ کے موقع پر ان کی قومی خدمات اور صحافتی قابلیت کو دیکھتے ہوئے انہیں ڈائریکٹر آئی ایس پی آر مقرر کیاگیا ۔اس موقع پر انہوں نے اس تاریخی جنگ کی رُوداد عالمی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔  1974ء میں زیڈ اے سلہری نے اپنی زندگی کی طویل کہانی دورِ حاضر کے سینیئرصحافی مجیب الرحمن شامی کی تحریک پر ان کے معروف ہفت روزہ جرائد(زندگی،اداکاراورطاہر)میں قسط وار تحریر کی۔ اس آٹو بائیو گرافی میںانہوںنے اپنی جدو جہد کا ذکر کیا اوراس خطے کے مختلف سیاسی ، سماجی نشیب وفراز اورتقسیم ہند کے اسباب و علل پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے قائداعظم سے وابستہ اپنی یادیں بھی سپرد قلم کیں جو ہماری تاریخ کاایک زریں باب ہیں۔ قائد سے وابستہ ان کی چندا ہم یادداشتیں انہی کی زبانی '' ہلال'' کے قارئین کے ذوق کے لئے پیش کی جا رہی ہیں۔



مجھے قائداعظم کو نجی ملاقاتوں، پبلک جلسوں اور محفلوں میں ملنے اور دیکھنے کاخوب موقع ملا۔جب وہ دہلی تشریف لاتے توان کی خدمت میں حاضری دینے کی سعاد ت حاصل ہوتی اور عریبک کالج ہال میں خطاب فرماتے تو میں ان کی تقریرسننے ضرورپہنچتا۔مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی یاکونسل کاجلسہ ہوتاتورپورٹنگ کے لئے جائے وقوعہ کے گردگھنٹوں منڈلاتارہتا ۔ قائد کی شخصیت بہت باوقارتھی ،ان کاقدمتوسط لمبائی سے ذرااونچاتھالیکن وہ بہت پتلے تھے اس لئے اور بھی زیادہ لمبے نظرآتے تھے۔ وہ دبلے پتلے نظرآتے تھے لیکن کمزورنہ تھے جس نے ان سے مصافحہ کیااسے ان کی آہنی گرفت یادرہتی تھی۔ مجھے اورمیرے ہم عصروں کوانہیں بڑھاپے ہی میں دیکھنانصیب ہوا،جب ان کی عمرساٹھ سال سے بھی چندسال متجاوزہوچکی تھی لیکن وہ اب بھی بہت دلکش نظرآتے تھے۔ چہرے کے خدوخال تیکھے تھے رخسارکی ہڈیاں نمایاں تھیں اورناک عقابی تھی۔ سفیدہونے کے باوجود بال سیاہی مائل تھے اور آنکھوں میں غضب کی چمک اور روشنی تھی۔ سکوت میں ایک مرمریں مجسمہ نظرآتے لیکن جب ہلکی سی مسکراہٹ ان کے پتلے ہونٹوں پرکھِلتی تونہایت حسین دکھائی دیتے۔ نکتہ آفرینی میں انہیں یدطولیٰ حاصل تھا۔اس خصوصیت کی بناپرچوٹی کے وکیلوں میںخاص مرتبۂ عظمت تک پہنچے ۔ اگروہ تحریک پاکستان نہ بھی چلاتے تو بھی ہندوستان کے مدبرین میں اعلیٰ مقام پاتے۔ ان کی رسول ۖ سے محبت اور عقیدت کایہ عالم تھاکہ جب لندن تعلیم کے لئے گئے توچارقانونی مدرسوں میں سے اس مدرسے

(Lincoln's Inn )

سے فوراًمنسلک ہوگئے جس کے دروازے پریہ الفاظ کنندہ تھے حضرت محمد ۖ بہت بڑے قانون دینے والے تھے''۔

" MUHAMMAD WAS A GREAT LAW GIVER "

1944 ء کے اوائل میں مجھے'' ڈان'' اخبار چھوڑے ابھی چھ ما ہ بھی نہ ہوئے تھے جس اثنامیں میں نے اپنی پہلی انگریزی کتا ب ''مائی لیڈر '' لکھی۔ انہی دنوں مجھے ڈاک کے ذریعے ایک دبیز لفافہ موصول ہوا۔لفافہ کھولاتوایک کاغذپرقائداعظم کے مہروالے رائٹنگ پیڈپران کا خط پایا۔ فرط تحیراور جوش انبساط سے میں تھرتھرکانپ رہاتھاکہ اس کے ہرلفظ سے شفقت ٹپکتی تھی ۔میری حوصلہ افزائی کے لئے قائدکے دولفظ ہی کافی ہوتے لیکن اس میں تو  تحسین و قدردانی کاطویل سر  ٹیفکیٹ تھا ۔خط کااردو ترجمہ مندرجہ ذیل ہے۔

ڈئیرمسٹرسلہری! میں آپ کی کتاب ''مائی لیڈر''پر آپ کاشکرگزارہوں اور ساتھ ہی ان تعریفی کلمات کاجوآپ نے میری ایسی خدمات کاجومیں نے مسلم قوم کے لئے کی ہیں سپرد قلم کئے ہیں ۔امرواقعہ تو یہ ہے کہ لائن پبلی کیشنزنے مجھے چندکاپیاں اسی وقت ہی بھیج دی تھیں ۔ میںکتاب کوپڑھ چکاہوں اور آپ کومبارکباد دیتاہوں کہ آپ نے حقائق کو  پرُزورطریقے سے پیش کیاہے ۔میں پہلے ہی لائن پبلی کیشنرکولکھ چکاہوں اور اب آپ پرمصنف ہونے کی حیثیت سے زوردیتاہوں کہ اس کتاب کی وسیع ترین اشاعت کاانتظام کیاجائے ۔میں نے معقو ل قیمت پرایک سوکاپیاں منگوائی ہیں یعنی وہ مجھے وہی کٹوتی دیں جووہ کسی کتب فروش ایجنسی کودیتے ہیں ۔آخرمیں میں اس کتاب کی پوری کامیابی کامتمنی ہوں ،امید ہے کہ آپ بخیریت ہوں گے۔   پرخلوص جذبات کے ساتھ آپ کا مخلص :ایم اے جناح (ریڈی منی لاج، متھراں 16مئی 1945ء )''

   اس گرامی نامے کووصول کرکے میں خوشی سے جتنابھی پھولا سماتاکم تھا۔ جس دن مجھے یہ خط ملاوہ میری زندگی کی معراج تھی۔ میں نے اس لمحے سے زیادہ کبھی فخرمحسوس نہیں کیا۔اس عزت افزائی کے بعد میرے دماغ میں کسی اعزاز کی خواہش نہیں رہی۔ یہ ذاتی خط ہی نہیں اس سے قائد کے کردارکے مختلف پہلوئوں پربھی روشنی پڑتی ہے ۔ہندو پریس نے اس کتاب پر بڑے تبصرے کئے اور مجھے جناح کا ڈاکٹرگوئبلز

(GOEBBLES )

قرار دیا ۔ گوئبلز ہٹلر کا وزیر نشرو اشاعت تھا اور یہ ان، جنگ کے، دنوںمیں بڑی گالی سمجھی جاتی تھی۔لیکن میں اسے اپنے لئے فخر سمجھتا۔

 ویکلی'' ڈان ''1942ء کے آخر تک جاری رہابعدازاں روزنامہ ہوگیا۔ڈیڑھ سا ل تک مجھے خوب ٹریننگ ملی۔ مختصرسٹاف کافائدہ یہ تھاکہ کام بہت کرناپڑتاتھا۔ انہی سردیوں میں قائداعظم پنجاب کے دورے پرجارہے تھے۔ پوتھن جوزف (ایڈیٹر ڈان)نے مجھے رپورٹنگ کے لئے بھیجا۔ میں جالندھرتو نہ جاسکالیکن لائلپور(فیصل آباد)پہنچ گیاجہاں قائداعظم نے دھوبی گھاٹ کے وسیع میدان میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کیا۔ قائد نے ڈیڑھ گھنٹے تک حالات پراپنے مخصوص انداز میں سیر حاصل تبصرہ کیا۔لائلپور سے قائد لاہور آئے، وہ جہاں جہاں جاتے میں سائے کی طرح پیچھے لگاہوتا۔جلسے ہوئے ،ٹی پارٹیاں ہوئیں اور پریس کانفرنسیں ہوئیں میں ہم رکاب تھا۔ آخرکار لاہورکے مشہورریستوران''لورینگ '' میں مسلم لیگی زعماء سے خصوصی ملاقات ہوئی۔ میں'' ڈان'' کے رپورٹرکی حیثیت سے خاص طورپرمدعوتھا۔جب قائد تشریف لائے تو سب لوگ ایک دائرے کی صورت میں کھڑے ہوگئے ، قائد ہرایک سے ہاتھ ملاتے جاتے، جب میر ی طرف آئے توہنس کرفرمانے لگے، اوہ! تم یہاں بھی ہو 

" OH YOU ARE HERE TOO " 

اور پیار سے میرے گال کوتھپکا۔میں ان کی پدرانہ شفقت سے اس قدرمتاثرہوا کہ میری آنکھوں سے غیر ارادی طورپر آنسو نکل آئے ۔

برصغیرکی سیاسی تاریخ میں شملہ کانفرنس ہمیشہ یادگاررہے گی۔ میں اپناسامان وائسریگل لاج کے ساتھ والے بنگلے میں جہاں صحافیوں کو ٹھہرایا گیاتھا،رکھ کرسیدھا

CECIL

ہوٹل گیاجہاں قائداعظم ٹھہرے ہوئے تھے۔ میں دستک دے

کرکمرے کے اندرگیاتو قائدکوچند خطوط کھولتے ہوئے پایا، سلام اور مصافحہ کرکے میں ساتھ والے صوفے پربیٹھ گیا۔میں نے دیکھاکہ قائداعظم نے ابھی شیو نہیں کی تھی اور انہیں ابھی تیارہوناتھااس لئے زیادہ دیرنہ رکا اور واپس چلاآیا۔23جون کی شام قائداعظم کی لارڈویول سے پہلی ملاقات ہوئی ۔جب وہ دوگھنٹے کے بعدواپس تشریف لائے توہوٹل کے لائونج میں مسلمانوں کابڑامجمع تھا۔قائدلائونج میںداخل ہوئے اور مسکراکر فرمایا،کیوں کیابات ہے اتنی EXCITEMENT

کیوں ہے ؟مسلم لیگی ادھرادھرمنتشرہوگئے اور'' سراوشاناتھ سین ''نے جوہندوستان کی سب سے بڑی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی کے سربراہ تھے، آگے بڑھ کرقائدکااستقبال کیااور ان کے ساتھ ایک صوفے پربیٹھ

گئے ۔میں صوفے کے پیچھے کھڑاہوگیا۔بیگم شائستہ اکرام اللہ اور مس ممتازتازی شاہ نوازبھی قائداعظم کے دونوں طرف آکربیٹھ گئیں۔تاز ی نے قائدکومخاطب کرکے کہاکہ وہ ان کی کیا خدمت کرسکتی ہیں۔ میں نے دیکھاکہ قائدکچھ اپنی طرف سکڑگئے اور فوراًفرمایاجی نہیں شکریہ۔ تھوڑی دیربعد وہ اٹھ کراپنے کمرے میںچلے گئے۔

 جب کانفرنس کی مصروفیات سے کچھ فرصت ملتی توقائدسیر کونکل جاتے۔ ایک سہ پہرو ہ رکشے میں بیٹھ کرپہاڑکے رائونڈکے لئے نکلے تومیں ساتھ تھا۔سامنے سے مسٹرپوتھن جوزف (جوان دنوں گورنمنٹ آف انڈیاکے محکمہ اطلاعات میں پرنسپل انفارمیشن آفیسر تھے )نکل آئے۔ وہ بھی ساتھ ہولئے اور اب ہم دونوں رکشے کے دائیں بائیںچلنے لگے ۔میں نے دیکھاکہ قائدایک موٹی چھڑی (عصانما)اٹھائے رکھتے ۔مجھ سے نہ رہاگیااور میں نے اس عصاکی شان نزول پوچھی تو فرمانے لگے کہ ایک جلسے میں گئے تو ایک شخص نے یہ لاٹھی میرے قدموں میں پھینک دی تھی ،بس تب سے اسے اٹھائے پھرتاہوں۔ گویایہ عصاقوم کی طرف سے ہدیہ تھا۔قائد کو تمام قوت ہی قوم کی طرف سے ملی تھی اور شایداس شخص نے خیال کیاکہ قائدکوملت کے دشمنوں سے عہدہ برآہونے کے لئے عصاکی ضرورت ہے۔ اس میں کیاشک ہے کہ:

'' عصانہ ہوتوکلیمی ہے کاربے بنیاد''

 شملہ کانفرنس کے بعد میں نے انگلستان جانے کی تیاری شروع کردی ۔ لیکن جانے سے پہلے سب سے اہم کام قائدکی اجازت تھی۔ یہ اجازت میں نے شملہ میں نہ مانگی کہ مجھے ابھی اپنے انتظامات کایقین نہ تھا۔سو میں نے قائدکوایک تاردیاکہ میں ان سے بمبئی میں ملاقات کرناچاہتاہوں۔ تارکاجواب تارمیں آیا،قائدنے فرمایاکہ میں بمبئی پہنچنے پران سے رابطہ قائم کروں۔ میں نے دیکھاقائدنے تارمیںبھی ایڈریس میں میرے نا م سے پہلے مسٹر لکھا تھا حالانکہ عام طورپرتارمیں ا لقابات حذف کردئیے جاتے تھے ۔اس چھوٹی سی بات سے انداز ہ کیاجاسکتاہے کہ وہ کس قدرخلیق تھے اورضابطہ اخلاق کا کس قدرپاس کرتے۔میرے ساتھ میرے ایک عزیزدوست ڈاکٹراحمدصادق بھی ہمراہ تھے ۔ہم ایک چھوٹے سے ہوٹل میں ٹھہرے ،شام کو میں نے قائد کی رہائش گاہ پر ٹیلی فون کیا، میراخیال تھاکوئی سیکرٹری بولے گاتو میں ان سے کہوں گاکہ قائدکومیری آمد کی طلاع کردے لیکن جواب میں وہ خود بولے ۔میں کچھ بوکھلاساگیالیکن میں نے خود کو سنبھال کرعرض کیاکہ حاضرہوگیاہوں کس وقت آپ سے مل سکتاہوں ،انہوں نے فوراًگلی صبح د س بجے کا وقت دے دیا۔ دوسرے دن ہم مالابارہل جہاں قائداعظم کی خوبصورت رہائش گاہ تھی، روانہ ہوگئے۔ مالابارہل بمبئی کابہترین علاقہ ہے جہاں اونچائی پرپُرشکوہ عمارتیں ہیں اورسامنے مسلسل سمندرکی لہریں ۔ ہم ڈیوڑھی پہنچے اور ہال میں داخل ہوئے، ایک بیرا نمودار ہوا جسے میں نے اپناملاقاتی کارڈ دیااورہال میں کرسیوں پر انتظارمیں بیٹھ گئے ۔صرف ایک منٹ گزراہوگاکہ ایک بغلی کمرے سے قائداعظم بنفس نفیس تشریف لے آئے، ہم کھڑے ہوگئے۔ انہوں نے مسکرا کر مجھ سے مصافحہ کیامیں نے اپنے دوست کاتعارف کرایا،قائدنے ان سے بھی مصافحہ کیاانہیں بیٹھنے کوکہااورمجھے اپنے ساتھ اسی کمرے میں لے گئے۔ وہ قائد کی لائبریری تھی، قائد نے بڑی محبت سے مجھے صوفے پربٹھایا۔ میں نے آمدم برسرمطلب کی، ہمت کرکے عندیہ کہناشروع کیا۔قائداعظم نے میرے عزم کوبہت دل چسپی سے سناکہ میں انگلستان جاکرتحریک پاکستان کے لئے کام کرناچاہتاہوں ۔انہیں اس بات کی فکرتھی کہ مسلمانوں کانقطہ نگاہ انگلستان کے عوام کے سامنے پیش کیاجائے ۔عام طورپروہاں کے لوگ ہندوستان کے حالات سے بے خبرتھے لیکن مسلمانوں کے موقف سے توقطعی ناواقف تھے ۔ قائد نے مجھ سے استفسارفرمایا کہ پیسوں کاکیاانتظام ہے۔ میں نے بے دھڑک بڑی خود اعتمادی سے کہاکہ میرے پاس ایک ہزارروپے موجود ہیں جو مجھے کتاب(مائی لیڈر)کی رائلٹی کے ملے تھے۔ میراجواب سن کر قائد کھلکھلا کر ہنس پڑے میرے لئے ایک ہزارروپے بڑی دولت تھی لیکن وہ خوب جانتے تھے کہ انگلستان میں رہائش کے لئے اس کی کوئی حیثیت نہ تھی۔

جمعہ کا دن آیاتوقائداعظم نے مجھ سے مسجدجاکرجمعہ کی نماز اداکرنے کی خواہش کااظہارفرمایا ۔ان کے استعمال کے لئے حکومت نے دوبڑی کاریں دیں ہوئی تھیں ایک میں قائداعظم نوابزادہ لیاقت علی خان اور میں بیٹھے تھے ۔اس وسیع وعریض گاڑی میں پچھلی نشست کے سامنے اگلی نشست کی پشت پر بھی دو سیٹیں تھیں، مجھے قائداعظم کے سامنے والی سیٹ پربیٹھناتھا،بیٹھنے سے پہلے اس سیٹ کوکھولناپڑتاتھامیں نے کھولنے کی کوشش کی لیکن سیٹ نہ کھلی اس پرقائداعظم نے اپنی نشست سے ہاتھ بڑھاکرایک جھٹکے سے میری سیٹ کھول دی اور میں اس پربیٹھ گیا۔میں نے ڈرائیورکو ایسٹ اینڈ

(EAST END )

کی مسجد کاپتہ دیا۔قائداعظم نے پوچھایہ کون سی مسجد ہے ،میں نے عرض کیا کہ

وہاں عام آدمی جاتے ہیں۔ میں نے انگریزی میںکامن مین

( COMMON MAN )

کالفظ استعمال کیا۔اس پرقائداعظم کے چہرے پر شگفتگی کی لہردوڑگئی فرمانے لگے اصل طاقت کامنبع ہی عوام ہیں

میں انگلستان میں تھا کہ دسمبر1946ء میںڈائوننگ سٹریٹ سے اعلان ہواکہ وزیراعظم اٹیلی نے ہندوستان کے سیاسی رہنمائوں قائداعظم محمد علی جناح، پنڈت نہرو اور بلدیو سنگھ کو وائسرائے لاڈویو ل کی معیت میں برطانو ی کابینہ کے ساتھ مذاکرات کے لئے بلایاہے ۔قائداعظم کی آمد کی خبر سن کر ہم نے ان کے استقبال کی تیاریاں شروع کردیں، مسلمانوں میںغیرمعمولی جوش وخرو ش تھا۔قائداعظم کاجہازعلی الصبح ہیتھرو ہوائی اڈے پراُترناتھااسی جہازمیں لارڈویول، نوابزادہ لیاقت علی، پنڈت نہرواور سرداربلدیوسنگھ بھی تھے۔ جہاز نے صبح آناتھامگرہم آدھی رات ہی کوہوائی اڈے پر جمع ہوگئے۔ لندن کی عام صبح بھی خاص طورپرسردیوں میں،دھندمیں ملفوف ہوتی ہیں لیکن اس صبح بونداباندی بھی ہورہی تھی، ہوایخ بستہ تھی اورنگاہیں چندگزکے فاصلے کوبھی چیرنے سے قاصر تھیں۔ جونہی جہاز ہوائی اڈے پراُترا ہمارے نعرے بلند ہونے لگے ۔ اگرچہ اب سورج کی کرنیں مہمانوں کے استقبال کے لئے نکل آئی تھیں تاہم کل ماحول دھندمیںگم تھا،ہرچیزشرابورتھی، ہرشے میلی نظرآرہی تھی، چاروں معززمہمان کیمروں کی باڑکے سامنے ایک صف میں کھڑے تھے۔ سب سے نمایاں پہلواس تصویرکایہ تھاکہ جہاں ہرطرف تاریکی تھی، قائداعظم کا سروقداس دھندوباراں کے اندھیرے میں بھی چاند کی مانند چمک رہاتھا۔ سرسے پیرتک شکنوں سے پاک لباس ان کی نفاست طبع کی غمازی کررہا تھا۔ میں نے آگے بڑھ کرقائد سے مصافہ کیا،انہوں نے شفقت سے میراشانہ تھپکا،بی بی سی کانمائندہ ان کی طرف بڑھاتوانہوں نے مجھ سے استفسارفرمایاکہ وہ کیاچاہتاہے میں نے عرض کیاوہ چاہتاہے کہ آپ اپنی آمدپرکچھ الفاظ کہیں۔آپ مائیک کی طرف بڑھے اور صرف اتنا کہا :''میں لندن کے مسلمانوں کے لئے سورج کی روشنی لایاہوں''۔

  قائداعظم اور نواب زادہ لیاقت علی خان کوحکومت برطانیہ کے مہمان کے طورپر

CLARDIGES

ہوٹل میں ٹھہرایاگیا ۔میں دستک دے کر قائداعظم کے کمرے میں داخل ہواتودیکھاکہ ایک صوفے پربیٹھے اپنی ڈاک کھول رہے تھے ۔کچھ خطوط لندن کے تھے، پڑھتے جاتے اور مجھ سے لکھنے والوں کے متعلق استفسارفرماتے جاتے ہیں ۔جمعہ کا دن آیاتوقائداعظم نے مجھ سے مسجدجاکرجمعہ کی نماز اداکرنے کی خواہش کااظہارفرمایا ۔ان کے استعمال کے لئے حکومت نے دوبڑی کاریں دیں ہوئی تھیں ایک میں قائداعظم نوابزادہ لیاقت علی خان اور میں بیٹھے تھے ۔اس وسیع وعریض گاڑی میں پچھلی نشست کے سامنے اگلی نشست کی پشت پر بھی دو سیٹیں تھیں، مجھے قائداعظم کے سامنے والی سیٹ پربیٹھناتھا،بیٹھنے سے پہلے اس سیٹ کوکھولناپڑتاتھامیں نے کھولنے کی کوشش کی لیکن سیٹ نہ کھلی اس پرقائداعظم نے اپنی نشست سے ہاتھ بڑھاکرایک جھٹکے سے میری سیٹ کھول دی اور میں اس پربیٹھ گیا۔میں نے ڈرائیورکو ایسٹ اینڈ

(EAST END )

کی مسجد کاپتہ دیا۔قائداعظم نے پوچھایہ کون سی مسجد ہے ،میں نے عرض کیا کہ

وہاں عام آدمی جاتے ہیں۔ میں نے انگریزی میںکامن مین

( COMMON MAN )

کالفظ استعمال کیا۔اس پرقائداعظم کے چہرے پر شگفتگی کی لہردوڑگئی فرمانے لگے اصل طاقت کامنبع ہی عوام ہیں ۔جب میں خواص میں گھراہوتاہوں تو

میری طبیعت میں گھٹن پیداہوجاتی ہے لیکن جب میںعام لوگوں  میں اپنے آپ کوپاتا ہوں توبے پناہ طاقتورمحسوس کرتاہوں ۔ایسٹ اینڈکی مسجد مختصرتھی، اس میں قالین بچھے ہوئے تھے اور گیس کے ہیٹربھی لگے تھے ۔لند ن میں تو ساراسال گرمائی کی ضرورت رہتی ہے چہ جائیکہ دسمبرمیں ،اورپھر انگلستان کی تاریخ میں 1946 ء سے سردتردسمبرنہ ہواتھا،منتظمین نے اس خیال سے کہ چونکہ قائداعظم نماز پڑھنے تشریف لارہے ہیں بہت لوگ آئیں گے، نماز کا انتظام زیریں کمرے (تہہ خانے)میں کردیاجوزیاد ہ بڑاتھالیکن وہاں صرف چادریں بچھوائیں ۔یہ کمرہ اوپرکے کمرے سے زیادہ یخ بستہ ہی نہ تھابلکہ وہاں گیس کے ہیٹربھی نہ تھے ۔جب ہماراقافلہ مسجد پہنچاتوخطبہ ہورہاتھا۔قائداعظم بوٹ اتارکرآخری صف میں ہی بیٹھ گئے ،فرش پربیٹھتے ہی میں سردی سے کانپنے لگا،میں سوچ رہاتھاکہ نامعلوم قائداعظم کاکیاحال ہوگا۔خطبے کے بعد وہیں کھڑے ہوکرقائدنے نمازپڑھی۔ نماز کے بعدایک کرسی پربیٹھ کرقائداپنے بوٹ پہننے لگے۔ ایک آدمی نے آگے بڑھ کران کے تسمے باندھنے چاہے قائداعظم نے فوراًاس کاہاتھ روک دیااور خوداپنے تسمے باندھے ،واپس آئے تومعلوم ہواکہ قائداعظم کوسردی لگ گئی ہے اور زکام ہوگیاہے۔

 وطن واپسی سے کچھ دن پہلے قائداعظم نے ایک پریس کانفرنس بلائی ۔ان دنوںلندن انگریزی استعمارکا مرکز ہی نہیں بین الاقوامی پریس کانفرنس کامحوربھی تھا۔وہاں کی فارن پریس ایسوسی ایشن بہت مؤقرادارہ تھا ۔پریس کانفرنس کلیریجز

CLRIDGES) )

کے ہال میںمنعقد ہوئی جونامہ نگاروں سے کھچاکھچ بھراہواتھا۔قائد ایک لمبی میزپروسطی کرسی پربیٹھ گئے ،میں منتظم ہونے کے لحاظ سے قائد کے دائیں ہاتھ پربیٹھا۔قائد نے حسب معمول دھیمے مگرصاف

شفاف لہجے اور تلفظ میں تحریک پاکستان کاپس منظراور پیش منظربیان فرمایا۔جب ان کابیان ختم ہواتوسوالات شروع ہوئے قائد سوالات کادوٹوک جواب دیتے رہے ۔پریس کانفرنس قریب الاختتام تھی کہ سوئٹزرلینڈ کے ایک بزرگ صحافی نے بآواز بلندکہامسٹرجناح! آپ ایک وقت کانگریس میں بھی تھے

(MR JINNAH YOU WERE ONCE IN THE CONGRESS)   

قائدنے بلاتامل جواب دیاہاں! میں ایک وقت پرائمری کلاس میں بھی تھا

(YES I WAS ONCE IN A PRIMARY) 

اس مسکت جواب پرزبردست قہقہہ پڑااور اسی پرپریس کانفرنس ختم ہوگئی ۔ بے چارہ سوئیس نامہ نگاراپناسامنہ لے

کررہ گیا۔میں اسے کئی سال کے بعد ملا تو اسے قائد کاجواب نہ بھولاتھا۔قائد صاد ق القول تو تھے ہی مگر حاضر جوابی میں بھی ملکہ حاصل تھا۔

  آخرایک دن قائداعظم کی واپسی کا دن آگیا۔جہازنے بہت صبح اسی ہیتھرو ایئرپورٹ سے جاناتھا۔ حسب سابق تمام مسلمان ہوائی اڈے پرجمع ہوگئے۔ ایک صاحب ایسٹ اینڈ

EAST END

کے دوردراز علاقے سے ٹیکسی پرآئے جس پران

کے پانچ پونڈخرچ آئے تھے۔ زیادہ پڑھے لکھے تھے نہ متمول، قائد کے لئے ان کے جذبات کی فرادانی کامجھ پربہت اثرہوااور بھیڑ کوکاٹتا میں انہیں فوراًقائداعظم کے حضورلے گیااورعرض کیاکہ مسٹرغلام محمد آپ کوالوداع کہنے کے لئے ایسٹ اینڈسے ٹیکسی پرآئے ہیں اوران کے پانچ پونڈ خرچ ہوئے ہیں ۔قائدنے میری بات تودلچسپی سے سنی اور غلام محمد صاحب سے خلوص دل سے مصافحہ بھی کیالیکن ساتھ ہی فرمایا'' تم مسلمان بہت خرچیلے ہوتے ہو اور پھرہنس پڑ ے ''۔

قائد کی قوم میں محبوبیت کارازان کاکرداراور ان کالائحہ عمل تھا۔ انہیں کسی تزک ،ا حتشام اورتزئین کی حاجت نہ تھی۔ قائد کوہم نے اپنے فلک شگاف نعروں میں رخصت کیا۔یہ میرا قائد کا آخری دیدارتھااس کے بعد حسرت دیدہی رہی، میں قائد کی وفات سے پہلے وطن واپس نہ آسکا۔


مضمون نگار ایک قومی اخبار کے لئے کالم لکھتے ہیں

[email protected]


قائدِ اعظم

اس شخص کی آنکھوں میں
اک عزم کا شعلہ تھا
جو آگ لگاتا تھا
ٹھٹھرے ہوئے سینوں میں

اس شخص کی باتوں میں
اک نورِ تَیقُّن تھا
جو چاند اُگاتا تھا
بے نور جبینوں میں

باطل سے نہ دبتا تھا
حق بات پہ اڑتا تھا
اللہ سے ڈرتا تھا
جو کہتا تھا ، کرتا تھا

میں نے اسے دیکھا تھا
اک شخص تھا دبلا سا
اس شخص کے سینے میں
دل میرا دھڑکتا تھا

انجم رومانی

یہ تحریر 115مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP