متفرقات

قائدِاعظم اور سیکولر حضرات

قائدِاعظم ہمارے عظیم ترین محسن ہیں کہ انہوںنے اپنی صحت، نجی زندگی، گھر بار سب کچھ تیاگ کر ہمیں ایک آزاد خطہ ٔ زمین لے کر دیا اور انتقال سے قبل اپنی محنت سے کمائی گئی دولت بھی قوم میں تقسیم کرگئے۔ لیکن یہ عجیب اتفاق ہے کہ قائدِاعظم ہماری تاریخ کے ایک مظلوم کردار بنتے نظر آتے ہیں۔

قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ان کے نظریات، افکار، سیاسی وذاتی زندگی پر بحث جاری ہے اور کشتی کنارے لگتی نظر نہیںآتی۔ اصول تو یہ ہے کہ کسی بھی عظیم سیاسی رہنما کو اس کی تقریروں، فرمودات، تحریروںاور سیاسی زندگی کے حوالے سے جانچا ، پرکھا جاتا ہے اور اپنے ذاتی ایجنڈے، ذاتی فلسفے اور ذاتی مفادات سے بلند ہو کر اس کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ مگر افسوس کہ یہاں صورت مختلف ہے۔



قائدِاعظم کا نقطۂ نظر ، تصور، جدوجہد اور وژن ان کی تقریروں سے روزِ روشن کی مانند واضح ہے، لیکن ہمارے ہاں خاص کر گزشتہ چار عشروں سے رسم چل نکلی ہے کہ ایجنڈا بردار حضرات ان کو پورے تناظر میں سمجھنے  اور ان کی سیکڑوں تقاریر و بیانات پڑھنے کے بجائے، سیاق و سباق سے کاٹ کر اپنے اپنے مطلب کے فقرے ڈھونڈنکالتے ہیں۔ پھر انہی جملوں پر اپنے فلسفے اور اپنی خواہشات کا خول چڑھا کر مخصوص فکر کاڈھول پیٹنا شروع کردیتے ہیں۔ ایسی تحریف نگاری کا یہ موضوع ایک کتاب کا تقاضا کرتا ہے۔ مجھے قائداعظم کے سیکڑوں حوالے اور تقاریر یاد ہیں۔ یہاں پر صرف مثال کی خاطر عرض کررہا ہوں کہ ایک اخبار نے کچھ عرصہ قبل ایک صاحب کا کالم شائع کیا، جس میں انہوںنے قائداعظم کی چند تقاریرسے من پسند اور وضع کردہ جملوں کو ان کے سیاق و سباق سے کاٹ کر اپنے مطلب کے مطابق نتائج اخذ کرلئے۔ جس پر مجھے حیرت بھی ہوئی اور افسوس بھی۔

مثال کے طور پر موصوف نے لکھا کہ یکم فروری 1948کو قائدِاعظم نے امریکی عوام سے ریڈیو خطاب میں فرمایا: ''پاکستان ایک ایسی مذہبی ریاست نہیں بنے گا، جس میں مُلاّئوں کو مذہبی نصب العین کی روشنی میں حکومت کرنے کا اختیار ہو۔'' چونکہ موصوف نے اس جملے کو خاص طور پر اپنے مقصد کے لئے منتخب کیا ہے، اس لئے قائد کے اصل الفاظ اور پورا سیاق وسباق ملاحظہ فرمایئے اور پھر اُن کا اُردو ترجمہ:۔

The Constitution of Pakistan has yet to be framed by the Pakistan Constituent Assembly. I do not know what the ulimate shape of this  consititution is going to be. But, I am sure that it will be of a democratic type, embodying the essential principles of Islam. Today, they  [means Principles of Islam] are as applicable in actual life, as they were 1,300 years ago. Islam and its idealism have taught us democracy. It has taught equality of men, justice and fairplay to everybody. We are the inheritors of these glorious traditions and are fully alive to our responsibilities and obligations as framers of the future constitution of Pakistan. In any case Pakistan is not going  to be a theocratic state  to be ruled by priests with a divine mission . (Speeches, Statments and messages of Quaid-e- Azam Vol: 4 ed: Khurshid A Yusufi,

(بزمِ اقبال لاہور۔صفحہ 2694)

''مجلس دستورِ پاکستان کو ابھی پاکستان کا دستور مرتب کرنا ہے۔ مجھے اس بات کا تو علم نہیں کہ دستور کی حتمی شکل کیا ہوگی، لیکن مجھے اس امر کا یقین ہے کہ یہ جمہوری نوعیت کا ہوگا، جس میں اسلام کے لازمی اصول شامل ہوں گے۔ آج بھی ان اصولوں کا اطلاق عملی زندگی میں ویسے ہی ہوسکتا ہے، جیسے کہ 1300 برس قبل ہوتا تھا۔ اسلام نے ہر شخص کے ساتھ عدل اور انصاف کی تعلیم دی ہے۔ ہم ان شاندار روایات کے وارث ہیں اور پاکستان کے آئندہ دستور کے مرتبین کی حیثیت سے ہم اِن ذمہ داریوں اور فرائض سے باخبر ہیں۔ بہرنوع، پاکستان ایک ایسی مذہبی مملکت نہیں ہوگی، جس پر آسمانی مقصد کے ساتھ پاپائوں کی حکومت ہو۔''

کالم نگار موصوف نے حضرت قائداعظم کی تقریر کے اس مکمل پیرا گراف سے اپنی مرضی کا ایک چھوٹا ٹکڑا نکال کر، قارئین کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی ہے۔ اب آپ پورا اقتباس دیکھ لیجئے، یعنی قیامِ پاکستان کے پانچ ماہ بعد بھی قائدِاعظم بیان فرماتے ہیں : پہلے یہ کہ ''دستور ، دستورساز اسمبلی نے بناناہے،'' مراد یہ ہے کہ''دستور میری ذات نے شاہانہ اختیارکے ساتھ تشکیل نہیں دینا۔'' دوسرا یہ کہ '' وہ جمہوری ہوگا اور اسلام کے لازمی اصولوں پر مبنی ہوگا۔'' سوال یہ ہے کہ اسلام کے لازمی اصول رُو بہ عمل ہوں گے تو پھر پاکستان سیکولر کیسے ہوگا؟ تیسرا یہ کہ ''اسلام کے اصول 1300 سال بعد بھی ویسے ہی قابلِ اطلاق ہیں اور ہم اہلِ پاکستان قطعاً معذرت خواہ  نہیں ہیں کہ 20ویں صدی میں آٹھویں صدی ہجری کے عطاکردہ ضابطوں کو رُوبہ عمل لانے سے کسی طور شرمائیں۔'' چوتھا یہ کہ '' اسلام ہر شخص کے ساتھ (یعنی غیرمسلموں کے ساتھ بھی) عدل اور انصاف کی تعلیم دیتا ہے اور دستور سازی انہی اصولوں پر ہوگی۔'' پانچواں یہ کہ ''یہاں پر حکمرانی پاپائوں کی نہیں ہوگی، جو کسی کے سامنے جواب دہ نہ ہوں اور اپنے ہر بُرے بھلے  فعل کو تقدس کی مُہر سے نافذ کرنے کی دھونس جمائیں۔''(ایسا اختیار یا استثناء اسلام میں سرے سے ہے ہی نہیں، جب کہ ایسا مذہبی اقتدار صرف عیسائیوں میں تھا، جس سے مسلمانوں کی تاریخ کا کوئی تعلق نہیں) اب آپ جناب 'دانش ور' کی دیانت اور قائدکی بصیرت کا موازنہ کرکے دیکھئے ، کیا واقعی قائد کے بیان کردہ اصولی مؤقف سے کاٹ کر، استعمال کردہ ٹکڑے کا وہی مطلب ہے، یا اس کا مقصد ایک بڑی جچی تلی اور مبنی برصداقت رائے کا اظہار ہے؟

قائداعظم کے یکم فروری 1948 کو امریکی عوام کے نام ریڈیو خطاب کا ذکر پڑھ کر مجھے اس لئے حیرت ہوئی کہ اسی خطاب میں قائدِاعظم کے ان الفاظ کو کیوں درخورِ اعتنا نہ سمجھاگیا، جو بنیادی اصول اور قائداعظم کے تصورِ پاکستان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ذرا ان الفاظ کو پڑھ لیجئے جو امریکی عوام نے اپنے کانوں سے سُنے:

Pakstan is the premier Islamic state

(پاکستان سب سے بڑی اسلامی مملکت ہے) مجھے اس پر ہرگز حیرت نہیں ہوتی کہ ایک مخصوص مکتبِ فکر سے وابستہ یہ لوگ قائداعظم کی تقاریر کو پڑھتے ہوئے ایسے تمام الفاظ کو نظر انداز کردیتے ہیں اور اُن کا جی چاہتا ہے کہ ان الفاظ کو قائدِاعظم کی تقاریر سے حذف کردیاجائے۔

اسی مضمون  میں یہ کالم نگار مزید لکھتے ہیں: ''19 فروری1948 کو آسٹریلیا کے عوام کے نام تقریر میں قائداعظم نے اعلان کیا کہ ''پاکستانی ریاست میں مّلائوں کی حکومت  (Theocracy) کے لئے کوئی جگہ نہیں ہوگی۔''یہاں پر میں مجبور ہوں کہ ایک مرتبہ پھر مظلوم قائداعظم سے رجوع کروں۔ وہ 19 فروری1948 کو آسٹریلوی عوام کے نام ریڈیائی خطاب فرماتے ہیں:

 

West Pakistan is separated from East Pakistan  by about a thousand miles of the territory of India ....... How can there be unity of government between areas so widely separated? I can answer this question in one  word. It is 'faith:'  Faith in Almighty  God, in owrselves and in our destiny. But, I can see that people who do not know us well might have difficulty in grasping the implications of so short an answer.

Let me, for a moment, build up the background for you.

The great majority of us (means Pakistanis)  are Muslims. We  follow  the teachings of  the Prophet Muhammad (PBUH). We are members of brotherhood of Islam in which all are equal in right,  dignity and self-respect. Consequently'  we have a special and a very deep sense of unity. But, make no  mistake: Pakistan is not a theocracy or anything like it Islam demands from us  the tolerance  of  other creeds and we welcome in closest association with us all those who, of whatever creed, are themselves willing and ready to play their part as true and loyal citizens of  Pakistan . Not only  are most of us Muslims, but we have our  own  history , customs and traditions, and those ways of thought, outlook and instinct, which go to make up a sense of nationality. 

 

مغربی اور مشرقی پاکستان کے درمیان ہزار میل کے قریب بھارتی علاقہ ہے۔ اس قدر طویل فاصلہ ہو تو اتحاد عمل کیسے ہوسکتا ہے؟ میں اس سوال کا ایک لفظ میں جواب دے سکتا ہوں، اور وہ ہے 'ایمان'۔ ایمان اﷲ تعالیٰ کی ذات پر، اپنے اُوپر اعتماد اور اپنے مقدر پر بھروسہ۔ لیکن میں سمجھ سکتا ہوں کہ جو لوگ ہم سے واقف نہیں ہیں، انہیں مختصر سے جواب کے مضمرات کو سمجھنے میں شائد کچھ مشکل محسوس ہو۔ لیجئے میں آپ کے سامنے تھوڑا سا پس منظر بیان کئے دیتا ہوں:

ًً''ہماری عظیم اکثریت مسلمان ہے۔ ہم رسولِ خدا محمدۖکی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں۔ ہم اسلامی ملت و برادری کے رکن ہیں، جس میں حق، وقار اور خود داری کے تعلق سے سب برابر ہیں۔ نتیجہ یہ کہ ہم میں اتحاد کا ایک خصوصی اور گہرا شعور موجود ہے۔ لیکن غلط نہ سمجھیں، پاکستان میں کوئی پاپائی نظام رائج نہیں ہے۔ اس طرح کی کوئی چیز نہیں ہے۔ اسلام ہم سے دیگر عقائد کو گوارا کرنے کا تقاضا کرتا ہے اور ہم اپنے ساتھ ان لوگوں کے گہرے اشتراک کا پُرتپاک خیرمقدم کرتے ہیں جو خود پاکستان کے سچے اور وفادار شہریوں کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرنے کے لئے آمادہ اور رضا مند ہوں۔ نہ صرف یہ کہ ہم میں سے بیشتر لوگ مسلمان ہیں، بلکہ ہماری اپنی تاریخ ہے ، رسوم وروایات ہیں اور وہ تصوراتِ فکر ہیں، وہ نظریہ اور جبلّت ہے جس سے قومیت کا شعور اُبھرتا ہے۔'' آسٹریلیا کے عوام کے نام قائداعظم کے اس خطاب کا یہ حصہ ملاحظہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلی بات وہ یہ فرمارہے ہیں کہ: ''پاکستان کے قومی اتحاد کی بنیاد 'ایمان' ہے۔'' پھر لفظ 'ایمان' کی وہ تشریح فرماتے ہیں کہ ''اﷲ تعالیٰ پر ایمان۔'' قائد اسی بات پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ ابہام کو دُورکرنے کے لئے یہ بھی بتاتے ہیں کہ ''یہ ملک عظیم مسلم اکثریت رکھتا ہے'' یہاں وہ یہ نہیں کہتے کہ: ''مسلم، ہندو، سکھ، عیسائی، پارسی کیا ہوتا ہے؟ ہم بس پاکستانی ہیں۔'' نہیں، بلکہ وہ قیامِ پاکستان کی بنیاد، مسلم اکثریت، کی نشاندہی کرتے ہیں۔ دوسرا وہ یہ بھی نہیں کہتے کہ ''پاکستان بن گیا ہے، اب ہمارا کیا تعلق اسلام اور غیر اسلام سے۔ اس لئے اب رہنمائی کے لئے ارسطو، روسو، والٹیر اور ابراہام لنکن کی طرف دیکھو۔'' اس کے بجائے وہ بڑے واضح لفظوں میں فرماتے ہیں:'' ہم رسولِ خدا ۖ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں۔'' اور رسول اﷲۖ کی تعلیمات کا مطلب محض 'محمدعلی' نام رکھنا نہیں ہوتا بلکہ قرآن و سنت  اور حدیث محمدۖ کی تعلیمات ہوتی ہیں۔ پھر وہ یہ نہیں کہتے کہ : '' سرحد اور قومیت کی بنیاد کیا ہوتی ہے۔'' بلکہ اس کے بجائے کہتے ہیں: ''ہم اسلامی ملت و برادری کے رکن ہیں۔'' اسی کے ساتھ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ''مسلمان اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہیں'' اور پھر واضح کرتے ہیں کہ : '' یہاں کوئی پاپائی نظام رائج نہیں ہے؟'' اور آگے چل کر غیر مسلم شہریوں کا پورا احترام ملحوظ رکھنے کی بات کو وہ محض پاکستانی ہونے کے ناتے سے نہیں بلکہ پاکستان سے وفاداری سے مشروط کرتے ہیں۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ کالم نگار صاحب نے جو الفاظ قائداعظم سے منسوب کئے ہیں، وہ اپنے سیاق و سباق میں بالکل دوسرا منظر نامہ پیش کرتے ہیں، جو عین اسلامی فکریات سے مطابقت رکھتا ہے۔

قائداعظم نے یہ بات 14مرتبہ کہی کہ پاکستان مذہبی ریاست نہیں ہوگی اور کئی بار وضاحت کی، جو ان کے فہم ِ اسلام کا ثبوت ہے کہ اسلام میں مذہبی ریاست کا تصور موجود نہیں۔ ظاہر ہے کہ مذہبی ریاست عوام پر مذہب مسلط کرتی ہے اور اقلیتوں کو برابر کے حقوق نہیں دیتی، جبکہ اسلامی ریاست میں اقلیتوں کو برابر کے شہری تصور کیا جاتا ہے اور ان پر ریاستی مذہب مسلط نہیں کیا جاتا۔ ایک واضح اور روشن مثال ریاستِ مدینہ ہے۔ ڈاکٹر محمد حمیداﷲ مرحوم نے میثاقِ مدینہ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کے تحت غیر مسلموں کو برابرکے حقوق دیئے گئے تھے۔ غیر مسلموں کے حوالے سے حُسنِ سلوک، احترام، برابری اور برداشت کی مثالیں سیرتِ نبویۖ میں موجود ہیں، جس پر بہت لکھا جا چکا ہے۔ گویا اسلام یا اسلامی ریاست میں اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے جھگڑا نہیں بلکہ اس ساری  بحث اور جدو جہد کا مقصد کچھ اور ہے۔ پاکستان ہرگز مذہبی ریاست نہیں، بلکہ یہ اصول ہمیشہ کے لئے طے ہو کر آئین کا حصہ بن چکا کہ پاکستان ایک اسلامی جمہوری ریاست ہے جس کے قوانین، آئین، ڈھانچے وغیرہ کی بنیاد اسلامی اصولوں پر استوار ہوگی۔

یہی بات قائداعظم نے قیامِ پاکستان سے قبل 101 بار اور قیامِ پاکستان کے بعد 14 بار برملا اور واشگاف الفاظ میں بیان فرمائی کہ پاکستان کا آئین، نظام، قانون، انتظامی ڈھانچے وغیرہ کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی جائے گی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جو حضرات  پاکستان کو مذہبی ریاست بنانے کا ایجنڈا رکھتے ہیں وہ بھی ناکام ہوں اور جو اسے اسلامی کے بجائے محض جمہوری ریاست بنانے کا خواب دیکھتے ہیں اور اس پر سیکولرزم کا غلاف چڑھانا چاہتے ہیں، وہ بھی ناکامی سے ہم کنار ہوں گے۔ قائداعظم نے بار رہا 'مسلمان ریاست' کا لفظ استعمال کیا، لیکن ہر بار 'مسلمان ریاست' کے بعد ان الفاظ کا اضافہ کیا کہ ''جس کی بنیاد اسلامی اصولوں پر استوار ہوگی۔''

اب ظاہر ہے کہ جس ریاست کی بنیاد اسلام ہو، اسے اسلامی ریاست یا اسلامی ملک ہی کہتے اور سمجھتے ہیں، اسے مذہبی ریاست نہیں کہتے لیکن سیکولرازم کے پردے میں خود دوقومی نظریئے کی نفی کرنے کے درپے ان حضرات کے لئے اصل وبالِ جان یہ تصور ہے کہ ''اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے'' جو ذاتی زندگی، سیاسی زندگی، ریاستی زندگی، حتیٰ کہ ہر شعبے پر محیط ہے۔ اس لئے اسلامی ریاست کی سیاست، طرزِ حکمرانی، قانون کی تشکیل، تنفیذ اور تعبیر وغیرہ کو اسلام سے آزاد نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح مسلمان ریاست میں غیر اسلامی رسومات و عادات، مثلاً شراب، زنا، سود، جوا، ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی، استحصال، چوری وغیرہ وغیرہ کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ گھر کی چار دیواری کے اندر آپ کیا کرتے ہیں، یہ بندے اور اﷲ کا معاملہ ہے۔ مگر ریاست کا تعلق اجتماعی معاشرت سے ہے، اور اس کے بارے میں ریاست کو ایک واضح تصور اختیار کرنا ہوتا ہے۔ ریاستِ پاکستان کے اس تصور کی تشکیل14 اگست1948 کو نہیں بلکہ طویل، جاں گسل اورصبر آزما جدوجہد کے دوران میں ہوئی تھی۔ اس کمٹ منٹ نے پاکستان کی صورت گری کی ہے۔

تاریخی پس منظر اور قائداعظم کی 1940 سے1948 تک ساری تقاریر کے تناظر میں دیکھیں تو11اگست1947 کی تقریر کا مدعا فقط یہ تھا کہ اقلیتوں کو برابر کے حقوق حاصل ہوں گے اور مذہب ان کی ترقی، تمدن اور اندازِ زندگی میں حائل ہوگا، نہ رکاوٹ بنے گا اور غیر مسلم اپنے مذہب کے مطابق آزادانہ زندگی گزار سکیں گے۔ مختصر یہ کہ ریاست ان پر مذہب مسلط نہیں کرے گی۔

کراچی بار ایسوسی ایشن سے عید میلاد النبی کے موقعے پر 25 جنوری1948 کو قائدِاعظم نے بڑے بلند آہنگ الفاظ میں اعلان فرمایا کہ : '' وہ شرارتی عناصر ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ آئینِ پاکستان کی بنیاد شریعت پر نہیںہوگی۔ اسلامی اصول آج بھی ہماری زندگی پر اسی طرح لاگو

(Applicable)

ہیں جس طرح تیرہ سو سال قبل تھے۔'' (قائدعظم کے بیانات، تقاریر، جلد چہارم، صفحہ2669) ظاہر ہے کہ اسلامی شریعت کا نفاذ غیر مسلموں پر تو نہیں ہوتا تھا۔ جو مذہبی

عناصر شریعت کے نام پر تشدد پھیلاتے، خدائی فوج دار بنتے اور اقلیتوں کے حقوق پر ضرب لگاتے ہیں، وہ زیادتی بلکہ کھلم کھلا قرآن و سنت کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اسی طرح جو حضرات اسلام کے نام پر 'لبرل ازم، یا سیکولرازم کی آڑ میں مادر پدر آزادی و اخلاق باختگی پھیلاتے ہیں' وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قانون و ضابطے کو توڑتے اور اسلامی حدود کو پامال کرتے ہیں۔

ذہنی ارتقا انسانی زندگی کا حصہ ہے۔ قائداعظم کی جانب سے تحریکِ خلافت کی مخالفت کی کئی وجوہ تھیں۔ برطانیہ سے1934 میں واپسی کے بعد اور خاص طور پر آٹھ صوبوں میں کانگریسی حکومت

(Congress Rule)

کی مسلم دشمنی پر مبنی کارروائیوں کو دیکھنے کے بعد قائداعظم کے خیالات میں بے پناہ تبدیلی نظر آتی ہے، جس کی بہترین جھلک مسلم لیگ کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے اراکینِ اسمبلی کے 1946 میں دہلی

کنونشن کے خطاب اور قرار داد میں ملتی ہے۔ دہلی کنونشن میں منظور کردہ قرار داد کو پڑھئے تو تصورِ پاکستان سمجھ میں آئے گا۔

ہندوستانی سفیر سری پرکاش کی کتاب بہت سے جھوٹوں کا مجموعہ ہے۔ قائداعظم کی شخصیت کے وقار کے پیشِ نظر ہندوستانی سفیرگورنرجنرل کو سوالات کے کٹہرے میں کھڑا کرلے، ناقابلِ فہم ہے۔ پھر قائداعظم جیسا کھرا انسان کیسے کہہ سکتا تھا کہ ''میں نے کبھی 'اسلامی' کا لفظ استعمال نہیں کیا۔'' قائداعظم کو معذرت خواہانہ رویے اختیار کرنے کی کیا ضرورت تھی اور نہ اُن کا یہ مزاج تھا، جب کہ وہ اسلامی نسبت کا لفظ کئی بار ادا کرچکے تھے۔ سری پرکاش نے یہ واقعہ ستمبر1947 کا لکھا ہے، صرف ایک ماہ بعد قائداعظم نے پنجاب یونیورسٹی سٹیڈیم لاہور میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے 30 اکتوبر1947 کو اعلان کیا تھا

Be prepared to sacrifice this all, if necessary,in building up Pakistan as a Bulwark of Islam

(اس امر کے لئے تیار رہئے کہ پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے کے لئے اگر ضرورت ہو تو اپنا سب کچھ قربان کردیںگے۔) (ایضاً، جلدچہارم، صفحہ2643)

یہ اعلان اہلِ پنجاب نے براہِ راست اور اہلِ پاکستان نے بذریعہ ریڈیو سنا کہ : ''پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے کے لئے ہر قربانی کے لئے تیار ہو جائو۔'' کیا یہ قلعہ ہوا میں تعمیر ہونا تھا؟ پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے کا عزم رکھنے والے قائداعظم یہ کہہ سکتے تھے کہ پاکستان اسلامی ریاست نہیں ہوگی۔ میں سیکڑوں حوالے دے سکتا ہوں لیکن جنہوںنے نہیں ماننا، انہوںنے بہرحال نہیں ماننا۔

اسی طرح یہ اصولی بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ تحقیق اور تحریر کا ایک طے شدہ اصول ہے۔ کسی بھی شخصیت کے بارے میں لکھتے ہوئے اس کی پوری شخصیت، انداز و اطوار، کردار وغیرہ کو ذہن میں رکھا جاتا ہے اور ایسے من گھڑت واقعات  کو نظر انداز کیا جاتا ہے ،جو اس شخص کی شخصیت سے مطابقت نہ رکھتے ہوں، لگّا نہ کھاتے ہوں۔ اﷲ پاک نے عقلِ عامہ 

(Common Sense)

اسی لئے دی ہے کہ اسے استعمال کیا جائے اور اس کی کسوٹی پر سچ جھوٹ کو پرکھا جائے۔ قائداعظم کی زندگی ایک کھلی کتاب ہے، خاص طور پر1935 سے لے کر ستمبر1948 تک ان کی شخصیت کا ہر شعبہ بے نقاب ہے۔ ان برسوں میں قائداعظم نے بار بار سارے ہندوستان کے دورے کئے، بہت سی جگہوں پر قیام کیا۔ ان کی ہمیشرہ فاطمہ جناح اکثر ساتھ ہوتی تھیں۔ قائداعظم درجن بار سے زیادہ لاہور آئے، ممدوٹ ولا، فلیٹیز ہوٹل اور پھر گورنر ہائوس میں قیام کرتے رہے، لاکھوں لوگوں سے ملتے رہے، لیکن آج تک کسی شخص نے وہ بات نہیںکہی، جو اس اخبار کے ایک کالم نگار نے لکھی۔ میں تحریکِ پاکستان اور قائداعظم سے بار بار ملنے والے سیکڑوں کارکنوں سے ملا ہوں۔ بانیٔ پاکستان کے بارے میں کسی بھی واقعے کو ہوا دینے سے پہلے یہ جانچنا ضروری ہے کہ کیا اس میں سچائی ہو سکتی ہے؟ اور کیا یہ کامن سینس کو اپیل کرتا ہے؟

یاد رہے کہ قائداعظم سیکڑوں بار اعلان کرچکے تھے کہ پاکستان کی بنیاد اسلامی اصولوں پر استوار ہوگی۔ قائداعظم اصول پرست، سچے اورکھرے انسان تھے۔ مصلحت یا منافقت کے الفاظ اُن کی ڈکشنری میں موجود ہی نہ تھے۔ اُن کی سیاسی زندگی میں بہت سے ایسے مقامات آئے، جب اُن کو مصلحت کی بنیاد پر ایسا مشورہ دیا گیا، جو اُن کے کھرے اصولوں کے خلاف تھا۔ انہوں نے نقصان برداشت کرلیا، لیکن اصولوں پر سمجھوتہ نہ کیا۔ وہ جن اصولوں، تصورات اور وژن کا پرچار کرتے تھے، اُن پر خود بھی سختی سے عمل کرتے تھے۔ اس حوالے سے اُن کی سوانح عمری سیکڑوں واقعات سے بھری پڑی ہے۔ یہ بات واضح رہے کہ قائداعظم پاکستان کو ایک اسلامی ریاست کہتے تھے، اوراسلامی جمہوری فلاحی ریاست بنانے کے عزم کا اظہار کرتے تھے۔

قیامِ پاکستان کے فوراً بعد صوبوں میں اسلامک ری کنسٹرکشن بورڈ یا اسلامی تعلیمات بورڈ تشکیل دیئے گئے، جن کا فرضِ منصبی یہی تھا کہ وہ پاکستان میں شہریوں کی زندگی کو اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالنے کے لئے سفارشات دیں۔ ان بورڈز کی سفارش پر 30 ستمبر1948 کو پنجاب اور سرحدمیں شراب پر پابندی لگا دی گئی۔ اس پابندی کے سرکاری حکم نامے ، یعنی نوٹیفکیشن کی خبر پاکستان کرونیکل  از عقیل عباس جعفری کے صفحہ26 پر موجود ہے اور پڑھی جاسکتی ہے۔

قائداعظم پاکستان کو ایک اسلامی جمہوری جدید ریاست بنانا چاہتے تھے۔ اسی لئے انہوںنے ایک طرف عید میلاد البنیۖ کی تقریب منعقدہ کراچی بار ایسوسی ایشن سے خطاب میں شریعت کے نفاذ کی بات کی، تو دوسری طرف یکم جولائی 1948 کو سٹیٹ بنک آف پاکستان کی افتتاحی تقریب میں ماہرین معیشت و مالیات سے پاکستانی نظام کو اسلامی اصولوں پر استوار کرنے کی نصیحت کی۔

سٹیٹ بنک کی افتتاحی تقریب سے یہ خطاب ، قائداعظم کی آخری عوامی تقریر تھی، جس کے بعد بیماری نے اُنہیں آرام پر مجبور کردیا۔ ذرا قائداعظم کے الفاظ باطن میں جھانکئے اور اُن کا مدعا اور وژن سمجھنے کی کوشش کیجئے۔ انہوںنے کہا:

I shall watch with keeness the work of your research organization in evolving practices compatible with Islamic ideals of social and economic life....The adoption of western economics theory and practice will not helps us in achieving our goal of creating a happy and contented people. We must work our destiny in our own way and present to the world an economic system based on true Islamic concept of equality of manhood and social justice.

''میں دلچسپی سے اس امر کا انتظار کروں گا کہ آپ کا شعبۂ تحقیق، بنکاری کے طور طریقوں کو معاشرتی اور اقتصادی زندگی کے اسلامی تصورات سے ہم آہنگ کرے… مغربی معاشیات اورعمل، خوش و خرم اور مطمئن قوم کی تشکیل کی منزل کے حصول میں ہماری مدد نہیں کرسکیں گے۔ ہمیں اپنے مقدر کو سنوارنے کے لئے اپنے ہی انداز میں کام کرنا ہوگا،اور دنیا کے سامنے ایک ایسا اقتصادی نظام پیش کرنا ہوگا، جس کی اساس انسانی مساوات اور معاشرتی عدل کے سچے اسلامی تصور پر استوار ہو۔'' (ایضاً، جلد چہارم صفحہ2787)

اس سے ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ جب قائداعظم نے پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ بنانے کا اعلان کیا تھا تو اُن کا کیا مدعا تھا۔ وہ مغرب کے نظامِ معیشت کے مقابلے میں اسلامی نظامِ معیشت پر مبنی معاشی و معاشرتی ڈھانچہ وضع کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ قائداعظم عہد اور عزم کے پکے تھے۔ وہ زندہ رہتے تو اپنے ویژن کو عملی شکل دے کر دم لیتے، لیکن موت کا ایک دن مقرر ہے اور وہ مشن کی تکمیل کا انتطار نہیں کرتی۔ اس طرح وہ مشن اگلی نسل کو منتقل ہو جاتا ہے۔

قائدملت لیاقت علی خان، قائداعظم کے معتمد ترین ساتھی اور پاکستان کے پہلے وزیرِاعظم تھے۔ وہ قائداعظم کی سوچ اور ویژن کا مکمل ادراک رکھتے تھے۔ قائداعظم کی وفات کے سات ماہ بعد دستور ساز اسمبلی میں 'قرار دادِ مقاصد ' پیش کرتے ہوئے وزیرِاعظم لیاقت علی خان نے یقینا قائداعظم کے ویژن کو ذہن میں رکھا۔ جو دانش ور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ''قراردادِ مقاصد کا مسودہ قائداعظم کو دکھایا گیا تھا، لیکن اُنہوںنے اس کی منظور نہ دی۔'' وہ جھوٹ بولتے ہیں، کیونکہ تاریخ  میںایسے کسی انکار کا کوئی نام و نشان نہیں ملتا۔ ہمارے سیکولر دوستوں کو قائداعظم کے حوالے سے 'ہوائیاں' اُڑانے، بے بنیاد دعوے کرنے، اُن کی تقاریر کو سیاق و سباق سے الگ کرکے اور بعض اوقات الفاظ میں تحریف کرکے من پسند نتائج اخذ کرنے کا دائمی عارضہ لاحق ہے۔

جسٹس منیر نے اپنی کتاب 

From Jinnah to Zia

میں قائداعظم کی ایک تقریر کے الفاظ میں اپنی طرف سے تبدیلیاں کرکے سیکولر ازم کے لئے بنیاد فراہم کی ہے۔ پاکستانی نژاد محترمہ سلینہ کریم نے اپنی کتاب

Secular Jinnah- Munir's Big Hoax Exposed

میں تقریر کے اصل الفاظ دے کر جسٹس منیر کی دیانت کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ جسٹس منیر کی کتاب سے یہی الفاظ لے کر سیکولرازم کے عَلم بردار ، قائداعظم کو سیکولر ثابت کرنے کے لئے اپنی ذہنی توانائیاں صرف کرتے رہے لیکن محترمہ سلینہ کریم نے ان الفاظ کو غلط اور من گھڑت ثابت کرکے ان کی دانش وری کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔ مصنفہ کا بجا طور پر کہنا ہے کہ : ''جب میںنے جسٹس منیر کی کتاب اور اس میں قائداعظم کی تقریر کا حوالہ پڑھا تو میں پریشان ہوگئی کہ ان الفاظ کی انگریزی غلط تھی، جب کہ قائداعظم غلط انگریزی نہیں بول سکتے تھے۔ میںنے تحقیق کی تو راز کھلا کہ جسٹس منیر نے یہ الفاظ اپنے پاس سے لکھے تھے۔'' ۔۔۔ دیانت دارانہ تحقیق کی بنیاد پر قائداعظم کو کسی صورت بھی سیکولر ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ اسی لئے میں سیکولر دانش وروں سے گزارش کرتا ہوں کہ خدا را ! قائداعظم کو معاف کردو۔ اپنے ایجنڈے کا جواز قائداعظم کی تقریروں یا شخصیت میں مت تلاش کرو۔ پاکستان ایک اسلامی جمہوری ریاست ہے اور ان شا ء اﷲ  اسی سمت میں سفر جاری رہے گا۔


مضمون نگار ممتاز محقق اور دانشور ہیں۔ ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ پاکستانیات کے حوالے سے وہ ایک مستند شناخت رکھتے ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 166مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP