بیاد اقبال

قائداعظم:پیکرِ عزم واستقلال 

''بہت کم افراد تاریخ کادھارا بدلتے ہیں۔ ان سے بھی کم وہ ہوتے ہیں جو دنیاکانقشہ بدل دیتے ہیں اور ایسے تو نہ ہونے کے برابر ہیں جوایک نئی مملکت کی تشکیل کرتے ہیں۔ محمدعلی جناح نے یہ تینوں کارنامے سرانجام دیئے ۔''
یہ الفاظ کسی عام انسان کی زبان سے نکلے ہوئے نہیں بلکہ امریکہ کے عالمی شہرت یافتہ پروفیسر سٹینلے والپرٹ  کے قلم سے لکھی ہوئی تحریر کاحاصل ہیں۔ یہ الفاظ محض وقتی جذبات کااظہار نہیں ہیں بلکہ محمدعلی جناح کی اس عظیم جدوجہد کی گواہی دے رہے ہیں جس نے انہیں جناح سے قائداعظم کے رتبے پرفائز کیا۔ 
قائداعظم محمدعلی جناح کی زندگی پر نظر ڈالی جائے تو حیران کن واقعات سامنے آتے ہیں۔ نوعمرمحمدعلی کاانگلستان جانا، ایک مخصوص تعلیمی ادارے میں داخلہ لینا، محنت اورجانفشانی سے تعلیم حاصل کرنا اور ایک ایسی شخصیت بن کرہندوستان لَوٹنا جو مسلمانوں کے لئے حقیقی معنوں میں مسیحانفس ہو۔ انگلستان میں ان کا قیام بھی بہت مثالی تھا۔ انہوں نے 1895ء میں بیرسٹری کاامتحان پاس کیاتھا وہ اپنے دور کے سب سے کم عمربیرسٹر تھے۔ انگریزی ادب سے انہیں بہت دلچسپی تھی۔ لندن کی عدالتوں میں انگریزوں کااندازِ وکالت اور انگریزججوں کا اندازِ عدالت دیکھنے کے لئے جاتے۔ انہیں انگریزوکلا کاانداز بہت اچھا لگتاکیوں کہ وہ ڈرامائی انداز میں مقدمات کی پیروی کرتے تھے۔ برطانوی دارالعوام کی کارروائی پربھی نظررکھتے تھے اور پارلیمنٹ کے ممبران کی تقریروں کے ڈرامائی انداز کو پسند کرتے تھے۔ اس طرح انہوں نے بہت کچھ سیکھا۔


دنیاحیران تھی کہ خطبۂ الٰہ آباد کے صرف دس سال بعدنئی اسلامی مملکت کے خواب کی تعبیر کے لئے منصوبہ بندی سامنے آگئی۔ 23مارچ 1940ء کومنٹوپارک لاہورمیں پورے ہندوستان سے مسلمانوں کے نمائندے جمع ہوئے ۔ایک عظیم الشان جلسۂ عام قائداعظم محمدعلی جناح کی صدارت میں منعقد ہوااور نئی اسلامی مملکت پاکستان کی قرارداد پیش کردی گئی ، جسے متفقہ طورپر منظورکرلیاگیا۔


 ہندوستان واپس آکرانہوں نے بمبئی ہائی کورٹ اور دیگر عدالتوں میں آمدورفت شروع کی۔ اس دوران میں انہیں بطور خاص ایڈووکیٹ جنرل جان مولزورتھ کی لائبریری سے استفادے کاموقع ملا۔ انہوں نے قانون کی بڑی بڑی کتابوں کامطالعہ کیا۔ ان کایہ عہدتربیت کاعہد تھا، ابھی وہ اس مرحلے سے گزررہے تھے کہ بمبئی پریذیڈنسی میں مجسٹریٹ کی ایک اسامی خالی ہوئی۔ اس اسامی میں کسی ہندوستانی کافائز ہوناناممکنات میں سے تھا۔ مگرجناح کی بے پناہ صلاحیت، خوداعتمادی ،قانون اورپارلیمانی نظام سے گہری وابستگی کے باعث بمبئی میں حکومت کے جوڈیشل ممبر سرچارلس اولی وینٹ بہت متاثر ہوئے اور جناح کوبطور مجسٹریٹ خدمات کی انجام دہی کاموقع دیا۔ یہ ایک عارضی اسامی تھی جہاں انہوں نے اپنی صلاحیتوں کالوہامنوایا۔ کچھ عرصے بعد جب مستقل اسامی خالی ہوئی تو جوڈیشل ممبرنے جناح کواس کی پیشکش کی۔ تاہم جناح نے معذرت کی۔ حالانکہ انہیں1500 روپے مشاہرے کی پیش کش ہوئی تھی۔ آپ نے کہا کہ میں ان شاء اللہ اتنے پیسے روزانہ کمانے کی امید رکھتا ہوں۔ (اس دورمیں یہ تنخواہ شہزادوں جیسی تھی)اصل میں ان کے مقاصداورعزائم بہت بلند تھے۔ ان کی محنت اور جانفشانی رنگ لائی، وہ تھوڑی مدت میں ہی صفِ اول کے وکلامیں شمارہونے لگے۔ ہندوستان کے عدالتی نظام میں اس قدردیانتدار، نیک نیت وکیل کی  مثال نظرنہیں آتی۔ وہ کوئی ایسامقدمہ لڑنے کی ہامی نہیں بھرتے تھے جوانہیں دلی طورپر مطمئن نہ کرسکے۔ بعض اوقات فیس وصول کرکے واپس کردیتے اور صاف کہتے تھے، میں ایسا مقدمہ نہیں لے سکتا جس میں کسی لمحے مجھے جھوٹ کاسہارا لینا پڑے۔ 
اُن کااصل میدان عمل سیاست تھاجس سے وہ زیادہ دیرتک دور نہ رہ سکے۔ کانگرس کے جلسوں میں شرکت کرنے لگے، مگر کانگریس کے اندازِ سیاست سے مطمئن نہ ہوسکے ۔ اللہ تعالیٰ نے محمدعلی جناح کودانش، فراست، حکمت اور بصیرت سے نوازاتھا۔ آپ کے اندر پہاڑوں جیسی استقامت اور مستقل مزاجی تھی،جوبات کہتے اس پر عمل کرکے دکھاتے۔ آپ ایک مقناطیسی شخصیت کے مالک تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے تمام مسلمان باہمی اختلافات سے کنارہ کش ہوکرجوق درجوق مسلم لیگ کے جھنڈے تلے جمع ہونے لگے اور بہت کم مدت میں مسلم اُمہ ایک بڑی قوت کی صورت میں سامنے آگئی۔ 
1930ء میں جب الٰہ آباد میں علامہ محمداقبال نے اپنے صدارتی خطبے میں ایک الگ اسلامی ریاست کاواضح تصور پیش کیا توہندوستان کے مسلمانوں میں ایک جوش اورولولہ پیدا ہوگیا۔ قائداعظم محمدعلی جناح اس تصورِ پاکستان کوعملی شکل دینے کے لئے مصروفِ عمل ہوگئے۔ اس دوران میں قائداعظم کوشدیدمشکلات کاسامناکرناپڑا۔ کانگریس نے کھل کر مسلمانوں کی مخالفت شروع کردی۔ انگریزوں کی سازشیں بھی شدت سے شروع ہوگئیں۔ ہندوستانی سیاست مکمل طورپر تبدیل ہوگئی۔ اس طرزِ سیاست سے قائداعظم کچھ بے زار ہوئے اورلندن چلے گئے۔ مگرلیگی زعمانے اِن کی واپسی کے لئے اصرار کیا۔ علامہ محمداقبال نے آپ کو دوٹوک الفاظ میں لکھا: 
''اس وقت جوطوفان بڑھتاچلاآرہا ہے، اگراس سے مسلمانوں کوکوئی بحفاظت نکال سکتا ہے تووہ آپ کی ذات ہے۔ ''
علامہ اقبال کا یہ خط قائداعظم کی ہندوستان واپسی کاسبب بن گیا۔ قائداعظم کی واپسی سے ہندوستانی سیاست میں ہل چل مچ گئی۔ انہوں نے ہندوستان کے تمام بڑے شہروں کے طوفانی دورے کئے۔ بمبئی کے مسلم حلقے سے وہ سنٹرل اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوگئے۔ پورے ملک میں ان کاخیرمقدم انتہائی والہانہ اندازمیں ہورہاتھا۔ ان کی ہمشیرہ یعنی مادرِ ملت فاطمہ جناح بھی ہرلمحہ ان کے ساتھ ساتھ تھیں۔ امتِ مسلمہ اپنے قائد سے بے شماراُمیدیں وابستہ کئے ہوئے تھی اورقائداپنی فراست سے جادۂ منزل تراشنے میں مصروف تھے۔ انگریزوں کی چیرہ دستیاں اورہندوئوں کی چالبازیاں عروج پر تھیں۔ مسلمان چکی کے دوپاٹوں کے درمیان پس رہے تھے۔ دشمنانِ اسلام کو پکایقین تھاکہ مسلمانوں نے اپنی جس منزل کاتعین کیاہواہے، وہ اس تک کبھی نہیں پہنچ سکتے مگرانہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ: 
اولوالعزمان دانشمند جب کرنے پہ آتے ہیں 
سمندر چیرتے ،کہسار سے دریا بہاتے ہیں
دنیاحیران تھی کہ خطبۂ الٰہ آباد کے صرف دس سال بعدنئی اسلامی مملکت کے خواب کی تعبیر کے لئے منصوبہ بندی سامنے آگئی۔ 23مارچ 1940ء کومنٹوپارک لاہورمیں پورے ہندوستان سے مسلمانوں کے نمائندے جمع ہوئے ۔ایک عظیم الشان جلسۂ عام قائداعظم محمدعلی جناح کی صدارت میں منعقد ہوااور نئی اسلامی مملکت پاکستان کی قرارداد پیش کردی گئی ، جسے متفقہ طورپر منظورکرلیاگیا۔ یہ مرحلہ زعمائے ملت اورمسلمانانِ ہندکے لئے حدسے زیادہ خوشی کامرحلہ تھا۔ قائداعظم کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے اور وہ نواب بہادر یارجنگ سے مخاطب تھے: 
''آج اقبال ہمارے درمیان موجود نہیں مگرہم نے وہی کیاہے جواقبال چاہتے تھے۔ ''
قرارداد کی منظوری کے بعد قیامِ پاکستان کے لئے مطالبہ شدت اختیار کر گیا۔ قائداعظم کی جدوجہد اورتحریکِ پاکستان کے دیگرقائدین کی کوششیں تیزہوگئیں۔ تحریکِ پاکستان کاقافلہ جیسے جیسے آگے بڑھ رہا تھا، قائداعظم اور ان کے ساتھیوں کی آزمائشیں بھی بڑھ رہی تھیں۔ قائداعظم کو مطالبۂ پاکستان سے روکنے کے لئے بے شمارلالچ دیئے گئے، انہیں اوران کے ساتھیوں کو دھمکیاں تک دی گئیں مگرقائدکی استقامت اوراستقلال میں ذرّہ برابر فرق نہ آیا: 
حیات و مرگ کی پُرپیچ رہگزاروں میں 
کوئی ہوا ،کوئی آندھی تجھے نگل نہ سکی 
کسی طرح نہ خریدا گیا خلوص ترا
چٹان جھوم کے ٹوٹی مگر پگھل نہ سکی
اب ایک نیاملک قائم ہوتے ہوئے سامنے نظرآرہاتھا۔ اس کے قیام کے مقاصد واضح ہوچکے تھے۔ دوقومی نظریہ ،نظریۂ پاکستان میں تبدیل ہوچکا تھااور پوری قوم کی امیدوں اورآرزوئوں کامحور بن چکا تھا۔ قائداعظم نے اس حوالے سے غلط فہمیاں دور کرتے ہوئے قوم سے اس طرح خطاب کیا: 
''وہ کون سا رشتہ ہے جس میں منسلک ہونے کی وجہ سے تمام مسلمان جسدِ واحد کی طرح ہیں؟وہ کون سی چٹان ہے جس پران کی ملت کی عمارت استوار ہے؟وہ کون سا لنگر ہے جس سے اس امت کی کشتی محفوظ کردی گئی ہے؟وہ رشتہ، وہ چٹان، وہ لنگرخدا کی کتاب قرآنِ کریم ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ہم جوں جوں آگے بڑھتے جائیں گے، ہم میں زیادہ سے زیادہ اتحادپیداہوتاجائے گا۔ ایک خدا، ایک رسول ،ایک کتاب ،ایک امت۔۔۔(اجلاس مسلم لیگ، کراچی 1943ئ)
یہی وہ روحانی قوت تھی جس کی وجہ سے ہندوستان کی تمام اسلام دشمن قوتیں شکست سے دوچار ہوئیں۔ انگریزحکمران ہندوستان چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ قیامِ پاکستان کا مطالبہ تسلیم ہوگیا، اُمتِ مسلمہ کاکارواں اپنے قائداعظم کی قیادت میں منزلِ مقصود پر پہنچ گیا۔١٤اگست ١٩٤٧ء کو ایک نئی اسلامی مملکت معرضِ وجود میں آگئی۔ 
پاکستان مملکتِ خداداد ہے۔ یہ ہمارے پاس اس قائد کی امانت ہے جس کی زندگی عزم وہمت، دیانت، صداقت، نظم وضبط اورخدمتِ انسانیت سے عبارت تھی۔ اس قائد کاایک ایک لفظ درسِ حیات ہے جو تابناک مستقبل کی طرف ہماری رہنمائی کررہا ہے اوروطنِ عزیز کی جغرافیائی اورنظریاتی سرحدوں کے تحفظ کے لئے ہماری ذمہ داریوں کی یاددہانی کروارہاہے۔ آئیے ہم عہد کریں کہ اس حوالے سے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے اور ہمیشہ قائدکایہ سنہری قول پیشِ نظررکھیں گے:''اتحاد، تنظیم، یقینِ محکم''
یاد ہردل میں رہے گی حشرتک زندہ تری 
شام کی قائل نہیں ہے صبحِ درخشندہ تری 


  مضمون نگارڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈسوشل سائنسز ناردرن یونیورسٹی، نوشہرہ ھیں۔

یہ تحریر 94مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP