یوم آزادی

قائداعظم کی بے مثال قیادت اور قیامِ پاکستان

 برعظیم پاک و ہند کے ہلالِ آسمان پر جو نام لعلِ یمن و بدخشاں کی طرح منور ہے اُسے قائداعظم محمد علی جناح کہتے ہیں۔ کائناتِ ماہ و انجم ، اُن کا نام سنتے ہی تبسم ریز ہوجاتے ہیں۔ اُن کے عزم و استقلال اور جہدِ مسلسل کے سامنے سیارگانِ فلک کروٹیں بدلتے ہیں۔ قدرت نے محمد علی جناح (پیدائش:25 دسمبر 1876ئ۔ وفات: 11 ستمبر1948ئ) کوسوغاتِ فراست سے مالا مال فرمایا ۔ اُن کے شیریں لب دلوں کو مسخر کرتے رہے۔ عقل و خرد کی رفعتوں کے سامنے مخالف قوتیں سرنگوں ہو جاتی تھیں۔ اقلیم ِ عرفان و علم کے بل بوتے پر محمد علی جناح نے تعلیمی مراحل بڑی کامیابی سے طے کیے۔
قائداعظم 1913ء میں مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔ مئی 1914ء کو قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں ہندوستان کے رہنمائوں کا ایک وفد لندن پہنچا ۔ اس وفد کے میزبان سرولیم ویڈر برن تھے۔ قائداعظم محمد علی جناح پہلی جنگِ عظیم1914ء کے بعد مسلمانوں کے لیے ایک آزاد ریاست کے خواب چننے لگے۔ میثاقِ لکھنو میں مسلمانوں کے لیے جداگانہ بنیاد پر انتخاب کا مطالبہ قائداعظم کی سیاسی بصیرت کا آئینہ دار ہے ۔ قائداعظم ایک عرصہ تک ہندو مسلم اتحاد کی کوشش میں رہے۔ ہندوستان میں خود مختاری ، صبح بہاراں کا درجہ رکھتی تھی۔ محمد علی جناح نے نام و نمود کے بجائے مسلمانوں کے لیے ایک خودمختار مملکت کا خواب دیکھا۔ کانگریس کے دل برداشتہ رویے کی وجہ سے قائداعظم محمد علی جناح نے 1920ء میں کانگریس سے استعفیٰ دے دیا اور مسلم لیگ کو منظم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ 19مئی 1928ء کو وزیرِ ہند لارڈبرکن ہیڈ کے اشارے پر ہندوستان کے مسائل حل کرنے کے لیے نہرو رپورٹ منظرِ عام پر آئی۔ پنڈت جواہر لال نہرو کی اس رپورٹ کے بعد قائداعظم نے کانگریس پر واضح کر دیا کہ ہمارے راستے جدا ہو چکے ہیں۔1929ء میں قائداعظم محمد علی جناح نے عطرِ محبت سے ١٤ نکات تیار کیے۔ اِن نکات نے مسلمانوں کی آئینی جدوجہد کا راستہ ہموار کر دیا۔ 19دسمبر 1929ء کو علامہ محمد اقبال نے ہندوستان کے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ آنے والی نسلوں پر رحم کرنے کے لیے متحد ہو جائیں۔30 دسمبر 1930 ء کو شاعرِ مشرق حکیم الامت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں صدارتی خطبہ دیتے ہوئے مسلمانوں کی منزل کا تعین کر دیا۔


آزاد اور خود مختار ریاست کے بارے میں قائداعظم محمد علی جناح کی بصیرت 23مارچ 1940ء کی گفتگو میں نمایاں نظر آتی ہے ۔ اُنھوں نے اس بات کی وضاحت کردی کہ مسلمان ہر اعتبار سے ایک قوم ہیں۔ وہ اقلیت نہیں ہیں۔ بنگال ، پنجاب ، سرحد، سندھ اور بلوچستان میں اُن کی اکثریت نمایاں ہے۔ اُنھیں کسی صورت بھی اقلیت نہیں کہا جا سکتا۔ مذکورہ اجلاس میں ہی بانیٔ پاکستان نے اس بات کی وضاحت کر دی کہ کانگریس ایک ہندو جماعت ہے جو صرف ہندوئوں کی نمائندگی کرتی ہے ۔ قائداعظم محمد علی جناح نے واشگاف الفاظ میں کہا ''قومیت کی تعریف چاہے جس طرح بھی کی جائے مسلمان اس تعریف کی رو سے ایک الگ قوم کی حیثیت رکھتے ہیں اور اس لیے اس بات کے مستحق ہیں کہ ملک میں ان کی اپنی الگ مملکت ہو اور اپنی جداگانہ خود مختار ریاست ہو۔


 یکم ستمبر 1939ء کوبرطانیہ نے جرمنی کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا۔ یوں دوسری عالمگیر جنگ کا آغاز ہواجس میں برطانیہ نے ہندوستان کو اپنا حلیف بنا لیا۔ 11ستمبر 1939ء کو حکومت نے جنگ کی وجہ سے قانونِ ہند 1935ء پر عمل درآمد روک دیا۔ مسلم لیگ نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا جب کہ کانگریسی گھروں میں صفِ ماتم بچھ گئی۔ کانگریسی وزارتیں ریت کی دیوار ثابت ہوئیں۔ قائداعظم محمد علی جناح اور اُن کے رفقاء نے2دسمبر 1939ء کو یومِ تشکر اور 22 دسمبر کو یومِ نجات منانے کا اعلان کیا۔ عظیم قائد کی سیاسی بصیرت ایک آزاد اور خود مختار مملکت کے لیے ماہِ تمام کی صورت سامنے آگئی۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ علامہ محمد اقبال کے خطوط بنام قائداعظم محمد علی جناح نے بابائے قوم کو حالات سے آگاہ رکھنے کے لیے سنگِ میل کا کردار ادا کیا۔ یہ خطوط قائداعظم محمد علی جناح اور ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی سوچ اور سماجِ انسانیت کے کئی پہلوئوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ براعظم پاک وہند کے مسلمانوں کی آزادی کا اظہار فقید المثال اور بے عدیل ہے ۔ ایک عام تاثر ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح کی آزاد اور خود مختار بصیر ت کو اِن خطوط سے تابناکی حاصل ہوئی۔21 مارچ 1940ء کو مسلم لیگ کا ایک اہم سہ روزہ اجلاس لاہور میں منعقد ہوا ۔ مؤرخین نے اسلامی ہند کی تاریخ کے اس اجلاس کو ایک نئے باب کا اضافہ قرار دیا۔ قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی فنی مہارتِ متکلم سے مسلمانوں کو ایک دلآویز اور پُر کیف نقشہ سے آگاہ کیا۔ قراردادِ لاہور سے پہلے 22مارچ 1940ء  کوقائداعظم محمد علی جناح نے ایک تاریخ ساز جلسے سے خطاب کیا۔ اُنھوں نے مسلمانوں کی آزاد ریاست کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ساتھ لفظ قوم کی تعریف کی اور حکمرانوں پر واضح کر دیا کہ مسلمان ایک جداگانہ قوم ہیں۔ اُن کا اپنا وطن اور خطہ ہے ۔ اس لیے اُن کی اپنی ریاست ہونی چاہیے۔ ہم آزاد اور خود مختار لوگوں کی حیثیت سے اپنے ہمسایوں سے وسعتِ قلب و نظر سے رہنے کے متمنی ہیں۔ قائداعظم کے اس خطاب سے سطوت کے عَلم لہرانے لگے۔ 
23 مارچ 1940ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کا27واںسالانہ اجلاس منعقدہوا جس میں وزیراعلیٰ بنگال مولوی ابو قاسم فضل حق نے تاریخی قرارداد پیش کی جسے قراردادِ لاہور کا نام دیا گیا جو بعد ازاں قراردادِ پاکستان کے نام سے مشہور ہوئی۔ اجلاس کی صدارت قائداعظم محمد علی جناح نے کی اس اجلا س میں مطالبہ کیا گیا کہ ہندوستان کے شمالی مغربی اور مشرقی خطوں کے مسلمان اکثریت والے علاقوں کو یکجا کر کے آزاد مملکت کی تشکیل کرنا چاہیے۔ جن میں شامل یونٹ خود مختار اور آزاد ہوں۔ قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ مسلمانوں کی آزاد ریاستوں کو دفاع ، اُمور خارجہ، رسل و رسائل ، محصول ، کرنسی اور مبادلہ وغیرہ کا پورا اختیار ہو۔میں واضح لفظوں میں کہتاہوں کہ ہند و، مسلم دو علیحدہ اور مختلف تہذیبوں سے واسطہ رکھتے ہیں اور ان تہذیبوں کی بنیاد ایسے تصورات اور حقائق پر رکھی گئی ہے جو ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ انسانی زندگی کے متعلق ہندوئوں اور مسلمانوں کے خیالات اور تصورات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ان کے تاریخی وسائل اور ماخذ مختلف ہیں۔ ان کی رزمیہ نظمیں ان کے سربرآور دہ بزرگ اور قابلِ فخر تاریخی کارنامے سب مختلف اور الگ الگ ہیں۔ اکثر اوقات ایک قوم کا زعیم اور رہنما دوسری قوم کی بزرگ و برتر ہستیوں کا دشمن ثابت ہوتاہے۔ ایک قوم کی فتح دوسری قوم کی شکست ہوتی ہے ۔ لہٰذا ان دونوں کے لیے بنایا گیا کوئی بھی مشترکہ آئین کا عمل خاک میں مل کر رہے گا۔ ''
آزاد اور خود مختار ریاست کے بارے میں قائداعظم محمد علی جناح کی بصیرت 23مارچ 1940ء کی گفتگو میں نمایاں نظر آتی ہے ۔ اُنھوں نے اس بات کی وضاحت کردی کہ مسلمان ہر اعتبار سے ایک قوم ہیں۔ وہ اقلیت نہیں ہیں۔ بنگال ، پنجاب ، سرحد، سندھ اور بلوچستان میں اُن کی اکثریت نمایاں ہے۔ اُنھیں کسی صورت بھی اقلیت نہیں کہا جا سکتا۔ مذکورہ اجلاس میں ہی بانیٔ پاکستان نے اس بات کی وضاحت کر دی کہ کانگریس ایک ہندو جماعت ہے جو صرف ہندوئوں کی نمائندگی کرتی ہے ۔ قائداعظم محمد علی جناح نے واشگاف الفاظ میں کہا ''قومیت کی تعریف چاہے جس طرح بھی کی جائے مسلمان اس تعریف کی رو سے ایک الگ قوم کی حیثیت رکھتے ہیں اور اس لیے اس بات کے مستحق ہیں کہ ملک میں ان کی اپنی الگ مملکت ہو اور اپنی جداگانہ خود مختار ریاست ہو۔ ہم مسلمان چاہتے ہیں کہ ہندوستان میں ہم ایک آزاد قوم بن کر اپنے ہمسایوں کے ساتھ ہم آہنگی اور امن و امان کے ساتھ زندگی بسر کریں۔ ہماری تمنا ہے کہ ہماری قوم اپنی روحانی، اخلاقی ، تمدنی ، اقتصادی ، معاشرتی اور سیاسی زندگی کو کامل ترین نشوونما بخشے اور اس کام کے لیے وہ طریق عمل اختیار کرے جو اس کے نزدیک بہترین ہو اور ہمارے عطیات قدرتی ہمارے نصب العین سے ہم آہنگ ہوں۔'' 
وہ لمحہ فخریہ تھا جب 6اپریل 1940ء کو مہاتما گاندھی نے محمد علی جناح کے ساتھ ''قائداعظم ''کا لفظ استعمال کیا۔ قائداعظم کے تصورکی حمایت میں پورے ہندوستان میں جلسے جلسوں کا سلسلہ شروع ہو گیا جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مسلمان ایک جداگانہ قوم ہیں اُن کے تشخص کو برقرار رکھنے کے لیے الگ ریاست ہو جس میں مسلمان اپنے نظریات و عقائد کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔ ہندوستان کی تقسیم دوقومی نظریے کی بنیاد پر کرنے کا مطالبہ زور پکڑتا گیا۔ حکمرانوں کو اندازہ ہو گیا کہ مسلمان دو قومی نظریے کے مطابق ایک آزاد اور خود مختار مملکت کے مطالبے سے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ اس سلسلے میں مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹیاں تشکیل دی گئیں جنھوں نے تقسیمِ ہند کی ضرورت پر زور دیا ۔ مسلمانوں کے لیے ایک الگ مملکت کی تشکیل کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔19 نومبر1940ء کو قائداعظم محمد علی جناح نے کہا '' ہم لڑنے مرنے کو بھی تیار ہیں۔ ہم تعداد میں کم ہوسکتے ہیں، کم ہیں مگر میں یہ کہنے کی جرأت کرتاہوں کہ مسلمان اگر چاہیں اور ارادہ کر لیں تو کانگریس سے سوگنا زیادہ تکلیف دے سکتے ہیں۔ میں نے یہ بات دھمکی کے لیے نہیں محض برطانوی حکومت کی آگاہی کے لیے کہی ہے۔ ''
آل انڈیا مسلم لیگ کے 28ویں سالانہ اجلاس (12-15اپریل1941ء )منعقدہ مدراس میں قائداعظم کی ہدایت پر مسلم لیگ کے اغراض و مقاصد میں ترمیم کی گئی۔ مسلم لیگ کا نصب العین برعظیم پاک وہند میں مسلمانوں کے لیے ایک جداگانہ مملکت کا قیام ہے ۔ اجلاس میں مسلمانوں کی ہندوستان میں مستحکم حیثیت اور اتحاد کا جائزہ بھی پیش کیا گیا۔ مسلمانوں نے محبت و الفت کے آبگینے قائداعظم پر نچھاور کر دیے۔ 30جولائی 1941ء کو جونہی وائسرائے نے اپنی مرضی سے ایگزیکٹو کونسل اور نیشنل ڈیفنس کونسل کا اعلان کیا تو قائداعظم نے مسلم لیگ کی طرف سے قانونی چارہ جوئی کی دھمکی دے دی۔ قائداعظم نے جداگانہ مملکت کے قیام پر ڈٹے رہنے کا مصمم ارادہ کر لیا۔ 
قائداعظم محمد علی جناح نے کوئی دبائو ، دھمکی یا مالی لالچ کو قریب نہ آنے دیا۔23 مارچ 1942ء کو دوسرا یوم پاکستان منایا گیاجس میں مسلم لیگ کے ہزاروں کارکنوں نے شریک ہو کر قائداعظم کی قیادت پر اعتما دکا اظہار کیا۔ کانگریس کے اراکین نے کرپس مشن (23 مارچ 1942ء ) کی تجاویز کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ان تجاویز میں پاکستان کی بُو آرہی ہے ۔ درحقیقت یہ قائداعظم کے وژن کی خوشبو تھی ۔ اُنھوں نے اعلان کر دیا کہ مسلم لیگ پاکستان سے کم تر کوئی تجویز قبول نہیں کرے گی۔ مطالبۂ پاکستان کی حمایت میں حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی  ، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی، حضرت مولانا پیر جماعت علی شاہ ، حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی  اور ایسے ہی علماء کرام بھی میدان میں آگئے۔
برعظیم پاک وہند کے حالات نے کروٹ بدلی اور قائداعظم محمد علی جناح نے ہندو مسلم اتحاد کو ہمیشہ کے لیے رد کر دیا۔ کرم چند موہن داس گاندھی کے تمام اعلانات اور تحریکیں اپنی موت آپ مرتی گئیں اور قائداعظم مسلمانوں کے اوّلین لیڈر کے طور پر سامنے آئے۔ 13 ستمبر1942ء کو غیر ملکی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے قائداعظم محمد علی جناح نے مسلمانوں کے مزاج کی نمائندگی کر دی۔ ''مسلمان ہندوئوں سے پچاس گنا زیادہ بہادر اور دلیر ہیں۔ مَیں ہندوئوں پر کوئی چوٹ نہیں کرتا۔ مسلمانوں کا مزاج اور طریقۂ تربیت ہی کچھ ایسا ہے ۔''
اُنھوں نے مختلف جلسوں میں اس بات کا اعادہ کیا کہ مسلمان آزادی چاہتے ہیں ، وہ اپنے ملک کے مالک بنیں ۔ ہم برطانوی حکومت کو خدا حافظ کہنا چاہتے ہیں۔ اُنھوں نے نوجوانوں اور خصوصاً طالب علموں پر زور دیا کہ وہ مصروف عمل رہیں ۔ کام ،کام اور بس کام کو اپنائیں۔ سکونِ خاطر ، صبر و برداشت اور انکساری کے ساتھ قوم کی خدمت کرتے جائیں۔ سنہرے مستقبل کے خواب لے کر مسلمانانِ ہند قائداعظم کی قیادت پر سوئے منزل چلتے رہے۔ ہر طرف سے آزاد اور خود مختار مملکت کے وژن کی تائید ہوتی گئی۔ 24-26 اپریل 1943ء کو مسلم لیگ کے ایک اجلاس منعقدہ دہلی میں قائداعظم نے کہا ''وقت آگیا ہے کہ قوم کو مستحکم بنانے کے لیے تعمیری پروگرام شروع کیا جائے تاکہ وہ پاکستان کے نصب العین کے راستے پر گامزن ہو۔''مسلمان قافلہ د ر قافلہ سڑکوں پر نعرے بلند کرتے ہوئے دکھائی دیتے۔ پاکستان کا مطلب کیا''لاالٰہ الا اللہ '' ۔ لے کے رہیں گے پاکستان ، بٹ کے رہے گا ہندوستان ۔ ایسے فلک شگاف نعروں نے حکمرانوں کی نیندیں حرام کر دیں۔ قائداعظم جس صوبے میں بھی گئے وہاں اُن کی بصیرت کو خوب سراہا گیا۔ 18 مارچ 1944ء کو قائداعظم نے اعلان کیا '' مسلم لیگ کو ٩٩ فیصد مسلمانوں کی حمایت حاصل ہے ۔ قائداعظم کے عزم و استقلال اور ذہانت و فطانت کے سامنے ہندئووں اور انگریزوں کا کوئی فارمولا کامیاب نہ ہوسکا۔ جناح ،گاندھی مذاکرات میں بھی قائداعظم محمد علی جناح نے دو قومی نظریے کی بھرپور نمائندگی کی۔ اُنھوں نے واضح کردیا کہ بین الاقوامی ہر اصول پر مسلمان ایک الگ قوم ہیں ۔ اس لیے اُن کا الگ وطن ہونا چاہیے۔ افواہوں اور سازشوں میں گاندھی کا پورا ٹولا سرگرم عمل رہا لیکن اُن کا کوئی وار بھی کامیاب نہ ہوسکا۔ 26مارچ 1945ء کو قائداعظم محمد علی جناح نے ایک بار پھر کہا ''ہندوستان کی تقسیم اس لیے ضروری ہے کہ دونوں قومیں اپنے اپنے مزاج و ذوق کے مطابق اپنی معیشت ، معاشرت، ثقافت اور سیاست میں آزادانہ طور پر زیادہ سے زیادہ ترقی کر سکیں۔ یہ ساری جدوجہد اسی لیے ہے کہ اس کے پورے پورے مواقع حاصل ہوں اور مسلمان اپنے قومی عزائم اور اُمنگوں کو بروئے کار لا سکیں۔ ہم جس اہم نزاع میں مبتلا ہیں وہ صرف مادی فوائد کے لیے نہیں ہے بلکہ فی الحقیقت مسلم قوم کی روح اور بقا کے لیے ضروری ہے ۔ ''
مالی وسائل کی کم یابی کے باوجود آزاد مملکت کی یہ تحریک اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہی ۔ قائداعظم کی ولولہ انگیز قیادت کے سامنے تمام تجاویز ، بیانات اور انگریزوں کے منصوبے خاک میں ملتے گئے۔ قائداعظم محمد علی جناح ویول پلان کا مطالعہ کرنے کے بعد 14 جولائی1945ء کو ایک پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے بولے'' ویول پلان کو ترک کرنے سے بلاشبہ جناح اور مسلم لیگ کی پوزیشن مستحکم ہو گئی ہے ۔ اس سے ان مسلمانوں کی پوزیشن کمزور ہوئی ہے جو مسلم لیگ کی مخالفت کرتے رہے تھے۔ ''
''اُلٹی ہو گئیں سب تدبیریں ، کچھ نہ دوا نے کام کیا'' کے مصداق گاندھی اور اس کے چمچوں کو محمد علی جناح کی اُصول پسندی ، وقت کی پابندی اور آزاد مملکت کے عزائم کا ادراک ہو گیاکہ قائداعظم نہ خریدے جا سکتے ہیں نہ جھکائے جا سکتے ہیں۔ 20 ستمبر1945ء کو قائداعظم محمد علی جناح نے کلمنٹ اٹیلی اور لارڈ ویول کی براڈ کاسٹ تقریروں کے جواب میں فرمایا:''مَیں ان تقریروں پر ٹھنڈے دل سے غور کروں گا لیکن ایک شے جو واضح ہے وہ یہ ہے کہ جب تک پاکستان کی بنیاد کو تسلیم نہیں کیا جاتا اس وقت تک کوئی سعی کامیاب نہ ہوسکے گی۔ ہندوستان کے پیچیدہ مسائل کا واحد حل تقسیم ملک ہے اس میں دس کروڑ مسلمانانِ ہند کی خوش حالی اور چالیس کروڑ انسانوں کی آزادی کا راز مضمر ہے۔''
قائداعظم کی گفتگو سے مسلمانوں کو اثاثۂ شعور ملا۔ اُنھوں نے حکومت پر واضح کردیا کہ وہ عدل و انصاف کی کسوٹی پر غیر مبہم آزاد مملکت چاہتے ہیں۔ 15 اکتوبر 1945ء کو مستونگ کے ہائی سکول میں قائداعظم نے سکائوٹوں کے ایک گروپ کی سلامی لی اور اُنھیں علم حاصل کرنے کی طرف راغب کیا کیوںکہ اُجالے کا راستہ صرف علم ہے ورنہ اندھیر نگری۔ وہ چھوٹے بڑے جلسوں میں فرماتے رہے ''مسلمان ایک خدا، ایک کتاب اور ایک رسول ۖ پر یقین رکھتے ہیں۔ مسلم لیگ کی کوشش ہے کہ اُن کو ایک پلیٹ فارم پر ، ایک پرچم تلے جمع کیا جائے اور یہ پرچم پاکستان کا پرچم ہے ۔ ''    مسلم لیگ کی مقبولیت اور قائداعظم کی ولولہ انگیز قیادت نے راستے کی رکاوٹیں ہموار کر دیں ۔ آزاد اور خودمختار مملکت کی طرف پیش رفت جاری رہی ۔16 ستمبر کو لارڈ ویول نے عام انتخابات کا اعلان کیا جو20 دسمبر1945ء کو منعقد ہوئے ۔ اِن انتخابات میں مسلمانوں کا منشور ایک الگ وطن ''پاکستان ''کا مطالبہ تھا۔ اِن انتخابات میں مسلم لیگ کو نمایاں کامیابی حاصل ہوئی۔ 
برطانیہ کی طرف سے ایک پارلیمانی وفد 5 جنوری1946ء کو دہلی پہنچا۔ رابرٹ رچرڈ اور اُن کے ممبران کی کاوشیں بھی کارگر ثابت نہ ہوئیں۔ دسمبر 1945ء کے الیکشن میں کامیابی پر ١١ جنوری1946ء کو یوم ِ فتح منایا گیا۔ مسلم لیگ مسلمانوں کی نمائندہ اور متحد جماعت ثابت ہوئی۔ محنت اور جدوجہد رنگ لائی اور19 فروری1946ء کو مرکزی قانون ساز اسمبلی میں قائداعظم محمد علی جناح اکثریت سے منتخب کر لیے گئے۔ 22 فروری 1946ء کو صوبائی انتخابات میں بھی مسلم لیگ فاتح رہی۔ مخالف قوتوں نے احتجاج کا راستہ اختیار کیا ۔ احتجاجی جلسے جلوسوں میں کچھ اپنے بھی شامل تھے۔ قائداعظم محمد علی جناح جہاں گئے اُن کا ایک ہی پیغام عوام الناس تک پہنچا کہ ہندوستان کے آئینی مسئلے کا حل پاکستان کا قیام ہے ۔24 مارچ 1946ء کو کابینہ مشن ہندوستان پہنچا تو اُس کے سامنے بھی مسلمانوں کا ایک ہی مطالبہ تھاکہ ہندو اور مسلمان دو جداجدا قومیں ہیں ۔اُن کے لیے الگ الگ مملکتیں ہونی چاہئیں۔ 7 تا 10اپریل 1946ء مرکزی اور صوبائی مجالسِ قانون ساز میں منتخب ارکین کے اعزاز میں ایک عظیم الشان تقریب منعقد ہوئی جس کی صدارت قائداعظم محمد علی جناح نے فرمائی۔ اُنھوں نے صدارتی خطبہ میں کہا''دنیا کی کوئی طاقت ہمیں اپنے مقاصد کے حصول سے نہیں روک سکتی۔ ہم اُمید ، حوصلہ مندی اور قوتِ ایمان سے ضرور کامیابی سے ہمکنار ہوںگے۔''
مسلمان قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں سروں سے کفن باندھ کر آگے بڑھے۔ اب کسی قسم کے مذاکرات ، وفود کی آمد، کوئی مشن اور کوئی اصطلاح مطالبۂ پاکستان کے سامنے ہیچ (کم، معدوم) تھیں۔6 مئی 1946ء کو دوسری جنگ عظیم میں جرمنی نے شکست تسلیم کر لی اور حکومت ہندوستان کی بے چینی دور کرنے کی طرف متوجہ ہوئی۔ اس ضمن میں کانگریس اور مسلم لیگ کے رہنمائوں کو دعوتِ مذاکرات دی گئی لیکن شملہ کانفرنس کے باوجود مسلمان اپنے مطالبہ سے دستبردار نہ ہوئے۔ انگریز حکومت نے ہندوئوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کی۔ کئی گروپ سامنے آئے لیکن مطالبۂ پاکستان روزِ روشن کی طرح عیاں ہونے لگا۔ مسلم لیگ کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتاہے کہ 30مئی 1946ء کو لاہور کارپوریشن کا پہلا میئر ایک مسلم لیگی تھا۔ عبوری حکومت کا منصوبہ سامنے آیا جس میں کانگریس نے روڑے اٹکائے۔ عارضی نگران حکومت کی تجویز بے معنی ثابت ہوئی۔ کابینہ مشن کو بھی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ۔
22 جولائی1946ء کو مجلسِ آئین ساز کے انتخابات میں مسلمانوں کی 79 نشستوں سے73 نشستیں مسلم لیگ نے حاصل کر لیں۔ پنڈت جواہر لال نہرو مسلم لیگ کی کامیابیوں سے گھبراتے رہے ۔ مسلمان رہنمائوں نے حکومتِ برطانیہ کی طرف سے دیے گئے القابات و اعزازات واپس کرنے کا اعلان کر دیا۔ نہرو نے مخلوط حکومت بنانے کی پیش کش کی جسے مسلمانوں نے ٹھکرا دیا۔16اگست 1946ء کو مسلم لیگ نے'' یومِ راست اقدام ''منانے کا اعلان کیا، جلسے جلوس ہوئے ۔ اِسی روز کلکتہ میں ہندو مسلم فسادات ہوئے جن میں ہزاروں افراد لقمۂ اجل بن گئے اور ہزاروں زخموں سے چور ہوئے۔ کانگریس نے مطالبۂ پاکستان کے خلاف تمام ممکنہ اقدامات کیے ۔ کئی مقامات پر قاتلانہ حملوں کا سلسلہ جاری رہالیکن وہ مسلمانوں کی آواز نہ دبا سکے۔     
وائسرائے کی بنائی ہوئی عبوری حکومت کے اراکین کی حلفِ وفاداری کا اعلان سنتے ہی فسادات میں تیزی آگئی ۔ 6ستمبر1946ء کو ہونے والی یہ تقریب منعقد نہ ہو سکی۔ مسلم لیگ نے اس دن کو '' یومِ سیاہ'' کے طور پر منایا۔ گاندھی اور نہروکی مکارانہ چالیں کامیاب نہ ہوئیں۔ اس ہنگامی حالات میں قائداعظم نے اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ اِن حالات کا واحد حل مسلمانوں کے لیے پاکستان کا قیام ہے ۔ مسلمانوں کے قتل ِ عام پر کانگریس اور حکومت خاموش تماشائی بنے رہے۔ 9 دسمبر1946ء کو مسلم لیگ نے مجلسِ آئین ساز کا بائیکاٹ کر دیااور مطالبہ کیا کہ دستور ساز اسمبلیاں ایک پاکستان کے لیے اور دوسری ہندوستان کے لیے ہونی چاہئیں۔ براعظم پاک وہند کے علاوہ دنیا بھر کے مختلف علاقوں میں مسلم لیگ کو عالمی تعاون بھی حاصل ہونے لگا۔ امیرِ ملت پیر جماعت علی شاہ علی پوری کے ہزاروں مریدین نے تحریکِ پاکستان کو تقویت عطا کی۔ آئین ساز اسمبلی مسلم لیگ کے تعاون کے بغیر بے سود رہی۔ قائداعظم نے قانون ساز اسمبلی کا بائیکاٹ جاری رکھااور اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے رہے۔ مختلف علاقوں میں سول نافرمانی کے سلسلہ میں گرفتاریوں کا عمل جاری رہا، قتل و غارت کا سلسلہ بھی نہ تھم سکا۔24 فروری1947ء کو قائداعظم نے ولولہ انگیز طور پر کہا '' مسلم لیگ اپنے مطالبۂ پاکستان سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہے کیوںکہ دس کروڑ مسلمانوں کی آزادی حاصل کرنے کا یہی ایک مؤثر ذریعہ ہے ۔ ''
 22 مارچ 1947ء کو لارڈ مائونٹ بیٹن ہندوستان کے آخری وائسرائے نے آتے ہی حالات کا جائزہ لیا اور فیصلہ کیا کہ یہاں کے لوگ اپنی حکومت خود سنبھالیں۔ مسلم لیگ نے نئے اور آخری وائسرائے پر واضح کر دیا کہ وہ مطالبۂ پاکستان سے انحراف نہیں کریں گے۔ 27-28 اپریل 1947ء کو کوئٹہ میں پاکستان کانفرنس منعقدہ ہوئی جس میں اعلان کیا گیا کہ مسلمانوں کی منزلِ مقصود پاکستان ہے جو نظر آرہی ہے ۔3جون 1947ء کو لارڈ مائونٹ بیٹن نے حکومتِ برطانیہ کی منظوری سے اپنا منصوبہ پیش کیا جس میں کہا گیا کہ ہندوستان میں دو آزاد اور خود مختار حکومتیں ہوںگی۔ ایک مسلمانوں کی اور دوسری ہندوئوں کی۔ یہ بھی کہا گیا کہ جون 1948ء کو انتقالِ اقتدار مکمل کر دیا جائے گا۔3 جون کے بعد پاکستان زندہ باد کے نعرے بلند ہونے لگے۔ سندھ ، سرحد، پنجاب اور بلوچستان میں '' بن کے رہے گا پاکستان ، بٹ کے رہے گا ہندوستان۔ '' کے پُرجوش نعرے بلند ہوئے 19 جون1947ء کو قائداعظم محمد علی جناح نے مملکتِ پاکستان کے لیے کراچی کودارالحکومت بنانے کا اعلان کیا۔ مسلم لیگ کی مقبولیت دیکھتے ہوئے مختلف قبائل ، انجمنوں، جرگوں نے پاکستان کی حمایت کا اعلان کر دیا۔4 جولائی1947ء کو برطانوی وزیر اعظم کلمینٹ اٹیلی نے دارالعوام میں قانونِ آزادیٔ ہند کا مسودہ پیش کیا۔ اس قانون کے تحت دونوں ملکوں (یعنی پاکستان اور ہندوستان) کو اپنی اپنی خود مختار حکومتیں بنانے کی اجازت دے دی گئی۔ اسی اعلان میں صوبوں کی تقسیم اور املاک کی تقسیم کا ذکر بھی کیا گیا تھا۔ ریڈ کلف حد بندی کے لیے ہندوستان پہنچ گئے ۔ حد بندی میں کئی مقامات پر مسلمانوں کے ساتھ روایتی زیادتی کا مظاہرہ کیا گیا۔10 جولائی1947ء کو برطانوی وزیر اعظم نے قائداعظم محمد علی جناح کو پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کے طور پر تسلیم کر لیا۔ 14 جولائی کو ایک پریس کانفرنس میں قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا'' ہم پوری دنیا میں امن کے تمنائی ہیں۔ عالمی امن قائم کرنے کے لیے ہم اپنی استطاعت اور توفیق کے مطابق اپنے حصے کا کردار خوش اسلوبی سے انجام دیںگے۔ ''
19 جولائی کو عبوری حکومت کا خاتمہ ہوا ،بنگال نے پاکستان میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔ اس طرح صوبائی حکومتیں بھی پاکستان میں شامل ہونے پر فخر کرنے لگیں۔ 11 اگست 1947ء کو پاکستان کی قانون ساز اسمبلی کے لیے چیئرمین چن لیا گیا۔11اگست 1947ء کو پاکستان کی وفاقی قانون ساز اسمبلی میں پاکستان کے پہلے گورنر جنرل قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا'' اس براعظم میں دو آزاد اور خود مختار مملکتوں کے قیام کے منصوبے سے جوبے مثال طوفانی انقلاب آیا ہے اس پر ہم خود ہی حیران نہیں بلکہ ساری دنیا ششدر رہ گئی ہے ۔ اگر ہم اس عظیم مملکت پاکستان کو خوش حال اور مضبوط بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی پوری توجہ لوگوں اور بالخصوص غریب طبقے کی فلاح و بہبود پر مرکوز کرنا پڑے گی۔ ''
قائداعظم محمد علی جناح نے اس آزاد مملکت پاکستان کے لیے جو خواب دیکھے تھے اُن کی تکمیل کا وقت قریب آرہا تھا۔وائسرائے ایڈمرل لارڈ مائونٹ بیٹن گورنر جنرل ہائوس کراچی 13اگست 1947ء کو پہنچے۔ انتقالِ اقتدار کے اس موقع پر قائداعظم نے فرمایا ''کسی ملک کو اس طرح رضاکارانہ طور پر آزادی دینا اور اختیارات سونپنا، تاریخ میں اس کی مثال مشکل ہے ۔ ''اِسی رو زلیاقت علی خان نے اراکینِ اسمبلی کو پاکستان کا پرچم دکھایا جس کی منظور دے دی گئی۔ 14اگست 1947ء بمطابق 27رمضان المبارک 1366 ہجری، ڈاکٹر علامہ محمد اقبال  کا پیش کردہ خاکہ ایک عملی شکل میں دنیا کے سامنے آیا۔ قائداعظم محمد علی جناح  کی ولولہ انگیز قیادت نے ایک خواب کو حقیقت میں بدل دیا۔ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس میاں عبدالرشیدنے14اگست1947ء کو قائداعظم محمد علی جناح سے گورنر جنرل پاکستان کا حلفِ وفاداری لیا۔ آخری وائسرائے لارڈ مائونٹ بیٹن نے اِسی روز آخری خطاب کیا اور وعدہ کیا کہ جمہوری اُصولوں کو بلند رکھتے ہوئے وہ پاکستان کی مدد کریں گے۔ ریاست جموں و کشمیر کے کونے کونے میں پاکستان کا پرچم لہرایا گیا ، پرچم سلامی ہوئی۔ ریاست کی عوام نے پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے کے حق میں جلسے جلوس نکالے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے تحریکِ پاکستان کے دوران سخت محنت کی جس کی وجہ سے کئی بیماریوں نے اُنھیں آگھیرا لیکن وہ صحت کی پروا کیے بغیر منزل کی طرف بڑھتے رہے۔ اُنھوں نے جو پودا لگایا تھا وہ اُس کے سائے تلے نہ بیٹھ سکے اور11 ستمبر 1948ء کو ہم سے بچھڑ گئے۔ 
وقت ہی کو جو بدل دے، وہ ہے انسان عظیم 
وقت کے ساتھ بدلنا کوئی کردار نہیں ||


مضمون نگار ممتاز ماہرِ تعلیم ہیں اور مختلف اخبارات کے لئے لکھتے ہیں۔
 [email protected]
 

یہ تحریر 89مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP