بیاد اقبال

قائداعظم  کی قرآن فہمی

اکثر محفلوں میں یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ قائداعظم کی تقاریر میں جابجا قرآنِ حکیم سے رہنمائی کا ذکر ملتا ہے۔ کیا انہوں نے قرآن مجید پڑھا تھا اور کیا وہ قرآن مجید سے رہنمائی لیتے تھے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو اس کے شواہد یا ثبوت دیجئے۔ رضوان احمد مرحوم نے گہری تحقیق اور محنت سے قائداعظم کی زندگی کے ابتدائی سالوں پر کتاب لکھی۔ اس تحقیق کے دوران انہوں نے قائداعظم کے قریبی رشتے داروں کے انٹرویو بھی کئے۔ رضوان احمد کی تحقیق کے مطابق قائداعظم کو بچپن میں قرآن مجیدپڑھایاگیا جس طرح سارے مسلمان بچوں کو اُس دور میں پڑھایاجاتا تھا۔ وزیرآباد کے طوسی صاحب کا تعلق شعبۂ تعلیم سے تھا اور وہ  اعلیٰ درجے کی انگریزی لکھتے تھے۔ قیامِ پاکستان سے چند برس قبل انہوں نے بڑے جوش و خروش سے پاکستان کے حق میں نہایت مدلل مضامین لکھے جو انگریزی اخبارات میں شائع ہوتے رہے۔ ملازمت کے سبب طوسی صاحب نے یہ مضامین قلمی  نام سے لکھے تھے۔ قائداعظم اُن کے مضامین سے متاثر ہوئے اور انہیں ڈھونڈھ کر بمبئی بلایا۔ قائداعظم اُن سے کچھ کام لینا چاہتے تھے۔ چنانچہ طوسی صاحب چند ماہ اُن کے مہمان رہے جہاں دن بھر قائداعظم کی لائبریری میںکام کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی یادداشتوں میںلکھا کہ قائداعظم کی لائبریری میں قرآنِ حکیم کے کئی انگریزی تراجم، اسلامی شرعی قوانین ، اسلامی تاریخ اور خلفائے راشدین پر اعلیٰ درجے کی کتابیں موجود تھیں اور وہ اکثر سید امیر علی کا قرآنِ حکیم کا ترجمہ شوق سے پڑھا کرتے تھے۔ اُنہیں مولانا شبلی نعمانی  کی 'الفاروق' کا انگریزی ترجمہ بھی بہت پسند تھا۔ جس پر کئی مقامات پر قائداعظم نے نشانات لگا رکھے تھے۔ کئی دہائیاں قبل طوسی صاحب کے مضامین لاہور کے ''نوائے وقت'' میں شائع ہوئے تھے۔ مجھے معلوم نہیں کہ انہیں کتابی صورت میں شائع کیاگیا یا نہیں۔
اس حوالے سے عینی شاہدین کی یادیں ہی بہترین شہادت ہوسکتی ہے۔ ایک روز میں جنرل محمداکبر خان، آرمی پی اے نمبرIکی سوانح عمری ''میری آخری منزل'' پڑھ رہا تھا تو اس میں ایک دلچسپ اور چشم کشا واقعہ نظر سے گزرا۔ جنرل اکبر نہایت سینیئر جرنیل تھے اور قیامِ پاکستان کے وقت بحیثیت  میجر جنرل کمانڈر فرسٹ کور تعینات ہوئے۔ جن دنوں قائداعظم زیارت میں بیماری سے برسرِ پیکار تھے انہوں نے جنرل اکبر اور اُن کی بیگم کو تین دن کے لئے زیارت میں بطورِ مہمان بلایا اور اپنے پاس ٹھہرایا۔ جنرل اکبر25جون 1948کو وہاں پہنچے۔ اُن کی قائداعظم سے کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ ایک ملاقات کا ذکر اُن کی زبانی سنئے ''ہمارے افسروں کے سکولوں میں ضیافتوں کے وقت شراب سے جامِ صحت پیا جاتا ہے کیونکہ یہ افواج کی قدیم روایت ہے۔ میں نے قائداعظم سے کہا کہ شراب کے استعمال کو ممنوع کرنے کا اعلان فرمائیں۔ قائداعظم نے خاموشی سے اپنے اے ڈی سی کو بلوایا اور حکم دیا کہ ''میرا کانفیڈریشن باکس لے آئو۔''  جب بکس آگیا توقائداعظم نے چابیوں کاگُچھا اپنی جیب سے نکال کر بکس کو کھول کر سیاہ مراکشی چمڑے سے جلد بند ایک کتاب نکالی اور اُسے اس مقام سے کھولا جہاں انہوں نے نشانی رکھی ہوئی تھی اور فرمایا جنرل یہ قرآنِ مجید ہے۔ اس میں لکھا ہوا ہے ''شراب و منشیات حرام ہیں'' کچھ تبادلہ خیال کے بعد سٹینو کو بلایاگیا۔ قائداعظم نے ایک مسودہ تیار کیا، قرآنی آیات کا حوالہ دے کر فرمایا''شراب منشیات حرام ہیں۔'' میں نے اس مسودے کی نقل لگا کر اپنے ایریا کے تمام یونٹ میں شراب نوشی بند کرنے کا حکم جاری کیا جو میری ریٹائرمنٹ تک مؤثر رہا۔ میں نے قائداعظم سے عرض کیا کہ ہم نے بنیادی طور پر آپ کی تقریروں سے رہنمائی حاصل کی۔ آپ نے فرمایا ہے کہ ہم مسلمانوں کو زندگی کے ہر شعبے میں قرآنِ مجید سے رہنمائی لینی چاہئے۔ ہم نے دفاعی نقطۂ نظر پر ریسرچ شروع کردی ہے اور کچھ مواد بھی جمع کرلیا ہے۔ قائداعظم نے اس تحریک کو پسند فرمایا، ہماری ہمت افزائی ہوگئی۔''صفحہ(281-282)
اس حوالے سے عینی شاہد کا اہم انٹرویو منیر احمد کی کتاب ''دی گریٹ لیڈر'' حصہ اول میں شامل ہے۔ یہ انٹرویو ہے عبدالرشید بٹلر کا جو اُن دنوں گورنرہائوس پشاور میں بٹلر تھا جب قائداعظم گورنر جنرل کی حیثیت سے سرحد کے دورے پر گئے اور گورنر ہائوس پشاور میں قیام کیا۔ انٹر ویو کے وقت عبدالرشید بٹلر بوڑھا ہو کر کئی امراض میں مبتلا ہوچکا تھا۔ اس عینی شاہد کا بیان پڑھیئے اورغورکیجئے۔''میری ڈیوٹی اُن کے کمرے پر تھی اور قائداعظم کے سونے کے کمرے کے سامنے  میرا کمرہ تھا۔ اس لئے کہ جب وہ گھنٹی بجائیں اور اُنہیں کسی چیز کی ضرورت ہو تو میں فوراً پہنچ جائوں۔ سوال : انہوں نے کوئی چیز طلب کی ؟جواب: اس اثنامیں انہوں نے کبھی پانی اور کبھی چائے مانگی۔ سوال: جب آپ اُن کے لئے پانی چائے لے کر گئے وہ کیاکررہے تھے۔ جواب: وہ بیٹھے خوب کام کررہے تھے۔ دن بھر کی مصروفیات کے باوجود انہوں نے آرام نہیں کیا۔ جب کام کرتے کرتے تھک جاتے تو کمرے میں ادھر اُدھر ٹہلتے۔ میں نے خود دیکھا کہ انگیٹھی(مینٹل پیس) پر رحل میں قرآن پاک رکھاہے، اس پر ماتھا رکھ کر روپڑتے ہیں۔ سوال: قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں روپڑتے ہیں اس دوران کوئی دعا بھی مانگتے تھے؟ جواب:  میری موجودگی میں نہیں۔ سوال:  اس موقع پر اُن کا لباس!! جواب: شلوار اَچکن۔ سوال: لیکن میں نے جو سنا ہے کہ رات گئے ان کے کمرے سے ٹھک ٹھک کی آواز آئی۔ شبہ ہوا کوئی سرخ پوش نہ کمرے میں گھس آیا ہو؟ جواب: اُسی رات آدھی رات کا وقت تھا۔ ہر کوئی گہری نیند سو رہا تھا۔ ڈیوٹی پر موجود  پولیس اپنا فرض ادا کررہی تھی کہ اچانک ٹھک ٹھک کی آواز گورنمنٹ ہائوس کا سناٹا چیرنے لگی۔ آواز میں تسلسل اور ٹھہرائو تھا۔ میںفوراً چوکس ہوا۔ یہ آواز قائداعظم کے کمرے سے آرہی تھی۔ ہمیں خیال آیا اندر شاید کوئی چورگھس گیا ہے۔ ڈیوٹی پر موجود پولیس افسر بھی ادھر آگئے۔ پولیس ادھر اُدھر گھوم رہی تھی کہ اندر کس طرح جھانکا جائے؟ ایک ہلکی سی درز شیشے پر سے پردہ سرکنے سے پیدا ہوچکی تھی۔ اس سے اندر کی موومنٹ دیکھی جاسکتی تھی۔ ہم کیا دیکھتے ہیں کہ قائداعظم انگیٹھی پر رکھے قرآن حکیم پر سر جھکائے کھڑے ہیں، چہرہ آنسوئوں سے تر ہے۔ تھوڑی دیر بعد وہ کمرے میں ٹہلنا شروع کردیتے ہیں۔ پھرقرآن حکیم کی طرف آتے ہیں، اس کی کسی آیت کا مطالعہ کرنے کے بعد پھر چلنے لگتے ہیں۔ جب اُن کے پائوں لکڑی کے فرش پر پڑتے ہیں تو وہ آواز پیدا ہوئی ہے جس نے ہمیں پریشان کررکھا تھا، آیت پڑھ کر ٹہلنا، یعنی وہ غور کررہے تھے کہ قرآن کیا کہتا ہے۔ اس دوران میں وہ کوئی بھی دعا مانگ رہے تھے(239- 240)
غور کیجئے جنرل اکبر سے گفتگو کے دوران بکس منگوانا اور اس سے قرآن مجید نکالنے کا مطلب ہے قائداعظم قرآنِ مجید اپنے ساتھ رکھتے تھے اورپھر فوراً نشان زدہ صفحہ نکالنے کا مطلب ہے وہ قرآن حکیم پڑھتے، غور کرتے اور نشانیاں بھی رکھتے تھے۔ یہی باتیں عبدالرشید بٹلر نے بھی بتائیں۔ ''جہاں تک شراب پر پابندی کا تعلق ہے قائداعظم نے27 جولائی1944 کو ہی راولپنڈی کی ایک تقریب میں ایک سوال کے جواب میں اعلان کردیاتھا کہ پاکستان میں شراب پر یقیناً پابندی ہوگی۔''(بحوالہ قائداعظم کے شب وروز، خورشیداحمد خان ، مطبوعہ مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد صفحہ 10) یہی وہ بات ہے جس سے روشن خیال بدکتے اور پریشان ہو کر سیکولر ازم کا پرچار کرنے لگتے ہیں۔ قائداعظم ایک سچے اور کھرے انسان تھے۔ وہ وہی کہتے جو خلوصِ نیت سے محسوس کرتے اور جس پر یقین رکھتے تھے۔ 19 اگست1941 کو ایک انٹرویو میں قائداعظم نے کہا: ''میں جب انگریزی زبان میں مذہب کا لفظ سنتا ہوں تو اُس زبان اور قوم کے محاورے کے مطابق میرا ذہن خدا اور بندے کے باہمی رابطے کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ میں بخوبی جانتا ہوں کہ اسلام اور مسلمانوں کا یہ تصور محدود نہیں ہے۔ میں نہ کوئی مولوی ہوں، نہ ماہرِ دینیات، البتہ میں نے قرآن مجید اور اسلامی قوانین کا مطالعہ کیا ہے۔ اس عظیم الشان کتاب میں اسلامی زندگی سے متعلق زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کیا گیاہے۔ کوئی شعبہ ایسا نہیں جو قرآنِ حکیم کی تعلیمات سے باہرہو۔''(گفتار قائداعظم احمدسعید صفحہ261)
قائداعظم نے اسلام کو مکمل ضابطۂ حیات اورقرآن حکیم پر غور کا ذکرمتعدد بار کیا اور اگروہ قرآنِ مجید کا مطالعہ اور اس پرغور کرنے کے عادی نہ ہوتے تو کبھی ایسی بات نہ کرتے۔12 جون 1938ء کو انہوں نے  جو کہا اُسے وہ مرتے دم تک مختلف اندازسے دہراتے رہے اُن کے الفاظ پر غور کیجئے، ''مسلمانوں کے لئے پروگرام تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے پاس تیرہ سو برس سے ایک مکمل پروگرام موجود ہے۔ اور وہ قرآنِ پاک ہے۔ قرآنِ پاک میں ہماری اقتصادی تمدنی و معاشرتی اصلاح و ترقی کا سیاسی  پروگرام بھی موجود ہے۔ میرا اسی قانونِ الٰہیہ پر ایمان ہے اور جو میں آزادی کا طالب ہوں وہ اسی کلام ِ الٰہی کی تعمیل ہے(ہفت روزہ انقلاب  12 جون 1938 بحوالہ احمدسعیدصفحہ216) قرآن فہمی کا فیض ہوتا ہے روشن باطن، جواب دہی کا خوف اور زندہ ضمیر۔قائداعظم نے ایک بار اپنے باطن کو تھوڑا سا آشکاراکیا۔ ان الفاظ میں اس کی جھلک دیکھئے اور محمدعلی جناح قائداعظم کو سمجھنے کی کوشش کیجئے۔ آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کو خطاب کرتے ہوئے  فرمایا''مسلمانو! میں نے دنیا میں بہت کچھ دیکھا، دولت، شہرت اور عیش و عشرت کے بہت لطف اٹھائے۔ اب میری زندگی کی واحد تمنا یہ ہے کہ مسلمانوں کو آزاداور سربلند دیکھوں، میں چاہتا ہوں کہ جب مروں تو یہ یقین اور اطمینان لے کر مروں کہ میرا ضمیر اور میرا خدا گواہی دے رہا ہو کہ جناح نے اسلام سے خیانت اور غداری نہیں کی اور مسلمانوں کی آزادی ، تنظیم اور مدافعت میں اپنا فرض اداکردیا۔ میں آپ سے داد اور صلے کا طلبگار نہیں ہوں۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ مرتے د م میرا دل، میرا ایمان اور میرا ضمیر گواہی دے کہ جناح تم نے واقعی حق ادا کردیا، جناح تم مسلمانوں کی تنظیم، اتحاد اور حمایت کا فرض بجا لائے۔ میرا خدا یہ کہے کہ بے شک تم مسلمان پیدا ہوئے اور کفر کی طاقتوں کے غلبہ میں اسلام کوبلند رکھتے ہوئے مسلمان مرے۔ (انقلاب لاہور28اکتوبر1939 بحوالہ احمدسعید صفحہ233)
قائداعظم کے الفاظ کو غور سے پڑھیں تو محسوس ہوگا کہ یہ روشن باطن، زندہ ضمیر ، اسلام اور مسلمانوں سے محبت اور خوفِ الٰہی قرآن فہمی ہی کا اعجاز تھا اور مسلمانانِ ہندو پاکستان کتنے خوش قسمت تھے جنہیں ایسا رہنما ملا۔ اسی لئے تو اقبال جیسا عظیم مسلمان فلسفی، مفسرِ قرآن اور زندہ کلام کا شاعر قائداعظم کو اپنا لیڈر مانتا تھا۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ چونکہ قائداعظم انگریزی لباس پہنتے، انگریزی بولتے اور برٹش انداز کی زندگی گزارتے تھے، اس لئے اُن کے بارے میں یہ تاثر پھیل گیا ہے کہ اُنہیں مذہب اور قرآن مجید سے زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔ اسی تاثر کا فائدہ اٹھا کر روشن خیال، سیکولر دانشور یہ کہنے لگے ہیں کہ وہ محض لوگوں کو مسلم لیگ میں آنے کی ترغیب دینے کے لئے بار بار اسلام اور قرآن حکیم کا ذکرکرتے تھے۔ یہ ان حضرات کا سطحی نقطہ نظر ہے کیونکہ انہوں نے قائداعظم کو سمجھنے کی خلوصِ نیت سے کوششیں ہی نہیں کیںنہ ہی انہیں اصلی قائداعظم ''سوٹ '' کرتا ہے بظاہر انگریزی لباس پہننے والے محمدعلی جناح کا باطن حُبِّ رسولِ کریم ۖ اور قرآن فہمی سے منور تھا جس کی واضح علامتیں بلکہ ثبوت اُن کے فرمودات میںملتے ہیں۔ قول و فعل کے تضاد کا الزام تو قائداعظم کے بدترین دشمن بھی نہ لگا سکے اس لئے یقین رکھئے کہ وہ سچا اور کھرا انسان جو کہتا تھا اس پر قلبی یقین رکھتا تھا۔ قائداعظم کا نہ کوئی ذاتی مفاد تھا نہ کوئی ذاتی ایجنڈا، انہوں نے زندگی کا ہر قیمتی لمحہ مسلمان قوم کے لئے وقف کیا ہوا تھا۔ مثلاً جب وہ گاندھی کے نام خط و کتابت(10 ستمبر سے لے کر 30 ستمبر1944)میں لکھتے ہیں کہ قرآن مجید مسلمانوں کا ضابطۂ حیات ہے۔ اس میںمذہبی، مجلسی، دیوانی، فوجداری، عسکری، تعزیری، معاشی اور سیاسی غرض کہ سب شعبوں کے احکام موجود ہیں تو یہ اُن کی قرآن فہمی کااعجاز ہے۔ اسی طرح جب قائداعظم4 مارچ1946کو شیلانگ میں خواتین کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ''ہندوبت پرستی کے قائل ہیں، ہم نہیں ہیں۔ ہم مساوات، حریت اور بھائی چارے کے قائل ہیں جبکہ ہندو ذات پات کے بندھن میں جکڑے ہوئے ہیں۔ ہمارے لئے یہ کس طرح ممکن ہے کہ ہم صرف ایک بیلٹ بکس میں اکٹھے ہوجائیں۔ آیئے اپنی کتاب مقدس قرآن حکیم اور حدیث نبویۖ اور اسلام کی عظیم روایات کی طرف رجوع کریں جن میں ہماری رہنمائی کے لئے ہر چیز موجود ہے۔ ہم خلوص نیت سے ان کی پیروی کریں اور اپنی عظیم کتاب قرآن کریم کا اتباع۔'' تو یہ الفاظ ان کے قلب کی گہرائیوں سے نکل رہے تھے اور اسی جذبے کے ساتھ قائداعظم نے مشورہ دیا۔ ''ہرمسلمان کے پاس قرآن کریم کا ایک نسخہ ہونا چاہئے تاکہ وہ اپنی رہنمائی خود کرسکے کیونکہ قرآن ایک مکمل ضابطہ حیات ہے(Complete Code) جو زندگی کے ہر شعبے پر محیط ہے۔'' (قائداعظم کی تقاریر، مرتبہ خورشید یوسفی، جلد سوم صفحہ2053 عید پیغام آٹھ ستمبر1945)  اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، قرآن ایک مکمل کوڈ ہے اور زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی کرتا ہے، قرآن اور اسوئہ حسنہ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا اتباع ہماری نجات کی ضمانت دیتا ہے، یہ الفاظ یہ مفہوم اور پیغام قائداعظم نے اتنی بار دیا کہ اس کی گنتی کرنی ممکن نہیں اور سچی بات یہ ہے کہ اگر کوئی سچا کھرا اور صاحبِ کردار یہ بات لگاتار کئی برس تک اور موت تک کہتا رہے تو یہ اُس کے سچے عشق اور گہری لگن کی علامت ہوتی ہے۔
مسلمانوں میں مذہبی شعور کے احیاء اور اسلامی تعلیمات میں گہری دلچسپی کا ہی نتیجہ تھا کہ قائداعظم وائسرائے ہند لارڈ لنلتھگو سے ملے اور اُس سے اجازت لے کر عید کے موقع پر 13 نومبر1939کو آل انڈیا ریڈیو سے مسلمانانِ ہندو پاکستان سے خطاب کیا۔ یہ خطاب پڑھنے کے لائق ہے کیونکہ اس میں فلسفۂ رمضان و نماز اور تعلیمات رسول ۖ پر جس طرح قائداعظم نے روشنی ڈالی ہے یہ اُن کی قرآن فہمی کا زندہ ثبوت ہے۔ اقتباسات دینے ممکن نہیںصرف ان چند الفاظ پر غور کیجئے تو آپ پر اسلام کی روح کے دروازے کھلتے جائیں گے۔ قائداعظم کے الفاظ تھے۔
"Man has indeed been called God's caliph in the Quran... it imposes upon us duty to follow the Quran and to behave towards others  as God behaves towards his mankind." (Speeches of Quid-e-Azam Khurshid Yousafi, vol II p.1060-62) 
مطلب یہ کہ قرآن حکیم میں انسان کو اﷲ تعالیٰ کی زمین پر خلیفہ قراردیاگیا ہے اس لئے ہمارا فرض بنتا ہے کہ قرآنِ حکیم کی تعلیمات پر عمل کریں اور دوسروں سے اُسی طرح سلوک کریں جس طرح اﷲ تعالیٰ انسانوں سے کرتا ہے۔سبحان اﷲ!
وزیرآباد کے معلم طوسی صاحب قائداعظم کی دعوت پر اُن کی لائبریری میں چند ماہ کام کرتے رہے۔ انہوں نے اپنی یادداشتوں میں لکھا کہ قائداعظم کی لائبریری میں قرآنِ حکیم کے کئی تراجم موجود تھے جنہیں وہ پڑھتے رہتے تھے۔ جناب شریف الدین پیرزادہ کئی برس قائداعظم کے سیکرٹری رہے۔ انہوں نے  ایک انٹر ویو میں بتایا ''قائداعظم کے پاس قرآن کریم کے چند ایک عمدہ نسخے  تھے۔ ان میں کچھ قلمی بھی تھے ایک بہترین نسخہ احتراماً جزدان میں ان کے بیڈ روم  میں اونچی جگہ رکھا رہتا تھا۔ میں نے اُنہیں محمدمارما ڈیوک پکتھال کا قرآن حکیم کا انگریزی ترجمہ پڑھتے دیکھا۔ پکتھال انگریز تھا جو بعد ازاں مسلمان ہوگیا۔'' (بحوالہ قائداعظم  اور قرآن فہمی محمدحنیف شاہد صفحہ73)


میں اٹھا تو فرمایا دو بنیادی اور ناقابلِ معافی جرم ہیں ایک شرک دوسرا تفرقہ۔ اﷲ تعالیٰ نے انسانوں کو دو گروہوں میں تقسیم کیا ہے ایک مومن دوسرا کافر۔ اسی کانام دو قومی نظریہ ہے۔ اس نکتے کو ذہن میں رکھنا جائو خدا حافظ۔ میںرخصت ہو کر آیا تو پہلی مرتبہ یہ احساس ہوا کہ یہ شخص جسے عام طور پر بیرسٹر سمجھا جاتا ہے اسلام کے بنیادی اصولوں پر کتنی گہری  نگاہ رکھتاہے۔۔۔


میں نے شروع میں ذکر کیا تھا ایک جرنیل اور ایک بٹلر کا لیکن قائداعظم کی قرآن فہمی کی تصدیق ایک ایسے شخص نے بھی کی ہے جو خود نہایت علم و فضل کے اعلیٰ مقام پر فائز تھا، اسلام اور قرآن مجید پر گہری نظر رکھتا تھا اور ہندو پاک میں نہایت احترم کی نظروں سے دیکھا جاتا تھا۔ وہ شخصیت تھی حضرت مولانا غلام مرشد جو قیامِ پاکستان سے قبل تاریخی باد شاہی مسجد لاہور کے خطیب رہے اور جن کا علامہ اقبال سے اتناگہرا تعلق تھا کہ انہوں نے 1926 میں علامہ اقبال کے پنجاب قانون ساز اسمبلی کے انتخاب میں بھرپور حصہ لیا۔ مولانا خود مفسر اور شارح قرآن تھے۔ اس لئے اُن کی گواہی حرفِ آخر کی حیثیت رکھتی ہے۔ ملاحظہ فرمایئے مولانا غلام مرشد کیا فرماتے ہیں: ''قائداعظم کاقرآن حکیم کے ساتھ کس قدر گہرا تعلق تھا۔۔میں اس میں ایک ذاتی واقعے کا اضافہ کرنا چاہتاہوں۔1945 کے آخری ثلث کی بات ہے کہ قائداعظم آل انڈیا مسلم لیگ کے اراکین کے ساتھ ''ممدوٹ ولا'' لاہور میںقیام پذیر تھے۔ ایک نمائندے کے ذریعے مجھے یاد فرمایا۔ میں فوراً تیار ہوگیا لیکن خیال آیا کہ میں انگریزی نہیں جانتا۔ اتفاق سے جناب مسعود کھدر پوش آئی سی ایس ڈپٹی کمشنر نواب شاہ میرے پاس بیٹھے تھے۔ ان سے ترجمانی کے فرائض سرانجام دینے کو کہا۔ ہم ممدوٹ وِلا پہنچ گئے۔ قائداعظم منتظر تھے۔ فرمایا ایک اہم دینی مقصد کے لئے بلایا ہے جمعیت العلمائے ہند اور مولانا حسین احمد مدنی جیسے نیشلسٹ علماء تحریکِ پاکستان کی مخالفت میں سرگرم ہیں۔ بہت سے علماء ہمارے ہمنوا ہیں لیکن اُن کی کوئی تنظیم نہیں ہے۔ اس مقصد کے لئے نامزد صدر مولانا شبیر احمد عثمانی نے افتتاح کرنا تھا وہ علیل ہوگئے ہیں۔ پھر کہا تم جلد از جلد خطبہ افتتاحیہ تیار کرو۔ خاکسار نے شکریہ ادا کرکے رخصت چاہی تو فرمایا''ذرا ٹھہرو چند بنیادی نکتے ذہن میں رکھ لو۔ اُن کے سامنے میز پرقرآنِ کریم کا انگریزی ترجمہ رکھا تھا، اُسے ہاتھ میںلے کر فرمایا ''میرا اس حقیقت پر ایمان ہے کہ اس کتاب عظیم میں دنیا اور آخرت کی زندگیوں کے متعلق مکمل ضابطے اور آئین موجود ہیں۔ مثال کے طور پر انہوں نے کہا : قرآن ِ حکیم میں کہاگیاہے کہ جرم کی سزا جرم کی نوعیت کے مطابق دی جائے اس پر میں نے کہا۔  آپ کے ذہن میں غالباً قرآن کریم کی وہ آیت ہے (ترجمہ: جن لوگوںنے برائیاں کمائیں تو برائی کا بدلہ تو اُسی جیسا ہوتا ہے۔''سورة یونس27/10)اس پر انہوں نے قرآن حکیم کھولا اور اس آیت کو دیکھ کرفرمایا بے شک یہی آیت میرے ذہن میں تھی۔ اس کے بعد کہا دیکھو یہ ایک اصولی حکم ہے اور ابدی۔ یہ دیکھنا اسلامی مملکت کاکام ہوگا کہ معاشرے کے حالات کی روشنی میں کس جرم کی سزا کتنی ہونی چاہئے جو قرآن کریم کے اصولوں کے مطابق ہو۔ میں نے سلسلہ کلام منقطع کرتے ہوئے عرض کیا حضور اکرمۖ نے ایسا کچھ خود اﷲ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق کیا تھا جس کی رُو سے کہا گیا تھا (ترجمہ: ''اور معاملات میں اُن سے مشورے کرلیا کرو۔ '' آلِ عمران 159/3) انہوں نے پھر قرآن مجید کھولا اور اس آیت کو نکال کر کہا کہ بات بالکل واضح ہے انہوں نے فرمایا حضور ۖ کے بعد اُمت کو بھی اس طرح تدوین قوانین کرنا ہوگی۔  میں نے عرض کیا کہ اس کے لئے خدا کا حکم موجود ہے(ترجمہ:'' اور جن کے معاملات باہمی مشورے سے ہوتے ہیں۔'' سورة الشوریٰ38/42) انہوں نے پھر قرآن حکیم کی یہ آیت نکالی اور کہا خدا کی یہ ہدایت ہماری رہنمائی کے لئے کس قدر واضح ہے۔ اسلامی مملکت جس کے لئے ہم کوششیں کررہے ہیں اس کے آئین کی بنیاد یہی ہوگی۔ وہ اس گفتگو کو زیادہ وقت دینا چاہتے تھے لیکن مسلم لیگ کے اراکین کے اصرار پر مختصر کرنا پڑی۔ میں اٹھا تو فرمایا دو بنیادی اور ناقابلِ معافی جرم ہیں ایک شرک دوسرا تفرقہ۔ اﷲ تعالیٰ نے انسانوں کو دو گروہوں میںتقسیم کیا ہے ایک مومن دوسرا کافر۔ اسی کانام دو قومی نظریہ ہے۔ اس نکتے کو ذہن میں رکھنا جائو خدا حافظ۔ میںرخصت ہو کر آیا تو پہلی مرتبہ یہ احساس ہوا کہ یہ شخص جسے عام طور پر بیرسٹر سمجھا جاتا ہے اسلام کے بنیادی اصولوں پر کتنی گہری  نگاہ رکھتاہے۔۔۔ میں مختلف مکتبوں اور دارالعلوموں میں تعلیم حاصل کرتا رہا۔ بڑی بڑی نامور ہستیوں سے شرفِ تلمذ حاصل رہا۔ سیاسی لیڈروں، مذہبی رہنمائوں کو بھی دیکھا لیکن مجھے پوری زندگی میںقائداعظم سے بڑھ کر کوئی شخصیت متاثر نہ کرسکی۔ میں نے ہر ایک کو اُن سے کم تر پایا۔ بلندیٔ کردار کے اعتبار سے بھی اور قرآنی بصیرت کے نہج سے بھی ۔اس قسم کے انسان صدیوں میں جا کر پیدا ہوتے ہیں۔'' روزنامہ نوائے وقت24 ستمبر2006ء بحوالہ حنیف شاہد ص81-86) اس میں کوئی شک نہیں کہ قائداعظم نے قرآن کریم، اسوئہ حسنہۖ ، اسلامی قوانین وغیرہ کا گہرا مطالعہ کیا تھا اور اُن کا تصورِ پاکستان بھی انہی سے ماخوذ تھا جس کا ذکر بار بار اُن کی تقریروںمیں ملتا ہے۔ اس حوالے سے ان کے الفاظ کسی سیاسی مقصد کے لئے نہیں بلکہ اُن کے قلب و روح سے نکلتے تھے اور وہ ان پر مکمل ایمان رکھتے تھے۔


مضمون نگار ممتاز محقق اور دانشور ہیں۔ ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ پاکستانیات کے حوالے سے وہ ایک مستند شناخت رکھتے ہیں۔ 
[email protected]
 

یہ تحریر 199مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP