قومی و بین الاقوامی ایشوز

قائداعظمؒ اور نظریاتی صورت گری کی تکمیل

ایک ایسے وقت میں جب ہمارے سیاسی زعماء برطانوی حکومت کے دباؤ میں آ کر متحدہ ہندوستان کے آئینی خاکے پر اٰمناو صدقنا کی صدائیں بلند کر رہے تھے، علامہ اقبالؒ نے حکومتِ برطانیہ کی سامراجی دانش اور انڈین نیشنل کانگریس کی عیار عقل کا‘ باشعور جنوُں کے ساتھ‘ مقابلہ کرنے کی ٹھانی۔انہوں نے اپنی عاشقانہ آواز بلند کر کے برطانوی ہند کو ایک نہیں بلکہ کئی قوموں کا مسکن ثابت کیا۔ہندوستان ایک ملک نہیں بلکہ ایک براعظم ہے۔ یورپ سے بھی بڑا، جہاں مختلف اور باہم متصادم قومیں آباد ہیں۔ اقبالؒ نے سرسیّداحمد خان کے اس استدلال کو نئی عصری معنویت بخشتے ہوئے اعلان کیا کہ برطانوی ہند کی اِن بہت سی قوموں میں سے ایک جدید قوم اسلامیانِ ہند پر مشتمل ہے۔ آج یہ منفرد اور جُداگانہ مسلمان قوم اپنی اکثریت کے علاقوں میں الگ، آزاد اور خود مختار مملکتوں کا قیام چاہتی ہے۔ ہرچند برطانوی حکومت اور کانگریسی سیاست برٹش انڈیا کی اِن تمام قوموں کو ایک متحدہ ہندوستانی قوم کی صورت دینے میں سرگرمِ عمل تھی تاہم اقبالؒ نے اپنے خطبۂ الہ آباد میں پورے یقین کے ساتھ اس حقیقت کا انکشاف فرمایا کہ متحدہ ہندوستانی قومیت کی تعمیر کی خاطر اسلامیانِ ہند اپنی جداگانہ اسلامی شناخت کومٹانے یا دھندلانے پر کسی صورت میں بھی تیار نہ ہوں گے۔

علامہ اقبالؒ نے اپنے اسی خطبۂ صدارت میں جداگانہ مسلمان قومیت کی گہری فکری بنیادوں کو اُستوار کیا۔ انہوں نے فلسفیانہ استدلال کے ساتھ ثابت کیا کہ اسلامیانِ ہند نیشنلزم کے جدید ترین سیاسی تصورات کی رُو سے بھی اور اسلام کے ابدی اور آفاقی اصولوں کی بدولت بھی برطانوی ہند کی سب سے زیادہ مربوط اور مستحکم قوم ہیں۔ مسلمان قومیت کی تعمیر اور استحکام میں دینِ اسلام کے بُنیادی کردار کو اُجاگر کرتے ہوئے اقبال نے فرمایا کہ

"It can not be denied that Islam, regarded as an ethical ideal plus a certain kind of polity, by which expression I mean a social structure regulated by a legal system and animated by a specific ethical ideal, has been the chief formative factor in the life history of the Muslims of India. It has furnished those basic emotions and loyalties which gradually unify scattered individuals and groups and finally transform them into a well-defined people. Indeed it is no exaggeration to say that India is, perhaps, the only country in the world where Islam as a society is almost entirely due to the working of Islam as a culture inspired by a specific ethical ideal. What I mean to say is that Muslim society, with its remarkable homogeneity and inner unity, has grown to be what it is under the pressure of the laws and institutions associated with the culture of Islam."

اوپر کے اقتباس میں اقبالؒ نے اسلامیانِ ہند کی اجتماعی ہستی کی صورت گری میں دینِ اسلام کے فیضان کی بڑے بلیغ انداز میں وضاحت فرمائی ہے۔ اقبالؒ کا کہنا ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں کی اجتماعی زندگی اور منفرد تہذیب و معاشرت اسلام کے معاشرتی اور روحانی اصولوں پر مبنی ہے۔ اسلام سے اٹوٹ وابستگی ہی نے ہندی مسلمانوں کو ایک منتشر ہجوم سے ایک متحد و مستحکم قوم بنایا ہے۔ اگر وہ، خدانخواستہ اسلام کے اجتماعی اصولوں سے روگردانی کرتے ہوئے متحدہ ہندوستانی قومیت کے فریب میں مبتلا ہو گئے تو وہ پھر سے ایک منتشرہجوم بن کر رہ جائیں گے۔ اقبالؒ نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے مومنانہ فراست کے ساتھ یہ دعویٰ کیا کہ اسلامیانِ ہند یہ قربانی دینے پر ہرگز آمادہ نہ ہوں گے ، وجہ یہ کہ

"The religious ideal of Islam is organically related to the social order which it has created. The rejection of the one will eventually involve the rejection of the other. Therefore the construction of a polity on (Indian) national lines, if it means a displacement of the Islamic principle of solidarity, is simply unthinkable to a Muslim. This is a matter which at the present moment directly concerns the Muslims of India."

اوپر کے اقتباس میںیہ کہا گیا ہے کہ اسلام کا مذہبی مسلک اورمعاشرتی مسلک ایک دوسرے کے ساتھ عضویاتی طورپر منسلک ہیں۔ ایک کو دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ اسلامیانِ ہند کو اپنی قومی زندگی کے اس نازک موڑ پر یہ جان لینا چاہئے کہ اگر وقتی سیاسی مصلحت کے زیرِ اثر وہ اس وقت ایک مسلک ترک کر دیں گے تو بالآخر انہیں دوسرا مسلک ترک کرنے پر بھی مجبور کر دیا جائے گا۔ اس باب میں انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ اسلامیانِ ہند متحدہ ہندوستانی قومیت کے استحکام کی خاطر اپنے دینی مسلک کو ہر گز ترک نہیں کریں گے۔ اس لئے کہ ایک مسلمان ایسا سوچ تک نہیں سکتا۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اقبالؒ کا یہ دعویٰ عام مسلمان کی حد تک تو درست تھا مگر موروثی سیاستدانوں کی حد تک غلط تھا۔ خود اقبالؒ اس حقیقت سے واقف تھے۔ اُن کی بیشتر توجہ مسلمان عوام پر مرکوز تھی۔ سیاسی دُنیا میں اُنہیں فقط ایک ہی ایسا شخص نظر آتا تھا جو برطانوی حکومت کے ’’اثر‘‘ سے آزاد تھا اور کانگرسی استدلال کے جادو کا توڑ رکھتا تھا۔ چنانچہ انہوں نے قائداعظم کی نادر روزگار ہستی کو اسلامیانِ ہند کے لئے ایک نعمتِ غیرمترقبہ جانا اور اُن سے مسلسل محوِ گفتگو رہے۔ یہ گفتگو اقبالؒ کی وفات کے دو سال بعد سن چالیس کی قراردادِ پاکستان کی صورت میں رنگ لائی۔

تحریکِ آزادی کے آخری مرحلے کو ہم تحریکِ پاکستان سے تعبیر کرتے ہیں۔ قائداعظم نے سن چالیس سے سن سنتالیس تک کے مختصر وقفۂ زماں میں ہمارے نظریاتی سفر کے ہر ارتقائی مرحلے پر پیش کئے گئے استدلال کے بنیادی عناصر کو اپنے منفرد استدلال میں جذب کر کے جداگانہ مسلمان قومیت کے تصور کو ایسی تکمیلی شان بخشی کہ دوست دشمن دنگ رہ گئے۔ اِن سات سالوں کے دوران ہمارے قائداعظم نے سیاسی محاذ کے ساتھ ساتھ نظریاتی محاذ پر بھی خوب دادِ شجاعت دی ہے۔ یہاں میں اُن کے فقط ایک انٹرویو کا حوالہ دینا کافی سمجھتا ہوں۔ انگریز مصنف بیورلی نکلس نے گفتگو کے دوران جب تحریکِ پاکستان کے مخالفین کی جانب سے انگریز حکمرانوں کی ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی کا ذکر کیا تو وہ اُٹھے، اپنے دارالمطالعہ سے ایک کتاب "The Speeches of John Bright" اُٹھا لائے اور ہاؤس آف کامنز میں ۴جون ۱۸۵۸ء کی تقریر کی جانب اشارہ کیا۔ جان برائٹ نے اپنی اس تقریر میں ہندوستان کو بیس قوموں کا مسکن ٹھہراتے ہوئے کہا تھاکہ جب تک حکومت برطانیہ ان قوموں کو اپنے نظام میں متحد رکھے گی ہندوستان پر حکومت کرتی رہے گی۔ قائداعظم نے ہندوستان میں برطانوی راج کے استحکام کو’’متحد رکھو اور حکومت کرو‘‘کی حکمت عملی کا شاخسانہ قرار دیا اور کہا کہ اس کے برعکس میرا مطالبہ یہ ہے کہ ’’تقسیم کرو اور چلتے بنو‘‘۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ایک صدی قبل ہندوستان میں بیس قومیں موجود تھیں اُسی طرح آج بھی موجود ہیں مگر فی الوقت ہمارا سروکار فقط دوقوموں سے ہے۔

ہندو اور مسلمان جو اس وقت ایک دوسرے کے مدمقابل خم ٹھونک کر کھڑے ہیں۔ ہم اس وقت باقی ماندہ قوموں کی بیداری اور آزادی کی بات نہیں چھیڑتے ۔ وہ جانیں اور اُن کا کام۔ ہم اپنی مسلمان قوم کی آزادی اور خود مختاری کی جنگ لڑ رہے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اپنی اکثریت کے علاقوں میں ہمیں آزاد اور خود مختار ریاستوں کے قیام کا حق دیا جائے۔ اس انٹرویو میں جو سوال جواب ہوئے اُن میں سے کچھ حصہ من وعن یہاں درج کیا جاتا ہے:

SELF: When you say the Muslims are a Nation, are you thinking in terms of religion? JINNAH: You must remember that Islam is not merely a religious doctrine but a realistic and practical Code of Conduct. I am thinking in terms of life, of everything important in life. I am thinking in terms of our history, our heroes, our art, our architecture, our music, our laws, our jurisprudence..."

SELF: Please, I would like to write these things down. JINNAH: (after a pause) In all these things our outlook is not only fundamentally different but often radically antagonistic to the Hindus. We are different beings. There is nothing in life which links us together. Our names, our clothes, our foods __ they are all different; our economic life, our educational ideas, our treatment of women, our attitude to animals ...we challenge each other at every point of the compass. What have you written down?

SELF: I have only written 'The Muslims are a Nation'. JINNAH: And do you believe it? SELF: I do."

درج بالا گفتگو کے دوران قائداعظم نے جن بنیادی صداقتوں کو پیش کیا ہے اُن میں سے پہلی صداقت یہ ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ دوسری یہ کہ قیام پاکستان کا مطالبہ محدود معنوں میں مذہبی رسمیات پر مبنی نہیں بلکہ اسلامی طرزِ حیات کی سربلندی کی تمناؤں سے پھوٹا ہے۔ تیسری یہ کہ اسلامی طرزِ حیات اور ہندو طرزِ حیات باہم متصادم ہیں۔ ہم صرف رسمی معنوں میں دو الگ الگ مذہبی گروہ ہی نہیں ہیں بلکہ حقیقی معنوں میں دو ایسے جداگانہ اور منفرد وجود ہیں جو زندگی کے ہر مقام اور ہر مرحلے پر ایک دوسرے کے لئے چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم میں سے ایک کا خوب دوسرے کا ناخوب ہے اور ایک کا ہیرو دوسرے کا وِلن ہے۔ چوتھی یہ کہ مسلمان اپنے انفرادی وجود اور اپنی اجتماعی ہستی کو ہر صورت میں قائم رکھیں گے۔ قائداعظم کے اِس زور دار حقیقت پسندانہ استدلال کو سن کر انگریزی مصنف پکار اُٹھا کہ ہندی مسلمان واقعتا ایک الگ قوم ہیں۔

جب برطانوی رائے عامہ کے نمائندوں نے مسلمانوں کو ایک الگ قوم تسلیم کر لیا تو برطانوی حکومت کو بھی اس حقیقت کی تصدیق کرنا پڑی۔ جب انتخابات میں اسلامیانِ ہند کی بھاری اکثریت نے قائداعظم کی حکمت اور حکمت عملی پر مہر تصدیق ثبت کر دی تو انڈین نیشنل کانگرس کو بھی بہ امر مجبوری قیام پاکستان اور اُس کے نتیجے میں ہندوستان کی تقسیم کی تاب لاتے ہی بنی۔ اگست سن سنتالیس میں پاکستان قائم ہوا اور اُسی سال مہاتما گاندھی نے ہمیں دو قومی نظرئیے کو فراموش کر دینے کا درس دینا شروع کر دیا۔ سوال یہ ہے کہ بھارتی حکومت دو قومی نظرئیے سے خائف کیوں ہے؟

اس سوال کا جواب بہت آسان اورسیدھا سادا ہے۔ متحدہ ہندوستانی قومیت کے پرستاروں کے لئے دو قومی نظرئیے کا مطلب یہ بھی ہے کہ نہ توہندوستان ایک ملک ہے اور نہ ہی ہندوستانی ایک قوم ہیں۔ ہندوستان ایک برصغیر ہے جس میں کئی قومیں آباد ہیں۔ سن سنتالیس میں اُن میں سے مسلمان قوم نے اپنی اکثریت کے علاقوں میں پاکستان قائم کر لیا تھا مگر باقی ماندہ قوموں میں سے چند قومیں رفتہ رفتہ بیدار ہوئیں اور جداگانہ مسلمان قومیت کے علمبرداروں کی مثال سامنے رکھ کر اس وقت آزادی اور خودمختاری کی راہوں پر گامزن ہیں۔ ایسے میں بھارتی قیادت کا یہ مؤقف سمجھنا آسان ہے کہ قیام پاکستان کے ساتھ ہی دو قومی نظریہ ختم ہو کررہ گیا تھا۔ یہ سمجھنا بھی کچھ ایسا مشکل نہیں کہ جب کوئی پاکستانی دانشور یا سیاستدان دو قومی نظرئیے سے دستبرداری کا اعلان کرتا ہے تو بھارتی قیادت اُسے سرآنکھوں پر کیوں بٹھاتی ہے؟ اس لئے کہ بھارتی قیادت جانتی ہے کہ دو قومی نظریہ تہ در تہ مفاہیم کا حامل ہے۔ بھارتی حکومت نہیں چاہتی کہ آسام اور کشمیر کے خطوں میں زور پکڑتی ہوئی آزادی کی تحریکیں بھی تحریکِ پاکستان کی نظریاتی اساس سے روشنی لیں۔

ہم تو بھارت کی ملکی سالمیت کے حق میں ہیں مگر اس کا کیا کیا جائے کہ دو قومی نظریہ کی رو سے بھارت میں کئی قومیں آباد ہیں اور اُن میں سے ہر قوم کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے ماضی کے تسلسل میں اپنی منفرد معاشرتی اور تہذیبی شناخت کو سنوارنے، نکھارنے اور ترقی دینے کے لئے اپنی اکثریت کے علاقوں میں آزاداورخو د مختار ریاستیں قائم کریں۔ بھارت کو ہرگز یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اِن میں سے کسی ایک خطۂ زمین پر بسنے والوں سے یہ کہے کہ ہم مذہب کی بنیاد پر کئے گئے آزادی اور خودمختاری کے مطالبات تسلیم نہیں کریں گے۔ بھارت کا یہ مؤقف بنیادی انسانی حقوق کی بھی صریح خلاف ورزی ہے اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی بھی۔ دو قومی نظریئے سے دستبردار ہونے والے اِکا دُکا پاکستانی دانشوروں اور سیاستدانوں سے پہلے ذرا انسانی آزادی کے اس چارٹر کو غورسے پڑھ لیں اور پھر یہ سوچیں کہ وہ اس عظیم تصور سے کیوں دستبردار ہو رہے ہیں؟

(پروفیسر فتح محمد ملک ایک ممتاز دانشور ہیں۔ آپ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے سابق ریکٹر ہیں۔ آپ کی تحاریر قومی اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں)

[email protected].

 

یہ تحریر 37مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP