قومی و بین الاقوامی ایشوز

قائد، اقبال  اور نوجوانانِ پاکستان

٢٣ مارچ ١٩٤٠ لاہور منٹو پارک لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ ایک   کلین شیو آدمی انگریزی زبان میں اس عوامی سمندر سے خطاب کر رہا تھا اور عوام خاموش کھڑی اس کی تقریر انتہائی غور سے سن رہی تھی ۔ مجمع میں موجود ایک اَن پڑھ نوجوان نے اپنے ساتھی سے پوچھا کہ یہ شخص تقریر میں بول کیا رہا ہے تو اس کے نوجوان ساتھی نے جواب دیا کہ پتہ نہیں کیا بول رہا ہے لیکن خدا کی قسم جو بول رہا ہے سچ بول رہا ہے۔ یہ کہتے ہی اس نوجوان نے نعرہ بلند کیا پاکستان زندہ باد، قائداعظم محمد علی جناح زندہ باد۔ اس کہانی کے سنانے کا مقصد اس جذبے ، اس سوچ کو بیان کر نا ہے جو تحریک آزادی کے وقت مسلمانوں اور خاص طور پر نوجوانوں میں تھا جو اقبال کے خواب اور جناح کے فرمان کی خاطر جان تک کی بازی لگانے کے لئے ہمہ وقت تیار تھے اور تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے قربانی دی اور سیکڑوں میں نہیں بلکہ لاکھوں میں اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنے نام تاریخ کے سنہری باب میں درج کروا گئے۔ اس بارے میں اقبال کا کہنا ہے



عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے اُس کو اپنی منزل آسمانوں میں
ایک روایت ہے کہ نوجوانی کا ایک سجدہ بڑھاپے کے ہزار سجدوں کے برابر ہے تو نوجوانی کی شہادت کی پھر کیا شان ہوگی لیکن غور طلب بات یہاں یہ ہے کہ وہ کون سا جادو تھا جو اس وقت کے نوجوانوں کے سر چڑھ کر بول رہا تھا کہ جان قربان کرنے سے بھی کترا نہیں رہا تھا۔ وہ جادو پاکستان کا نظریہ تھا ۔ یہ نظریے کی طاقت ہوتی ہے کہ انسان کو اس کا اپنا  وجود اس نظریے کے سامنے چھوٹا معلوم ہوتا ہے اور ٢٣ مارچ  ١٩٤٠ کوآل انڈیا مسلم لیگ کے ستائیسویں سالانہ اجلاس میں منٹو پارک لاہور کے مقام پر اسی نظریے کا ظہور ہوا جب ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے مولوی فضل حق نے علیحدہ وطن کی قرارداد پیش کی جوشروع میں قرار داد لاہور اور بعد ازاں قرار داد پاکستان کے نام سے مشہور ہوئی، جس قرار داد کی تائید اس میدان میں موجود لاکھوں مسلمانوں نے دل و جان سے کی۔ یہ وہ دن تھا جب اس زمین کے مسلمانوں خاص طور پر نوجوانوں کو ایک نصب العین مل گیا تھا ۔
  ہر سال٢٣ مارچ کو ہم اسی نظریے کی تجدید کرتے ہیں ۔ پاکستان تو بن چکا ہے مگر سوال یہ ہے کہ تجدید کس بات کی کی جاتی ہے؟  پاکستان بنانا اصل مقصد نہیں تھا بلکہ پاکستان کو وہ اسلامی فلاحی ریاست بناناتھا جہاں عوام آزادی اور خود مختاری سے زندگی گزار سکیں ، ہر شہری کو بلا امتیاز رنگ، نسل، مسلک، جنس اور مذہب انصاف مہیا کیا جاسکے۔ جہاں درسگاہیں علم و دانش کا گہوارہ ہوں، تعلیم ، روزگار اور صحت ہر شہری کا بنیادی حق ہو، جہاں ہر انسان کی عزت و توقیر ہو اور ریاست انسانیت کے احترام کو اولین ترجیح دیتی ہو۔  ١١  اگست ١٩٤٧ کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے قائد نے کہا تھا کہ آپ آزاد ہیں۔ آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لئے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مساجد میںیا پاکستان کی ریاست میں عبادت کی کسی بھی جگہ جانے کے لئے۔ آپ کسی بھی مذہب یا عقیدے سے تعلق رکھتے ہوں اس سے ریاست کو کوئی سروکار نہیں۔
اب دوسرا سوال یہ ہے کہ اس خواب کی تعبیر کیسے ممکن ہے اور کون کرے گا۔ اس خواب کی تعبیر ہماری ذمہ داری ہے۔ ہمارے بزرگوں نے جو ذمہ داری ادا کرنی تھی کر دی۔ پاکستان کی تقریباً ساٹھ فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ نوجوان قوم کو ترقی کی راہ پر بھی گامزن کرسکتے ہیں اور اسے تنزلی کی طرف بھی لے کر جاسکتے ہیں۔ اس نوجوان کو بتانے کی ضرورت ہے کہ اس کا تعلق کس قوم سے ہے، بقول اقبال
کبھی اے نوجواں مسلم!تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردُوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
جناح اور اقبال شخصی نام نہیں ہیںبلکہ ایک فلسفے، ایک فکر ، ایک سوچ کا نام ہیں۔ وہ سوچ جو برصغیر کے لاکھوں مسلمان نوجوانوں کا نظریہ بنی اور ١٩٤٧  میں پاکستان کی آزادی کا سبب بھی۔ ہر اہم فعل کی بنیاد فکر پر ہوتی ہے اور قوموں کی حالت اس وقت ہی بدلتی ہے جب ان کے افکار میں تبدیلی آتی ہے۔ جناح اور اقبال نے اپنی قوم کو یہی سوچ اور فکر دی جس کے نتیجے میں مسلمانوں نے اس جد و جہد کا آغاز کیا جس کی مثال انسانی تاریخ میں بہت کم ملتی ہے۔  قائدِاعظم کے  بقول ''کوئی قوم جد و جہد اور قربانی کے بغیر آزادی حاصل نہیں کر سکتی۔''
قائداعظم تحریک آزادی میں بہت حد تک نوجوانوں پر انحصار کرتے تھے بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر تحریک آزادی میں طلباء وہ کردار ادا نہ کرتے جو انہوں نے کیا تو قیام پاکستان کی جدوجہد بے حد مشکل ہو جاتی ۔کلکتہ کے اجلاس میں قائداعظم کی تقریر نے طلبہ پر جادو کا کام کیا۔ نوجوان مسلمان طلباء تنظیم  آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن اپنے مقاصد کے لئے سرگرم ہو گئی اور انہوں نے اپنے اپنے حلقوں میں بکھری ہوئی ٹولیوں کو ایک مربوط  قوم کی شکل دینے، اور نئے منشور کے مطابق نوجوان نسل کے لئے ایک مشترکہ لائحہ عمل وضع کر کے ان میں جذبہ اتحاد مستحکم کرنے کی کوششیں تیز کر دی۔ ٤٦-١٩٤٥ ء کے انتخابات میں مسلم لیگ کی کامیابی نے قیام پاکستان کی راہ ہموار کی اور ان انتخابات میں مسلم لیگی امیدواروں کی کامیابی کے لئے طالبعلموں بالخصوص اسلامیہ کالج لاہور کے طلبہ نے کلیدی کردار ادا کیا۔ صرف پنجاب میں ہی دو ہزار تربیت یافتہ رضاکار تھے۔ 
طالبات بھی اس تحریک میں کسی طرح پیچھے نہیں رہیں اور مسلم گرلز سٹوڈنٹ فیڈریشن بھی قائم کی گئی اور بیگم اکرام اللہ کو اس کا کنونئیر بنایا گیا۔ طالبات کی تنظیم نے خواتین کے اندر سیاسی شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ سکولوں اور کالجوں میں گرمیوں کی چھٹیوں میں کیمپ لگائے جاتے اور طالبات میں موجودہ سیاسی صورتحال سے آگاہی بڑھائی جاتی۔ یہ تنظیمیں بین الصوبائی رابطوں کا بھی کام کرتیں۔ مثلاً پنجاب میں سِول نافرمانی کی تحریک میں دیگر صوبوں سے طلبہ نے مدد کی، اسی طرح ١٩٤٦ء میں بِہار میں ہونے والے فسادات کے متاثرین کے لئے مدراس کے ہلالِ احمر کے طلبہ نے امدادی کیمپ لگائے۔ علمی میدان میں بھی طلبہ تنظیم نے کارہائے نمایاں انجام دیے۔ اے آئی ایم ایس ایف نے اردو اور انگریزی میں سہ ماہی جریدہ 'بیداری' ١٩٣٧ء میں جاری کیا جس کے ایڈیٹر حسن احمد رضی تھے۔ ١٩٤٢ میں سورت سے طلبہ نے 'الہلال' نامی رسالے کا اردو، انگریزی اور گجراتی میں اجراء کیا۔ مہاراشٹر، مدھیا پردیش، ناگپور اور بیرار سے طلباء ' مسلم ٹائمز اورسووینئر' شائع کرتے۔ اسی طرح طلباء نے یو پی سے 'سپرٹ آف یوتھ' نامی جریدہ ١٩٢٤ میں جاری کیا۔
سکول، کالج اور یونیورسٹی کے طلباء کے علاوہ مدارس کے طلباء بھی اس تحریک میں شامل تھے۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے اپنے حلقۂ علم میں سب کو تحریکِ پاکستان میں شامل ہونے کا حکم دیا تھا۔ علامہ شبیر احمد عثمانی، ظفر احمد عثمانی اور مفتی محمدشفیع اپنے طلباء کے ہمراہ تحریکِ پاکستان میں شامل رہے۔ مفتی رفیع عثمانی اپنے بچپن کے واقعات بتاتے ہیںکہ قصبہ دیوبند میں وہ طلباء کے ساتھ ریلیاں نکالا کرتے  تھے۔
 آج ٢٠١٩ میں پاکستان میں نظر دوڑائیں تو آپ کو قائد اعظم اور علامہ اقبال کی زندگی پر مبنی ہزاروں کتابیں ملیں گی لیکن جناح اور اقبال کا فلسفہ کہیں نظر نہیں آئے گا۔ ماضی کا نوجوان اس قدر با شعور نہیں تھا لیکن اس کے پاس نظریے کی طاقت تھی اس کے پاس راستہ دکھانے والے راہبر بھی تھے اور منزل بھی۔ اس لئے وہ وہ کچھ کر گزرا جس کو دیکھ کر انسانی عقل بھی دنگ رہ گئی جبکہ دوسری جانب اگر آج کے نوجوان کو دیکھیں تو آج کا نوجوان ماضی کے نوجوانوں کی نسبت زیادہ پڑھا لکھا، ہنر مند اور باشعور ہے لیکن اس کو "Millennial Generation" کا خطاب ملا ہے یعنی وہ نسل جو تمام تر صلاحیتوں کے باوجود ایک عجیب تذبذب کا شکار ہے  جسے نہ راستہ مل رہا ہے نہ منزل کا اتہ پتہ ہے اور ایک بڑی وجہ نظریے کا فقدان ہے۔ جسے اقبال کا شاہین ہونا چاہئے تھا وہ کہیں کرگس تو نہیں بن گیا؟ بقول اقبال
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے، شاہیں کا جہاں اور 
پاکستان کا نوجوان انفرادی سطح پر دنیا بھر میں اپنی صلاحیتیں منوا رہا ہے ۔ چاہے وہ ارفع کریم کی صورت میں کم عمر ترین مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل  ہو یاملالہ یوسف زئی کی صورت میں نوبل پرائز ونر ہو ، حارث خان کی صورت میں کم عمر ترین ایپ ڈویلپر ہو یا لاریب عطاء کی صورت میں گرافک افیکٹ آرٹسٹ ہو، راشد منہاس کی صورت میں بہادری کی علامت ہو یا اعتزاز حسن کی صورت میں قربانی کی علامت جس نے اپنی جان قربان کر کے سیکڑو ں  بچوں کی جان بچائی، پاکستان کی اکہتر سالہ تاریخ ایسی بے شمار مثالوں سے بھری پڑی ہے ۔ آپ صرف افواج پاکستان کے نوجوان سپاہیوں اور افسروں کی قربانیوں  کی داستانیں سن لیں تو آنکھوں سے اشکوں کی جگہ لہو ٹپکے۔  
لیکن اگرہم جناح اور اقبال کے خواب کی تعبیر چاہتے ہیں توہمیں  انفرادیت کی نہیں اجتماعیت کی ضرورت ہے ۔ ہمیں اس ہجوم کو ایک قوم بنانا ہو گا۔ جن چند کالی بھیڑوں نے پورے نظام کو درہم برہم کیا ہوا ہے ان کو پہچان کر صفوں سے باہر کرنے کی ضرورت ہے ۔جب ہجوم کو کسی نظریے کی لڑی میں پرویا جائے تو وہ قوم بن جاتی ہے۔ 
انسانی زندگی کا جو دور سب سے زیادہ نازک اور اہم ہے وہ نوجوانی کا دور ہے۔ یہ وہ دور ہے کہ جب اعضاء قوی، ہمت بلند اور ولولہ جوش مار رہا ہوتا ہے۔ ذہنی صلاحیتیں بھی عروج پر ہوتی ہیں۔ جوانی کی اسی اہمیت کی بنا پر حضور اقدسۖ نے ہمیں جو آخرت میں پوچھے جانے والے پانچ سوالات بتائے ہیں ان میں یہ سوال خاص طور پر ہے کہ 'نوجوانی کن مشاغل میں گزاری؟'۔ نوجوانی کی ایک کیفیت لاابالی پن بھی ہے۔ایک نوجوان اگر کسی نظریہ کو مقصدِ حیات بنا لے اور اس پرکوئی دھن سوار ہوجائے تو پھر وہ سود و زیاں کے چکر میں نہیں پڑتا اور کوئی اندیشے اس کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتے۔ اسی سبب ان کو انقلابوں کا معمار سمجھا جاتا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ معاشروں میں جتنی انقلابی تبدیلیاں آئیں اور جتنی تحریکیں کامیاب ہوئیں سب کا ایندھن نوجوان ہی تھے۔حضور اکرمۖ کی تحریک میں بھی حضرت علی، حضرت زبیر، حضرت مصعب اور دیگر صحابۂ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اسی لئے نمایاں ہیں۔ ایک ذمہ دار معاشرہ خواندگی کی علامت ہوتا ہے۔ نوجوان طبقہ چونکہ نئے نظریات و فکریات اور ذرائع ابلاغ سے سب زیادہ متعارف ہوتا ہے اسی لئے نوجوان طلبہ معاشرے کا سب سے اہم حصہ ہوتے ہیں۔ 
 اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں اس قوم کی باگ ڈور اس نوجوان نسل کے ہاتھ میں تھمانی ہوگی ۔ ہمیں اس نوجوان نسل پر اعتماد کرنا ہوگا۔ لاہور کے منٹو پارک میں ١٩٤٠میں جو خواب دیکھا گیا اس کے شرمندہ تعبیر ہونے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ یہ نوجوان نسل مختلف ہے اسے آپ باہر نہیں رکھ سکتے ، ہمیں اس نسل کو  فیصلوں میں شامل کرنا ہو گا اور اس کے سینے میں جلتی تجسس کی آگ کو بروئے کار لانا ہوگا۔اس نسل کو صرف رہنمائی کی ضرورت ہے، آپ اس کو منزل بتا دیں اور راستہ دکھا دیں اور پھر دیکھیں یہ کیسے مایوسیوں کی چٹانیں چیرتی ہوئی کامیابیوں کے پہاڑ تسخیر کرے گی۔ آج ہمیں پھر سے ایک جناح کی ضرورت ہے ، جو اس قوم کے سینے میں پھر سے ایک نظریاتی آگ بھڑکائے تاکہ یہ قوم اپنے اصل مقام کو پہنچ سکے جس کا خواب  شاعرِ مشرق علامہ محمداقبال نے دیکھا تھا۔


مضمون نگار فری لانس صحافی ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 72مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP