تحفظ، امن اور ترقی کا سفر

فوجی آپریشنز سے امن و ترقی کا سفر

ایک وقت تھا کہ وزیرستان کا نام سنتے ہی دل و دماغ میں خوفناک خیالات آنا شروع ہو جاتے۔ ایسے محسوس ہوتا تھا کہ وہاں جانے والا صحیح سلامت واپس نہیں آسکتا اسی لئے اس علاقے میں جانے کے خیال سے ہی دل میں خوف آجاتا اور دکھ بھی ہوتا کہ کیا دن دیکھنے پڑ گئے کہ اپنے ہی ملک کے ایک حصے میں جانے سے دل ڈوبنے لگے۔
کہتے ہیں کہ وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا۔ اندھیرے کے بعد روشنی کی کرن ضرور پھوٹتی ہے جو آہستہ آہستہ پورے ماحول کو روشن کردیتی ہے۔ وزیرستان میں بھی وقت نے پلٹا کھایا اور اب وہاں حالات تیزی سے بدلنے لگے ہیں۔ جہاں پہلے لوگ اپنے ہی گھروں میں جانے سے ہچکچارہے تھے۔ اب وہاں باہر سے لوگ آنے لگے ہیں اور وہ علاقے اتنے ہی محفوظ ہوگئے ہیں جتنے کہ پاکستان کے دوسرے علاقے۔ وزیرستان دریائے ٹوچی اور دریائے گومل کے درمیان ایک پہاڑی علاقہ ہے۔ یہ دوبڑی ایجنسیوں شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان میں منقسم تھا۔ وزیرستان کا نام یہاںپر آباد 'وزیر' قبیلے کے نام پر رکھا گیا  چونکہ وزیرستان خاص طور پر شمالی وزیرستان ہر دور میں ہی مختلف تحاریک، سرگرمیوں اور جنگوں کا مرکز رہا ہے لہٰذا یہاں پر مقیم قبائل کا اپنا ایک الگ مزاج رہا ہے اس لئے یہاں کے لوگوں کو جنگجو سمجھا جاتا ہے۔ یہ لوگ اپنی روایات کی پاسداری اور علاقے کی حفاظت میں اپنی جان تک لڑا دیتے ہیں۔1894 میں برطانوی سامراج جب وزیرستان میں داخل ہوا تو ان قبائلیوں نے انہیں کافی مشکل وقت دکھایا آخر کار انگریزوں کو ان کے ساتھ امن معاہدہ کرنا پڑا لیکن انگریزوں نے وہاں سے نکلنے سے پہلے شمالی اور جنوبی وزیرستان کے لئے مستقل ایک ایک پولیٹیکل ایجنٹ مقرر کردیا جس کاکام حکومت اور ان قبائلی علاقوںکے درمیان رابطہ قائم رکھنا تھا اور ایف سی آر کا قانون نافذکردیاگیا، جو پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد بھی وہاں کے رہنے والوں کی خواہش کے مطابق لاگو رہا۔



 9/11کے واقعے کے بعد امریکہ نے افغانستان میں جنگ کا آغاز کردیا وہاں پر موجود دہشتگرد بھاگ کرپاکستان میں وزیرستان کے علاقے میں آگئے۔  یہ علاقہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس کے آخری سرے پر غلام خان نامی وہ کراسنگ پوائنٹ ہے جس کے ذریعے افغانستان اور سنٹرل ایشیا تک آسانی کے ساتھ پہنچا جاسکتا ہے۔ غلام خان سے کچھ فاصلے پر صوبہ خوست واقع ہے۔ میران شاہ سے کابل277 ، دوشنبہ860 جبکہ تاشقند1414 کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔ اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وزیرستان کا یہ روٹ پاکستان بلکہ برصغیر اورسنٹرل ایشیا کے لئے سب سے مناسب اور قریب ترین راستہ ہے۔  ایک ہی قبیلے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے یہاں انہیں بہترین سہولت کار ملے۔ پاکستانی طالبان کے ساتھ ساتھ، ازبک، چیچن، عرب اور تاجک جنگجو تنظیموں نے اس علاقے کو اپنے کنٹرول میں کرنا شروع کردیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان دہشتگردوں کا کنٹرول وزیرستان میں بڑھنے لگا اور انہوں نے یہاں پر اپنی  کمین گاہیںبنانے کی کوششیں شروع کردیں۔ 
2002 کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادی مسلسل اصرار کرتے رہے کہ وزیرستان میں بھرپور آپریشن کرایا جائے لیکن ایسا ممکن نہ تھا۔ لیکن پھر حالات ایسے ہوگئے کہ افواج کو دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کرنا پڑی۔ پاکستانی فوج کے لئے یہ جنگ مشکل اس لحاظ سے تھی کہ یہاں مقامی آبادی بڑی تعداد میں موجود تھی اور دہشتگرد اور اُن کے سہولت کارمقامی لوگوں کی آڑ میں وہاں موجود تھے۔ باہر سے آنے والے دہشت گردوں کا حلیہ مقامی لوگوں جیسا تھا اس لئے ان میں فرق کرنا مشکل تھا۔ دوسرا ان لوگوں نے مقامی لوگوں میں شادیاں بھی کررکھی تھیں۔ یوں یہ پاک فوج کے لئے ایک غیرروایتی جنگ تھی۔ اس کو شروع کرنا اگرچہ مشکل تھا مگر یہ ناگزیر بھی تھا۔دسمبر2009 میں تحریکِ طالبان جنوبی وزیرستان میں متحرک ہوئی۔ بیت اﷲ محسود نے وہاں دہشت گرد انہ کارروائیوں کا آغاز کردیا خاص طور پر پاک فوج کے خلاف ان کی سرگرمیاں تیز ہوگئیں، لہٰذا اس علاقے میں فوج نے آپریشن 'راہِ نجات' کیا جو کامیاب رہا اور وہ علاقہ دہشت گردوں سے پاک ہوگیا لیکن بیت اﷲ محسود اور اس کے کچھ ساتھی بھاگ کر شمالی وزیرستان کے علاقے میرعلی اور میران شاہ میں چھپ گئے۔
جون2014 سے پہلے طالبان، جن کا نیاگڑھ شمالی وزیرستان تھا، نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی بڑی بڑی کارروائیاں شروع کردیں، ان میں حساس جگہیں بھی شامل تھیں جن میں کراچی ایئر پورٹ پر حملہ، کامرہ ایئر بیس اور نیول ہیڈکوارٹرز پر حملہ شامل ہیں۔ یہ وہ وقت تھا جب قوم اور افواجِ پاکستان نے مل کر فیصلہ کیا کہ اس دہشت گردی کا مقابلہ آہنی ہاتھوں سے کیا جائے۔لہٰذا آپریشن 'ضربِ عضب' کا آغاز کیا گیا۔ یہ دہشت گردوں کے خلاف ایک بھرپور آپریشن تھا جس میں دہشت گردوں کا قلع قمع تو ہوگیا لیکن افواجِ پاکستان اورمقامی لوگوں کو بھی بہت قربانیاں دینا پڑیں۔ 
آپریشن ضربِ عضب سے پہلے افواجِ پاکستان نے وہاں کے مقامی لوگوں کو محفوظ TDPs کیمپوں میں منتقل کردیا ۔جہاں ان کی مناسب دیکھ بھال کی گئی۔ آپریشن کے پہلے مرحلے میں میرعلی، میران شاہ ، دتہ خیل اور میزر وغیرہ کو  Clear کیا گیا۔ اگلے مرحلے میں شوال ویلی کے گھنے جنگلات سے دہشت گردوں کا صفایاگیا اور پھر ان علاقوں میں اپنی رٹ بحال کردی۔
 ان آپریشنز سے پہلے پاکستان حکومت نے وہاں کے لوگوں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کی کیونکہ حکومت نہیں چاہتی تھی کہ اپنے ہی علاقے میں اپنے ہی لوگوں کے ساتھ سختی سے پیش آیا جائے۔ اس سلسلے میں وزیرستان کے قبیلوں کے ساتھ 2006میں وزیرستان ایکارڈ (معاہدہ وزیرستان) کے نام سے امن معاہدہ بھی کیا گیا لیکن اس کے مثبت نتائج سامنے نہ آئے۔ تاہم ان آپریشنز کو شروع کرنے سے پہلے بھی اور اس وقت بھی پاکستان حکومت اور فوج کا ایجنڈا ہمیشہ امن ہی رہا۔



آپریشن ضربِ عضب چار مراحل پر مشتمل تھا۔اول ClearدومHold سومBuild اور چہارمTransfer یعنی سب سے پہلے اس علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کرنا، اس کے بعد اس علاقے میں اپنی دفاعی پوزیشن مضبوط کرنا اور اپنے قبضے کو مستحکم کرنا تاکہ دشمن دوبارہ وار نہ کرسکے۔ اس کے بعدآپریشن سے تباہ حال انفراسٹرکچر کی تعمیرِ نواور مزید سڑکوں اور اداروں کی تعمیرکرنااور پھریہاں کا انتظام حکومت کے حوالے کرنا تھا ۔ یہ علاقہ چونکہ جرگہ سسٹم کے تحت چل رہا تھا اس لئے یہاں پر بہت سے مسائل تھے جن میں تعلیم کی کمی سب سے بڑا مسئلہ تھا۔ ان کا حل کیا جانا بہت ضروری تھاکیونکہ انہیں حل کئے بغیر یہاں دیرپا امن قائم نہیں ہوسکتا تھا۔حکومتِ پاکستان کی طرف سے 2011 میں اگرچہ ایف سی آر کے قانون میں کچھ تبدیلیاں کی گئیں لیکن ان تبدیلیوں سے وہاں کے عوام کو خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا۔ لہٰذا اس قانون کو ختم کرنے کی کوششیں شروع کردی گئیں اور آخر کار2018میں مقامی لوگوں اور جرگے کی باہمی رضامندی سے حکومتِ پاکستان نے ایف سی آر کو ختم کرکے اس علاقے کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کردیا۔ اس طرح یہ علاقہ باقاعدہ حکومت کی عملداری میں آگیااور اب یہاں باقاعدہ انتخابات ہونے جارہے ہیں۔یہ انضمام حکومت کے لئے مشکل اس لئے بھی تھا کہ اس علاقے سے بہت سے طاقتور لوگوںکے مفادات وابستہ تھے۔ یہ لوگ کسی بھی طرح سے یہاں کے عوام کو خوشحال نہیں دیکھ سکتے تھے کیونکہ اس طرح ان کی اہمیت اور طاقت کا خاتمہ ہو سکتا تھا لیکن حکومت اور افواجِ پاکستان اس معاملے میں ایک ہی نقطے پر متفق تھیں۔
آپریشن' ضربِ عضب' کی کامیابی کے بعد بھی پاک آرمی ان علاقوں کے ترقیاتی کاموں میں پیش پیش ہے۔ یہاں پر باقاعدہ منظم طریقے سے عمارتوں ، مارکیٹوں، آرمی سکولوں، تکنیکی اداروں اور کھیل کے میدانوں کی تعمیرات جاری ہیں۔ 67 مارکیٹیں،27 مساجد، 58 پل،147 تعلیمی ادارے اور 17صحت سے متعلق منصوبے اور پانی کی ترسیل کے لئے266 منصوبے پورے فاٹا بشمول مالاکنڈ کے لئے بنائے جارہے ہیں۔ ان میں سے وزیرستان میں آرمی پبلک سکول کنی گرام،  شولام ماڈل سکول اور شولام ہسپتال تیار ہوچکے ہیں اور ان سے وزیرستان کے عوام بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔دریں اثناء مقامی بچوں کو بہترین تعلیمی و تربیتی سہولیات کی فراہمی کے لئے کیڈٹ کالجز بھی قائم کئے گئے ہیںجن میں کیڈٹ کالج وانا، کیڈٹ کالج سپن کئی شامل ہیں۔ کیڈٹ کالج رزمک کے نام سے پہلے ہی ایک کیڈٹ کالج تعلیمی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ وانا میں250کنال پر مشتمل ایک ایگری پارک  بھی بنایاگیا ہے اس پارک سے کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔ وزیرستان میں موجود سام مارکیٹ میں بھی کاروباری سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ 787کلومیٹر طویل سڑکوں کے جال بچھایا جاچکا ہے اور اس علاقے کو باقی علاقوں سے ملادیاگیا ہے۔ان سڑکوں میں بنوں سے غلام خان تک اور ٹانک سے جنڈولہ اور انگوراڈہ تک سڑکوں کی تعمیر مکمل کردی گئی ہے۔سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ یہ علاقے حکومتی دھارے میں شامل ہو چکے ہیں۔ ان شاء اﷲ وہ دون دور نہیں جب حکومتی سرپرستی اور فوجی معاونت سے یہاں ترقی کی راہیں روشن تر ہوتی چلی جائیں گی۔
 

یہ تحریر 307مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP