یوم یکجہتی کشمیر

فروری اور آپریشن سوئفٹ ریٹورٹ 

 اقوام کی زندگی میں ایسے بھی مراحل آتے ہیں کہ ملکی سلامتی خطرے میں پڑجاتی ہے ۔اس صورتحال میں اس قوم کے جری جوان اپنے اسلاف کی تاریخ کو یاد کرتے ہوئے لڑتے ہیں جنہوں نے اپنی جان تو قربان کردی لیکن اپنے وطن اوردین پر آنچ نہیں آنے دی۔ غزوہ بدر حق و باطل کا پہلا معرکہ تھا۔مسلمانوں نے یہ غزوہ بے سروسامانی کے عالم میں لڑا وہ تعداد میں صرف313  تھے جبکہ کفار کا لشکر 1000 جنگجوئوں پر مشتمل تھا۔ مسلمانوں نے یہ جنگ صرف جذبہ ایمانی کے ساتھ لڑی۔مسلمان بہت بہادری سے لڑے۔ اللہ تعالیٰ کے حضور نبی پاک ۖ نے دعا مانگی ''اے اللہ تو واقف ہے کہ اگر آج یہ مٹھی بھر جماعت بھی ختم ہوگئی تو قیامت تک دنیا میں تیرا نام لیوا نہ ہو گا۔''سورت انفال کی آیت نمبر12 نازل ہوئی جس میں اللہ کی نصرت واضح تھی۔ارشاد باری تعالیٰ ہے 'جب تیرے رب نے فرشتوں کو حکم بھیجا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم مسلمانوں کے دل ثابت رکھو، میں کافروں کے دلوں میں دہشت ڈال دوں گا سو گردنوں پر مارو اور ان کی ایک ایک پور پر ضرب لگائو۔'
اس غزوہ میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی جس میں313 افرادمیں 60 مہاجرین اور 253 انصار تھے۔کفار کے ستر افراد قتل ہوئے اور مسلمانوں کے لشکر میں 14 مجاہدوں نے شہادت کا جام نوش کیا،یہ غزوہ ہمیں اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن سے لڑنے کا حوصلہ دیتی ہے کیونکہ جنگ جذبہ ایمانی اور اللہ کی نصرت سے جیتی جاتی ہے۔ہتھیاروں کا جتنا بھی ڈھیر لگا ہواور جدید جنگی سامان بھی موجود ہو لیکن دل میں جوش و جذبہ، ہمت اور شوقِ شہادت نہ ہو تو کوئی نہیں جیت سکتا۔پاکستانی فوجی بھی لڑتے ہوئے اسی غزوہ کو اپنا نصب العین بناکرچلتے ہیں۔
حالات جیسے بھی ہوں، زمانہ امن ہو یا زمانہ جنگ ، ہمارے فوجی محاذ پر جاتے وقت باوضو ہوکر اور غسل کرکے جاتے ہیں کہ اگر زندہ لوٹ آئے تو غازی اورنہ آسکے تو شہید کہلائیں گے اور اسی وردی میں دفنادیئے جائیں گے۔ بات جب قومی سلامتی پر آجائے تو مادرِ وطن کا ہر سپوت تن، من، دھن کی بازی لگانے کو تیارہوتا ہے، یہی فروری2019  میں ہوا کہ 26 فروری کو بھارت نے بین الاقوامی سرحد کی خلاف ورزی کی۔ان کے جہاز بالاکوٹ کے مقام جابہ پر پے لوڈ گرا کر چلے گئے۔پورے پاکستان میں اس بزدلانہ حرکت کے بعد غم و غصہ تھا اور سب بدلہ لینے کا مطالبہ کررہے تھے۔جس وقت 14 فروری کو پلوامہ میں بھارتی فوجیوں پر حملہ ہوا اس وقت سے ہی اس امکان کا اظہار کیا جارہا تھا کہ بھارت ضرور پاکستان پر حملہ کرے گا۔جبکہ پلوامہ ایک فالز فلیگ آپریشن تھا اور ایسے کیسے ممکن ہے کہ مقبوضہ کشمیر جیسے علاقے میں جہاں ہر طرف لاکھوں بھارتی فوجی ہیں، وہاں کوئی کشمیری نوجوان بارود سے بھری گاڑی لے کر داخل ہوجائے اور بھارتی فوجیوں پر حملہ کردے، یہ ناممکن ہے۔عادل ڈار ویسے بھی تین ماہ سے لاپتہ تھا اور اس پر کچھ عرصہ قبل بھارتی فوجیوں نے تشدد بھی کیا تھا۔اس لئے یہ حملہ خود مودی سرکار نے کروایا تھا۔
جب یہ حملہ ہوا بھارتی حکومت کے الیکشن بھی قریب تھے اور اپنے فوجی اس  لئے مروائے تاکہ انتخابات جیتے جاسکیں۔تاہم سرحدی خلاف ورزی ایک فاش غلطی تھی اور اس کا خمیازہ پوری بھارتی قوم کو بھگتنا پڑا۔مجھے آج بھی یاد ہے ان دنوں حالات کشیدہ تھے اور رات گئے اس وقت کے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے قوم کو اطلاع دی کہ بھارت نے سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی ہے اور اس سے بہت حد تک ملک افواہ سازی سے بچ گیا۔تاہم عوام میں بہت غم و غصہ تھا اور سب بدلے کے خواہاں تھے۔میں خود بہت غم و غصے کا شکار تھی۔ پوری رات پورا دن آرام نہیں کیا اور ٹویٹر پر بھارتی منفی پروپیگنڈے کا جواب دیتی رہی۔بھارت نے یہ شور کیا کہ بالاکوٹ میں جیش محمد کا ہیڈ کوارٹر تباہ کیا ہے جس میں تین سو لوگ مارے گئے ہیں۔جس کشمیری نوجوان عادل ڈار پر پلوامہ حملے کا الزام لگا تھا اس کا تعلق جیش محمد سے جوڑدیا گیا اور بھارت نے اسکا ایک فرضی کیمپ پاکستان میں بنادیا ۔
جب کہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں تھا جب لوکل اور عالمی میڈیا بالاکوٹ پہنچا تو وہاں صرف چند ٹوٹے ہوئے درخت تھے اور ایک کوّا ہلاک ہوا تھا۔ باقی نہ ہی وہ کوئی ہیڈ کوارٹر تھا اور نہ ہی 300 لاشیں تھیں۔ 26فروری کی رات بھارتی فارمیشن چار جگہوں پر موجود تھیں۔ سرکریک ،رحیم یار خان ،فاضلکا سیکٹر اور آزادکشمیر کی طرف ان کے بیس جہاز آئے جن میں12 میراج اور آٹھ Su-30 MKI تھے۔ان میں سے چار جہازوں نے اپنا پے لوڈ گرایا اور واپس چلے گئے۔وہ بھی ایک جنگل میں یعنی انکا کوئی ٹارگٹ نہیں تھا۔
26 فروری کو پاکستان نے جوابی کارروائی نہیں کی صحیح وقت کا انتظار کرتے رہے۔  27فروری کا سورج طلوع ہوا اور بھارتی انتہا پسندی اور غرور کو بہاکر  لے گیا۔بھارت کو ایسا سرپرائز ملا کہ ساری مودی سرکار انگشت بدنداں تھی۔ پاکستان نے 27فروری کو جواب دیا۔ پاک فضائیہ نے چار ٹارگٹ لئے جن میں ایک پونچھ سیکٹر، دوسرا راجوڑی اور دو نوشہرہ سیکٹر پر لاک کئے گئے۔ان انڈین ملٹری ٹارگٹس پر چھ بم گرائے گئے۔سب سے پہلے نارائن سپورٹ ڈپو نوشیرا  سیکٹر کے اہداف کو پی اے ایف کے پائلٹس نے نشانہ بنایا۔ اس کے بعد پاک فضائیہ کی فارمیشن نے اس کی تصاویر اور فوٹیج بھی بنائیں۔دوسری طرف بھارت اس جدید ٹیکنالوجی کے دور میں کوئی بھی ثبوت نہیں پیش کرسکا، چاہے وہ جیش محمد کے ہیڈ کوارٹر کی تباہی ہو یا تین سو لاشوں کا جھوٹ۔
اس کے ساتھ بھارت نے ایک اور جھوٹ بولا کہ 27 فروری کے معرکے میں انہوں نے پاکستان کا ایف سولہ طیارہ گرایا، یہ ایک جھوٹ تھا کیونکہ جس وقت ونگ کمانڈر نعمان نے ابھینندن کا جہاز ہٹ کیا اس وقت ابھی نندن نے کوئی میزائل استعمال نہیں کیا اور جان بچانے کو فوقیت دی اور ایجیکٹ کرگیا۔اس کے طیارے کا ملبہ ائیر فورس نے میڈیا کے سامنے پیش کیا اور میں نے خود دیکھا تھا مگ21 کے دو میزائل سالم حالت میں موجود تھے اور دو میزائل جزوی طور موجود تھے اس کے ساتھ ابھینندن کی سیٹ بھی میڈیا کو دکھائی گئی۔اب سوال یہ پیدا ہوتا کہ بھارت نے ابھینندن کو کس بات پر ویر چکرا دیا ہے، اپنا مگ21 گرایا اس پرکہ وہ پاکستان میں جنگی قیدی بنا اور مشن میں فیل ہوا، کیا ہندوستان میں اس بات پر تمغے دیئے جاتے ہیں۔
ابھینندن کے جہاز سی یو ٹو تھری ٹو ایٹ مگ 21 کے ملبے میں اس کا ایک میزائل سائڈز پر پڑا تھا ایک جل گیا تھا۔دو لانچر کے ساتھ لگے تھے۔آر 73 اورآر77  میزائل اس پر نصب تھے۔چاروں میزائل پاکستان کے پاس موجود ہیں۔ابھینندن نے کریش سے پہلے کوئی میزائل نہیں لانچ کیا، ایجیکٹ کرگیا اور آزادکشمیرمیں گرا اور عوام نے اس کی وہ درگت بنائی کہ وہ تاقیامت یادرکھے گا۔ اس کی جان پاک آرمی کے اہلکاروں نے بچائی اور اس کو ہسپتال منتقل کیاگیا۔
دوسری طرف انڈیا اتنا بوکھلایا ہوا تھا کہ اپنا ہی ایم آئی 17 ہیلی لاک کیا اور پاکستان کا سمجھ کر تباہ کردیا۔ جس میں پورا عملہ ہلاک ہوگیا۔بھارت نے سکواڈرن لیڈر منٹی اگروال جو کہ 27 فروری کو فائٹر کنٹرولر تھیں۔ ان کو بھی یودھ سیوا ایوارڈ دیا ۔اس کے علاوہ پانچ اور پائلٹس کو وایوسینا میڈل دیئے گئے دو جہاز اور ایک ہیلی گرانے کے لئے کیونکہ اس کے علاوہ تو انہوں نے کچھ نہیں کیا۔بھارت کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا تھا۔ انہوں نے وہ شکست کھائی کہ تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔دشمن کے ٹھکانوں کو اٹیک کیا وہاں فضا میں رکے، ان کے آنے کا انتظار کیا۔
ائیرمارشل نور خان ،ائیر مارشل اصغر خان ، سکواڈرن لیڈر احمد رفیقی ، ائیر کموڈورعبدالستار علوی،ائیر کموڈور ایم ایم عالم ، پائلٹ آفیسر راشد منہاس کی تاریخ دہراتے ہوئے 27 فروری2019 کو فضائی لڑائی میں پاکستان نے بھارتی ائیرفورس کے دو طیارے گرائے جس میں ایک بھارتی جنگی جہاز کا ملبہ آزاد کشمیر اور دوسرے جنگی جہاز کا ملبہ مقبوضہ کشمیر میں گرا۔ ابھینندن کا جہاز مگ  21پاکستان کے ونگ کمانڈرستارہ جرأت نعمان علی خان نے گرایا اور دوسرا بھارتی جہازSu- 30 تمغہ جرأت سکوڈران لیڈرحسن صدیقی نے گرایا۔ تمغۂ جرأت حاصل کرنے والے گروپ کیپٹن فہیم خان سٹرائک لیڈر تھے۔آپریشن سویفٹ ریٹورٹ میں میراج اور جے ایف 17 تھنڈر کے جہازوں نے حملے میں حصہ لیا اور باقی طیاروں کی فارمیشن نے ایسکورٹ کیا۔
 فروری نے پاک فضائیہ کو بھارتی ائیرفورس پر عددی برتری دے دی۔اس مشن میں میراج اور جے ایف 17 تھنڈر طیاروں نے حصہ لیا۔ان فارمیشنز نے ایل او سی کے قریب بھارت کی چار اہم تنصیبات کے قریب بم گرائے، ان ٹارگٹس کے نزدیک انڈین آرمی کا بریگیڈ ہیڈ کوارٹر تھا جہاں مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس وقت بھارت کے آرمی چیف بھی موجود تھے۔حسن صدیقی نے جس وقت Su-30 MKi کونشانہ بنایا تو ان کے درمیان کوئی تیس کلومیٹر کا فاصلہ تھا اور یہ جہاز تباہ ہوکر مقبوضہ کشمیر میں گرا۔حال ہی میں لوک سبھا میں ایک لسٹ پیش کی گئی جس میں یہ تفصیل درج تھی کہ 2016 سے اب تک انڈین ائیرفورس کے کتنے طیارے گرے تو اس لسٹ میں 27 فروری کو گرنے والے Su-30   اور مگ21 کو قصداً چھپالیاگیا۔
 جس وقت بھارت کا Su-30 گرا اس وقت سرچ مشن کے لئے بھارتی ایم آئی 17بھیجا گیا لیکن بھارتی ڈیفنس سسٹم نے ڈر اور خوف میں اپنا ہی ہیلی گرادیا جس میں سوار تمام لوگ ہلاک ہوگئے۔صرف 27 فروری نہیں،کارگل کی جنگ میں بھی بھارت نے منہ کی کھائی تھی کارگل کی جنگ میں پاک آرمی ائیر ڈیفنس نے بھارت کے دو طیارے مار گرائے تھے اور اس میں سے مگ21 کو پاکستانی فوجی نے مین پیڈ میزائل سے مار گرایا تھا جس میں ایک بھارتی پائلٹ ہلاک ہوا تھا۔اس کے ساتھ انڈین ہیلی ایم آئی17 کو بھی مار گرایا۔ اس میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔کارگل کے معرکے میں مگ 27  کو جس وقت نشانہ بنایا گیا اس وقت اس کے پائلٹ فلائٹ لفٹیننٹ Kambampati Nachik کو زندہ گرفتار کیا گیا اور اس کو کو بچانے کے لئے آنے والے مگ21 کو پاکستان آرمی کے فوجی نے کندھے والے میزائل سے مار گرایا تھا اس سے سکواڈرن لیڈر اجے اہوجا ہلاک ہوگیا تھا۔ 
 بھارتی آرمی ، ائیرفورس اور نیوی نے مزید کڑا وقت دیکھا ان کے مزید جہاز کریش کرگئے اور متعدد فوجیوں نے خودکشیاں کرلیں۔ 2016 اور2017میں آئی اے ایف کے چھ فائٹر جیٹ کریش ہوئے ، دو ہیلی ، ون ٹرانسپورٹ ائیر کرافٹ اور ون ٹرینر کریش کرگئے۔ 2017سے  2018میں  فائٹر جیٹ کریش ہوئے اور ون ٹرینر ائیر کرافٹ کریش کرگیا۔ 2018سے 2019 میں بھارتی ائیر فورس کے سات فائٹر جیٹ تباہ ہوئے، دو ہیلی اور دو تربیتی طیارے تباہ ہوئے۔ اگر نومبر 2019 سے نومبر2020  دیکھیں توبھارتی نیوی کے3  مگ 29 کے فائٹر جیٹ کریش کرگئے۔ اب رافیل لے کر جو بہت شور کررہے ہیں ان کو فعال ہونے میں بھی شاید دو سال کا عرصہ لگے جبکہ  پاکستان کے جے ایف 17 تھنڈر اور ڈوئل سیٹ جے ایف 17 تھنڈر بالکل فعال ہے اور ائیر ٹو ائیر کمبیٹ میں استعمال بھی ہوچکا ہے اس کے ساتھ بلاک تھری بھی تکمیل کے مراحل میں ہے۔جے ایف17  تھنڈر نے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنادیا ہے۔اب پاکستان جن ممالک کو یہ طیارے فراہم کرنے جارہا ہے ان میں نائیجیریا اورمیانمار شامل ہیں۔نائیجیریا کو یہ طیارے سیل کردیئے گئے ہیں اور اس وقت ان کے پائلٹ پاکستان میں ٹریننگ لے رہے ہیں۔اس کے علاوہ دوست ممالک ملائشیا، آذربائیجان ،ترکی،ارجنٹینا سمیت  15ممالک اس وقت جے ایف 17 تھنڈر کی خریداری کے خواہاں ہیں۔جے ایف 17 تھنڈر پاکستان میں تیار ہورہا ہے اس کے پرزے بھی یہاں دستیاب ہیں، اس کی مینٹیننس بھی یہاں ہوگی تو یہ رافیل کے مقابلے میں ایک بہترین اور مناسب بجٹ کی ٹیکنالوجی ہے۔ویسے بھی پرانے مگ ، گرتے تیجاس اور غیر فعال رافیل کے ساتھ بھارت کس کس پڑوسی کے ساتھ محاذ آرائی کرے گا۔ 27فروری آپریشن سوئفٹ ریٹورٹ پاکستان کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ مجاہدین افلاک کو سلام، پاکستان زندہ باد۔ ||


صحافی ،مصنفہ، کالم نگار اور فوٹوگرافر ہیں۔
 Twitter @javerias 
Youtube ; javeriasiddique        
 

یہ تحریر 999مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP