ہمارے غازی وشہداء

فخرِ بلوچستان لیفٹیننٹ میر جہانگیر خان مری

فخرِ بلوچستان لیفٹیننٹ میر جہانگیر خان مری شہید(ستارئہ بسالت)

شہید لیفٹیننٹ میر جہانگیر مری کے بھائی عالم زیب مری کی ہلال کے لئے ایک تحریر



لیفٹیننٹ میر جہانگیر مری شہید بہن بھائیوں میںسب سے بڑے  تھے۔ شاید اسی لئے شفقت اور احساسِ ذمہ داری جیسے اوصاف آپ کی شخصیت میں بدرجۂ اتم موجود تھے۔ وہ 4ستمبر 1984 کو بلوچستان کے ضلع کوہلو میں پیدا ہوئے۔ کوہلو سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد تعمیرِ نو پبلک سکول کوئٹہ میں انٹر میڈیٹ کے لئے داخلہ لیا۔ وہ ایک پرائیویٹ ہاسٹل میں رہائش پذیر تھے جس میں چند گریجویشن کے طلباء بھی شامل تھے لیکن جہانگیر کی قائدانہ صلاحیتوں کی بناء پر ہاسٹل انچارج انہی کو بنایا گیا۔
انٹر کا امتحان پاس کرنے کے بعد پاکستان آرمی میں شمولیت کی غرض سے آئی ایس ایس بی کے لئے اپلائی کیا۔ پاکستان آرمی میں کمیشن کے تمام ذہنی و جسمانی  امتحان کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد آنکھوں کی بیماری کی وجہ سے میڈیکل بورڈ نے مسترد کردیا لیکن پھر بھی ہمت نہ ہاری اور آنکھوںکا آپریشن کروا یا اور دوسری  کوشش میں سلیکٹ ہو گئے۔ دوسالہ عسکری تربیت حاصل کرنے کے بعد 34 بلوچ رجمنٹ(الضرار بٹالین) میں تعینات ہوئے جو اس وقت باجوڑ ایجنسی میں بر سرِپیکار تھی جہاں آپ نے دہشت گردوں کو ناکوںچنے چبوائے ۔ آپ کی قابلیت کے پیش نظر کمانڈنگ آفیسر نے آپ کو نئے بھرتی ہونے والے ریکروٹس کی ٹریننگ کا فریضہ سونپ دیا جو آپ نے بطریقِ احسن نبھایا۔ مہمند ایجنسی میں افواج سے بٹالین لنک اپ کرنے کے آپریشن میں بھی آپ پیش پیش رہے اور دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ آپریشن شیر دل کے دوران ''زگہ ڈھیری'' کا علاقہ دہشت گردوں سے پاک کرنے میں آپ شرپسندوں کے بھاری ہتھیاروں کی زد میں آگئے۔ اتنے مشکل حالات کے باوجود ثابت قدم رہے اور انتہائی چابک دستی سے دشمن کے وار کا منہ توڑ جواب دیا اور بے مثال بہادری، مہارت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا عملی نمونہ پیش کیا۔ اس کارروائی میں شرپسندوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ شرپسندوں کے دو کمانڈر طالب اور شیر جان جہنم واصل ہوئے اور بھاری ہتھیاروں کا ایک ذخیرہ چھوڑ کر بھاگ گئے۔ آپ کی بے مثال بہادری کے سبب کمپنی اپنے ہدف کو حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ 2 جولائی2009 تک 34 بلوچ رجمنٹ نے چنار تک کا علاقہ عسکریت پسندوں سے پاک کرلیا۔اب شرپسندوں نے جنوب مغرب کی طرف سے 500میٹر کے فاصلے پر موجود ایک ٹیکری سے کمپنی کے علاقے اور گاڑیوں کو نشانہ بنانا شروع کرلیا یہ ایک انتہائی خطرناک صورت حال تھی۔ اس سے نمٹنے کے لئے کمپنی کمانڈر نے ایک پلاٹون گشت تیار کرلی۔ لیفٹیننٹ جہانگیر اس پلاٹون کا حصہ نہ تھے لیکن آپ کے بے حد اصرار پر آپ کو اجازت مل گئی۔ 10جولائی جمعہ کے دن آپ صبح سویرے اپنے جوانوں کے ہمراہ ہدف کی جانب روانہ ہوگئے۔آگے جا کر معلوم ہوا کہ یہ دہشت گردوں کا ٹھکانہ ہے۔ آپ نے اپنی پیش قدمی جاری رکھی اچانک چھپے ہوئے دشمن نے آپ پر اندھادھند فائر کھول دیا ۔ آپ نے ثابت قدمی سے دشمن کے وار کو روکے رکھا اور جوابی کارروائی کرتے رہے۔ توپ خانہ اور ٹینکوں کے فائر کرانے کی بدولت دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ ہوئے اور انہیں بھاری نقصان پہنچا۔ دہشت گردوں نے بھاری نقصان اٹھانے کے بعد  پسپائی اختیار کی ۔ اس دوران دوسری طرف سے انہیں ملحقہ علاقوں مانوگئی اور ہاشم سے بھاری رسد اور کمک بھی مل گئی۔ دہشت گردوں نے آپ کی پلاٹون پر بے تحاشا راکٹ اور چھوٹے ہتھیاروں سے حملہ کیا ایک ٹینک پر راکٹ لگنے کی وجہ سے دو جوان شدید زخمی ہوئے۔ اس مشکل صورت حال کے دوران بھی آپ نے اپنے حواس پر قابو رکھا اور کمال استقلال کا مظاہرہ کرتے ہوئے فائر کا جواب دیتے رہے۔ آپ نے چھپے ہوئے دشمنوں کے ٹھکانوں کی نشاندہی کی اور ان پر مارٹر کا فائر کروایا جس سے کئی عسکریت پسند جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ انہیں اپنی پوزیشن سے بہت قریب شرپسندوں کا ایک چھپا ہوا گروہ نظرآیا اورآپ نے انہیں پکڑنے کی ٹھان لی اور اپنی پلاٹون کی پیش قدمی شروع کردی اور اچانک ان پر ہلہ بول دیا۔ دہشت گردوں نے مزاحمت کی اورشدید فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا۔ آپ نے ارد گرد چھپے ہوئے دہشت گردوں کو الجھائے رکھا اور ان پر راکٹ فائر کئے۔ چھپے ہوئے دہشت گرد آپ کے حملے کی تاب نہ لاسکے اوربھاگ کھڑے ہوئے۔ آپ نے جوانوں کو حکم دیا کہ بھاگتے دہشت گردوں میں سے کوئی بچ کر نہ جانے پائے۔ اس جرأت مندانہ اقدام کے نتیجے میں مزید دو دہشت گرد جہنم واصل ہوئے اور دو شدید زخمی ہوکر گر پڑے۔ اسی اثناء میں دہشت گردوں کے فائر کی ایک بوچھاڑ آپ کے سینے، گردن اور بازو کو چھلنی کرگئی آپ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے زمین پر گِر پڑے۔ آپ سے تھوڑی دور ہی نائب صوبیدار خدابخش بھی زخمی ہوئے، مگر اپنے کمانڈر کو گرتا دیکھ کر آپ تک پہنچے۔ آپ کے منہ سے آخری الفاظ نکلے''خدا بخش ان کو چھوڑنا مت اور اپنا کام جاری رکھیں'' اس کے ساتھ ہی آپ جان جانِ آفریں کو سونپ کر شہیدوں کی صف میں کھڑے ہوگئے اور بارگاہِ خداوندی میں سُرخرو ہوئے۔

 لیفٹیننٹ میرجہانگیر خان مری شہید نے ملکی دفاع کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کرکے ثابت کیا کہ بلوچ پاک سرزمین کے لئے جانوں کی قربانی سے کبھی دریغ نہیں کریں گے۔ لیفٹیننٹ جہانگیر خان مری کی شہادت کو تقریباً 10 سال کاعرصہ مکمل ہونے کو ہے لیکن آج بھی آپ پاکستانی عوام کے دلوں میں زندہ ہیں


11 جولائی کی صبح آپ کی میت کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے داد علی شہر(جہانگیر آباد) کوہلو لایا گیا۔ پورے ضلع کی تاریخ میں اتنی بڑی نمازِ جنازہ ابھی تک کسی کی نہیں ہوئی۔ آپ کو مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا گیا۔ الیکٹرونک میڈیا نے آپ کے جنازے کی لائیو کوریج کی جبکہ پرنٹ میڈیا میں بھی آپ کی شہادت کی خبریں نمایاں طور پر شائع ہوئیں۔
 لیفٹیننٹ میرجہانگیر خان مری شہید نے ملکی دفاع کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کرکے ثابت کیا کہ بلوچ پاک سرزمین کے لئے جانوں کی قربانی سے کبھی دریغ نہیں کریں گے۔ لیفٹیننٹ جہانگیر خان مری کی شہادت کو تقریباً 10 سال کاعرصہ مکمل ہونے کو ہے لیکن آج بھی آپ پاکستانی عوام کے دلوں میں زندہ ہیں۔ صدرِ مملکتِ پاکستان نے بے مثال بہادری اور قربانی پر آپ کو(بعداز شہادت) ستارئہ بسالت کے اعزاز سے نوازا۔ اس کے علاوہ مختلف تعلیمی ادارے، سڑکیں اورصحت کے مراکز آپ کے نام سے منسوب ہیں جبکہ حکومتِ بلوچستان نے کوہلوکی ایک یونین کونسل بھی آپ کے نام سے منسوب کی ہے جو بلاشبہ آپ کی خدمات اور اُن قربانیوں کا اعتراف ہے جو آپ نے پاک سرزمین کی حفاظت کے لئے انجام دی ہیں۔

یہ تحریر 244مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP