قومی و بین الاقوامی ایشوز

عیدالفطر ،لائن آف کنٹرول اور شہدا ء

سپاہ اپنی قیادت کے ساتھ محبت اور احترام کے رشتے سے جُڑے ہوتے ہیں اور یہ تعلق وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہ ایسا تعلق بن جاتا ہے کہ اس کی لاج رکھنے کے لیے سپاہ اپنے سپہ سالار کے ہر ہر حکم کو بجا لانا اپنا فرضِ منصبی گردانتے ہیں اور وہ وطنِ عزیزی کی خاطر اپنے سپہ سالار کی جانب سے دیئے گئے احکامات اور ہدایات کی بجا آوری کے لیے کسی بڑی سے بڑی قربانی سے بھی گریز نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ عیدین ہو یاکوئی اور قومی تہوار ، عسکری سپہ سالار اسے اپنے گھروں میں منانے کے بجائے اپنے جوانوں اور افسروں کے ساتھ اگلے مورچوں میں موجود ہوتے ہیں۔ اس بار بھی چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لائن آف کنٹرول پر عیدالفطر کی نماز منگل 3مئی 2022  کوآزاد کشمیر کے علاقے ڈنگی ، کوٹلی سیکٹر کے اگلے مورچوں کے جوانوں کے ساتھ ادا کی، وہ ان میں گھل مل گئے ، فرداً فرداً سب سے عید ملے۔ چیف اور سپاہی کے فاصلے سمٹ گئے ، فضا نعر ہ تکبیراﷲ اکبر اور پاکستان زندہ باد کی صدائوں سے گونج اٹھی۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ دیر تک جوانوں میں رہے ، اس سے پیشتر ڈنگی پہنچنے پر کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا نے سپہ سالار کا استقبال کیا۔ ایک نجی ٹی وی کے نمائندے کے سوال کے جواب میں مور چے میں لائٹ مشین گن کے پیچھے بیٹھے فوجی جوان نے کہا کہ  وطن کا دفاع ہی ہمارا حلف ہے، یہی ہماری عید ہے، ہمیں عید سے بڑھ کر خوشی اس بات کی ہے کہ ہم سرحدوں پر جاگتے ہیں تو ہمارے پاکستانی چین کی نیند سوتے ہیں۔ ایک دوسرے مورچے پر ایستادہ فوجی جوان نے کہا کہ ہمیں بالکل بھی یہ احساس نہیں کہ ہم عید پر گھر سے دور ہیں کیونکہ ہمارا چیف جو ہمارے ساتھ ہے۔



 جنرل قمر جاوید باجوہ اکثر اگلے مورچوں میں جوانوں کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔ عیدالفطر سے دو روز قبل یکم مئی محنت کشوں کے عالمی دن کے موقع پر بھی افواج پاکستان کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے لائن آف کنٹرول کے پدھار سیکٹر کے اگلے مورچوں کا دورہ کر کے جوانوں کے ساتھ روزہ افطار کیا تھا۔ وطن پر قربان ہونے کا جذبہ لے کے فوج میں جانے والے مجاہد تو ہوتے ہی ہیں، صوفی بھی ہوتے ہیں، وہ عملی جہاد کے ساتھ ساتھ دعا پر بھی یقین رکھتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے جس روز چیف آف آرمی سٹاف کی ذمہ داری سنبھالی تو جی ایچ کیو میں چھڑی کی تبدیلی کی تقریب میں ہمارااور ان کا آمنا سامنا ہوا۔ ہم نے آرمی چیف بننے پر انہیں مبارک باد دی تو وہ بولے 'دعا کرنا'ہم نے کہا بہت بھاری ذمہ داری آپ پر آن پڑی ہے ، وہ التجائیہ اور عاجزانہ انداز میں بولے ۔ اسی لیے تو دعا کی درخواست کی ہے۔



 جنرل قمر جاوید باجوہ عیدالفطر والے روز اگلے مورچوں کے علاوہ وطن پر قربان ہونے والے شہدا کے گھر بھی گئے۔ شہیدوں کے لواحقین  سے بھی ملے۔ یہ ہمارے ہاں کی روایت ہے کہ ہم لوگ عدم سدھار جانے والوں کے گھروں میں پہلی عید کے موقع پر لازمی جاتے ہیں۔ انسان دوستی کی وہی رسم فوج میں بھی رائج ہے کہ فوج ہماری زندگی کا انتہائی اہم حصہ ہے۔ اسی سبب جنرل قمر جاوید باجوہ عیدالفطر پر اپنی بیگم کے ہمراہ افواج پاکستان کے دو شہیدوں کیپٹن محمد سعد بن امین شہید اور کیپٹن محمد کاشف شہید کے گھر ان کے وصال کی پہلی عید ملنے گئے۔ وطن پر قربان ہونے والے شہیدوں کے والدین ،بچوں اور ان کی بیوائوں سے ملے ، ڈھارس بندھائی ،دلاسہ دیا کچھ وقت ان کے ساتھ گزارا ، اس موقعہ پر جنرل باجوہ نے کہا کہ شہدا نے جانوں کا نذرانہ دے کر مادر وطن کا دفاع کیا ہے۔ اپنے ان ہیروز کی قربانیاں پاک فوج اور قوم کے لیے مشعل راہ ہیں۔ قوم ان بہادر بیٹوں اور جرأت مند خاندانوں کی مقروض ہے، پاک فوج اپنے ہیروز کو یاد رکھتی ہے ، یہی جذبہ فوج اور قوم کے لیے تحریک کا باعث ہے۔ شہداء کے اہل خانہ نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا عید کے روز ان کے گھر آنے پر شکریہ ادا کیا ۔ یاد رہے کہ کیپٹن محمد کاشف شہید نے 21 اگست 2021 کو جام شہادت نوش کیا تھا ، اگلے روز راولپنڈی میں ان کی تدفین ہوئی تھی۔ نماز جنازہ میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی شرکت کی تھی۔ کیپٹن محمد کاشف بلوچستان میں آواران اور پنجگور سے ملحقہ واشک کے علاقے سولیر ٹوبہ کے قریب گچک میں معمول کی گشت پر تھے کہ ان کی جیپ دہشت گردوں کی بچھائی گئی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی جس کی وجہ سے وہ شہید اور ان کا ڈرائیور خادم اور حوالدار تنویر زخمی ہوئے تھے۔ زخمیوں کو فوری طور پر ہیلی کاپٹر سے سی ایم ایچ  خضدار پہنچایا گیا تھا۔



 کیپٹن سعد بن امین نے 29مارچ 2022 کو جنوبی وزیرستان کے علاقے مکین میں دہشت گردوں کے خلاف ایک آپریشن کے دوران جام شہادت نوش کیا تھا۔ انہوں نے قوم کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے اپنی جان کی قربانی دی قوم ایسے جری سپوت کو سلام پیش کرتی ہے۔ یاد رہے کہ کیپٹن سعد بن امین شہید کی ایک شیر خوار بیٹی بھی ہے۔
پاکستان 22 کروڑ سے زیادہ آبادی والا ملک ہے۔ 57 اسلامی ملکوں میں اس لیے اسے امتیاز حاصل ہے کہ یہ ایٹمی طاقت ہے اس کی فوج کا شمار دنیا کی بہترین فوجوں میں ہوتا ہے ۔ کیاہی اچھا ہو کہ فوج میں جو ڈسپلن ، بھائی چارہ اور احکامات کی بجا آوری کا ماحول ہے وہ ہمارے دیگر اداروں میں بھی رواج پاجائے۔ احترام کی وہ رسم جو افواج پاکستان کی شناخت ہے اس کودیگر بھی اپنائیں ۔ ||


مضمون نگار: ایک معروف صحافی اور مصنف ہیں۔ ایک قومی اخبار کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 124مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP