متفرقات

عہدِ وفا

اس دنیا میں ہم سب کی اپنی اپنی کہانی ہے جسے ہم اپنی سہولت اور خواہش کے مطابق سناتے رہتے ہیں۔ جن لوگوں کے بارے میں ہمیں یقین ہوتا ہے کہ وہ اس کہانی میں دلچسپی لے رہے ہیں تو ہم اس کہانی میں اضافی تفصیلات بھی شامل کردیتے ہیں اور جن لوگوں کی دلچسپی اور توجہ کو لے کر ہم شک میں پڑ جائیں تو ان کے لئے ہماری کہانی سکڑ جاتی ہے۔ ہم انہیں اپنی کہانی کا Edited Version سناتے ہیں۔ ہماری ذات کی کہانی ہر عہدمیں نئی کروٹیں لیتی ہے ، نئی شکلیں بدلتی ہے۔ لیکن وفا کے عہد کی کہانی ازل سے اپنی ایک ہی شکل میں موجود ہے۔ وفا نبھانے کے عہد میں نہ ترمیم ہوسکتی ہے نہ ہی اسے ادھورا رکھا جاسکتا ہے۔ عہدِ وفا کو پورا کرنے کے لئے گردن کٹانا تو ممکن ہے لیکن اس میں کانٹ چھانٹ ممکن نہیں۔ یہ وفا ہی ہے جو ہمیں ہمارا سچ بولنے کی طاقت عطا کرتی ہے۔ ہمارے دل کو اتنا شفاف کر دیتی ہے کہ ہماری زبان ہر اندیشے سے بے نیاز ہو کر بولتی ہے۔ کہانی کی ہرگرہ کھولتی ہے۔



عہدِ وفاکچھ ایسے ہی شفاف دلوں کی کہانی ہے جن کو حالات نے آلودہ کرکے ایک دوسرے سے جدا کردیا لیکن ان کے خمیر میں گندھی محبت نے انہیں اتنی طاقت عطاکی کہ انہوں نے اپنے خلاف تانے بانے بنتے حالات کو اپنے حق میں گردن جھکانے پر مجبور کردیا۔ یہ ان چار دوستوں کی کہانی ہے جو ایک دوسرے کے لئے جان دینے کے لئے تیار تھے لیکن حالات اور واقعات کی کروٹوں نے ان کے چہرے ہی بگاڑ دیئے اور جب انہوںنے ایک دوسرے کی آنکھ کے آئینوں میں اپنے آپ کو دیکھا تو ان کی روح اندر تک کانپ گئی اور چاروں اپنے اپنے چہروں کی تلاش میں نکل پڑے۔ عہدِ وفا اسی وفا کی تلاش کی کہانی ہے جو کہیں کھو گئی ہے۔ یہ ان کٹھن راستوں میں سفر کی کہانی ہے جو کسی اور کی تلاش میںیا تو آپ کو اپنے آپ سے ملا دیتے ہیں یا پھر ایسی بھول بھلیوں میں اُلجھاتے ہیں کہ آپ انہی راستوں کی گرد بن کر ہمیشہ کے لئے کھو جاتے ہیں۔


اس کہانی کا بنیادی خیال راستوں کی ان بھول بھلیوں کو کھوجنا ہے جو ہماری منزل کھوٹی کرنا چاہتے ہیں۔ ان حالات کی نشاندہی کرنا ہے جو ہمارے اندر اور باہر کے دشمنوں نے ہمیںبھٹکانے کے لئے پیدا کررکھے ہیں۔


اس کہانی کا بنیادی خیال راستوں کی ان بھول بھلیوں کو کھوجنا ہے جو ہماری منزل کھوٹی کرنا چاہتے ہیں۔ ان حالات کی نشاندہی کرنا ہے جو ہمارے اندر اور باہر کے دشمنوں نے ہمیںبھٹکانے کے لئے پیدا کررکھے ہیں۔ اپنے ان وفا پرست دوستوں کا ہاتھ تھامنا ہے جن سے ہاتھ چھڑا کر ہم سرابوں کے پیچھے بھاگے جارہے ہیں۔ ہمیں کہانی کی شکل میں اپنے اس سچ تک پہنچنا ہے جو دوسروں کے پھیلائے جھوٹ کی گرد میں کہیں کھو گیا ہے۔ ہم اس جھوٹ کو سچ سمجھ کے اپنے سچ سے دور ہوئے جاتے ہیں۔ عہدِ وفا کی کہانی کا مقصد ہمیں اپنی زمین، دوستوں، رشتہ داروں اور اپنے اپنے فرائض سے کئے گئے وفا کے ہر اس عہد کو یاد دلانا ہے جو ہم اچھے وقتوں میں خود سے کرتے ہیں اور پھر بھول جاتے ہیں۔
 مصطفی آفریدی کے لکھے اس ڈرامے کی ہدایات سیف حسن نے دی ہیں۔فنکاروں میںمحمد احمد، فراز انعام ، ہاجرہ یامین، زارا نور عباس،احد رضا میر، علیزے شاہ، وہاج علی، احمد علی اکبر، عثمان خالد بٹ شامل ہیں۔ فراز انعام کی اس ڈرامے میں موجودگی سے اکثریت کا یہ خیال ہے کہ شاید یہ الفا براوو چارلی جیسے کلاسک کا تسلسل ہے جو کہ درست نہیں۔عہدِ وفا آج کی اور آج کے عہد کی کہانی ہے۔



عہدِ وفا ۔ ایک نئی کاوش

ڈرامہ نگاری انٹرٹینمنٹ کی دُنیا کاایک ایسا شعبہ ہے جن سے ہمارے ملک کی ایک خاص چھاپ دُنیا پر قائم ہے۔ ہماری انڈسٹری نے بہت سے کلاسک ڈرامے پیش کئے ہیں جس کا ذکربیرونی ممالک میں بھی اچھے الفاظ میں کیا جاتاہے۔ پاکستانی ڈرامے ہمیشہ سے ہی اپنی منفرد کہانی اور اعلیٰ کارکردگی کی وجہ سے لوگوں کی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ بہت سے سُپر سٹارز اس انڈسٹری میں کام کرکے ہی اپنا نام روشن کرپائے ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ ایسے بلاک بسٹر سیریل دیئے جو ناظرین کو ٹیلی ویژن کی طرف راغب کرنے کا ذریعہ بنے۔ انٹر ٹینمنٹ چونکہ ذہنی سکون کا ایک ذریعہ ہوتی ہے اس لئے مائنڈ ریلیکس رکھنے کے لئے انسانی ذہن کا اس طرح کی سرگرمیوں میںمصروف رہنا بھی کسی حد تک ضروری ہوتا ہے۔ اسی بات کو مدِنظر رکھتے ہوئے اور ناظرین کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے پاکستان ٹیلی ویژن نے ہمیشہ اپنی ٹرانسمیشن کا ایسا انداز رکھا جو عام فہم ہونے کے ساتھ انسانی ذہن کو نہ صرف سکون و راحت فراہم کرتا ہے بلکہ معلومات میں اضافے کا ذریعہ بھی ہے۔
تو بات ہو رہی تھی ڈرامہ انڈسٹری کی۔ ڈراموں اور انٹر ٹینمنٹ کا ذکر ہو تو پاکستانی ٹیلی ویژن کا نام ہمیشہ سرِفہرست ہوتا ہے۔ پی ٹی وی نے ایسے ایسے شاندار سیریل اور پلیزدیئے ہیںجس نے لوگوںکے لئے انٹرٹینمنٹ کے ساتھ ساتھ آگہی کا کام بھی کیا ہے۔ پاکستانی ڈراموں کا مواد ہمیشہ سے معلوماتی اور سبق آموز رہا ہے اور اس کو صرف ملکی سطح پرہی نہیں بلکہ غیر ملکی سطح پر خصوصاً بھارت، بنگلہ دیش، نیپال اور جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک میں بھی پسند کیا جاتا ہے۔حال ہی میں آئی ایس پی آر اور ہم ٹی وی کے اشتراک سے بننے والا سیریل ''عہدِ وفا'' بہترین کاوش کے طور پر سامنے آیا ہے۔ آئی ایس پی آر اور مومنہ دُرید کی پروڈکشن ،سیفی حسن کی ڈائریکشن اور مصطفی آفریدی کی تحریر سے تشکیل پانے والا یہ ڈرامہ آج کل بچوں، بڑوں اوربوڑھوں ، غرضیکہ ہر ایک کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
پاکستانی ڈراموں نے پچھلی کئی دہائیوں میں ایک مختلف انداز، معیارِ تحریر اور حقیقت سے وابستہ کہانیاں عوام تک پہنچائی ہیں، اس سلسلے کو برقرار رکھتے ہوئے ''عہدِ وفا '' خاص طور سے اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ جس میں ناظرین کو فوجی اور سول دونوںا طراف کی روایات اور زندگی دکھائی دے گی۔ یہ ڈرامہ دیگر معاشرتی مسائل سے ذرا مختلف Theme رکھتا ہے، اس میں روایتی ڈراموں  والا مواد شامل نہیں بلکہ ایک مختلف سٹوری لائن متعارف کروائی ہے جس میں نوجوان نسل کی دوستی کا ایک چہرہ دکھایاگیا ہے جوہماری ثقافت کا ایک پہلو ہے اورجسے اکثر ہمارے ڈراموں میں نظر انداز کیاگیاہے۔ اس سیریل میں اسی طرح کی کہانی پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ فیملی شو ہے جس میںہر عمر کے افراد کی پسند اور دلچسپی کا خیال رکھتے ہوئے کہانی کو مختلف کرداروں کے گرد گھومتا دکھایاگیا ہے،  جس سے ناظرین کی دلچسپی یقینا برقرار رہے گی۔
پروڈکشن ، ڈائریکشن اور تحریر کے معیار کے ساتھ ساتھ ڈرامے کی کاسٹ کو بھی بہت مختلف اورنئے انداز سے چُنا گیا ہے۔'' عہدِ وفا'' کی کاسٹ کا ذکر کریں تو ہر کردار نے کافی محنت سے اپنا رول پلے کیا ہے۔''ایلفا براوو چارلی'' کے ہیرو ''کیپٹن فراز''  کے ساتھ اس میں 'احد رضا میر'  عثمان خالد بٹ، احمدعلی اکبر، وہاج علی، علیزہ شاہ، زارا نور عباس، ہاجرہ یامین اور ونیزہ احمد اور چند مشہور شخصیات نے بھی کام کیا ہے جس سے اِس سیریل سے کافی توقعات وابستہ ہیں۔



آئی ایس پی آر کی معاونت سے تشکیل پائے جانے والے اس ڈرامے میں چار دوستوںکی مختلف شعبوں میں وابستگی اور کردار دکھایاگیا ہے لیکن خاص پہلو یہ ہے کہ زندگی کے کسی بھی شعبے سے وابستہ ہونے کے باوجود بھی ان کی وطنِ عزیز کے لئے والہانہ محبت کا عنصر کسی موڑ پر بھی کم نہیں دکھائی دیتا۔ڈرامہ شروع ہونے سے پہلے ہی 'عہدِ وفا' کے ٹیزرز نے سوشل میڈیا پر طوفان برپاکردیا تھا اور شائقین اس کے منتظر دکھائی دیتے تھے۔
''عہدِ وفا'' ایک واقعے سے الگ ہو نے والے چار دوستوں کی ایک کہانی ہے جو کالج کے چار دوستوں 'شارق، شاہ زین، شہریار اور سعد ' کے گِرد گھوم رہی ہے۔  اس گروپ کو 'SSG' یعنی '' سپیشل S گینگ ''کہا جاتا ہے ۔جیسا کہ ان کے ناموں سے واضح ہے کہ چاروں دوستوں کے نام حرف'S' سے شروع ہوتے ہیں جو کہ بے حد شرارتی ہیں۔ اس ڈرامے میں دوستی کی اصل قدر کی تصویر کشی بہت حسین انداز میں کی گئی ہے جو ایک واقعے کے بعد اپنے خوابوں کا تعاقب کرتے ہوئے اپنی اپنی زندگیوں کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں اور وطنِ عزیز کی بدولت دوبارہ متحد ہوں گے اور آنے والی قسطوں میں ان کی مشکلات اور وطن کے لئے دی جانے والی قربانیوں اور خواہشات کا سفر دکھائی دے گا۔سیف حسن کی ہدایت کاری میں تمام اداکاروںنے اپنے اپنے کردار بخوبی نبھائے ہیں۔ آنے والی اقساط سے ڈرامے کا مثبت کردار اور بھی کھل کر سامنے آئے گا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ آنے والے دور میں بھی اس طرح کے پراجیکٹس پر کام کیاجائے جس میں معاشرے میں محبت، دوستی اور خلوص کے ساتھ ساتھ مادرِ وطن سے محبت کا عنصر بھی شامل ہو۔

یہ تحریر 162مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP