بیاد اقبال

علامہ اقبال کے معاشی نظریات

اسلامی جذبوں کے عظیم شاعر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال  کا فکر و فن شعری و نثری سانچے میں خوشبو کی طرح محفوظ ہے ۔ ایک ایسی خوشبو جس کی مہک ہمہ وقت تازہ، ایک ایسی روشنی جو آج تک مدھم نہ ہو سکی ۔یہ بجا ہے کہ جذبۂ قوتِ ایمانی اور عشق رسول ۖ  کی حرارت سے ایک مسلمان کی کامیابی کا پرچم بلند سے بلندہوتا رہتا ہے۔ ایمانی حرارت اسے جذب و عمل کا راستہ دکھاتی ہے لیکن زندگی کی اس اٹل حقیقت سے کسی طرح انکار نہیں کیا جا سکتا کہ معاشی آسودگی کے بغیر انسان کی انفرادی اور اجتماعی ترقی محض ایک خواب کا درجہ رکھتی ہے ۔ جسم و روح کا رشتہ برقرار رکھنے میں معاشی ضروریات کی تکمیل بھی بہت ضروری ہے ۔ آسودہ زندگی کا راستہ ہموار کرنا ہر انسان کی جبلت میں شامل ہے ۔
 اقبال کی نظر میں دنیا کا کوئی معاشرہ اقتصادی ترقی کے بغیر فلاح و بہبود کی منازل طے نہیں کر سکتا ۔ معاشی ترقی کے بل بوتے پر فرد اور معاشرہ فعال اور مستحکم ہو تا ہے ۔ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال چونکہ فکر و عمل میں مطابقت رکھنے والے مفکر تھے اس لئے انھوں نے محنت ، مزدوری ، جانبازی، سرفروشی اور جہدِ مسلسل کا پیغام دیا ۔ رزقِ حلال کا حصول اسی صورت میں کامیاب ہو سکتا ہے جب ترقی کرنے کا جذبہ اور ذرائع معاش کی راہیں ہموار ہوں۔ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے لاتعداد سیاسی ، علمی، ادبی ، مذہبی اور تعلیمی دانشوروں کے نظریات کا وسیع مطالعہ کر رکھا تھا اس لئے ان کے معاشی نظریات بھی اسلامی سانچے میں ڈھل کر قرطا س کی زینت بنے ۔ علامہ محمد اقبال شعر و سخن کے علاوہ معاشیات میں بھی گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ وہ13 مئی 1899ء کو اوریئنٹل کالج لاہور میں میکلوڈ عریبک ریڈر مقرر ہوئے۔ ان فرائض منصبی کے علاوہ انھوں نے تاریخ'پولیٹیکل اکانومی پڑھانے کے علاوہ کئی ایک کتب کا اردو ترجمہ بھی کیا۔ حیرت کی بات ہے کہ ان فرائض منصبی کی بجاآوری میں علامہ محمد اقبال نے درس و تدریس کے ساتھ ساتھ فاؤسٹ  (Faust)کی پولیٹیکل اکانومی اور واکر(Walker) کی پولیٹیکل اکانومی کا اردو ترجمہ بھی کیا۔ بنیادی طور پر اقبال اسلامی فکر و فلسفہ پر متوجہ رہے لیکن روز مرہ زندگی کے معاشی مسائل سے بھی غافل نہ رہے ۔
 شعر و سخن کا خزینہ رکھنے کے باوجوداقبال نے شعری مجموعہ مرتب کرنے کے بجائے پہلے '' علم الاقتصاد '' لکھنے کی طرف زیادہ توجہ دی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شکم کی ضروریات شعر گوئی سے پوری نہیں ہو سکتیں ۔ ان کی کتاب ''علم الاقتصاد'' 1904ء میں منظر عام پر آئی ۔ انھوں نے اپنے استاد گرامی پر وفیسر آرنلڈ کی تحریک پر یہ کتاب تحریر کر کے مسلمانوں کو اقتصادی طور پر مربوط اور فعال ہونے کی دعوت دی ۔اقبال اور مزدور ایک اہم موضوع ہے جس کے بارے میں اقبال کی شاعری اور نثر میں بہت کچھ مل جاتا ہے ۔ اقبال کی ''علم الاقتصاد '' محنت ، زمین ، آبادی ، منصوبہ بندی ، افراط ِزر ، بچت ،سرمایہ داری، جاگیرداری،تقسیمِ سرمایہ اور ٹیکس کے گرد گھومتی ہے ۔ اقتصادی پہلو سے صرفِ نظر کرنا بہت بڑی قومی غلطی ہے۔ علامہ محمد اقبال اسلام کے معاشی نظام کے حوالے سے مختلف تقریروں،خطوط اور مضامین میں اس کا اظہار کرتے رہے ۔ ایک اقتباس مشت نمونہ از خروارے : 
'' میری قوت و جستجو تو صرف اس چیز پر مرکوز رہتی ہے کہ ایک جدید معاشرتی نظام تلاش کیا جائے او رغالباً یہ ممکن معلوم ہوتا ہے کہ اس کوشش میں ایک ایسے معاشرتی نظام سے قطع نظر کر لیا جائے جس کا مقصد وحید ذات پات ، رتبہ و درجہ ، رنگ و نسل کے تمام امتیازات کو مٹا دینا ہے ۔ ''(سید مسعود عالم ندوی کے نام اقبال کا ایک خط ) 
خطبہ الٰہ آباد علامہ اقبال کی گہری سوچ کا آئینہ دار ہے ۔ وہ مسلمانوں کے فکری و معاشی حالات پر گہری نظر رکھتے تھے ۔ انھوں نے اس خطبے میں بھی معاشی ترقی کو مسلمانوں کے لئے لازمی قرار دیا ۔ڈاکٹر علامہ اقبال محسوس کرتے تھے کہ مسلمانوں کی ڈگمگاتی کشتی کو قائد اعظم محمد علی جناح ہی منزل مقصود تک پہنچا سکتے ہیں۔  دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ اقبال نے قائد اعظم کو مسلمانوں کے اقتصادی بحران سے بھی آگاہ رکھا ۔ وہ اپنے ایک خط میں لکھتے ہیں :
''روٹی کا مسئلہ روز بروز شدید تر ہو تا جا رہا ہے ۔ مسلمان محسوس کر رہے ہیں کہ گزشتہ سو سال سے ان کی حالت مسلسل گرتی چلی جا رہی ہے ۔ مسلمان سمجھتے ہیں کہ ان کے افلاس کی ذمہ داری ہندو کی ساہو کاری و سرمایہ داری پر عائد ہوتی ہے لیکن یہ احساس کہ ان کے افلاس میں غیر ملکی حکومت بھی برابر کی حصہ دار ہے اگرچہ ابھی قوی نہیں ہوا لیکن یہ نظریہ بھی پوری قوت و شدت حاصل کر کے رہے گا ۔ ''( قائد اعظم کے نام خط  28 مئی 1937 ء )               
 قائد اعظم محمد علی جناح کے نام اپنے خطوط میں اقبال اپنے معاشی نظریات کا اظہار کرتے رہے ۔ اسلام کے معاشی نظام کے مطابق نظامِ سیاست کے رموز سمجھانے کے لئے اقبا ل نے اپنے خطوط کا سہارا لیا ۔ اقبال کے معاشی نظریات کا مطلب یہ ہے کہ وہ عوام کے معاشی اور سیاسی دونوں طرح کے حقوق کا تحفظ چاہتے ہیں۔ آپ ایک ایسے معاشرے کو ذہن میں لائیے جو انسانی برادری اور برابری پر قائم ہو، جس کی معیشت انصاف پر اور جس کی سیاست عطائے حقوق پر مبنی ہو جس میں غریبی اور جہالت نہ ہو۔ جہاں افراد کی روحانی یا ذہنی اور جسمانی صحت کا خیال رکھا جائے۔
''کوئی ملک اپنے سیاسی حقوق حاصل نہیں کر سکتا جب تک کہ اس کے اقتصادی حالات درست نہ ہو جائیں ۔ ہمارے اہل رائے سیاسی آزادی پکارتے ہیں مگر کوئی اس بار یک نکتے کی طرف توجہ نہیں کرتا کہ سیاسی آزادی کی شرائط میں سب سے پہلی شرط کسی ملک کا اقتصادی دوڑ میں سبقت لے جانا ہے۔'' (انوارِ اقبال … مرتبہ۔  بشیر احمدڈار  ص  26)      
 یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ کوئی بھی ملک اس وقت تک اپنے سیاسی حقوق مکمل طور پر حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے جب تک کہ اس کے اقتصادی حالات ٹھیک نہ ہو جائیں ۔ مذکورہ اقتباس میں اقبال نے بھی اسی بات پر زور دیا ہے کہ ملک کے سیاسی حالات کو درست کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے اقتصادی حالات بھی درست ہوں وگرنہ وہ ملک سیاسی حقوق حاصل کرنے میں ناکام رہے گا۔ علامہ محمد اقبال دور اندیش اور درویش صفت انسان تھے وہ لوگوں کی نفسیات اور معاشیات کو بڑی باریک بینی سے دیکھتے تھے اور اس کے حل کے لئے بھی کوشاں رہے ۔ اُنھوں نے اس مسئلے کے حل کے لئے نہ صرف خطوط لکھے ،بلکہ اپنے کئی مضامین اور اشعار میں اس کا ذکر بھی کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ زرعی ، پیداواری اور صنعتی اعتبار سے ماہر معاشیات ان کی کتاب '' علم الا اقتصاد '' سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں ۔اقبال چونکہ اسلامی فکر و فلسفہ کے حامل تھے اس لئے ان کے معاشی نظریات اسلامی فکر سے ہم آہنگ ہیں۔اسلام دولت کمانے کی ممانعت نہیں کرتا بلکہ اس کے غلط حصول کی مذمت کرتا ہے ۔ تاجدار کائنات ۖ کی شریک سفرحضرت خدیجة الکبریٰ   اور خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی  کے پاس دولت و ثروت کی فراوانی تھی لیکن انھوں نے یہ سب سرمایہ راہ ِحق پر قربان کر دیا ۔انسان کا حقِ ملکیت اُتنی زمین پر ہے جتنی وہ آباد رکھ سکے۔ اس کی سب بڑی مثال حضرت عمرِ فاروق کی ہے جنھوں نے حضرت بلال  سے اُتنی زمین واپس لے لی جتنی اُن کے قبضے میں آباد کاری سے فارغ تھی۔ شریعت کا مقصد یہی ہے کہ کوئی محتاج نہ رہے۔ وہ اپنے پاس اُتنی زمین رکھے جتنی آباد کرنے کی سکت رکھتاہے ۔ اقبال  نے قرآن ِ پاک کے احکامات کے مطابق دولت جمع نہ کرنے کی تبلیغ کی ہے ۔ اشتراکیت و ملوکیت ، ساقی نامہ ، ابلیس کی مجلسِ شوریٰ، خضرِ راہ اور کئی مقامات پر اقبال نے زمین کی تقسیم کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے ۔ اقبال سمجھتے ہیں کہ زمین کا مالک اللہ تعالیٰ ہے ۔ انسان اُس کا امین ہے ۔ اقبال اپنی نظم '' الارض للہ'' میں فرماتے ہیں : 
پالتا ہے بیج کو مٹی کی تاریکی میں کون؟
کون دریائوں کی موجوں سے اٹھاتا ہے سحاب؟
دہِ خدایا! یہ زمیں تیری نہیں، تیری نہیں!
تیرے آباء کی نہیں، تیری نہیں، میری نہیں!
اِن اشعار سے بھی ظاہر ہوتاہے کہ ہماری ترقی کا راز اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ زمین کو آباد کرنے میں مضمر ہے ۔ انسان محنتِ شاقہ سے اِسے آباد کرتاہے۔ ڈاکٹر علامہ اقبال نقادِ حیات کی حیثیت رکھتے تھے ۔ انھوں نے امت مسلمہ کوحلال وحرام کے فرق کی وضاحت بھی کی ہے ۔ رزقِ حلال میں سراسر برکت اور رزقِ حرام معاشرتی بگاڑ اور تباہی کا باعث ہے ۔ برعظیم پاک و ہند میں مسلمانوں کی معاشی ناگفتہ بہ حالت کے پیش نظر علامہ اقبال نے مسلمانوں کی معاشی طور پر رہنمائی کی ۔ اقبال لکھتے ہیں :   
'' دولت ، اگر ہمارے افضل ترین مقاصد کے حصول میں ہمیں مدد نہیں دے سکتی تو پھر اس کا کیا فائدہ ۔ '' (علم الا قتصاد ، ص 21)              
اقبال کے نزدیک دولت ہماری ضرورت ہے ، مجبوری نہیں ۔ دولت کا مقصد ضروریاتِ زندگی کی تکمیل ہے ۔ عیش و نشاط نہیں ۔ وہ لوگ جو پیسے کو عیاشی کی خاطر لٹاتے ہیں، وہ معاشرتی زندگی پر بوجھ بنتے ہیں۔ علاوہ ازیں اقبال نے بہبودِ آبادی پر بھی زور دیا۔ اقبال کا یہ کہنا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کا تدارک قدرت قحط اور وبا سے کرتی ہے مگر اس کے لئے ہمیں خود بھی کچھ تدابیر اختیار کرنی چاہئیں ہر کام کو قدرت پر چھوڑ دینا بھی ٹھیک نہیں ہے ۔ اس لئے ضروری ہے کہ بچپن کی شادیوں اور ازدواج کی تعداد میں کمی رکھیں تو بھی اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے ۔ یہی وہ بنیادی نقطہ ہے جس پر کسی بھی ملک کی اقتصادیات بہتر ہو سکتی ہیں ۔ جب کسی ملک کی اقتصادی حالت درست ہوتی ہے تو اس کے سیاسی حالات بھی بہتر ہونے لگتے ہیں ۔ مفلسی سے کئی جرائم بھی پیدا ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے ۔ اقبال نے معاشی اور اقتصادی نظریات کا خلاصہ اپنے ایک مضمون ''قومی زندگی '' میں بھی پیش کیا ہے ۔ مفکر ِ اسلام نے ترقی یافتہ ممالک خصوصاً جاپان کے معاشی انقلاب کو مشعل راہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ 
ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے اقتصادی نظریات کا بہ نظرِ غائر مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ انسان کی ترقی ، فلاح و بہبود اور اجتہادی فکر کے حامل نظریات کے تھے ۔ وہ کسی ایک وقت یا کسی ایک پیریڈ کے لئے نہیں سوچ رہے تھے بلکہ ان کی سوچ عالمگیر یت کا درجہ رکھتی تھی- وہ انسان کی اقتصادی ضروریات کو آنے والے وقت کے لئے بھی ضروری خیال کرتے تھے ۔یہی وجہ ہے کہ اقبال کے اقتصادی نظریات کو آج کے دور میں بھی دیکھا جائے تو وہ ہمارے معاشی مسائل کے حل کے راستے کشادہ کرنے کی دعوت دیتے ہیں ۔ اقتصادیات کا علم سیکھنے کی تلقین بھی مفلسی کے خلاف جہاد کی دعوت ہے ۔ آج دولت کی تقسیم کا نظام فکرِ اقبال کے برعکس ہے ۔ عدم مساوات نے طبقاتی جنگ کو ہوا دی ہے ۔ ڈاکٹر علامہ اقبال کے زمانے میں مارکس ازم ، سوشل ازم،کیپٹل ازم اور دیگر اقتصادی نظریات کا چرچا تھا۔ اقبال نے خوابیدہ مسلمانوں کو پسماندگی دور کرنے کی دعوت دی۔ 
 ڈاکٹر محمد اقبا ل محنت ، مزدوری ، سرمایہ اور اقتصادی پہلوؤں کے ضمن میں اشتراکیت کا نام تو نہیں لیتے لیکن ان کے پیغام میں بھی طرزِ تکلم ملتا جلتا ہے ۔ علامہ اقبال کی بہت سی منظومات میں '' مساوات شکم '' کا تصور ملتا ہے ۔ان کا انداز مغربی مفکرین سے جدا ہے ۔ انھوں نے ایک مسلمان کی حیثیت سے غربت کے خلاف آواز بلند کی ہے ۔ عصر حاضر میں مسلمانوں کی اقتصادی حالت فکر اقبال کی روشنی میں بہتر کی جا سکتی ہے ۔ غربت بہت سے مسائل پیدا کرتی ہے ۔ غربت کی وجہ سے جرائم پروان چڑھتے ہیں ۔بڑھتی ہوئی آبادی نے لاتعداد رکاوٹیں حائل کر دی ہیں۔ پاکستان ہی کو لیجئے،تیس لاکھ بچے سالانہ پیدا ہو رہے ہیں۔ ان کی ضروریات پوری کرنے کے لئے وسائل کہاں سے آئیں گے ۔ سائنس نے سبک رفتاری سے ترقی کر لی ہے ۔ وہ کام جو سو مزدور مل کر مہینوں میں کرتے تھے، آج مشینری کی وجہ سے چند مزدور گھنٹوں میں انجام دیتے ہیں ۔ اس ترقی نے بے روزگاری کا راستہ ہموار کیا ہے ۔ فٹ پاتھوں ، ریلوے سٹیشنوں اور مختلف پارکوں میں شب ِزندگی گزارنے والے عام نظر آتے ہیں ۔ 
 ڈاکٹر محمد اقبال مغرب کے علوم و فنون کو گردشِ وقت کے لئے ضروری سمجھتے تھے لیکن اسلامی تعلیمات کو زندگی کی اساس قرار دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی اسلامی تعلیمات کی روشنی میں محنت' مزدوری اور مشقت کا چارٹر پوری دنیا میں زندہ ہے۔روشن خیالی اور اعتدال پسندی کا نعرہ لگاتے ہوئے ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ہم ایک ضابطہ ٔحیات کے گرد گھومتے ہیں۔
معاشرتی زندگی میں یوں تو ہر شخص مزدور ہے لیکن خون پسینہ بہا کر زلف روزگار سلجھانے والا' اپنی محنت سے جوئے شیر لانے والا' سنگلاخ چٹانیں توڑنے والا' قافلے لٹا کر منزل کو سینے سے لگانے والا اور دھوپ میں جل کر دوسروں کو چھائوں بخشنے والا حقیقی مزدور کہلاتا ہے۔ اس کی اہمیت مسلمہ حقیقت ہے۔ کوئی بھی معاشرہ دستکار کے تعاون کے بغیر خوش حال نہیں ہوسکتا ۔ حتیٰ کہ معاشرتی ترقی کا دارومدار مزدور کی محنت سے وابستہ ہے۔ دنیا کے تمام مذاہب میں محنت کرنے کی تلقین کی گئی ہے لیکن اسلام نے مزدور کی عظمت کا اعتراف جس انداز سے کیا ہے'وہ عالمگیر حقیقت ہے۔ اسلام سرمایہ کی مخالفت نہیں کرتا بلکہ مادیت میں گم ہوکر روحانیت کو بھول جانے کا مخالف ہے۔ اسلام میںمادی ترقی کے ساتھ ساتھ روحانی اقدار کی ترقی اور احیا لازم و ملزوم ہیں۔ تاجدارِ عرب و عجمۖ ،غرباء کے ماحول میں رہے اور دعا مانگتے رہے کہ قیامت میں بھی وہ غریبوں کی صف میں کھڑے ہوں۔
مغربی مفکرین کایہ خیال بالکل غلط ہے کہ مغرب نے مزدور کی عظمت کا اعتراف کیا ہے۔ اسلام واحد مذہب ہے جو مزدور اور آجر کے حقوق و فرائض کا تعین کرتا ہے ۔ آنخصورۖ نے فرمایا'' مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی مزدوری ادا کرو اور کسی کو کام پر لگا نے سے پہلے اس کی اجرت بتا دو ''۔ قرآن و حدیث میں محنت کو عبادت کا درجہ دیا ہے۔ حضور اکرم ۖ خود محنت کیا کرتے تھے اور دوسروں کو محنت کرنے کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔
 ڈاکٹر علامہ اقبال چونکہ شاعر انقلاب تھے اس لئے وہ لفظوں کے ذریعے عروق مردہ میں خون زندگی دوڑانے کا فن جانتے تھے۔ وہ انصاف اور مساوات کے علمبردار تھے۔ ان کے نزدیک انسانی رفعت محنت میں مضمر ہے۔ محنت کی قدر اور معاشی خوشحالی کے پیغامات کی وجہ سے کئی ناقدین انھیں اشتراکیت پسند شاعر بھی کہتے ہیں لیکن وہ معاشی خوش حالی کی خاطر ''خودی'' فروخت کرنے کی اجازت نہیں دیتے ۔ فرماتے ہیں:
بندۂ مزدور کو جا کر مرا پیغام دے
خضر کا پیغام کیا، ہے یہ پیام کائنات 
اے کہ تجھ کو کھا گیا سرمایہ دارِ حیلہ گر 
شاخ آہو پر رہی صدیوں تلک تیری برات 
علامہ اقبال اشتراکیت کے حامی نہ تھے۔وہ دولت جمع کرنے ' جاگیر داری ' سرمایہ داری اور استحصال کے خلاف تھے۔
تدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتا
جہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہے 
حکومت کا فرض ہے کہ وہ محنت کش مزدوروں کی بحالی کے لئے ہر ممکن کوشش کرے۔ ملکی ترقی ' صنعتی ترقی وانقلاب اور معاشی خوش حالی کا راز مزدور کی خوش حالی سے وابستہ ہے۔ دنیا میں خوش حالی کا دور دورہ کرنے کے لئے اپنی سرگرمیوں کو تیز کریں ۔ڈاکٹر علامہ اقبال مزدور کے لئے دعا گو ہیں:
تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں 
ہیں تلخ بہت  بندۂ  مزدور کے اوقات 
کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ ؟
دنیا ہے تری منتظرِ روزِ مکافات 
 سرمایہ کاری اور سرمایہ داری مغربی دنیا کے اہم مقاصد ہیں۔ سودی نظام نے مشرقی معیشت کو بہت نقصان پہنچایا ہے ۔ ''ربا''کی وجہ سے رزق میں برکت کم ہو چکی ہے ۔ اقبال فرماتے ہیں :
از ربا آخر چہ می زاید؟ فتن!
کس نہ داند لذتِ قرضِ حسن 
از ربا جاں تیرہ، دل چوں خشت و سنگ 
آدمی درندہ بے دندان و چنگ!
فکرِ اقبال کا تجدیدی معاشی پہلو آج کے معاشی مسائل کا حل ہے ۔ دنیا نہ جانے کیوں دولت کے پیچھے بھاگ رہی ہے ۔ مادہ انسان کو در گور کر دیتا ہے ۔آج کے معاشی حیوان کے سامنے روح کی پاکیزگی دھیر ے دھیرے دم توڑ رہی ہے ۔ زمینداری ، جاگیرداری اور سرمایہ داری رجحان نے دل کی موت کا راستہ ہموار کر دیا ہے ۔ دنیا بھر کے ہسپتالوں میں زیرِ علاج سرمایہ دار اپنی ہی دولت کی وجہ سے ذہنی توازن کھو رہے ہیں ۔ دولت انسان کو آسودگی تو دے سکتی ہے لیکن ذہنی سکون مہیا نہیں کر سکتی ۔ سرمایہ دار کے بارے میں اقبال کہتے ہیں:
کرتا ہے دولت کو ہر آلودگی سے پاک و صاف 
منعموں کو مال و دولت کا بناتا ہے امیں!
اس سے بڑھ کر اور کیا فکر و عمل کا انقلاب 
پادشاہوں کی نہیں، اللہ کی ہے یہ زمیں
 مفکر اسلام او رمصور ِپاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے معاشی نظریات آج بھی ہمار ے لئے قابل تقلید و عمل ہیں ۔ معاشی نظریات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے علم الاقتصاد کا مطالعہ ا ز بس ضروری ہے ۔


مضمون نگار متعدد ادبی و تحقیقی کتابوں کے مصنف ہیں اور قومی اخبارات کے لئے بھی لکھتے ہیں۔
[email protected] 

یہ تحریر 112مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP