بیاد اقبال

علامہ اقبال کے افکار ونظریات 

علامہ محمداقبال ایک ایسے مفکر کانام ہے جن کی زبان سے ادا ہونے والے ایک لفظ نے پوری دنیا کے فلسفہ کو حیرت واستعجاب کے بحرِ بے کراں میں غوطہ زن ہونے پر مجبورکردیا۔ اس ایک لفظ ہی نے انھیں عرب وعجم میں امامِ فلسفہ کے منصب پرفائز کیا۔ یہ لفظ اور یہ فلسفہ''خودی'' کہلاتا ہے۔ کہنے کویہ ایک لفظ ہے مگراس کی تشریح وتوضیح میں سیکڑوں کتابیں وجود میں آچکی ہیں اور ہنوزیہ سلسلہ جاری ہے۔ 


اقبال نے خودی کانظریہ قرآنِ پاک میں موجود تصورِ آدم سے لیا ہے۔ یہی تصورِ آدم، عظمتِ آدم کی طرف رہنمائی کرتاہے اوراس حدیثِ قدسی کی تفسیر بن جاتا ہے جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا، اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔

اقبال کے نزدیک خودی انسان کو عظیم اور طاقتور بناتی ہے۔ غیراللہ سے رشتہ توڑ کر خدائے واحدسے تعلق جوڑتی ہے۔ انسان کو ہردنیاوی سہارے سے بے نیاز کرکے صرف اورصرف اللہ کامحتاج اور اسی کے سہارے کاامیدوار بنادیتی ہے۔


ع:   لکھی جائیں گی کتابِ دل کی تفسیریں بہت 
علامہ اقبال کے نزدیک
ع: خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارا نہیں۔
 اپنے اس فلسفے کی وضاحت کرتے ہوئے اقبال نے فرمایا کہ اپنی پہچان کے ذریعے اپنے خالق کی پہچان کانام خودی ہے۔خودی کی اپنی ایک کائنات ہے اور کائنات کی اپنی خودی ہے۔ خودی کالفظ اقبال سے پہلے بھی استعمال ہوا ہے ۔اُردو کے ابتدائی شعراء میں ولی دکنی نے یوں بیان کیا ہے۔ 
خودی سے اولاً خالی ہو اے دل!
اگر اس شمعِ روشن کی لگن ہے 
گویا ولی نے خودی کو تکبرکی علامت قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کردیا جبکہ اقبال نے خودی کانظریہ قرآنِ پاک میں موجود تصورِ آدم سے لیا ہے۔ یہی تصورِ آدم، عظمتِ آدم کی طرف رہنمائی کرتاہے اوراس حدیثِ قدسی کی تفسیر بن جاتا ہے جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا، اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔ 
اقبال کے نزدیک خودی انسان کو عظیم اور طاقتور بناتی ہے۔ غیراللہ سے رشتہ توڑ کر خدائے واحدسے تعلق جوڑتی ہے۔ انسان کو ہردنیاوی سہارے سے بے نیاز کرکے صرف اورصرف اللہ کامحتاج اور اسی کے سہارے کاامیدوار بنادیتی ہے۔
ہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھ 
غالب و کار آفریں، کار کشا، کارساز 
انسان کی خودی مضبوط ہوتی ہے تودنیاکی کوئی طاقت اس کے سامنے نہیں ٹھہرسکتی، وہ صرف اللہ اکبر پریقین رکھتا ہے، وہ کائنات کواس نظرسے دیکھتاہے کہ یہ کائنات اللہ نے اسی کے لیے بنائی ہے اور وہی اس کامالک ومختار ہے، یعنی جوچیزیں خدا کی ہیں، خدا کانائب ہونے کے ناتے اسے بھی اِن پراختیارحاصل ہے۔
خودی کی خلوتوں میں کبریائی 
خودی کی جلوتوں میں مصطفائی 
زمین و آسمان و کرسی و عرش 
خودی کی زد میں ہے ساری خدائی 
یعنی خودی کالفظ جو منفی مطالب میں استعمال ہوتاتھا، اقبال نے اس کا مفہوم تبدیل کردیااور وہ انتہائی مثبت معنوں میں استعمال ہونے لگااورایک عظیم شاعراورمفکر کے فلسفے کاعنوان بن گیا۔ اس نظریے کی روشنی میں انسان نہ صرف اپنے خالق کی پہچان کرنے کے قابل ہوگیابلکہ اپنے خالق کاخلیفہ بھی بن گیا ۔
تُو رازِ کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جا
خودی کا راز داں ہو جا خدا کا ترجماں ہو جا
خودی میں ڈوب جا غافل یہ سرِ زندگانی ہے 
نکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جا
علامہ اقبال کے فکر اور فلسفہ کا محور ایک اورلفظ بھی ہے جسے ''عشق '' کہتے ہیں۔ انھوں نے انتہائی مبتذل معنوں میں استعمال ہونے والے اس لفظ کو بھی انتہائی عظیم معنی عطا کردیے۔ اقبال سے پہلے اس لفظ کااستعمال آپ ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ میرتقی میر کے ہاں دیکھیے۔
سخت کافر تھا جس نے پہلے میر
مذہبِ عشق اختیار کیا 
میرکے علاوہ بھی باقی شعرا نے عشق کالفظ قریباًقریباً انھی معنوں میں استعمال کیا ہے۔ مثلاًغالب کو دیکھیے: 
عشق نے غالب نکما کردیا 
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے 
اب ہم دیکھتے ہیں کہ علامہ اقبال نے اس لفظ کو کس طرح استعمال کیا۔ دوسرے شعرا کے نزدیک ایک مبتذل لفظ کواقبال نے زمین سے اٹھایااور آسمان کی بلندیوں تک پہنچادیا۔ انھوں نے اس لفظ کے معنی تبدیل کردیے۔ دیکھیے اس شعر میں :
قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کردے
دہر میں اسمِ محمدۖ سے اُجالا کردے 
اپنے فکرِ بلند تک پہنچانے کے لیے انھوں نے لفظوں کو بھی بلندکیا۔ دنیا میں بہت کم شاعر ایسے ہیں جنھوں نے اپنے فکر کے مطابق الفاط کاانتخاب کیااورایسے شاعر تو نہ ہونے کے برابر ہیں کہ ان کے افکار کی تشریح کے لیے موجودہ لغت میں ایسے الفاظ ہی نہ مل سکیں۔ فکر سے مطابقت کے لیے انھوں نے نئے الفاظ وتراکیب ایجاد کیں اوراس سے بھی بڑھ کر پرانے الفاظ کونئے معنی کالباس پہنادیا۔ یہ کام کوئی اور نہیں کرسکااور نہ ہی کسی کے بس کی بات ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کسی بھی شاعر کے کلام میں جب کوئی مشکل لفظ آئے تو ہم لغات سے اس کے مطالب تلاش کرتے ہیں مگراقبال کے معاملے میں ہم ایسا نہیں کرسکتے۔ اقبال کے مطالب دیکھنے کے لیے نئی فرہنگیں ترتیب دینی پڑتی ہیں۔ اقبال نے اپنے چمکتے ہوئے افکار اورنظریات کا مآخذ قرآنِ پاک اور حدیثِ نبوی کو بنایا تاکہ انسانوں کی رہنمائی کاسلسلہ جاری رہ سکے۔ اقبال فرماتے ہیں: 
صفتِ برق چمکتا ہے مرا فکرِ بلند 
کہ بھٹکتے نہ پھریں ظلمتِ شب میں راہی 
اقبال کے نظریات اوران کا فکروفلسفہ ہمیشہ کے لیے باعثِ رہبری ہے۔ اس پرعمل کی معمولی سی جھلک ایک عظیم مملکتِ خداداد کے قیام کا باعث بنی۔ ان کے آفاقی افکار ونظریات بے پناہ معنویت اور وسعت کے حامل ہیں۔ ان کی شرح وتعبیر کے لیے وقت کی فراوانی اور ہزاروں صفحات درکار ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے صرف ایک فکری پہلو''خودی'' پرلکھاجانے والا مواد سیکڑوں کتابوں پرمحیط ہے۔ ان کے فکر کے باقی پہلوؤں کا بھی یہی عالم ہے۔ ان پر جتنا لکھاجائے کم ہے۔ ہمیں صرف اتنا سمجھناچاہیے کہ ان کے افکارونظریات ،ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ہم ان کی روشنی میں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کوعظمت آشناکرسکتے ہیں۔ اپنے ملک اور قوم کومضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ بناسکتے ہیں۔ گویااقبال کا کلام اور پیامِ عمل ہمارے لیے باعثِ فلاح ہے: 
میں شاخِ تاک ہوں میری غزل ہے میرا ثمر 
مرے ثمر سے مئے لالہ فام پیدا کر 
مرا طریق امیری نہیں فقیری ہے 
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر ||


 مضمون نگار  اُردو ادب و تحقیق کا ایک معروف نام ہیں وہ وفاقی اُردو یونیورسٹی کے شعبۂ اُردو کے سربراہ کے طور پر بھی خدمات دیتے رہے ہیں۔
[email protected]


 

یہ تحریر 109مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP