قومی و بین الاقوامی ایشوز

عدالتی فیصلوں کی پابندی:ایک دینی ذمہ داری   

دور جدید میں ریاست تقسیم کار کے اصول پر قائم ہوئی ہے۔ اب اقتدار کسی فرد واحد یا ایک ادارے کے پاس نہیں بلکہ اسے کئی مراکز میںتقسیم کر دیا گیا ہے، جیسے ایک پارلیمانی نظام ہے۔ اس کے تین مراکزیا ستون تسلیم کئے جاتے ہیں۔ مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ۔ ایک کی ذمہ داری قانون سازی ہے۔ ایک اس کے نفاذکاذمہ دار ہے اور ایک جگہ وہ ہے جہاں اس کی تعبیر و تشریح  ہوتی ہے اور نفاذ کے باب میں کوئی کوتاہی ہویا کسی کی حق تلفی ہوئی ہو تو سزا کا تعین ہوتا ہے یعنی عدالت۔ قرآن مجید میں جس اولی الامر کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے، وہ دراصل ان تین دائروں میں منقسم ہے۔ اﷲ تعالیٰ کی ہدایت کا منشاء  ہے کہ ان تینوں کی اطاعت کی جائے اور ان کی اس حیثیت کو قبول کیا جائے جو نظم اجتماعی نے ان کے لئے متعین کر دی ہے۔

کیا ایک مسلمان یہ باور کر سکتا ہے کہ خلیفۂ راشد، دامادِ پیغمبر سیدنا علی  ،محض ایک زرہ کے لئے عدالت کے روبرو غلط بیانی کریں گے؟

 یقیناً نہیں!  ا س بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ اس کے باوجود جب سیدنا علی اپنا مقدمہ عدالت میں پیش کرتے ہیں اور ایک زرہ کا دعویٰ کرتے ہیں تو عدالت اسے مسترد کر دیتی ہے۔ خلیفہ راشد اس فیصلے کو قبول کر لیتے ہیں۔ اس کا یہ مفہوم ہرگز نہیں ہو سکتا کہ قاضی کو سیدنا علی کے بارے میں یہ گمان تھا کہ وہ ایک غلط دعویٰ کر رہے ہیں۔ قاضی نے عدالت میں پیش کی گئی شہادتوں کو دیکھنا ہوتا ہے،اپنے گمان کو نہیں۔ حضرت علی نے جب اپنے مقدمے کے حق میں اپنے بیٹے سیدنا حسن کی گواہی پیش کی ، جس کی صداقت کے بارے میں دوسری رائے نہیں ہو سکتی تو عدالت نے محض اس قانونی نکتے کے پیش نظر اسے مسترد کر دیا کہ عدالت میں باپ کے حق میں بیٹے کی شہادت قبول نہیں۔خلیفہ راشد نے اس عدالتی حکم کے سامنے سرِتسلیم خم کر دیا۔

یہ واقعہ نظمِ اجتماعی یاحکومت اور شہری کے باہمی تعلق کے باب میں اسلام کی تعلیمات کو سمجھنے کے لئے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔خلافتِ راشدہ دراصل وہ رول ماڈل ہے، جس کے بارے میں تاریخی حوالے سے ثابت ہے کہ اسلام اپنی روح کے ساتھ اس زمین پر نافذ ہوا اور لوگوں نے ان برکات کو اپنی آنکھوں سے دیکھاجو اﷲ تعالیٰ کے احکامات کو تسلیم کرنے کے نتیجے میں،لازماً حاصل ہوتی ہیں۔

قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مسلمان کے لئے اطاعت کے تین مراجع ہیں۔ اﷲ، اﷲ کا رسول اور صاحبانِ امر( النسائ٤:٥٩)۔  صاحبانِ امر سے مراد وہ لوگ ہیں جنہیں مسلمانوں کے اجتماعی امور سونپے جائیں، یعنی اہلِ اقتدار وحکومت۔ ایک مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اپنے حکمرانوں کی اطاعت کرے ماسواان احکام کے جن میں اسے کوئی ایسا کام کرنے کو کہا جائے جو اﷲ کے احکام کے صریحاً خلاف ہو۔اس کا فیصلہ بھی وہی کر سکتا ہے جو احکامِ دین سے پوری طرح واقف ہو۔عام طور پرایک مسلمان حکومت سے اس بات کی توقع نہیں کی جاتی کہ وہ اپنے شہریوں کو کوئی ایسا حکم دے جو احکامِ الٰہی کے خلاف ہو۔ 

حکومت کے بعض فیصلے کسی شہری کے لئے نا پسندیدہ ہو سکتے ہیں لیکن دین کا حکم یہ ہے کہ اس ناپسندیدگی کے باوجود انہیں تسلیم کیا جائے تاکہ نظمِ اجتماعی کسی انتشار کا شکار نہ ہو۔ انتشار سے فساد پھیلتا ہے جو اﷲ کے نزدیک قتل سے بڑا جرم ہے۔ رسالت مآبۖ کا ارشاد گرامی ہے : '' تم پر لازم ہے کہ اپنے حکمرانوں کے ساتھ سمع و اطاعت کا رویہ اختیار کرو، چاہے تم تنگی میں ہو یا آسانی میں اور چاہے یہ رضا و رغبت کے ساتھ ہو یا بے دلی کے ساتھ اور اس کے باوجود کہ تمہارا حق تمہیں نہ پہنچے۔'' ( صحیح مسلم )۔


پاکستان کے آئین میں اسلام کوریاست کا مذہب مانا گیا ہے اور قرآن وسنت کے خلاف قانون سازی کی ممانعت کر دی گئی ہے۔اس کے بعد ایک مسلمان شہری کی یہ دینی ذمہ داری ہے کہ عدالتوں کے دیئے ہوئے فیصلے کی پابندی کرے۔ یہ فیصلہ کسی کے نزدیک غلط ہو سکتا ہے اور وہ اس  سے اختلاف کا اظہار بھی کر سکتاتاہم اس کو تسلیم کر نا ہر شہری پر لازم ہے۔اس کے انکار کا مطلب خود کو' الجماعت'  یا 'السلطان'سے الگ کرنا ہے اور اس کے خلاف بغاوت ہے۔

اقتدار ،حکومت یا نظمِ اجتماعی کی نوعیت سماجی ارتقاء کے ساتھ تبدیل ہوتی رہی ہے۔ کبھی یہ فردِ واحد کے اختیار کا نام ہے اورکہیں ایک منتخب  پارلیمنٹ کا۔ کہیں یہ سلطنت کی صورت میں متشکل ہوتی ہے اور کہیں قومی ریاست کے عنوان سے۔کسی جگہ صدارتی نظام ہے اور کہیں پارلیمانی۔ اسلام کی ہدایت نظمِ اجتماعی کے اتباع کی ہے،اس کی صورت جو بھی ہو۔ اﷲ کے آخری رسول سیدنا محمدۖ  نے اسے کہیں '' الجماعت '' کہا اور کہیں '' السلطان''۔

دور جدید میں ریاست تقسیم کار کے اصول پر قائم ہوئی ہے۔ اب اقتدار کسی فرد واحد یا ایک ادارے کے پاس نہیں بلکہ اسے کئی مراکز میںتقسیم کر دیا گیا ہے، جیسے ایک پارلیمانی نظام ہے۔ اس کے تین مراکزیا ستون تسلیم کئے جاتے ہیں۔ مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ۔ ایک کی ذمہ داری قانون سازی ہے۔ ایک اس کے نفاذکاذمہ دار ہے اور ایک جگہ وہ ہے جہاں اس کی تعبیر و تشریح  ہوتی ہے اور نفاذ کے باب میں کوئی کوتاہی ہویا کسی کی حق تلفی ہوئی ہو تو سزا کا تعین ہوتا ہے یعنی عدالت۔ قرآن مجید میں جس اولی الامر کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے، وہ دراصل ان تین دائروں میں منقسم ہے۔ اﷲ تعالیٰ کی ہدایت کا منشاء  ہے کہ ان تینوں کی اطاعت کی جائے اور ان کی اس حیثیت کو قبول کیا جائے جو نظم اجتماعی نے ان کے لئے متعین کر دی ہے۔

 اس اطاعت کا لازمی نتیجہ عدالتی فیصلے کو قبول کرنا ہے جو دراصل ریاست ہی کی اطاعت ہے۔مسلم تاریخ کے ابتدائی دور میں حاکمِ وقت جسے خلیفہ کہتے تھے، وہی قاضی کے اختیارات بھی رکھتاتھا اور بعض اوقات الگ سے قاضی کا تقرر بھی کیا جا تا تھا۔ دورجدید میں ریاست یا نظمِ اجتماعی نے اپنا یہ اختیارپوری طرح عدلیہ کو تفویض کر دیا ہے۔ اب صدر اور وزیراعظم سمیت،عدالت کے فیصلوں کو تسلیم کرنا،سب کے لئے ایک دینی حکم ہے۔ قدیم دور میں جسے قاضی القضاة کہا جاتا تھا، دورِ جدید میں اب اسے چیف جسٹس کہا جاتا ہے۔ جدید نظمِ اجتماعی نے 'عدالت' کے اس اختیار کو بھی ایک نظم کے تابع کر دیا ہے۔ ایک سیشن کورٹ ہے جس کا فیصلہ ہائی کورٹ میں چیلنج ہو سکتا ہے۔ہائی کورٹ یا عدالتِ عالیہ کا فیصلہ سپریم کورٹ یا عدالتِ عظمیٰ میں چیلنج ہو سکتاہے۔سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی تسلیم کیا جاتا ہے۔

یہ ممکن ہے کہ عدالت کا فیصلہ ہماری توقعات کے خلاف ہو ۔ یہ ہو سکتا ہے کہ ہمارے نزدیک انصاف کے تقاضے پورے نہ ہوئے ہوں۔ اﷲ کے رسول ۖ کا حکم یہی ہے کہ رضا ہو یا بے دلی، ہمیں بہرحال اس فیصلے کو قبول کرنا ہے۔فیصلہ ہماری منشاء کے مطابق نہ ہو،تب بھی اسے ماننا ہے۔ہم اس کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار تو کر سکتے ہیں مگر اس کی اطاعت سے انکار نہیں کر سکتے۔ یہ اس اطاعتِ نظم کا ناگزیر نتیجہ ہے، ایک مسلمان جس کا پابند ہے۔ مسلمانوں میں قانون کی حکمرانی کی جو روایت مستحکم ہوئی ہے، اس کی اساس یہی حکم ہے۔ اس روایت کے مطابق ،حاکمِ وقت بھی اس کاپابند ہے کہ وہ عدالت کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کرے۔ قانون کی بالا دستی کو قبول کئے بغیر کسی ریاست کو اسلامی قرار دینا مشکل ہے۔

اسی طرح اسلام نے یہ قانون بھی واضح کر دیا کہ سزا دینا ریاست کا کام ہے۔ دورِ جدید کی تقسیم کو سامنے رکھیں تو یہ عدالت کا کام ہے۔ کوئی شخص یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ خود مدعی بنے، خود فیصلہ کرے اور پھر خود ہی سزا بھی نافذ کر دے۔ اسلام جس نظامِ عدل کی بات کرتا ہے ، اس میں حکمرانِ وقت کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ اپنا فیصلہ خود کرے۔ سیدنا علی کے معاملے میں ہم دیکھ چکے کہ کیسے وہ بھی اپنا دعویٰ لے کر عدالت کے پاس گئے۔ سیدناحضرت عمر کے دور کے ایسے واقعات بھی موجود ہیں کہ انہیں اپنا مقدمہ لے کر عدالت میں جانا پڑا۔

 اسلام کا معاملہ تو یہ ہے کہ وہ جہاد اور حدود کے نفاذ جیسے معاملات میں بھی ریاست ہی کو حق دیتا ہے کہ وہ کوئی فیصلہ کرے۔ قرآن مجید میں اس وقت تک جرم وسزا سے متعلق احکام نازل نہیں ہوئے جب تک مدینہ میں نظم ِاجتماعی قائم نہیں ہو گیا۔سزا کے نفاذ کاحکم دیاہی اس وقت جا سکتا ہے جب حکومت موجود ہو۔قرآن مجید میں مسلمانوں کو چور کا ہاتھ کاٹنے یابد کار کو کوڑے مارنے جیسے احکام دیئے گئے ہیں،ان کے بارے میںابوبکر جساس نے ''احکام القرآن '' میں لکھا ہے:

'' اہلِ علم میں سے جو شخص اس خطاب کو سنتا ہے،فوراً سمجھ لیتا ہے کہ اس کا مخاطب عام مسلمان نہیں،بلکہ ان کے حکمران(آئمہ) ہیں۔''

(جلد3،صفحہ283)

اسلام کا یہ حکم عقلِ عام کے مطابق ہے۔دنیا کا کوئی نظم اس وقت تک قائم نہیں رہ سکتا جب تک سب لوگ کسی اجتماعی نظم کی پابندی نہ کریں۔اس پابندی کو ختم کردیا جا ئے تو اس کا متبادل لاقانونیت ہے۔پھر ہر آدمی یہ اختیار رکھتا ہے کہ جس کو چاہے مجرم قرار دے اور سزا نافذ کر دے۔اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس کے بعد کوئی ریاست باقی نہیں رہ سکتی۔ایسی سرزمین پر جنگل کا راج ہو تا ہے۔یہی وجہ ہے کہ دنیا کا سیکولر نظم بھی اس اصول کو قبول کر تا ہے کہ جرم و سزا کا اختیار ریاست کے پاس ہو نا چاہئے اور سب کو اس کی پابندی کر نی چاہئے۔

ہمارے ملک میں بعض گروہ اور افراد قانون کو ہاتھ میں لیتے اور اسے دینی حمیت قرار دیتے ہیں۔وہ ان عدالتی فیصلوں کو قبول نہیں کرتے جو ان کی مرضی کے خلاف ہوں۔دین کے جید علما اس مؤقف کو مسترد کرتے اوراسے دینی احکام کے خلاف سمجھتے ہیں۔پاکستان کے تمام نمائندہ علماء اور دینی سکالرزنے جنوری2018ء میں ''پیغام ِپاکستان'' کے نام سے ایک دستاویز پر اتفاق کیا ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ جرم وسزا کے باب میں فیصلے کا حق ریاست اور عدالت کے پاس ہے۔ اس دستاویز میں بطورِ خاص ضابطہ فوجداری کی دفعات 295۔298 کا تذکرہ کیاگیا ہے جن کا تعلق مذہب یا مذہبی شخصیات کی توہین سے ہے۔ اس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ:''اگر ان قوانین کا کہیں غلط استعمال ہوا ہے تواس کے ازالے کی احسن تدبیر ضروری ہے مگر قانون کو کسی صورت میں کوئی فرد یا گروہ اپنے ہاتھ میں لینے اور متوازی عدالتی نظام قائم کرنے کا مجاز نہیں۔''

پاکستان کے آئین میں اسلام کوریاست کا مذہب مانا گیا ہے اور قرآن وسنت کے خلاف قانون سازی کی ممانعت کر دی گئی ہے۔اس کے بعد ایک مسلمان شہری کی یہ دینی ذمہ داری ہے کہ عدالتوں کے دیئے ہوئے فیصلے کی پابندی کرے۔ یہ فیصلہ کسی کے نزدیک غلط ہو سکتا ہے اور وہ اس  سے اختلاف کا اظہار بھی کر سکتاتاہم اس کو تسلیم کر نا ہر شہری پر لازم ہے۔اس کے انکار کا مطلب خود کو' الجماعت'  یا 'السلطان'سے الگ کرنا ہے اور اس کے خلاف بغاوت

ہے۔اسلام نے اسے سنگین جرم کہا ہے۔ 


 مضمون نگار معروف دانشور ،سینیئر تجزیہ نگار اور

کالم نویس ہیں۔ 

[email protected]

 

 

یہ کالم 76 مرتبہ پڑھا ہے

اس کالم پر اپنے خیالات تحریر کریں

Success/Error Message Goes Here
برائے مہربانی اپنے اکاؤنٹ میں لاگ ان کریں اور اس مضمون پر اپنے خیالات تحریر کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road Sadar, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-1617

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP