قومی و بین الاقوامی ایشوز

طور خم بارڈر کا نیا سٹیٹس، امن کی بحالی اور علاقائی ترقی

افغان امور کے ماہر ، ممتاز صحافی اور تجزیہ نگارعقیل یوسف زئی کی تحریر  

وزیراعظم عمران خان نے 18 ستمبرکو طورخم بارڈر کے ٹرانزٹ ٹریڈ مینجمنٹ سسٹم کا باقاعدہ افتتاح کیا جس کے نتیجے میں افغانستان اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار یہ اہم روٹ 24 گھنٹوں کے لئے کھلا رہے گا اور دوطرفہ ٹریفک اور تجارت کا سلسلہ اب دن کے علاوہ رات کو بھی جاری رہے گا۔ اس سسٹم کے قیام اور دیگر درکار سہولیات کی فراہمی پر16 ارب روپے کی لاگت آئی ہے جب کہ طورخم بارڈر پر امیگریشن کا جدید اور فعال نظام بھی متعارف کرایاگیا ہے۔ دوسری طرف پاک افغان ٹریڈ کو لیگل بنانے کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے تاکہ غیر قانونی  کاروبار اور سمگلنگ کاسلسلہ روکا جاسکے۔ اس سلسلے میں ایف بی آر، کسٹم، این ایل سی اور دیگر متعلقہ اداروں  نے نام نہاد اور جعلی بزنس فرمز اور کمپنیوں کی سکروٹنی کرکے تقریباً2000 کاروباری اداروں پر پابندی عائد کردی ہے۔ وزیرِ اعظم ہی نے جون2019 میں اعلان کیا تھا کہ طور خم بارڈر کو جلد 24گھنٹے سروس کے لئے کھول دیا جائے گا جس کو بعض حلقے ناممکن ٹاسک قرار دے رہے تھے مگر ان کی مسلسل دلچسپی اور فیڈبیک کے باعث اس ٹاسک کو ممکن بنایاگیا۔ اس موقع پر طور خم میں ایک سادہ مگر پُروقار تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں وزیراعظم کے علاوہ وزیرِ خارجہ  شاہ محمود قریشی ، وزیرِاعلیٰ کے پی کے محمود خان، گونر شاہ فرمان، متعدد وزراء ، منتخب اراکین اسمبلی اور اعلیٰ بیوروکریٹس سمیت بزنس کمیونٹی کے ارکان بھی شریک ہوئے۔ اس موقع پر وزیرِاعظم نے افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی سے ٹیلیفونک  رابطہ بھی کیا تاہم وہ پروان میں انتخابی ریلی میں شرکت اور اسی ریلی پر خود کش حملے کی صورت حال کے باعث تقریب میں نہیں آسکے۔ بہرکیف ایک افغان وفاقی وزیر اور ننگرہار کے والی نے تقریب میں شرکت کی اور اس اقدام کو سراہا۔



 پاکستان اور افغانستان کے ساتھ تجارت کے حوالے سے قیام پاکستان کے بعد تین بڑے معاہدے کئے گئے ہیں۔ نئی صورت حال کے تناظر میں آخری معاہدہ سال 2010 میںکیاگیا تھا جس کی بنیاد افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کو موثر اور فعال بنانا تھا۔
افغانستان چونکہ لینڈ لاکڈ کنٹری (Land Locked Country)ہے اس لئے اس کی تجارت اور ضروریات کی فراہمی کا زیادہ تر انحصار پاکستان پر ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ دوسرے پڑوسی ممالک کے برعکس پاکستان کم ترین فاصلے کے باعث افغانستان کو قریب پڑتا ہے اور اس کے نتیجے میں وقت اور ٹرانسپورٹ پر اُٹھنے والے اخراجات کی بچت ہو جاتی ہے۔ طور خم دوطرفہ آمد و رفت کا سب سے بڑا، قریبی اور آسان روٹ ہے جبکہ دوسرے نمبر پر چمن بارڈر ہے جو کہ بلوچستان کے راستے قندھار اور دیگر علاقوں کی سپلائی لائن کاکام کررہا ہے۔ 
وزیرِاعظم نے ہدایات جاری کی ہیں کہ طور خم کے بعد شمالی وزیرستان کے کراسنگ پوائنٹ غلام خان اور جنوبی وزیرستان کے انگور اڈہ کو بھی فعال، جدید اور محفوظ بنایا جائے ۔ غلام خان اور انگور اڈہ سنٹرل ایشیا کی تجارت کے لئے انتہائی موزوں سمجھے جاتے ہیں اور ان روٹس کے ذریعے سنٹرل ایشین ریاستوںکے علاوہ روس تک بآسانی سامان پہنچایا جاسکتا ہے۔ غلام خان روٹ کو بھی جدید سڑکیں، سکیورٹی اور امیگریشن کی جدید سہولیات دی گئی ہیں اور اگلے قدم کے طور پر اس کو فعال بنایا جائے گا۔


المیہ یہ ہے کہ افغانستان کی حالیہ بدامنی دوطرفہ تعلقات کے علاوہ تجارت اور آمدو رفت کی راہ میں بھی رکاوٹ بنتی دکھائی دے رہی ہے اور شایداسی کا نتیجہ تھا کہ وزیرِاعظم عمران خان نے افتتاح کے بعد میڈیا بریفنگ میں نہ صرف افغان مذاکراتی عمل کی دوبارہ بحالی کو ناگزیر قرار دے کر ایک بار پھر مؤثر سہولت کاری کی پیش کش کی بلکہ انہوں نے افغانستان کے امن کو پاکستان کے امن اور ترقی کے لئے بھی لازمی قرار دیا ہے۔


نائن الیون کے بعد طور خم بارڈر نہ صرف یہ کہ نیٹو کی سپلائی کے لئے سب سے مصروف روٹ کے طور پر استعمال ہوتا رہا، بلکہ افغانستان کی تعمیرِ نو کے لئے بھی درکار سازو سامان یا مٹیریل کی فراہمی بھی یہاں سے ہوتی رہی۔ اگر ایک طرف سال2002 سے2007 تک پشاور میں موجود نیٹو کے ٹرمینلز کو170 بار حملوں کا نشانہ بنایا گیا تو دوسری طرف عام مٹیریل کی سپلائی نے پاکستان کی تجارت اور معیشت میں بنیادی کردارادا کیا۔اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سال2003 سے سال2013 کے درمیان افغانستان اور پاکستان کی دوطرفہ تجارت کا حجم ساڑھے چار اور ساڑھے تین اَرب ڈالرز کے درمیان رہا  تاہم 2013 کے بعدتجارت کا حجم کم ہوتا گیا اور صورت حال یہ رہی کہ 2017-18 کے دوران یہ تجارت محض 40سے 50 کروڑ ڈالرز تک محدود ہوگئی۔ اب کہا جارہا ہے کہ طور خم بارڈر کے 24 گھنٹے کھولنے سے تجارت اور آمدورفت میں 50 فیصد اضافہ ہوگیاہے اور اگر افغانستان میں امن قائم ہوجاتا ہے تو نئے اقدامات کے نتیجے میں نہ صرف تجارت بڑھے گی بلکہ دونوںممالک کے تعلقات  بھی بہتر ہوں گے۔ بزنس کمیونٹی، عوام اور ٹرانسپورٹرز نے حالیہ حکومتی اقدام کو بہت سراہا ہے تاہم وہ ویزا سسٹم کو آسان بنانے اوربعض ٹیکسوں میں کمی یا چھوٹ دینے کا مطالبہ بھی کررہے ہیں تاکہ تجارت کے حجم میں اضافہ کیا جاسکے۔ کیونکہ ان روٹس کی رسائی افغانستان کے علاوہ سنٹرل ایشیا تک ہے۔


اگر افغانستان کے سرحدی علاقوں خصوصاً ننگرہار، خوست اور قندھار میںجنگ اور بدامنی جاری رہتی ہے تو افغانستان اور سنٹرل ایشیا کی منڈیوں تک ٹریڈ اور سپلائی کی فراہمی کا سلسلہ بری طرح متاثر ہوگا اور پاکستان، افغانستان کے علاوہ چین کے تجارتی مقاصد بھی متاثر ہوں گے۔ شائد یہی وجہ ہے کہ مذکورہ تینوں ممالک مستقل امن کے لئے بھرپور کوششیں کررہے ہیں۔


المیہ یہ ہے کہ افغانستان کی حالیہ بدامنی دوطرفہ تعلقات کے علاوہ تجارت اور آمدو رفت کی راہ میں بھی رکاوٹ بنتی دکھائی دے رہی ہے اور شایداسی کا نتیجہ تھا کہ وزیرِاعظم عمران خان نے افتتاح کے بعد میڈیا بریفنگ میں نہ صرف افغان مذاکراتی عمل کی دوبارہ بحالی کو ناگزیر قرار دے کر ایک بار پھر مؤثر سہولت کاری کی پیش کش کی بلکہ انہوں نے افغانستان کے امن کو پاکستان کے امن اور ترقی کے لئے بھی لازمی قرار دیا ہے۔ یہی باتیں انہوںنے 23ستمبر کو دورہ امریکہ کے دوران صدرٹرمپ، زلمے خلیل زاد اور متعدد سربراہانِ مملکت کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کے دوران بھی دہرائیں اور واضح مؤقف اپنایا کہ پاکستان افغان امن اور استحکام کے لئے خطے کے علاوہ اپنے مفادات کے تناظر میں مثبت اور کلیدی کردار ادا کرنے کوتیار ہے۔



دوحہ پراسس کی ناکامی اور ڈیڈ لاک کے بعد افغانستان کے تقریباً 18صوبوں میں نہ صرف طالبان بلکہ افغان فورسز، نیٹو اور امریکہ نے ایک دوسرے پر بدترین حملے کئے ۔ رپورٹس کے مطابق مذاکرات ختم ہونے کے بعد صرف ایک ہفتے میں کابل سمیت 27 شہروں یا علاقوں میںحملے کئے گئے جن میں 3ڈرون حملے بھی شامل ہیں۔رپورٹس کے مطابق صرف اگست 2019 کے دوران دوطرفہ حملوں میں 2375 افراد جاں بحق ہوئے جن میں اکثریت سویلین کی ہے۔ ڈاکٹر اشرف غنی کے بقول سال2014کے بعد اب تک طالبان اور دیگر کے ساتھ جھڑپوں اور حملوں میں افغان فورسز اور پولیس کے 46000 اہلکار زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ یہ صورت حال اس لئے بھی انتہائی تشویش ناک ہے کہ اگر افغانستان کے سرحدی علاقوں خصوصاً ننگرہار، خوست اور قندھار میںجنگ اور بدامنی جاری رہتی ہے تو افغانستان اور سنٹرل ایشیا کی منڈیوں تک ٹریڈ اور سپلائی کی فراہمی کا سلسلہ بری طرح متاثر ہوگا اور پاکستان، افغانستان کے علاوہ چین کے تجارتی مقاصد بھی متاثر ہوں گے۔ شائد یہی وجہ ہے کہ مذکورہ تینوں ممالک مستقل امن کے لئے بھرپور کوششیں کررہے ہیں۔


  [email protected]
 

یہ تحریر 65مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP