ہلال نیوز

ضم شدہ قبائلی علاقوں میں ترقیاتی منصوبوںکی صورتحال

دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے کے بعد پاک فوج علاقے کی معاشی و اقتصادی ترقی کے لئے کمربستہ ہے
پاک آرمی بالخصوص پشاور کور کے لئے ماضی کے قبائلی علاقوں یا یوں کہہ لیجئے سرحدی علاقوں میں قیام امن کے لئے کوششوں کو مزید آگے لے جانا انتہائی اہم ہوتا ہے۔ پاک آرمی کی طرف سے ہر ممکنہ کوشش کی جارہی ہے کہ ان ضم شدہ علاقوں کو جو کہ طویل عرصہ دہشت گردی کا شکاررہے ہیںان کے عوام کو سہولتیں فراہم کی جا سکیں اور صوبائی و وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر ان علاقوں میں مقیم افراد کو بھی ملک کے دیگر حصوں میں رہنے والوں کے برابر لایا جا سکے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے بارہا یہ اعلان کیا گیا کہ ضم شدہ قبائلی اضلاع میں ہر سال ایک سو ارب روپے کے ترقیاتی کام کئے جائیں گے اور دس سال تک یہ سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔اگرچہ اس سلسلے میں چہ میگوئیاں بھی کی گئیں کہ شاید اتنی رقم باقاعدگی کے ساتھ دینا ممکن نہیں ہوگا۔ تاہم شنید ہے کہ صوبائی حکومت کی ہر ممکن کوشش اور خواہش ہے کہ زیادہ سے زیادہ رقم ضم شدہ قبائلی علاقوں میں خرچ ہو تاکہ قبائلی عوام کا احساس محرومی ختم کیا جا سکے۔
قبائلی علاقوں میں مسائل اگرچہ کہیں زیادہ ہیں تاہم پاک فوج کی جانب سے ان مسائل کے تدارک کے لئے کی جانے والی کوششوں کو کسی بھی طور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا گزشتہ دنوں ایک خبر شائع ہوئی جس میں ایک معذور شخص کو کور کمانڈر پشاور سے ملاقات کرتے دکھایا گیا ۔یہ شخص فاٹا ڈس ایبل ویلفیئر آرگنائزیشن کے صدر عرفان اللہ جان تھے۔ جنہوںنے کور ہیڈکوارٹرز پشاور میں کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کے ساتھ ملاقات کی۔ اس موقع پر عرفان اللہ جان نے کورکمانڈر کو تنظیم کی تمام تر سرگرمیوں اور قبائلی اضلاع کے معذور افراد کی فلاح و بہبود کے لئے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔کمانڈر پشاور کور لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود نے اتنی کم عمری میں معذور افراد کی خدمت اور ان کی بحالی کا بیڑا اٹھانے پر عرفان اللہ جان کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ پاک فوج معذور افراد کی بحالی کے لئے فاٹا ڈس ایبل ویلفیئر آرگنائزیشن کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی۔لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود نے جنوبی وزیرستان کے مرکزی شہر وانا میں مصنوعی اعضاء بحالی مرکز کے قیام کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دیگر تمام قبائلی اضلاع میں بھی بحالی مراکز قائم کرنے کے لئے کوششیں کی جائیں۔ تاکہ معذور افراد کو گھر کی دہلیز پر علاج معالجے اور بحالی کی سہولیات میسر ہوں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاک فوج کے تعلیمی اداروں میں آئندہ سیشن کے دوران معذور طلباء کے کوٹہ پر ہر صورت عملدر آمد یقینی بنایا جائے گا۔
اب صورت حال یہ ہے کہ قبائلی علاقوں میں حکومت کی رٹ قائم ہو چکی ہے،47 ہزار مربع کلو میٹر علاقے جنہیں کبھی نو گو ایریاز سمجھا جاتا تھا  اب مکمل طور پر کلیئر ہو چکے ہیں۔دہشت گردی کے حوالے سے منفی سوچ کا مکمل خاتمہ ہو چکا ہے، عوام کا ریاست اور ریاستی اداروں پر اعتماد قائم ہو چکا ہے۔ان علاقوں کی ترقی و خوش حالی کے حوالے سے عوام، حکومت اور ریاستی ادارے ایک پیج پر ہیں،ان علاقوں میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات اور اس کے نتیجے میں منتخب ہونے والے امیدواروں کی صوبائی اسمبلی تک رسائی بلاشبہ ایک اہم ترین   پیش رفت قرار دی جا سکتی ہے۔جب ہم یہ کہتے ہیں کہ قبائلی علاقوں سے دہشت گردوں کا صفایا کر دیا گیا ہے تو یہ بھی ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ ممکنہ طور پر کئی دہشت گرد سرحد پار جا چکے ہیں اور اب انہیں واپس ان علاقوں کی جانب آنے سے روکنے کے لئے بارڈر منیجمنٹ بڑی ضروری تھی۔سرحدی علاقوں کو محفوظ بنانے کے لئے پاک فوج نے باڑ لگانے کا کام شروع کیا مجموعی طور پر 830 کلومیٹر باڑ لگائی جائے گی جس میں سے 83 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور 684 کلومیٹرز تک بلند و بالا پہاڑوں اور دشوار گزار علاقوں میں باڑ لگائی جا چکی ہے۔باڑ کے ساتھ ساتھ 443 قلعے بنائے جائیں گے جہاں سیکورٹی فورسز کے اہل کار تعینات ہوں گے اور باڑ کی مانیٹرنگ کریں گے ان میں سے 213 قلعوں کی تعمیر کا کام مکمل ہو چکا ہے۔یہاں یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ بعض مقامات پرباڑ 13 ہزار فٹ کی بلندی پر لگائی گئی ہے اور قلعے تعمیر کئے گئے ہیں جو بلاشبہ قابل فخر کارنامہ قرار دیاجا سکتا ہے۔توقع کی جا سکتی ہے کہ رواں سال 2020 ء میں قلعہ نما پوسٹیں بنانے کا کام مکمل کر لیا جائے گا۔اسی طرح بارودی سرنگوں کی صفائی کا کام بھی بڑی حد تک مکمل کر لیا گیا ہے۔ 172 مربع کلو میٹرزکی حدود میں30 ہزار 900 بارودی سرنگوں کو ختم کیا گیا۔
ایک طرف قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کی آمد روکنا مقصود ہے تو دوسری جانب کاروبار کو وسعت دینے اور امپورٹ و ایکسپورٹ میں اضافے سمیت مقامی افراد کو روزگار کے مواقع کی فراہمی بھی ضروری ہے۔ جس کے لئے سب سے پہلے بارڈر ٹرمینل تعمیر کر دئیے گئے ہیں تاکہ کاروبار کو قانونی شکل بھی ملے اور سمگلنگ پر بھی قابو پایا جاسکے۔ ساتھ ہی دونوں ملکوں کے شہریوں کو قانونی طور پر آمدو رفت میں آسانی ہو اور بنا کاغذات کوئی بھی سرحد پار نہ کر سکے۔ اس سلسلے میں طورخم، غلام خان اور خرلاچی بارڈر ٹرمینلز تعمیر ہو چکے ہیں۔ مقامی آبادی کے لئے آمد و رفت میں آسانی پیدا کرنے کی غرض سے کارڈ کا سسٹم بھی شروع کیا گیا ہے۔
اب اگر تعلیم کے شعبے کا رخ کیا جائے تو پاک فوج نے 336 سکولوں کی تعمیر نو اور نئے سکول تعمیر کئے۔کثیر تعداد میں بچوں کو ضم شدہ اضلاع میں کوالٹی تعلیم کی فراہمی یقینی بنائی گئی ۔جبکہ2 ہزار500 طلباء کو کیڈٹس کالجوں میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا گیا یوں ان سہولتوں کی فراہمی کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں تعداد 25 فیصد سے بڑھ کر 60 فیصدہو گئی ہے جسے قابلِ ستائش اقدام قرار دیا جاسکتا ہے۔صحت کے شعبے پر ایک نگاہ دوڑائی جائے تو ضم شدہ قبائلی علاقوں کے عوام کو صحت عامہ کی سہولتوں کی فراہمی ممکن بنانے کے لئے بھی اقدامات کئے گئے جن میں چھوٹے بڑے 37 منصوبے ہیں۔ان صحت مراکز میں پہلے سے موجود بیڈز میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے۔ جبکہ عملے کی دستیابی یقینی بنانے کے علاوہ جدید ترین ایکویپمنٹ بھی رکھے گئے ہیں۔
جہاں تک ضم شدہ قبائلی علاقوں میں سماجی اور معاشی ترقی کی بات ہے تو پاکستان آرمی نے قبائلی علاقوں میں 873 کلو میٹر بڑی شاہراہیں تعمیر کی ہیں جبکہ863 کلومیٹر پہلے سے موجود شاہراہوں کی مرمت و توسیع کی ہے اسی طرح 662 کلومیٹر سڑکیں زیر تعمیر ہیں۔سڑکوں کی تعمیر و توسیع اور مرمت سے مختلف علاقوں کو ایک دوسرے سے منسلک کر دیا گیا ہے ۔تعمیر و توسیع صرف شاہراہوں کی ہی نہیں کی گئی بلکہ 70 نئے تجارتی مراکز بھی بنائے گئے ہیں۔ جن میں تین ہزار کے لگ بھگ دکانیں ہیں۔ وانا میں زرعی پارک بنایا گیا ہے یہ اپنی نوعیت کا پہلا ایگریکلچرل پارک ہے۔اسی طرح سٹوریج اور پروسیسنگ کے لئے سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔گویا دہشت گردی کے خاتمے کے بعد اب قبائلی علاقوں میں ترقی اور معاشی و اقتصادی ترقی کا ایک نیا دور شروع ہونے والا ہے جس کے لئے خودقبائل کو بھی یہ سمجھنا ہو گا کہ اب انہیں دہشت گردوں یا دہشت گردوں کے کارندوں کے ہاتھوں یرغمال نہیںبننا چاہئے۔بلکہ اب دہشت گردوں کے لئے زمین تنگ کر دینی چاہئے تاکہ قبائلی علاقے ان سے پاک ہوںاور بہتر و مستحکم مستقبل کی جانب گامزن ہو سکیں۔
 

یہ تحریر 48مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP