قومی و بین الاقوامی ایشوز

صوبہ بلوچستان: ترقی کی دہلیز پر

 ترقی کی شاہراہ پر گامزن بلوچستان کے حوالے سے کنول  زہراء کی ایک سروے رپورٹ

صوبہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، اس کا رقبہ پاکستان کے رقبے کا تقریباً 40 فیصد ہے۔ صوبے کی آبادی 2018 کی مردم شماری  کے مطابق ایک کروڑ 26 لاکھ 44 ہزار 408 نفوس پر مشتمل تھی۔ بدقسمتی سے قدرتی حسن و معدنیات سے مالا مال صوبہ بلوچستان ماضی میں اس طرح ترقی سے ہمکنار نہیں ہو سکا جس طرح ملک کے باقی صوبے ہیں اور اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ بلوچستان کو کس طرح مزید ترقی کی شاہراہ پر کیسے گامزن کیا جاسکتا ہے؟ اوروہ کون سے مسائل ہیں جن سے نمٹ کر مطلوبہ نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ اس حوالے سے ہم نے بلوچستان کے مسائل اور اس کے دیرپا حل کی مناسبت سے ایک مختصر سے سوال نامے کے ذریعے سینیئر تجزیہ کاروں اور صحافیوں سے رابطہ کیا۔ معززین کی رائے قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔

 دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل امجد شعیب(ریٹائرڈ) نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں صوبہ بلوچستان میں جی او سی تعینات رہا ہوں، میں نے اس صوبے کو بہت قریب سے دیکھا ہے، کرپشن کی بہتات اورکسی حد تک  سرداری نظام ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ بنا رہا ہے،کئی سردار بلوچ عوام کو اپنی کٹھ پتلیاں سمجھتے ہیں اسی لئے انہیں تعلیم و تربیت اور جدیدسہولتوں سے دور رکھتے ہیں، انہوں نے اپنی جیلیں قائم کی ہوئی ہیں، جن میں جب دل چاہا کسی بھی شخص کو ان غیر قانونی قید خانوں میں ڈال کر انسانیت سوز تشدد کیا جاتا ہے، اس صوبے میں انفراسٹرکچر بہترنہ ہونے کی وجہ سے ایک علاقے کی آبادی کا دوسرے علاقے سے رابطہ نہیں ہے، بلوچستان میں گنجان آبادی نہ ہونے کے باعث طویل سلسلہ ویران پھر کچھ آباد علاقہ پھر ویران علاقوں کی وجہ سے وہاں سٹرکیں بنانے کا کام دوسرے صوبوں کی نسبت مشکل ہے، دوسرے صوبوں میں 20 کلومیٹر سٹرک سے ہزاروں لوگ مستفید ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں کم آبادی کی وجہ سے یہ صورتحال نہیں ہے مگر اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ وہاں ترقیاتی کام نہ ہوں، پاکستان آرمی نے اپنے بجٹ سے بلوچستان کے بہت سے علاقوں میں تعلیمی اور صحت کے مراکز کا قیام یقینی بنایا ہے، اس کے علاوہ بلوچستان کی بہادر عوام کو فوج میں نمائندگی دینے کے لئے پاک فوج نے گزشتہ چھ سالوں کے دوران بہت سے نوجوانوں کو ISSBکے ذریعے سلیکٹ کرکے کمیشن آفیسرکے طور پاک فوج کا حصہ بنایا۔ وفاقی و صوبائی حکومتوںکو بھی صوبے میں جدید طرز کے تعلیم و صحت کے مراکز کا قیام کرنا ہوگا تاکہ نوجوان نسل ملک دشمنوں کا آلہ کار بننے سے محفوظ رہے، بلوچستان کے نوجوانوںکی مثبت ذہن سازی کے بعد چھوٹے کاروبار کے لئے سرمایہ دینا چاہئے تاکہ ان کا حکومت پر اعتمادبحال ہو اور وہ کسی بھی سردار یا شرپسندوں کے چنگل سے نکل کر صوبے کی ترقی کے لئے بہتر امور سرانجام دے سکیں، سی پیک بہترین منصوبہ ہے، جس سے بلوچستان ہی نہیں بلکہ پورا ملک خوشحال اور مستحکم ہوگا،تاہم میں پھر کہوںگا کہ تجارتی مراکز کے ساتھ اعلیٰ تعلیم اور صحت کے اداروں کا قیام بھی اشد ضروری ہے تاکہ مزدور ہی نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ بلوچ بھی سوسائٹی کا حصہ بنیں۔ اس سلسلے میں پاک فوج نے حکومتِ بلوچستان کے ساتھ مل کر بھی صوبے میں بہت سے مراکز پر توجہ دی ہے۔اس کے لئے کوئٹہ ، لورالائی، خضدار ،ژوب اور سبی میں پانچ سی ایم ایچ (CMH) ہسپتالوں کا قیام ممکن بنایاگیا ہے، جہاں عوام کو تمام سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ پاک فوج نے بلوچستان میں ضرورت پڑنے پر ہر ممکن مدد فراہم کی ہے ۔

دفاعی تجزیہ کار ڈاکٹر ماریہ سلطان کے مطابق صوبہ بلوچستان کی کم ترقی کی ایک وجہ طویل عرصے تک وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے چشم پوشی ہے، اور اس سے بھی بڑی وجہ وہاں پر رائج فرسودہ سرداری نظام ہے، پے در پے ازخود نافذکردہ سرداری نظام نے بلوچستان کے لاء اینڈ آرڈر کے نظام کو بے تحاشا کمزور کیا، پولیسنگ سسٹم بھی سرداری نظام کی نذر ہوگیا،یہ نظام صوبے کے وسائل ہڑپ کرگیا، حکومت جو بھی صوبائی ترقیاتی فنڈ جاری کرتی ہے وہ سرداری نظام کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے جبکہ عام آدمی کو اس کا ذرا بھی فائدہ نہیں پہنچتا جس کی وجہ سے صوبے میں بدحالی اور غربت میں اضافہ ہوا، یہی وجہ انتشاری ذہن کی تشکیل سازی کا سبب بھی بنی۔
 بھارت بارہا بلوچستان میں اپنی مداخلت کو بڑے فخر سے بیان کرچکا ہے، ہمیں اپنے نشریاتی اداروں کے ذریعے دنیا کی توجہ اس جانب مبذول کرانی چاہئے کہ دیکھیں کون ہے دہشتگرد اور تخریبی ذہن کا مالک، سی پیک صوبہ بلوچستان کے لئے ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے لئے گیم چینجر ہے، یہ درست ہے کہ اس منصوبے سے بلوچستان کی تقدیر جاگے گی مگر انڈسٹریز کے قیام کے ساتھ صوبے کے شہری، ڈسٹرکٹ، دیہاتی نظام کی بحالی ، تعلیم، صحت، بجلی، پانی، گیس کی گھر گھر فراہمی اور پکی سٹرکوں کی تعمیر بے حد ضروری ہے۔پاک فوج، ایف ڈبلیو او اور  ایف سی بلوچستان میں CPEC کے تحت بہترین سڑکیں تعمیر کررہی ہیں جو یقینا قابلِ تعریف اقدام ہے۔

صحافی و تجزیہ کار، جویریہ صدیق نے گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ  صوبہ بلوچستان کی وسائل سے محرومی کی وجہ ظاہر ہے حکومتی سطح پر نظر اندازی ہے، تاہم اب بہت تیزی سے بلوچستان میں بہت سے منصوبوں پر کام جاری ہے، جس کے نتائج ثمرات سے بھرپور ہوںگے، ماشا اللہ صوبہ بلوچستان قدرتی وسائل اور معدنیات سے مالا مال ہے، بلوچستان کی عوام تک پانی اور گیس کی سہولیات مہیا کرنا اور ہسپتال کا قیام پاک فوج نے پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ اور OGDCL کے اشتراک سے ممکن بنایا ہے۔
خوشحال بلوچستان، اقدام اپنی وسعت اور وسیع تر توجہ کے ساتھ بلوچستان کے قدرتی وسائل کو بروئے کار لارہا ہے۔
یہ متعدد منصوبے صوبے اور عوام کی خوشحالی کو ممکن بنانے اور خوشحالی لانے کے واحد مقصد کے تحت عمل میں لائے گئے ہیں۔ ان شاء اللہ یہ صوبہ بہت ترقی کرے گا، سی پیک کے منصوبے کی تکمیل صوبے کے لئے بہترین ثابت ہوگی۔ اس کے ذریعے پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہوگا، بی ایل اے وغیرہ کی اصلیت بلوچی نوجوان نسل کے سامنے عیاں ہے، صوبہ بلوچستان کی نئی نسل ان تخریبی عناصر کو اچھی طرح جان چکی ہے، ہمارے بلوچی بھائی بہن ریاست پاکستان کے ساتھ ہیں، الحمد للہ یہ ہمارے سکیورٹی اداروں کی کامیابی ہے، انہوں نے انتہائی جانفشانی سے دہشتگردوں کا نیٹ ورک توڑ کر بیرونی فنڈنگ کا راستہ بند کیا ہے۔ 

بین الاقوامی نشریاتی ادارے سے وابستہ صحافی مونا خان کے مطابق صوبہ بلوچستان آج سے نہیں بلکہ بہت پہلے سے ہی پسماندہ ہے ۔ اب تو پھر بھی وہاں بہت بہتری آئی ہے، تو اس تناظر میں2006 سے نوجوان بلوچوں کی تخریب کارانہ ذہن سازی ہوئی جس کے نتیجے میں بلوچ لبریشن آرمی جیسی تحریکیں سامنے آئیں، جنہوں نے بلوچ یوتھ کو تباہ کیا۔ دیکھیں ریاست کے خلاف ہونا مثبت اقدام نہیں ہے، بی ایل اے وغیرہ میں جو چند نوجوان شامل ہیں بدقسمتی سے وہ اپنا مستقبل تاریک کرچکے ہیں، انہیں استعمال کرنے والے یا تو سرحد پار ہیں یا ایک عرصے سے سمندر پار مقیم ہیں۔ کیا کبھی ان نوجوانوں کی خبر گیری ان کے بیرون ملک مقیم آقائوں نے کی؟ یقینا نہیں۔ ملک دشمن عناصر ان لوگوں کو استعمال کرتے ہیں، جو لوگ اپنی ریاست سے ناراض ہوتے ہیں۔ ریاست کو منصفانہ اقدام کرنا ہوگا تاکہ مزید ناراضگی اور نسل کی تباہی نہ ہو۔ سی پیک کی وجہ سے ان شاء اللہ صوبہ بلوچستان پاکستان کا تجارتی مرکز بنے گا۔ درآمدات و برآمدات کے اس عمل کے بلوچستان پربراہِ راست مثبت اثرات مرتب ہوںگے، پاکستان بھی خوشحال ہوگا۔

صحافی و تجزیہ کار راجہ فیصل نے تبصرے کا حصہ بنتے ہوئے کہاکہ صوبہ بلوچستان میں مسائل کا بھارت نے بھرپور فائدہ اٹھایا، جس سے بلوچستان سمیت پورا پاکستان دہشتگردی کا شکار ہوا، جس کا بھارت ببانگ دہل اعتراف کرتا ہے، اگر بلوچستان کی نوجوان نسل کو مصروف عمل رکھنے کے لئے کچھ پروگرامز تشکیل دئیے جاتے تو وہ بے راہ روی کا شکار نہ ہوتے بلکہ ملک کا اثاثہ ثابت ہوتے۔ بہرحال اب بھی وقت ہے، حکومتی سطح پر ہونا یہ چاہئے کہ فریش میٹرک اور گریجویٹ طالب علموں کومصروف رکھا جا ئے، میٹرک کے سٹوڈنٹس کو انگریزی اور چائینز زبان کے مختصر دورانیئے کے کورسز کرائے جائیں تاکہ سی پیک سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہوا جاسکے جبکہ گریجویٹ طالبعلموں کو سی ایس ایس کے امتحانات کی تیاری کرائی جائے، نوجوان نسل کی شدت پسند تنظیموںکی جانب راغب ہونے کی وجہ ہی یہ ہے ہم نے یوتھ کو انگیج نہیں کیا، سی پیک سے پاکستان کا مثبت دورمنسلک ہے،  یہ صوبہ بلوچستان کے لئے بھی سودمند ہوگا ظاہر ہے نوکریاں نکلیں گی، ذہن صحت مند ایکٹویٹی میں مصروف ہوںگے،ہاتھ میں محنت کا پیسہ آئے گا، خوشحالی ہی ان مسائل کا بہتر حل ہے۔

صوبہ بلوچستان کے مقامی صحافی غلام مصطفی نے کہا کہ  بلوچستان میں تعلیم کی صورتحال بہتر نہ بنائی گئی تو نہ صرف ایسی تنظیمیں وجود میں آتی رہیں گی بلکہ نوجوان خود اپنے مستقبل کو تاریک کرتے رہیں گے۔ بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے واضح ثبوت موجود ہیں کئی بھارتی ایجنٹ باقاعدہ گرفتار بھی ہوئے۔ میرے خیال میں اتنے ثبوت ہی اقوام متحدہ میں جانے کے لئے کافی ہوںگے۔ ہماری بڑی کمزوری ہے کہ ہم اقوام متحدہ کی توجہ اس اہم مسئلے پر دلانے میں سنجیدہ نہیں رہے ہیں۔ بلوچستان کے مسائل کا حل بہتر تعلیم، اچھا روزگار اور وسائل کی منصفانہ ترسیل میں پوشیدہ ہے۔ گزشتہ برسوںمیں پاک فوج نے سول اداروں کے ساتھ مل کر ملکی و صوبائی ترقی میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے صوبہ بلوچستان کی معاشی و سماجی ترقی کے منصوبوں میں صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر بہت سے پراجیکٹس میں پاک فوج نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ ان میں فرنٹیئر کور کی جانب سے سکولوں اورکیڈٹ کالجز کا قیام اور سرپرستی شامل ہے۔ صوبے میں 9 کیڈٹ کالجز سوئی، پشین، مستنگ، پنجگر، جعفرآباد، کوہلو، تربت، نوشکی اور آواران کے مقام پر پاک فوج کی جانب سے بنائے گئے ہیں۔ جس میں صوبے بھر کے طالب علم تعلیم حاصل کررہے ہیں، افواجِ پاکستان مستقبل میں صوبے میں معیاری تعلیمی سہولیات لانے کے لئے کلیدی کردار ادا کررہی ہے۔ جس کے تحت مستقبل میں (Institute of Business Administration) کا کوئٹہ میں قیام،  DHA ایجوکیشن سٹی اور ڈینٹل کالج کا قیام شامل ہیں۔بلوچستان کی ترقی و خوشحالی کو لے کر جب بھی ضرورت پڑی پاک فوج نے ہر میدان میں اپنی خدمات پیش کی ہیں۔ 2016 سے اب تک عوام کی فلاح کے لئے سدرن کمانڈ/ ایف سی کی جانب سے متعدد فری میڈیکل کیمپس کا انتظام کیا جاچکاہے جس میں بہت سے مریض طبی امداد حاصل کرچکے ہیں۔2018 کے بعد سے ٹیلی میڈیکل مراکز بھی فعال ہو چکے ہیں جو ویڈیو لنک کے ذریعے دور اُفتادہ علاقوں میں موجود مریضوں کو طبی خدمات فراہم کررہے ہیں۔

صوبہ بلوچستان کے مقامی صحافی بایزید خان خروٹی کی رائے کے مطابق  کافی حد تک کرپٹ نظام بلوچستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ رہا ہے،وفاقی جمہوری حکومتیں بھی اکثر من پسند لوگوں کو صوبے کے ترقیاتی فنڈز دے کر اپنی ذمے داری سے مبرا ہوجایا کرتی تھیں۔ کرپشن کی سرپرستی نے مزید بگاڑ پیدا کیا ہے۔ بدقسمتی سے اس فنڈ کی رقم کبھی صوبے کے عوام کے لئے نہیں البتہ ان کی ذات کے ضرور کام آئی۔ غربت اور حکومتی وسائل کی کمی اور بے لگام کرپشن کی وجہ سے دشمن بلوچستان میں متحرک ہوا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ اگر صوبے میں بنیادی سہولیات ہوتیں تو یقینا یہ نسل کسی کی آلہ کار نہ بنتی، جو آنے والی نسل کے لئے نشانِ عبرت ہے تاہم اگر اب بھی یوتھ کو صحت مند سرگرمیوں میں مصروف نہ کیا گیا اور حقیقی مسائل پر توجہ نہ دی گئی تو یہ بات مزید خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔سی پیک خوشحال بلوچستان کا ہی نہیں بلکہ خوشحال پاکستان کا منصوبہ بھی ہے،اس سے انڈسٹریز لگیںگی روزگار ملے گا، اصل میں ہماری کمزوریوں کا دشمن نے مکمل فائدہ اٹھایا ہے، انہوں نے بلوچستان کی غربت کو خرید کر پاکستان کو نقصان تو پہنچایا مگر اس کا اظہار کرکے اقوام عالم میں مشکوک بھی ہوگئے ہیں۔ پاکستانی میڈیا کو بھارت کے اس اعتراف کو ہائی لائیٹ کرنا چاہئے جبکہ دفتر خارجہ کو بھی اس نکتے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اقوام متحدہ کو باور کرانا چاہئے کہ دیکھیں کون ہے دہشت گرد ملک، کس کی فوج تخریب کار ہے؟ بلوچستان کے مسائل کے حل کے لئے عام بلوچ فرد کا اپنی ریاست پر اعتماد ضروری ہے جس کو مکمل طور پر بحال کرنا یقینا  حکومت کی ذمہ داری ہے۔ صوبے کے خستہ حال تعلیمی نظام اور اچھے تعلیمی اداروں کے فقدان کی وجہ سے حکومت اور نئی نسل میں دوریاں پیدا ہوئی ہیں جس کا مکمل فائدہ پاکستان دشمنوں نے اٹھایا ہے اور صوبے میں ریاست کی رٹ کمزور ہوئی ہے۔ تعلیم عام ہونے سے لوگوں میں شعور آئے گا اور وہ درست اور غلط کے درمیان تمیز کرسکیں گے، صوبائی فنڈز کی تمام اضلاع میں یکساں تقسیم کی وجہ سے قابض نظام کی اجارہ داری ختم ہوگی اور غلامانہ سوچ کا خاتمہ ہوگا اور وہ  نئے دور کے حساب سے زندگی گزاریں گے۔ ||


[email protected]
 

یہ تحریر 38مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP