متفرقات

صوبہ بلوچستان : اندھیرے سے اُجالے کی جانب سفر

 وائس چانسلر یونیورسٹی آف بلوچستان پروفیسرجاوید اقبال سے صوبے میں جاری تعلیمی اور علمی کاوشوں کے بارے میں گفتگو

 صوبہ بلوچستان جہاںسیاسی ابتری و امن وامان کے مسائل سے دو چار رہا ہے وہیں تعلیمی معیار کا بھی فقدان رہا ۔ تعلیم ہی وہ کنجی ہے جس سے ترقی اورخوشحالی کا راستہ کھولا جاسکتا ہے اور تعلیم ہی سے اندھیرے کو اجالے میں تبدیل کیا جاسکتا ہے ۔ تعلیمی معیار کی ابتری امن وامان کی خرابی کا موجب بنتی ہے۔ گوکہ اب بلوچستان میں چند اچھے تعلیمی ادارے قائم ہو رہے ہیں۔ لیکن بلوچستان کی پہلی اور سب سے بڑی جامعہ، یونیورسٹی آف بلوچستان ہے جو ١٩٧٠میں قائم ہوئی تھی ۔اس درسگا ہ کی اہمیت کے باوجودخراب حالات کی وجہ سے تعلیمی معیار پست رہا ۔



اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ دشمن جب بھی کسی  قوم وملک پر شب خون مارنے کی تیاری کرتا ہے تو اس کا سب سے پہلانشانہ اُس کے تعلیمی ادارے ہوتے ہیں۔ ملک دشمن ایجنسیوں نے ڈھاکہ یونیورسٹی کی طرز پرجامعہ بلوچستان کے طلبہ اور اساتذہ کو ایک خاص پروپیگنڈہ کے ذریعے گمراہ کرنے کی سازش کی۔ یوں صوبہ بلوچستان کی سب سے بڑی درسگا ہ دہشت گردوں اور علیحدگی پسندوں کے لئے نرسری بن گئی ۔یہ سب کچھ کئی عشروں تک خفیہ انداز سے چلتارہا ۔کچھ سابقہ حکمرانوں نے بھی اس کے تدارک کے لئے خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے لیکن اب چند سالوں سے حکومت پاکستان اور عسکری قیادت کی مداخلت سے بلوچستان کے حالات میں مثبت تبدیلی آئی ،حالات کی یہ بہتری بہت سے اساتذہ طلباء وطالبات ، بلوچستان کے شہری اورفورسز کے جوانوںکی قربانیوں کے طفیل ہے۔
گزشتہ دنوں جامعہ بلوچستان کے آڈیٹو ریم میں انٹر یونیورسٹی ملی نغموں کا مقابلہ منعقد کیا گیا جہاں مختلف جامعات کے بہت سے طلباء و طالبات نے بھرپورا نداز سے شرکت کی، نوجوانوں کا جذبہ حب الوطنی دیکھ کر راقم کا سر فخر سے بلند ہو گیا کہ جس درسگاہ میں پاکستان کا نام لینے کی سزا موت تھی وہیں پاکستانی ملی نغموں پرہزاروں طلبہ وطالبات کا جوش وخروش دیدنی تھا لہٰذا  راقم نے جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر محترم جناب جاوید اقبال صاحب سے خصوصی طور پر ملاقات کی۔
   وائس چانسلرجامعہ بلوچستان محترم پروفیسرجاوید اقبال نے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ون یونٹ کے بعد جامعہ بلوچستان پاکستان کی اُن چار اہم درسگاہوں میں سے ایک تھی جو پاکستان میں علم کی شمع روشن رکھے ہوئے تھیں۔ شروع کے حالات تو اچھے تھے ۔ اچھے لوگ ملے ، اچھے وائس چانسلرز آئے، اچھی گورننس تھی۔ لیکن ١٩٨٦کے بعد جب بلوچستان میں حالات بگڑنے لگے تومسائل بڑھتے گئے اور ٢٠٠٧  میںاکبر بگٹی کی موت کے بعد حالات مزید خراب ہوگئے جس کا سب سے زیادہ اثر جامعہ بلوچستان پہ پڑا۔ملک دشمن عناصر مزید فعال ہو گئے۔ شرانگیزی اس حد تک بڑھ گئی کہ جامعہ بلوچستان میں ہم آزادانہ انداز میں پاکستان کی بات بھی نہیں کرسکتے تھے ۔ایسا لگتا تھا  جیسے یہ درسگا ہ پاکستان سے باہرہو۔ ملک دشمن عناصر نے پورے صوبے میں اپنی سرگرمیاں تیز کر دیں۔ اس دور میںمیں ہمیشہ یہ کہتا تھا کہ جامعہ بلوچستان شرپسند عناصر کا گڑھ بن چکی ہے کیونکہ یہاں آپ پاکستان کا نام نہیں لے سکتے تھے ، پاکستان کا قومی ترانہ نہیں بجا سکتے تھے ۔ پاکستان کے جھنڈے نہیں لہراسکتے تھے۔اُس دوران جامعہ کے مالی،تعلیمی، انتظامی، حفاظتی، چاروں اہم ستون تباہ ہوگئے اورساتھ ہی صوبے میںغیر مقامی لوگوں کا قتل عام شروع ہوگیا۔کئی پروفیسرزکو شہید کیا گیا ۔ وائس چانسلرکو یونیورسٹی کے سامنے شہید کیا گیااور اُس سے کچھ عرصے بعد ہی ایک خاتون پروفیسر کو بھی شہید کردیا گیا۔ آپ اس سے اندازہ لگاسکتے ہیںکہ کتنے برے حالات تھے۔ یہ چیزیں بگڑتی چلی گئیں ۔محب وطن لوگ بددل ہوگئے اور یہاں سے شفٹ ہونا شروع ہوگئے۔بہت سے قابل پروفیسرز چلے گئے ۔ جب میں نے دیکھا کہ یہاںکوئی شنوائی نہیں ہو رہی اور حالات مزید خراب ہوتے جا رہے تو ٢٠٠٩میں مجھے بھی جانا پڑا۔ 
 ٢٠٠٩ تک میں نے یہاں پر بہت برے حالات دیکھے۔ گمراہ عناصر دندناتے پھرتے تھے۔ پاکستان کے خلاف بات کرنا ایک عام چیزبن چکی تھی۔ جو پاکستان کے خلاف بات کرتا وہی یہاں رہ سکتا تھا۔ یہ مائنڈ سیٹ بن چکا تھا، سو ہم چلے گئے اُس وقت یہا ں صرف کلبھوشن یادیوکا نیٹ ورک چل رہا تھا۔ جس کا اعتراف اس نے گرفتاری کے بعد کیا۔
 میں ٢٠١٣ میںوائس چانسلر کے عہدے پر فائز ہوا۔اس وقت جامعہ  بلوچستان کا کوئی مستقبل نظر نہیں آرہا تھا۔ کرپشن بے انتہا ، جعلی ڈگریوں کی بھر مار، سارے معاملات مادرپدر آزادتھے۔ ان حالات میں کسی درس گاہ کو چلانا میرے جیسے پروفیسر اورریسرچر کے لئے بہت مشکل تھا۔ سول سوسائٹی کا جامعہ بلوچستان پر اعتماد نہیں رہا تھا۔ لوگوں نے اپنے بچوں کو یہاں بھیجوانا بند کردیا تھا۔ ٢٠١٣میں جامعہ بلوچستان میں صرف ٢٥٠٠طلباء رہ گئے تھے۔ زیادہ تر سٹاف چلا گیا تھا۔ طالبات نے آنا بند کردیا تھا۔ سوچتا تھا کہ کہاں سے شروع کرو ںسب سے پہلے اچھے اورایماندار پروفیسرز ساتھیوں کی ایک ٹیم بنائی اورطے کیا کہ اس مادرِ علمی کے معاملات کو نئے سرے سے ترتیب دینا ہے۔اﷲ کا نام لے کر ابتداء کی اور آہستہ آہستہ بہتری آنا شروع ہوئی۔ سب سے پہلے خوف کو کم کیا۔ جس کے لئے ہمیں سدر ن کمانڈ کا بھرپور تعاون حاصل ہوا۔الحمد للہ آج اس جامعہ میں ١٥٠٠٠ کے قریب بچے زیر تعلیم ہیں۔ ہم نے انتظامی امور کو ٹھیک کیااور کرپشن کو ختم کرنے کے لئے ایماندار بندوں کو اوپر لائے ۔ ادارے کو مالی، تعلیمی ،انتظامی اورحفاظتی لحاظ سے بہتر کیا۔ رات دن کام کیا، خوف کو شکست دی ۔ جلد ہی نیشنل لیول پر گین کیا ۔ ہماری یونیورسٹی چھوٹے درجے کی  تھی اب ہم ایچ ای سی کی ڈبلیو درجے میں ہیں۔ یوں لوگوں کا اعتماد قائم ہوا۔ ہما را  مقصد یہی تھا کہ بچوں کے ہاتھوں سے بندوق لے کر قلم تھما دیں۔  مائنڈ سیٹ پر کام کیا تو الحمدﷲاستحکام نظر آیا۔ یوتھ موبلائزیشن کی، جامعہ کے ہزاروں طلباء کو پاکستان کے دوسرے شہروں اوردوسری جامعات کے دورے کرائے۔جس کے لئے ہم حکومت پاکستان اورعسکری قیادت کے نہایت مشکور ہیں۔ اسی طرح دوسرے صوبوں کے طلبہ نے بھی جامعہ بلوچستان کے دورے کئے۔اور یوں جامعہ بلوچستان کو قومی ادارے میں شامل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ آج آپ دیکھیںیہاں ہر جگہ پاکستان کے جھنڈے لہرارہے ہیں کوئی فنکشن پاکستانی قومی ترانے کے بغیر شروع نہیں ہوتا۔ ہر قومی تہوار پر بچے بچیاں اپنے چہروں پر پاکستان کا پرچم بناکر آتے ہیں۔ مائند سیٹ تبدیل ہورہا ہے ۔ نوجوانوں میں روحانی طورپر پاکستانیت اجاگر ہوئی۔ جامعہ کی ڈگری کی اہمیت ثابت ہوئی۔ ٢٠١٧میں صدر پاکستان خودبلوچستا ن تشریف لائے اوراپنے ہاتھوں سے طلباء و طالبات میںڈگریاں تقسیم کیں ۔ آج ١٥٠٠٠طالب علموں میں %٤٠ طالبا ت ہیں۔ آج ہمارے پاس ایم فِل ، پی ایچ ڈی کے لئے ٥٠٠سیٹس ہیں۔ ٢٠٠کے قریب ہمارے پاس پی ایچ ڈی پروفیسرز ہیں۔ پورے صوبے میں تعلیمی ماحول بن چکا ہے۔  تربت ، مند، گوادر، ژوب ، چمن ، لورالائی ، سبی ، جعفر آباد جیسے ریموٹ ایریاز سے نوجوان آکر تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ بلوچستان میں یونیورسٹی کے کیمپس کا جال بچھا دیاگیا ہے۔ خاران کیمپس، پشین کیمپس اور قلعہ سیف اﷲ بھرپور انداز سے چل رہے ہیں۔ تربت میں ہمارا کیمپس تھا جو اب یونیورسٹی بن چکا ہے۔ لورالائی کیمپس بھی تھا جو ایک جامعہ کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ 
یہ تجربہ بہت اچھا رہا اور امید ہے کہ آگے چل کر مزید بہتری آئے گی ۔ حالات کی بہتری کے لئے عام لوگوںاور اساتذہ نے اور فورسز کے جوانوں نے اپنی جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔ آج یہاں مختلف ممالک کے سفراء آتے ہیں۔ کچھ عرصے پہلے چائنیز سفارت کار آئے اورآکر بہت خوش ہوئے اورانہوں نے یہاں چائینیزلینگویج سنٹر کے قیام کی خواہش ظاہر کی۔ جس کے لئے خصوصی طور پر ٦ملین روپے کی خصوصی گرانٹ بھی دی گئی۔ آج یہ سنٹر تقریباً مکمل ہوچکا ہے۔ جلدہی چائنیز زبان کے کورسز بھی شروع ہو جائیں گے۔ سی پیک  پاکستان خصوصاً بلوچستان کے لئے ایک خصوصی پیکیج ہے ۔ اورمجھے یقین ہے کہ ہمارے صوبے کے ٣٠سے ٤٠ہزار نوجوانوں کو سی پیک سے روزگار ملے گا۔ یعنی یہ جامعہ سی پیک کی درس گاہ کہلائے گی۔ 
آج یہاں ملی نغموں کے مقابلے میں نوجوانوں کا جو جذبہ دیکھنے میں آیا ہے ہم سب کی اللہ پاک سے دعا ہے کہ یہ جذبہ قائم ودائم رہے۔ 
محترم پروفیسر جاوید اقبال کے ساتھ گفتگو سے یہ بات ثابت ہوئی کہ بلوچستان کی سب سے بڑی تعلیمی درسگاہ کو پاکستان کے سب سے بڑے دشمن کی ایجنسی کے کلبھوشن یادیو جیسے آلہ کاروں کے چنگل سے نکال کر حقیقی علمی درسگاہ میں دوبارہ تبدیل کیاگیاہے۔ جس کے لئے ساری قوم وائس چانسلر جاوید اقبال ودیگر اساتذہ، حکومت ِپاکستان وبلوچستان اورعسکری قیادت کی شکر گزار ہے اورتمام شہدا ء کی قربانیوں پر فخر کرتی ہے جن کی بدولت آج اس تعلیمی ادارے میں تعلیمی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہیں اور ساتھ ہی پاکستان کے ملی نغمے گونج رہے ہیں۔ اس جذبے کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان کے دشمنوں کو شکست ہوئی ہے کلبھوشن ہار گیا اورپاکستان جیت گیا۔ پاکستان پائندہ باد۔ 


[email protected]
 

یہ تحریر 263مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP